اسلام آباد (ٹی این ایس) غزہ تاریخی امن معاہدہ ;صدر ٹرمپ حقیقی معنوں میں امن کے سفیر

 
0
29

اسلام آباد (ٹی این ایس) صدر ٹرمپ حقیقی معنوں میں امن کے سفیر ہیں, غزہ میں جنگ بندی سے متعلق تاریخی امن معاہدے پر مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا نے باقاعدہ طور پر دستخط کر دیے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیرکے مکمل دیوانے ہو چکے ہیں، ا مریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اور اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، انہیں میری نیک تمنائیں پہنچا دینا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بات ختم کرنے کے موقع پر خود وزیراعظم شہباز شریف کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن بندی معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ’اپنے پسندیدہ‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت کئی عالمی رہنماؤں کا غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ٹرمپ مصر میں شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تقریب میں خصوصی خطاب کی دعوت دی۔ خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر کا امن معاہدہ طے کرانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج غزہ کے عوام کیلئے تاریخی دن ہے کیونکہ انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کرلیا گیا ہے۔ یہ کوششیں صدر ٹرمپ کی قیادت میں کی گئیں جو حقیقتاً امن کے علمبردار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا تھا، اور آج میں ایک بار پھر صدرٹرمپ کونوبیل انعام دینے کے لیے درخواست کرتا ہوں کیونکہ وہ اس انعام کے حقیقی حقدار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن قائم کیا بلکہ لاکھوں کی زندگیاں بچائیں، اور آج شرم الشیخ میں غزہ میں قیام امن کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’آپ وہ شخص ہیں جس کی اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے، دنیا ہمیشہ آپ کو اُس انسان کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ معمول سے بڑھ کر اقدامات کیے، اور 7 بلکہ آج 8 جنگوں کو روکا‘ ’اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر انہوں نے اور ان کی شاندار ٹیم نے اُن چار دنوں میں مداخلت نہ کی ہوتی، تو جنگ شاید اس حد تک بڑھ جاتی کہ بعد میں کوئی یہ بتانے کے لیے بھی زندہ نہ رہتا کہ کیا ہوا تھا، کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی قوت کے حامل ملک ہیں۔ دوبارہ اسٹیج پر آتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’واہ! میں نے یہ توقع نہیں کی تھی، چلو گھر چلتے ہیں، اب میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا، سب کو الوداع! یہ واقعی بہت خوبصورت تھا، اور نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا، آپ کا بہت شکریہ۔‘ قبل ازیں، وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، شہباز شریف نے خطے میں امن اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ شہباز شریف کی فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ خوشگوار ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا، اس موقع پر بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ بھی شریک تھے۔ اس موقع پر صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کا ہمیشہ سے ساتھ دینے اور ان کی سیاسی و سفارتی محاذ پر مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ رہنماؤں کی شرم الشیخ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط سے پہلے گرمجوشی سے غیر رسمی ملاقات اور گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ فلسطین اور پاکستان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعقات مثالی ہیں، جس پر دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کو ناز ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے غزہ کے بہادر عوام کو گزشتہ برسوں میں ہمت و بہادری سے صعوبتیں برداشت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے خطے میں امن و فلسطینیوں کی ترقی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس دن کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن معاہدہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی کامیابی ماضی میں کم ہی دیکھی گئی ہے اور اس ضمن میں مصر کا کردار کلیدی رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے شراکت دار مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ مل کر غزہ کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہاسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کے 20 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے بعد آج حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا، جس کے بعد میں اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں قیدی بھی آزاد کر دیے گئے۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی غزہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے حقیقی سفیر ہیں، ان کو نوبیل انعام دینے کے لیے ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ حقیقی معنوں میں امن کے سفیر ہیں!
اس سے قبل سابق پاکستانی صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ آئندہ سال 2026 نوبل امن انعام کے لیے دوبارہ امریکی صدر کو نامزد کرے،سابق پاکستانی صدارتی امیدوار نے میڈیا کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دنیا میں آٹھ جنگیں روکی ہیں

سابق پاکستانی صدارتی امیدوارنے بتایا کہ اس سے قبل ان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے امریکی صدر کا نام نامزد کیا تھا لیکن 20 فروری 2025 سے پہلے نامزدگی کی تاریخ بندہونے پر صدر ٹرمپ اس پوزیشن میں نہیں تھے اسی لیے تکنیکی طور پر ان کا نام نوبل امن انعام کمیٹی کی جانب سے سال2025کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔ لیکن اگلے سال کے لیے وہ نوبل ایوارڈ کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ امیدوار ہیں۔غور طلب ہے کہ گوگل پر میری (اصغر علی مبارک) کی تجویز ہر کوئی دیکھ سکتا ہے پوری دنیا میں پہلے شخص کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدارتی امیدوار کی حیثیت سے میں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی اور نوبل امن انعام کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کا نام تجویز کیاتھا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے نوبل انعام کے لیے صدر ٹرمپ کا نام تجویز کیاتھا۔ یہاں میں ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ پاکستانی عوام کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کو ان کی امن کوششوں پرآئندہ سال 2026 نوبل امن انعام کے لیے دوبارہ نامزد کرے، صدر ٹرمپ کی بدولت ہی جنوبی ایشیا میں امن ممکن ہوا، ان کی وجہ سے خطے میں لاکھوں زندگیاں بچ گئیں۔ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا تھا، کیوں کہ یہ امن کے حقیقی سفیر ہیں، جنہوں نے دنیا میں امن کے لیے دن رات کام کیا۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث ملکوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس دن کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن معاہدہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی کامیابی ماضی میں کم ہی دیکھی گئی ہے اور اس ضمن میں مصر کا کردار کلیدی رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے شراکت دار مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ مل کر غزہ کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کے بعد تقریب سے خطاب کے دوران خود شہباز شریف کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی۔ اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اور اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، انہیں میری نیک تمنائیں پہنچا دینا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کے 20 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے بعد آج حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا، جس کے بعد میں اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں قیدی بھی آزاد کر دیے گئے اس سے قبل وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان بھی ملاقات و گفتگو میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کی سیاسی و اخلاقی حمایت کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔ وزیراعظم نے یہ مؤقف مصر میں منعقدہ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران پیش کیا۔ ملاقاتوں میں خطے میں قیامِ امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار بھی کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس سے خوشگوار ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے خطے میں امن کا سنگ میل قرار دیا۔ اس موقع پر بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات ہوئی۔ جبکہ اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے بھی ملے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی انڈونیشیا کے صدر پربوو صوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقاتوں میں خطے میں امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی فلسطینی صدر محمود عباس سے بھیی ملاقات ہوئی، جس میں غزہ امن معاہدے پر بات چیت کی گئی۔غزہ میں جنگ بندی سے متعلق تاریخی امن معاہدے پر مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا نے باقاعدہ طور پر دستخط کر دیے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا، ہم مل کر غزہ کی تعمیر نو کریں گے۔ انہوں نے اس دن کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن معاہدہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی کامیابی ماضی میں کم ہی دیکھی گئی ہے اور اس ضمن میں مصر کا کردار کلیدی رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے شراکت دار مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ مل کر غزہ کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کے 20 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے بعد آج حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا، جس کے بعد میں اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں قیدی بھی آزاد کر دیے گئے۔ غزہ میں امن کے لیے سربراہی اجلاس مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہو رہا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ مسلمان ممالک کے نمائندگان شریک ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی شرکت کررہے ہیں۔چین نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے پہلے مرحلے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ فلسطین پر فلسطینیوں کی حکمرانی کا اصول قائم رہنا چاہیے۔ سوئٹزرلینڈ میں پریس کانفرنس کے دوران چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے کہاکہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں فلسطینی عوام کی مرضی اور خواہشات کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔انہوں نے واضح کیاکہ ’فلسطینی، فلسطین پر خود حکومت کریں‘ کا اصول عالمی برادری کا مشترکہ مؤقف ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔ چین ان تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں امن کی بحالی، انسانی جانوں کے تحفظ اور انسانی المیے میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران اکیسویں صدی پر ایک بدنما داغ ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی ضمیر بیدار ہو اور عالمی برادری مل کر ایک حقیقی، جامع اور پائیدار جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرے۔ چینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہاکہ دو ریاستی حل پر قائم رہنا ناگزیر ہے، کیونکہ صرف ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست ہی اپنے جائز قومی حقوق کے حصول کے ذریعے تاریخی ناانصافیوں اور تشدد کے اس سلسلے کو ختم کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث ملکوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف کی شرم الشیخ میں غزہ کے حوالے سے امن سربراہی اجلاس کے موقعے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور تاریخی دوطرفہ تعلقات کا اعادہ کیا اور مختلف شعبوں میں پاکستان قطر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے قطر کے امیر کی ثابت قدم قیادت، سفارت کاری اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ تعاون پر تعریف کی جس کے نتیجے میں آج شرم الشیخ میں تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔

اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے غزہ کے بحران کے منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کرنے کے لیے امن معاہدے کے حوالے سے قطر کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔ وزیر اعظم نے سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس شریف کے بطور دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد، قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں پاکستان کے دیرینہ موقف پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ قطر کے امیر نے پاکستان کی یکجہتی اور فلسطین کے بارے میں اصولی مؤقف پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کی مستقل توجہ خطے میں دیرپا امن و استحکام لانے میں معاون ثابت ہوگی۔ رہنماؤں نے باہمی تشویش کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ گزشتہ ایک ماہ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ چوتھی ملاقات ہے۔ رہنماؤں کی ستمبر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دوحہ کے 2 دوروں اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقعے پر نیویارک میں ملاقات ہوئی تھی۔وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان بھی ملاقات و گفتگو میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کی سیاسی و اخلاقی حمایت کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔ وزیراعظم نے یہ مؤقف مصر میں منعقدہ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران پیش کیا۔ ملاقاتوں میں خطے میں قیامِ امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار بھی کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس سے خوشگوار ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے خطے میں امن کا سنگ میل قرار دیا۔ اس موقع پر بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات ہوئی۔ جبکہ اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے بھی ملے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی انڈونیشیا کے صدر پربوو صوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقاتوں میں خطے میں امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی فلسطینی صدر محمود عباس سے بھیی ملاقات ہوئی، جس میں غزہ امن معاہدے پر بات چیت کی گئی۔حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسرائیل علاقے میں اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع نہ کرے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ ہم امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل کی غزہ پٹی پر جنگ ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام ثالثوں اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے رویے کی نگرانی جاری رکھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ وہ ہمارے عوام کے خلاف اپنی جارحیت دوبارہ شروع نہ کرے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی ایک ایسا موقع فراہم کرتی ہے، جسے غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں تمام فریقوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور جنگ بندی کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کریں تاکہ غزہ میں جاری خوفناک صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ میں غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا پُرجوش خیر مقدم کرتا ہوں، مجھے انتہائی راحت محسوس ہو رہی ہے کہ وہ شدید تکلیف سہنے کے بعد اپنی آزادی دوبارہ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور جنگ بندی کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کریں تاکہ غزہ میں جاری اس بھیانک صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ غزہ میں تنازع کے خاتمے اور شہریوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کر رہی ہے 9 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا تھا، جس کا مقصد اُس تباہ کن تنازع کو ختم کرنا تھا، جس میں دسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، فلسطینی علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بتائے گئے معاہدے کے کلیدی نکات کے مطابق حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا۔
حماس 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ یاد رہے کہ حماس نے 20 اسرائیلی زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی جیلوں سے قیدیوں کو بھی رہا کیا جارہا ہے، امریکی صدر اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار بھی اس وقت مصر کے شہر شرم الشیخ میں موجود ہیں، جہاں ترکیہ، اردن، برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین کے سربراہان مملکت سمیت 20 ممالک کے سربراہ مصری صدر عبدالفتح السیسی اور امریکی صدر ٹرمپ کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ’امن سربراہی اجلاس‘ میں شرکت کر رہے ہیں۔