’سائنوفارم‘ ویکسین کے ’اومیکرون‘ پر اثرات کے نتائج سامنے آگئے

 
0
1760

اسلام آباد 21 دسمبر 2021 (ٹی این ایس): چینی ماہرین نے ’سائنو فارم‘ ویکسین کی تیسری خوراک کے ’اومیکرون‘ پر مرتب اثرات کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بوسٹر ڈوز بھی ’اومیکرون‘ سے زیادہ تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’شنگھائی جیاؤ تانگ یونیورسٹی‘ اور وبائی امراض پر تحقیق کرنے والے ادارے کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ’سائنوفارم‘ کا تیسرا ڈوز بھی ’اومیکرون‘ کے خلاف محض 20 فیصد اینٹی باڈیز تیار کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا کی پہلی قسم کے مقابلے ’اومیکرون‘ کی قسم پر ’سائنو فارم‘ ویکسین کی افادیت انتہائی کم ہے اور دوسرے ڈوز لگوانے کے 9 ماہ بعد تیسرا ڈوز لگوانے سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ ’سائنو فارم‘ ویکسین کے ’اومیکرون‘ کی شدت کو کم کرنے کے اثرات واضح نہیں ہیں لیکن نتائج سے معلوم ہوا کہ دوسرے ڈوز کے 9 ماہ بعد بوسٹر ڈوز لگوانے سے صرف 20 فیصد اینٹی باڈیز تیار ہو سکتی ہیں۔

چینی سائنسدانوں کی ’سائنو فارم‘ ویکسین سے متعلق مذکورہ تحقیق پر فوری طور پر کمپنی نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔

’سائنو فارم‘ اور ’سائنو ویک‘ نامی چینی ویکسینز پاکستان سمیت متعدد ایشیائی اور متوسط ممالک میں استعمال ہو رہی ہیں جب کہ اس سے قبل مذکورہ ویکسین کے کورونا کی دوسروں قسموں پر اثرات کے نتائج بھی کوئی خاص نہیں تھے۔

تاہم کمپنی نے ’ڈیلٹا‘ سمیت دیگر خطرناک کورونا کی قسمیں آنے کے بعد ویکسین کو اپڈیٹ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

چینی ماہرین کی چینی ویکسین پر کی جانے والی مذکورہ تحقیق سے قبل برطانوی و امریکی ماہرین نے ’موڈرینا، فائزر، جانسن اینڈ جانسن اور آسترزینیکا‘ ویکسین کی تحقیقات کے نتائج سے متعلق بتایا تھا کہ مذکورہ تمام ویکسین کا تیسرا ڈوز ’اومیکرون‘ کی شدت کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

’اومیکرون‘ کی قسم کی پہلی بار 26 نومبر کو جنوبی افریقہ میں تصدیق ہوئی تھی، اس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد متعدد یورپی ممالک نے نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

برطانیہ، امریکا، جرمنی، فرانس اور آئرلینڈ اور ڈینمارک سمیت متعدد ممالک نے کرسمس سے قبل ہی نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں بھی ’اومیکرون‘ کے تین مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اس کا پھیلاؤ کم دیکھا جا رہا ہے۔