لاہور(ٹی این ایس) جنہوں نے ووٹ نہیں دیاوہ بھی انسان ہیں،رمضان پیکج سب کو ملے گا:مریم نواز شریف

 
0
46

جنہوں نے ووٹ نہیں دیاوہ بھی انسان ہیں،رمضان پیکج سب کو ملے گا:مریم نواز شریف
سوال اٹھانے والے اور تنقید کرنے والے کریں گے،سیاسی حکومت پر الزام تراشی بہت آسان ہے
میرا کوئی فیورٹ نہیں،اللہ تعالی کو جوابدہ ہوں اور اس کے بعد عوام کو جوابدہ ہوں ہر لیول پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے
کرپشن کا داغ برداشت نہیں ہو گا،رمضان پیکج کی ترسیل کے تمام مراحل شفافیت کے ساتھ سرانجام دئیے جائیں
وزیراعلی مریم نواز شریف کا رمضان بازار میں شفافیت اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم
رمضان پیکج میں اشیاء خوردونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کوضروری اقدامات کی ہدایت
ایک مہینے میں پورے پنجاب کی صفائی چاہیے،چاہے وہ شہری علاقہ ہو یا دیہاتی،چیک کروانے کے طریقے جانتی ہوں
صفائی صرف نام کی نہ ہوبلکہ حقیقی ہونی چاہیے،خراب سیوریج اور ڈرینج کے مسائل حل کریں،سڑکوں پر گڑھے ختم کئے جائیں
وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس،رمضان پیکج اور ذخیرہ اندوزی کے سد باب کے لئے اقدامات کا جائزہ
پرویز رشید، مریم اورنگزیب،عظمی بخاری،ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری،آئی جی موجود،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی ویڈیو لنک سے شرکت
لاہور یکم مارچ:وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ جنہوں نے ووٹ نہیں دیاوہ بھی انسان ہیں،غریب بھی ہیں،رمضان پیکج ان کا بھی حق ہے۔ رمضان پیکج سب کو ملے گا۔سوال اٹھانے والے اور تنقید کرنے والے کریں گے،سیاسی حکومت پر الزام تراشی بہت آسان ہے۔میرا کوئی فیورٹ نہیں،اللہ تعالی کو جوابدہ ہوں اور اس کے بعد عوام کو جوابدہ ہوں۔ہر لیول پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے،کرپشن کا داغ برداشت نہیں ہو گا۔رمضان پیکج کی ترسیل کے تمام مراحل شفافیت کے ساتھ سرانجام دئیے جائیں۔وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں رمضان پیکج کی تیاری اور ترسیل کے طریقہ کار کے بارے میں تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے رمضان بازار میں شفافیت اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیا۔رمضان پیکج میں اشیاء خوردونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کوضروری اقدامات کی ہدایت کی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش کے معیار اور مقدار کو یقینی بنانے کے لئے ضروری کارروائی یقینی بنائی جائے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ ہر لیول پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے،کرپشن کا داغ برداشت نہیں ہو گا۔رمضان پیکج کی تقسیم کے لئے جہاں جہاں جا سکی میں خود بھی وزٹ کروں گی۔رمضان پیکج کی تقسیم کے وقت بغیر اطلاع کئے سرپرائز وزٹ کروں گی۔انہوں نے کہا کہ ہر ضلع کی کارکردگی کا سکور کارڈ سے تعین ہو گا،تمام اضلاع کاآپس میں مقابلہ ہو گا۔ڈپٹی کمشنر اپنے متعلقہ اضلاع میں ہر روز چیکنگ کریں،دورے کریں اور رپورٹ دیں۔رمضان پیکج کی تقسیم کے مکمل پراسیس کی ویڈیوز بنائی جائیں،مجھے اور چیف سیکرٹری کے دفتر میں بھجوائی جائے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ رمضان پیکج کی شفاف تقسیم کے لئے سب نے سرپرائزچیکنگ کرنی ہے۔رمضان پیکج کی چیکنگ 3مراحل میں ہو گی۔ہر ضلعی انتظامیہ سے امید ہے کہ وہ رمضان پیکج کی چیکنگ کریں گے۔ڈپٹی کمشنرز رمضان پیکج کے سیمپل اور باکس کھلوا کر چیک کریں گے کہ اس کا معیار کیا ہے اورکیا 6 اشیائے خوردونوش کی مقدار پوری ہیں۔رمضان پیکج کی بلاترتیب چیکنگ رپورٹ چیف سیکرٹری کے دفتر ارسال کریں۔انتظامیہ کو روزانہ کی بنیادپرتقسیم کے لئے مقرر کردہ مختلف جگہوں کے وزٹ کرنے چاہئیں۔انتظامیہ کے تقسیم کے لئے مقرر کردہ جگہوں پر وزٹ سے تقسیم کرنے والی ٹیموں کو احساس ہو گا کہ ہماری مانیٹرنگ ہو رہی ہے۔رمضان پیکج کی تقسیم کے وقت مقررکردہ جگہ پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی لازم ہے تاکہ ناخواشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔رمضان پیکج کی تقسیم کے وقت اگر پولیس کے بغیر جائیں گے تو بدنظمی پھیلے گی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینے میں مجھے پورے پنجاب کی صفائی چاہیے،چاہے وہ شہری علاقہ ہو یا دیہاتی۔چیک کروانے کے طریقے جانتی ہوں،صفائی چیک کروں گی۔کوئی سڑک،محلہ،گلی،گاؤں اورگراؤنڈ ایسی نہ رہے جہاں صفائی نہ ہو،یہ میری سختی سے ہدایت ہے۔تمام اضلاع کا صفائی کے معاملے میں آپس میں مقابلہ ہے۔وال چاکنگ وائٹ واش کے ذریعے ختم کی جائے۔الیکشن پوسٹرز اور بینرز اتروائیں اور صفائی کرائیں۔صفائی صرف نام کی نہ ہوبلکہ حقیقی طور پر ہونی چاہیے۔خراب سیوریج اور ڈرینج کے مسائل حل کریں۔سڑکوں پرکھڈے اور گڑھے ختم کئے جائیں تاکہ خوبصورتی بحال ہو۔3دن بعد ہنگامی دورے شروع کر دوں گی،لاہور کی کسی گلی میں گڑھے نظر نہ آئیں۔سابق سینیٹر پرویز رشید،ارکان اسمبلی مریم اورنگزیب،عظمی بخاری،ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری،آئی جی،سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے جبکہ تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ز نے ویڈیو لنک ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

****