اسلام آباد (ٹی این ایس) کرسمس اورسال نو کی خوشی کے موقع پر منیارٹی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد کی جانب سے خصوصی تقریب کااہتمام کیاگیا جس میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ(اوجی ڈی سی ایل )کے ایم ڈی /سی او احمد حیات لک اور جنرل منیجر،سی ایس آر (اوجی ڈی سی ایل)سکندرعلی شخ، فرح ،صدام نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔تقریب میں رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، پارلیمانی سیکرٹری تعلیم فرح نازاکبر ،پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان ،صدر پی ایف یو جے افضل بٹ ،صدرآر آئی یو جے چوہدری طارق علی ورک سمیت کرسچین جرنلسٹس کی فیملیز نے بھرپور شرکت کی ۔اس موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل منیجر،سی ایس آر (اوجی ڈی سی ایل)سکندرعلی شخ نے ایم ڈی اوجی ڈی سی احمد حیات لک کا خصوصی پیغام دیا انہوں نے کہا کہ کرسچین جرنلسٹس سمیت دیگر اقلیتیں اس ملک کااہم حصہ ہیں جس طرح پاکستان پر ہماراحق ہے اور ہمیں حقوق حاصل ہیں اسی طرح تمام اقلیتوں کابھی اس پر اتنا ہی حق ہے۔انہوں نے کرسچیئن جرنلسٹس کو کرسمس اورنئے سال کی مبارک بادی اور کرسچین فیملی کے بچوں میں نقدکیش اورتحائف تقسیم کئے جس سے بچوں کی خوشی دوبالاہوگئی ۔تقریب سے رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، پارلیمانی سیکرٹری تعلیم فرح نازاکبر ،پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان ،صدر پی ایف یو جے افضل بٹ ،صدرآر آئی یو جے چوہدری طارق علی ورک نے بھی خصوصی خطاب کیااور کرسچین کمیونٹی کیلئے اپنے بھرپور تعاون اورنیک تمناؤں کااظہار کیا۔صدر منیارٹی جرنلسٹس ایسوسی ایشن ناصر سلیم اور فنانس سیکرٹری منیارٹی جرنلسٹس ایسوسی ایشن سنی مسیح نے اس موقع پر’ ’او جی ڈی سی ایل “ کے ایم ڈی احمد حیات لک اور جنرل منیجر ،سی ایس آرسکندر علی شیخ اورسی ایس آر کی پوری ٹیم کااس تقریب کااہتمام کرنے پر خصوصی شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ او جی ڈی سی ایل کی جانب سے گزشتہ تین سالوں سے مسلسل منیارٹی جرنلسٹس کے لئے یہ خصوصی تقریب منعقد کی جاتی ہے ان کے بھرپورتعاون کامیں اور میرے تمام کرسچین جرنلسٹس تہہ دل سے مشکور ہے ۔ان کی اس والہانہ محبت کو ہم اورہماری تمام کرسچین فیملیز ہمیشہ اپنے خصوصی دعاؤں میں یاد رکھے گی ۔تقریب کے آخر میں آنے والے معزز مہمانوں میں خصوصی یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں ۔ علاوہ ازیں تقریب میں ”او جی ڈی سی ایل “کی جانب سے کرسمس اور نئے سال کاکیک بھی کاٹاگیاجبکہ شرکاء کیلئے خصوصی ڈنر کابھی اہتمام کیاگیا۔













