اسلام آباد (ٹی این ایس) ضلع مری میں تعینات ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضا تنویر کی قیادت میں جرائم کی روک تھام

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس) ضلع مری میں تعینات ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضا تنویر کی قیادت میں جرائم کی روک تھام، سیاحوں کے تحفظ، ٹریفک مینجمنٹ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ دستیاب تقابلی اعدادوشمار کے مطابق جائیداد سے متعلق پولیس ایمرجنسی 15 کالز میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔دسمبر 2025 سے اکتوبر 2026 تک کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق مری پولیس نے جرائم کے انسداد، مؤثر گشت، جرائم کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی، ناکہ بندی، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی۔رپورٹ کے مطابق جائیداد سے متعلق پولیس ایمرجنسی 15 کالز کی تعداد 134 سے کم ہو کر 99 رہ گئی، جبکہ کار چوری سے متعلق کالز میں 78 فیصد، نقب زنی سے متعلق کالز میں تقریباً 21 فیصد اور تھانہ مری کی حدود میں جائیداد سے متعلق کالز میں 33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح کوٹلی ستیاں میں 60 فیصد اور مال روڈ اور ملحقہ علاقوں میں 56 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔مری کے دشوار گزار پہاڑی راستوں اور موسم سرما میں شدید برفباری کے دوران سیاحوں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق حساس شاہراہوں پر اضافی نفری کی تعیناتی، ٹریفک کی مرحلہ وار ریگولیشن، متبادل راستوں کی نشاندہی اور ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کو ترجیح دی گئی۔مری پولیس، ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے درمیان باہمی رابطے کے ذریعے ٹریفک اور سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ رپورٹ میں تقریباً ساڑھے پانچ سے چھ فٹ مجموعی برفباری کے باوجود حفاظتی انتظامات اور جانی نقصان سے بچاؤ کو نمایاں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے ابتدائی تین روز کے دوران مری میں 70 ہزار 375 گاڑیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران جھیکا گلی، سنی بینک، کشمیر پوائنٹ، کلڈنہ اور لوئر ٹوپہ سمیت اہم مقامات پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔

مری پولیس نے شہریوں اور سیاحوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس ایپ میں خواتین کے لیے ورچوئل پولیس سہولت، لوکیشن کی بنیاد پر امدادی رابطوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رہنمائی جیسی خصوصیات شامل ہیں، جبکہ مال روڈ پر سیاحتی سہولت مرکز اور گمشدہ اشیا کی بازیابی کے لیے لاسٹ اینڈ فاؤنڈ کاؤنٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مری پولیس میں 250 سے زائد اہلکار بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ 150 سے زائد اہلکار تربیت کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ضلع مری پولیس کے لیے مزید 440 اسامیوں کی منظوری اور متعلقہ بجٹ کا اجرا بھی افرادی قوت میں اضافے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں تاریخی پولیس چوکی باڑیاں، ڈی پی او انیکسی اور ایس ڈی پی او آفس مری کی تزئین و آرائش اور بحالی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ڈی پی او آفس میں نیا کانفرنس ہال قائم کیا گیا ہے، جبکہ کوٹلی ستیاں میں پولیس خدمت مرکز کے ذریعے شہریوں کو مقامی سطح پر پولیس سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مزید برآں بین الصوبائی سرحدی نگرانی کے لیے پولیس چوکی لورہ کی تعمیر، تھانہ گھوڑا گلی اور تھانہ کرور کے قیام کی تجاویز پر پیش رفت اور پولیس کی نقل و حرکت بہتر بنانے کے لیے 17 نئی آپریشنل گاڑیوں کی فراہمی کی سمری بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔ تاہم، رپورٹ میں ان مجوزہ منصوبوں اور گاڑیوں کی فراہمی کو حتمی طور پر مکمل قرار نہیں دیا گیا۔

مجموعی طور پر رپورٹ میں جرائم کی روک تھام، محفوظ سیاحت، ٹریفک مینجمنٹ، افرادی قوت میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مری پولیس کے اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے تسلسل، عوامی شکایات کے مؤثر ازالے، شفاف احتساب اور شہریوں و سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو پولیسنگ کے نظام میں مزید بہتری کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔