اسلام آباد (ٹی این ایس) معاشی میدان میں حکومت کی کامیابیاں

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان ایسے مقام پر ہے جہاں سے پاکستان نےآگے بڑھنا ہے، تمام معاشی اشاریے باعث اطمینان ہیں، برآمدات اور ترسیلات زر، آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی تاریخ رقم کی ہے ملکی معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہیں ، ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہےملکی زرمبادلہ ذخائر 21 ارب 19 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کی بصیرت افروز رہنمائی اور موثر حکمت عملی کے تحت پاکستان کا معاشی منظرنامہ نئے اور روشن دور میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کی شراکت داری مستحکم ہو رہی ہے اور اقتصادی سرگرمیاں قابلِ رشک ترقی کی جانب گامزن ہیںحکومت کا معاشی صورتحال پر اظہار اطمینان حکومت سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی طرف مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ ملک کے اہم معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے اور پالیسی ریٹ بتدریج کم ہو رہا ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافہ ہی پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے کاروباری ماحول بہتر ہو اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔چین کی ترقی پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں اس کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی معاشی پالیسیوں کو مؤثر بنانا ہوگا۔ملکی معیشت کے لیے خوشخبریوں کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کو معاشی میدان میں ہر سطح پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں,پاکستان کی معیشت اپنے روشن سفر پر گامزن ہے اور صنعتی، زرعی اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار پیش رفت کے ثبوت پیش کر رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک پالیسی اصلاحات کے خوش آئند نتائج واضح ہیں، جس سے ملکی اقتصادی استحکام اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ 2015ء کے بعد پہلی مرتبہ یعنی تقریباً دس سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بلند ترین سطح پر ہے، کرنٹ اکاؤنٹ لگاتار چار ماہ سے سرپلس ہے، اس کی بڑی وجہ ملکی برآمدات اور ترسیلات ِزر میں اضافہ ہے، مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں بیرونی وصولیوں میں بھی 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو نومبر تک 15 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں، ترسیلاتِ زر میں 35 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال میں ترسیلاتِ زر 35 ارب ڈالرز سے تجاوز کر جائیں گی، وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کے برآمدی شعبے میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں جانا ملکی معیشت کیلئے خوش آئند ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں دو سال قبل بحرانی کیفیت اور غیریقینی صورتحال تھی دوسری جانب سٹیٹ بینک نے مسلسل پانچویں مرتبہ شرح سود میں کمی کر دی ہے، موجودہ معاشی صورتحال بتا رہی ہے کہ آنے والے کچھ عرصے میں اس میں مزید کمی بھی ہوگی۔ شرح سود میں کمی ملکی معیشت کے درست سمت میں سفر کا پتہ دے رہی ہے۔معاشی ماہرین مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کو معاشی استحکام سے تعبیر کر رہے ہیں، شرح سود میں کمی سے جہاں تاجروں کیلئے قرضے حاصل کرنا آسان ہوتا ہے وہیں معیشت کا پہیہ زیادہ بہتر طریقے سے چلنے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں،پاکستان میں مہنگائی کی شرح 78 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، ادارۂ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024ء میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اکتوبر 2024 میں یہ شرح 7.2 فیصد تھی، نومبر 2023ء میں یہ شرح 29.2 فیصد تھی نمبرز یہ بتا رہے ہیں کہ مہنگائی چھ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، ان تمام اشاریوں خصوصاً مہنگائی میں کمی کے اثرات آنے میں تاخیر کی ایک وجہ انتظامی مشینری کی ناکامی ہے، مقامی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں مؤثر نہ ہونے کے باعث یہ مثبت اشاریے صرف خبروں تک محدود نظر آتے ہیں، مگر پھر بھی یہ حکومت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ادھر سٹاک مارکیٹ نے تاریخ کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے ہیں جس سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ظاہر ہوتا ہے،

رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی میں 3.71 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.15 فیصد زیادہ ہے، اور ملکی معیشت میں حوصلہ افزاء پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق صنعتی شعبے میں 9.38 فیصد شاندار شرح نمو ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی محض 0.12 فیصد ترقی کے مقابلے میں معاشی عروج کی علامت ہے۔ زرعی شعبے میں 2.89 فیصد جبکہ لائیو اسٹاک شعبے میں 6.29 فیصد اضافہ ملکی معیشت کی مستحکم اور متوازن ترقی کی ضمانت ہے۔ زرعی شعبے میں نمایاں ترقی نے پیداواری استحکام اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے، جو ملکی اقتصادی مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد ہے۔
مینوفیکچرنگ میں 5.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آٹوموبائل اور ٹرانسپورٹ شعبوں میں بالترتیب 84.6 فیصد اور 40.7 فیصد شاندار نمو دیکھی گئی۔ مالی اور انشورنس شعبے میں 10.36 فیصد نمو کے ساتھ گزشتہ سال کے منفی اثرات سے شاندار بحالی دیکھنے میں آئی۔تعمیراتی شعبہ، تعلیم، صحت، پبلک ایڈمنسٹریشن اور شعبہ جنگلات میں بھی خاطر خواہ شرح نمو ریکارڈ کی گئی، جو معیشت کے مستحکم اور متوازن رجحان کا ثبوت ہے۔ پاکستان کی مستحکم معیشت اور متوازن شرح نمو ملک کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنا رہی ہے۔ اہم شعبوں میں مسلسل مثبت کارکردگی کے ساتھ پاکستان اقتصادی استحکام، ترقی اور عالمی پذیرائی بھی حاصل کر رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی دوراندیش، بصیرت افروز اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی ملکی پائیدار اقتصادی ترقی کو نئی جہت دے رہی ہے۔ایس آئی ایف سی کے سرمایہ دوست ڈیجیٹل اصلاحاتی فریم ورک کے تحت سال 2026 میں پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کا خوش آئند آغاز ہو گیا ہے۔ایس آئی ایف سی کی مؤثر اور مربوط سہولت کاری کے باعث پاکستانی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آئی ٹی خدمات کو عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے اسٹریٹجک وژن کے تحت پاکستان فنی مہارت، ڈیجیٹل خدمات اور ٹیکنالوجی برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔۔

پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی کا تسلسل معروف کمپنی سپر نیٹ کی عالمی توسیع سے واضح ہو رہا ہے۔ سپر نیٹ گلوبل دبئی میں اپنا پہلا علاقائی ہب قائم کر رہی ہے، جہاں سے عالمی اداروں، کیریئرز اور انٹرپرائز کلائنٹس کو خدمات فراہم کی جائیں گی۔کمپنی مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا کی ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں قدم جمانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں اربوں ڈالر کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں پاکستان کی نمائندگی کی جائے گی۔ سپر نیٹ کے مطابق سیٹلائٹ کمیونیکیشن مارکیٹ میں 2030 تک نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے۔سپر نیٹ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات بدستور برقرار رہیں گی، جس سے ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ عالمی توسیعی حکمتِ عملی پاکستانی ٹیلنٹ، مہارت اور ٹیکنالوجی کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کو پاکستانی آئی ٹی ٹیلنٹ اور جدت کو عالمی مارکیٹس سے جوڑنے میں کلیدی قرار دیا جا رہا ہے، جو ملک کے ٹیک سیکٹر اور معاشی مستقبل کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ عالمی ڈیجیٹل آپریٹر وی اون گروپ نے موبی لنک بینک میں 20 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جسے پاکستان کے ڈیجیٹل اور اسلامی بینکاری شعبے پر عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاری جنوری 2025 میں کی گئی 15 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تسلسل ہے، جس کا مقصد مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) فنانسنگ، ڈیجیٹل اسلامی بینکاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی بینکاری نظام کو مزید فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے مالی شمولیت میں اضافہ اور جدید بینکاری سہولیات کی توسیع میں مدد ملے گی۔ وی اون گروپ اور موبی لنک بینک کے چیئرمین عامر ابراہیم کے مطابق یہ سرمایہ کاری پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں جاری ساختی اصلاحات پر طویل المدتی اعتماد کی واضح علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو تقویت ملے گی بلکہ معیشت کی مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ 2026 میں ہونے والی یہ پہلی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں پاکستان کی معاشی بحالی، عالمی اعتماد کے استحکام اور پائیدار ترقی کی جانب ایک مضبوط پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جو ملکی مالیاتی شعبے کے لیے مثبت اشاریہ سمجھی جا رہی ہے۔پاکستان کی ترسیلاتِ زر میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت پر عالمی اعتماد اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بھرپور اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر نے دسمبر 2025 میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔


مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد اور ریکارڈ ترسیلاتِ زر پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 3.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ ان کے مطابق دسمبر 2025 میں ترسیلاتِ زر، دسمبر 2024 کے 3.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ رہیں۔ نومبر 2025 کے 3.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں ترسیلاتِ زر میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے باعث مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلاتِ زر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ مالی سال 2026 میں مجموعی ترسیلاتِ زر کے 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں سعودی عرب سے پاکستانیوں کی جانب سے سب سے زیادہ 813 ملین ڈالرز کی ترسیلات بھیجی گئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 726 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ اسی طرح اوورسیز پاکستانیوں نے برطانیہ سے 560 ملین ڈالرز اور امریکہ سے 302 ملین ڈالرز پاکستان بھجوائے۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی طور پر دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ملکی معیشت میں مضبوط شمولیت طویل المدتی استحکام، پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مجموعی آمد 3.59 بلین ڈالر رہی۔ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں ترسیلات 3.1 بلین ڈالر تھیں، اس لحاظ سے سالانہ بنیاد پر اضافہ تقریباً 16.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی یہ آمد نومبر کے 3.2 بلین ڈالر کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ رہی۔ مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلات 19.7 بلین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی مدت میں 17.8 بلین ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ترسیلات میں مسلسل اضافہ گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی زیادہ برآمد، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ایکسچینج ریٹ میں کم شرح فرق اور ترغیباتی پیکج کے تسلسل کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی مالی سال 2026 کے لیے ترسیلات کا ہدف 41 بلین ڈالر برقرار رکھتی ہے، جو مالی سال 2025 کے 38 بلین ڈالر سے تقریباً 7.5 فیصد زیادہ ہے۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے استحکام، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور ان گھرانوں کی قوت خرید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو بیرون ملک سے آنے والی رقم پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت بھی باضابطہ ذرائع کے استعمال اور ترغیبات کے ذریعے اس رجحان کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اگست میں اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ 2009 سے پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے تحت باضابطہ زر مبادلہ کی ترسیل کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مالی اداروں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 50 سے زائد ہوگئی ہے، جن میں روایتی، اسلامی اور مائیکرو فنانس بینکوں کے ساتھ ساتھ ایکسچینج کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی اداروں کی تعداد 45 سے بڑھ کر 400 کے قریب ہوچکی ہے۔ دسمبر 2025 میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ 813 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 8 فیصد زیادہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے ترسیلات 631 ملین ڈالر سے بڑھ کر 726 ملین ڈالر ہو گئیں، یعنی 15 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ برطانیہ سے آنے والی ترسیلات 560 ملین ڈالر رہیں، جو نومبر کے مقابلے میں 16 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 28 فیصد زیادہ ہیں۔ امریکہ سے 302 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 1 فیصد کم لیکن ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد زیادہ ہیں۔ یورپی یونین ممالک سے آنے والی ترسیلات 499 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 39 فیصد زیادہ ہیں۔
حکومت کی مثبت معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے جو سالانہ بنیادوں پر 229 فیصد زیادہ ہے۔ اب تک کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس ایک ارب 86 کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 65 کروڑ ڈالر کا خسارہ تھا۔ حکومتی کاوشوں کے بعد برآمدات کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مربوط معاشی اصلاحات کے ثمرات نمایاں، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں پائیدار بحالی کا آغازہوگیاہے ۔پاکستانی معیشت میں استحکام کے بعد صنعتی شعبہ نئی توانائی کے ساتھ متحرک، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ۔ پاکستان کا مینوفیکچرنگ شعبہ فروری 2025 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس کے اعداد و شمار کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب اور بہتر پیداوار بحال ہوتے اعتماد کی عکاسی ہے ۔حبیب بینک لمیٹڈ ایس اینڈ پی گلوبل مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس دسمبر 2025 میں 52.8 تک پہنچ گیا، جو مسلسل توسیع کی واضح علامت ہے۔ گزشتہ نو ماہ میں نئے آرڈرز بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیےگئے، جو ملکی پیداواری طلب میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے ۔ پاکستانی صنعتوں میں پیداواری سرگرمیاں مسلسل دوسرے ماہ بھی جاری، صنعتی شعبہ مزید استحکام کی جانب گامزن ہے ۔ پاکستان میں کاروباری اعتماد جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کے باعث سرمایہ کاری کے رجحان کو تقویت ملی ہے اورملک میں بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں کے باعث روزگار کے مواقع میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے ۔ صنعتی شعبے میں یہ مثبت پیش رفت ایس آئی ایف سی کی مؤثر معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی وژن کا عملی ثمر ہے گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2026 کے آغاز پر اقتصادی اور امن کے حوالے سے بھارت اور عالمی اوسط سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ سروے 60 ممالک میں کیا گیا۔ پاکستان میں 51 فیصد لوگ آنے والے سال کے بارے میں پُرامید ہیں، جب کہ بھارت میں یہ شرح 39 فیصد اور عالمی اوسط 24 فیصد ہے۔ اقتصادی حوالے سے 53 فیصد پاکستانی 2026 کو خوشحالی کا سال سمجھتے ہیں۔ امن کے حوالے سے بھی پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں 52 فیصد پاکستانیوں کو امید ہے کہ دنیا میں امن بڑھے گا، جبکہ بھارت میں یہ شرح صرف 26 فیصد ہے۔ سروے کے مطابق یہ سطح پاکستان میں 1994 کے بعد ریکارڈ کی گئی امیدوں میں سے ایک بلند ترین سطح ہے۔ سروے میں مجموعی امید، اقتصادی خوشحالی، اور امن کی توقع کے تین اہم پیمانوں پر پاکستان نے عالمی سطح پر اوسط سے بہتر کارکردگی دکھائی اور دو پیمانوں میں بھارت پر سبقت حاصل کی۔نتیجتاً، غیر یقینی عالمی ماحول کے باوجود پاکستانی عوام 2026 کے حوالے سے پُراعتماد اور پُرامید ہیں، اور گلوبل اکنامک گیلپ سروے معاشی ترقی اور عالمی امن کے حوالے سے پاکستان کی بہتر تصویر پیش کرتا ہے۔بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کر دی۔مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی۔

 

عالمی مالیاتی اعدادوشمار اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والے مستند ترین ادارے بلومبرگ کی پاکستان سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کی ہے ۔بلومبرگ کے مطابق پاکستان میں قیمتوں کا استحکام اور معاشی نظم و نسق بہتر ہو رہا ہے، دسمبر میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا جو توقعات اور نومبر کے 6.1 فیصد سے کم ہے، خوراک کی قیمتوں میں دباؤ کم ہوا اور غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا۔رپورٹ میں کہناہے کہ خوراک کی بہتر دستیابی سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور عوامی ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے۔مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی۔بلومبرگ کےمطابق اسٹیٹ بینک نے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر کیا، شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی سے قیمتوں کے دباؤ کے قابلِ کنٹرول ہونے کا واضح اشارہ ملا، کم شرحِ سود سے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونے کی امید بڑھی۔ بلومبرگ کاکہناہے کہ قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل دیا اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی، کم مہنگائی سے قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کے امکانات بڑھے، دسمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا مڈ ٹرم معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے۔پاکستان میں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی متحرک سرگرمیوں نے معیشت کو استحکام اور ترقی کی نئی رفتار دے دی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی تدبیری حکمتِ عملی کے تحت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سامنے آئی ہے، جس سے اقتصادی میدان مزید وسیع ہو رہا ہے۔ انگرو اور اتصالات نے دیودار (جاز) میں 157 ارب روپے اور ٹیلی نار پاکستان میں 108 ارب روپے کے سرمایہ کاری حصص حاصل کیے، جبکہ میپل لیف نے پائیونیئر سیمنٹ میں 76 ارب اور شأت گروپ نے رفحان مائز میں 68.5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں حاصل کر کے فضائی شعبے میں نئی پیش رفت کا آغاز کیا۔ معدنی شعبے میں پانچ ممتاز سرمایہ کاروں کی 5 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری سے صنعتی ترقی کی راہیں ہموار ہوئیں۔ گوگل، بی وائے ڈی، ارامکو، سام سنگ اور ایپل جیسے عالمی اداروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ کیا، جبکہ چین کے ساتھ بی ٹو بی معاہدوں سے اقتصادی شراکت داری نئی بلندیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2026 میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں 37 فیصد اضافہ متوقع ہے اور 16 سے زائد شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہیں۔ نجی و بین الاقوامی سرمایہ کاری سے معیشت مضبوط، صنعتی شعبہ وسیع اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ ایس آئی ایف سی کی جامع سہولت کاری سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری کے باعث پاکستانی معیشت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے نتیجے میں صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں ’’گیلپ‘‘ اور ’’ڈی اینڈ بی‘‘ نے پاکستانی معیشت میں نمایاں بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے صارفین کے اعتماد میں مجموعی طور پر 19 فیصد اضافے کی تصدیق کی ہے۔ مارچ 2022ء کے بعد سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 21.1 بلین ڈالر تک پہنچنے کے بعد ملکی معیشت کو دوام حاصل ہوا۔ معیشت میں یہ نمایاں تبدیلی ایس آئی ایف سی کی بہترین سہولت کاری، معاونت اور شب و روز کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ایس آئی ایف سی کی دوررس سہولت کاری اور مؤثر معاشی اصلاحات کے باعث مالی عدم تحفظ میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ بہترین اصلاحات سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کی اُبھرتی معیشت کے حوالے سے نوجوان طبقہ بھی پرامید ہے اور اپنے معاشی مستقبل کو روشن دیکھ رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی ہر سطح پر معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر سرگرم عمل ہے۔پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی بار ملکی سطح کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو قومی معیشت کے لیے روشن مستقبل کی نوید قرار دیا جا رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے سنہرے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ ملکی صفِ اوّل کے پانچ بڑے کاروباری گروپس لیک سٹی ہولڈنگز، فاطمہ گروپ، دین گروپ، ہلٹن گروپ اور سورتی گروپ بلوچستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ تقریباً پانچ ارب امریکی ڈالرز کی مجموعی مارکیٹ ویلیو رکھنے والے یہ گروپس معدنی شعبے میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ماڑی انرجیز کی ذیلی کمپنی ماڑی منرلز اور گلوباکور منرلز کے درمیان بلوچستان میں معدنی تلاش کے لیے جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد سامنے آئی۔ معاہدے کے تحت گلوباکور منرلز لمیٹڈ بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ جوائنٹ وینچر معاہدے کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی میں سونا اور تانبے سمیت قیمتی معدنیات کی تلاش میں سرمایہ کاری کی جائے گی معدنی ترقی کے آغاز سے ملک میں امن، ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور پاکستانی کمپنیوں کی براہِ راست سرمایہ کاری صوبے کی معاشی سمت بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ معدنی شعبے کی بحالی سے ہزاروں بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایس آئی ایف سی کی مربوط سہولت کاری سے ریگولیٹری رکاوٹیں دور ہوئیں اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر معدنی سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ معدنی وسائل کی ترقی سے پاکستان کی معاشی خود کفالت، صنعتی وسعت اور قومی معیشت کو طویل المدتی استحکام حاصل ہوگا۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے بلوچستان میں ہونے والی یہ وسیع سرمایہ کاری معاشی بحالی اور ترقی کی واضح علامت ہے ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الحکومتی ہم آہنگی کے لیے ایک منظم طریقہ کار فراہم کیا ہے ایس آئی ایف سی کی کوششوں نے پاکستان کو ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور اقتصادی استحکام کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور امید افزا اشارہ ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور امید افزا اشارہ ہےآئی ایم ایف کے پروگرام کے آغاز کے بعد پاکستان کے بڑے اقتصادی اشاریوں میں استحکام دکھائی دے رہا ہے افراطِ زر میں کمی ہوگئی ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ سنبھل گیا ہے جب کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر دو ماہ کی درآمد کے بل کی ادائیگی کے لیے کافی ہیں۔حکومت کو بجلی اور گیس کے شعبوں کی تنظیم نو کرنے میں مشکل درپیش ہے یہ درست ہے کہ مہنگائی اور شرح سود میں کمی ہوئی ہے لیکن قرض لینے کے ساتھ حکومتی اخراجات میں کمی دکھائی نہیں دے رہی۔
پاکستان کی معیشت نے گزشتہ 28 سے 30 ماہ کے دوران میکرو اکنامک استحکام کا سفر طے کیا ہے، پاکستان نے بیرونی اکاؤنٹ میں درآمدات کو بڑھنے سے روکا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس حاصل کیا ہے۔ ماہرِ معاشیات کا کہنا ہے کہ صارفین کا اعتماد معیشت میں نمایاں بہتری، حکومت اور ایس آئی ایف سی کے ٹھوس اقدامات کا نتیجہ ہے