اسلام آباد (ٹی این ایس) سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کے امن بورڈ کے تحت مسئلہ کشمیر حل ہوگا، یاد رہے کہ امریکی صدر نے اپنے پہلے دور میں مسئلہ کشمیرپر ثالثی کی پیشکش کی تھی, کیا غزہ کی طرح ریاست کشمیر بھی امن بورڈ کے تحت تک زیر غور ہوسکتی ہے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دو ایٹمی ممالک کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں, گزشتہ سال مئی میں امریکی صدر کی مداخلت سے پاک بھارت جنگ روک دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیےاقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان سے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کریں1948 میں متحدہ اقوام کی امن کونسل نے مسئلہ کشمیر پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں کہا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ایک ریفرنڈم کے ذریعے کیا جائے گا۔ 1951 میں متحدہ اقوام کی امن کونسل نے ایک اور قرارداد منظور کی، جس میں کہا گیا کہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ 1965 میں متحدہ اقوام کی امن کونسل نے بھارت اور پاکستان سے کہا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔اقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان سے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کریں کشمیر کا مسئلہ واقعی بہت پیچیدہ ہے اور اس کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ دونوں ملکوں کو اپنے اختلافات کو کنارے رکھ کر مشترکہ مفادات اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے حل نکالنا ہوگا
پیس بورڈ ایک عوامی بین الاقوامی ادارہ کی مدت مقرر نہیں ہے اور اسے غزہ سے باہر استعمال کیا جا سکتا ہے اقوام متحدہ کے کچھ اہلکار یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اس فریم ورک کا اطلاق دیگر تنازعات والے علاقوں پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد مکمل جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی از سرِنو تعمیر ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں بطور مستقل رُکن کے طور پر شامل ہو رہا ہے یا صرف تین سال کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست برسوں کے لیے اس کی رُکن ہو گی اور چیئرمین (صدر ٹرمپ) چاہیں تو اس رُکنیت کی تجدید بھی کر سکتے ہیں تاہم تین سالہ رُکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو ’بورڈ آف پیس‘ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گی ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر میں یہ بھی نہیں درج کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر مہیا کرنے والے ملک اور دیگر ممالک کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک شخصیت نےبتایا کہ ’بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے حوالے کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں۔ پوری دنیا جس طرح سے انگیج کر رہی ہے، پاکستان بھی وہ ہی کر رہا ہے سلامتی کونسل کی قرارداد نے تعین کیا ہے کہ اس بورڈ کی میعاد 31 دسمبر 2027 تک ہے اور اسے ہر چھ ماہ بعد سکیورٹی کونسل کو رپورٹ کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ عارضی بندوبست ایک مستقل عالمی ماڈل میں تبدیل نہ ہو جائےبورڈ آف پیس صدر ٹرمپ پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے اس کے قیام کے اخراجات، تنخواہیں کی فراہمی اور مستقل رُکنیت، یہ شراکت سے بڑھ کر معاملات ہیں۔اس سے ٹرمپ کی صدارت کو مزید تقویت ملتی ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی ان کئی عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنھیں ٹرمپ نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔تاہم ابھی تک انڈیا نےدعوت کو قبول نہیں کی۔تاہم جمعرات کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کیا تو انڈیا ان ممالک میں شامل تھا جو تقریب میں موجود نہیں تھے۔’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے پر انڈیا کے غیر فیصلہ کن ہونے کے بارے میں بحث جاری ہےٹرمپ کا بورڈ آف پیس یا بی او پی ایسے وقت میں تشکیل پا رہا ہے جب امریکہ اقوام متحدہ کی کئی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہےاقوامِ متحدہ میں انڈیا کے سابق سفیر سید اکبر الدین نے 23 جنوری کو ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں لکھا کہ انڈیا کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔بی او پی کے ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، امریکی نائب دفاعی مشیر رابرٹ گیبریل، اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا شامل ہیں۔ یہ سب امریکی شہری ہیں یا ٹرمپ کے وفادار سمجھے جاتے ہیں۔سابق سفیر کے مطابق ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 سے متصادم ہے، جو گذشتہ برس نومبر میں منظور کی گئی تھی۔اُن کے بقول اس قرارداد نے ایک بورڈ کو غزہ کی عبوری انتظامیہ کی نگرانی کا اختیار دیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے جس فورم کا اعلان کیا ہے اسے ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا گیا ہے اس اقدام کا مقصد دنیا کے مختلف تنازعات میں امن کے فروغ کے لیے ایک نیا بین الاقوامی فریم ورک بنانا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ فورم اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط کرے گا یا اسے کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔انگریزی اخبار دی ہندو کے اداریے میں لکھا گیا ہے کہ ’امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ اور تجارتی مذاکرات کی نازک صورتحال بھی اس مرحلے پر ٹرمپ کی دعوت کو مسترد نہ کرنے کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایسا کرنے سے ٹرمپ کی ناراضی مول لی جا سکتی ہے، جیسا کہ فرانسیسی صدر کے معاملے میں ہوا۔ یہ قرارداد گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، تاہم روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔‘اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نہ عملی تقاضے اور نہ ہی اصول اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ ایسا کوئی فیصلہ عجلت میں کیا جائے، اور انڈیا کے قد و قامت کا ملک کسی بااثر مقام سے محروم ہونے کے خوف یا امریکی ناراضی کا نشانہ بننے کے ڈر سے فیصلہ نہیں کر سکتا۔‘
چارٹر کے مطابق اگرچہ ابتدا میں اقوامِ متحدہ نے امریکہ کے اصل منصوبوں کی حمایت کی تھی، تاہم بورڈ آف پیس میں بعد ازاں تبدیلیاں کر دی گئیں اور اس میں غزہ کا ذکر تک شامل نہیں۔ ٹرمپ نے خود کو اس کا چیئرمین مقرر کیا ہے اور ایگزیکٹو بورڈ میں اپنے ذاتی دوستوں اور اہلِ خانہ کو بھی شامل کیا چارٹر میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ بورڈ آف پیس کو دیگر تنازعات کے حل میں شامل کیا جائے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کی جگہ لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔دی ہندو نے لکھا کہ ’بورڈ میں شامل ہونے کا پاکستان کا فیصلہ انڈیا کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہے، خاص طور پر اگر ٹرمپ نے تنازعہ کشمیر کو امن کے منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو بورڈ آف پیس اسے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایک بار بورڈ میں شامل ہونے کے بعد، انڈیا کے لیے انٹرنیشنل پیس میکنگ فورس میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی پر اعتراض کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔‘ٹرمپ بارہا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں جب کہ دوسری جانب انڈیا کسی بھی تیسرے فریق کے کردار کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ٹرمپ پہلے سے منعقد ہونے والی بین الاقوامی تنظیموں کو برخاست کر رہے ہیں، جس سے لوگ مزید خوفزدہ ہیں۔ وہ مغربی فوجی اتحاد نیٹو کو مسترد کر رہے ہیں۔امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے کئی اداروں سمیت 60 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ادارے غیر مؤثر ہیں اور امریکی خودمختاری کے خلاف ہیں۔ اسی لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ انڈیا کے لیے آسان نہیں ہے۔بورڈ آف پیس میں اپنی من مانی کرنے کے ٹرمپ کے ارادے کی ایک مثالاس وقت سامنے آئی جب انھوں نے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے دی گئی دعوت، واپس لے لی۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہےکہ ’ٹرمپ نے اس ادارے کو ابتدا میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کیا تھا، لیکن اب وہ اسے ایک ایسے ادارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کر سکے۔‘’کارنی کی دعوت واپس لینا بھی اس بات کی تازہ علامت ہے کہ بورڈ آف پیس ایک عام بین الاقوامی ادارے سے بہت مختلف ہو گا، جہاں رکن ممالک کے درمیان اختلافِ رائے اور کھلے مباحثے کو قبول یا حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔‘دی نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ’اس کے چارٹر میں تنظیم کے صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنے، ایجنڈا طے کرنے، ارکان کی تقرری اور برطرفی، پورے بورڈ کو تحلیل کرنے اور اپنے جانشین کو نامزد کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔‘بورڈ کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب ٹرمپ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک سامراجی وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس میں امریکہ حکومتوں کو گرانے، غیر ملکی علاقوں اور وسائل پر قبضہ کرنے اور حتیٰ کہ ہمسایہ ممالک پر بھی ان کی مرضی کے خلاف غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انھوں نے دعوت کیوں منسوخ کی، تاہم اس ہفتے کے آغاز میں مارک کارنی نے ڈیوس میں امریکہ کے زیرِ قیادت عالمی نظام پر تنقید کی تھی بورڈ آف پیس کا خیال سب سے پہلے گزشتہ سال ستمبر میں سامنے آیا، جب صدر ٹرمپ نے غزہ جنگ کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں واضح کیا گیا کہ اس بورڈ کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے دیگر تنازعات کو بھی اس کے تحت لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بورڈ کے مجوزہ چارٹر کے مطابق صدر ٹرمپ خود اس بورڈ کے پہلے چیئرمین ہیں اور یہ فورم عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے کام کرے گا۔ بورڈ کے ڈھانچے کے مطابق رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی، تاہم اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر کی رقم دے کر بورڈ کی سرگرمیوں کے لیے فنڈ فراہم کرے تو اسے مستقل رکنیت مل سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ابتدائی ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ ہیں ۔ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 ممالک کو دعوت دی گئی تھی جن میں سے 35 کے قریب رہنماؤں نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ان میں مشرق وسطیٰ کے کئی امریکی اتحادی اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، قطر اور مصر شامل ہیں نیٹو کے رکن ممالک ترکیہ اور ہنگری نے بھی شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ مراکش، پاکستان، انڈونیشیا، کوسوو، ازبکستان، قازقستان، پیراگوئے اور ویتنام بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔ آرمینیا اور آذربائیجان نے بھی اس فورم میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، یہ ممالک گزشتہ سال امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے تک پہنچے تھے۔ اس حوالے سے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی اس دعوت کو قبول کر لیا ہے، حالانکہ ان کے ملک کو انسانی حقوق اور یوکرین جنگ میں روس کی حمایت پر مغرب کی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور منسک کے درمیان تعلقات میں حالیہ بہتری کا اشارہ سمجھی جا رہی ہےماضی میں اقوام متحدہ کو غیر مؤثر قرار دینے والے صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ لینا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اس میں بڑی صلاحیت موجود ہے۔ کچھ ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کیا ہے یا ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔۔ بورڈ آف پیس کے اختیارات کے حوالے سے بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر میں ایک قرارداد کے ذریعے غزہ کے لیے اس بورڈ کے کردار کی منظوری دی تھی، مگر یہ منظوری صرف 2027 اور غزہ تک محدود ہے۔ اس قرارداد کے تحت بورڈ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک بنانے، فنڈز کی ہم آہنگی اور عارضی بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے کا مجاز ہے۔ بورڈ کو ہر چھ ماہ بعد سلامتی کونسل کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ یہ اب بھی واضح نہیں کہ بورڈ آف پیس کے پاس غزہ سے باہر کیا قانونی اختیارات یا عملی نفاذ کے ذرائع ہوں گے اور یہ اقوام متحدہ یا دیگر عالمی اداروں کے ساتھ کس طرح کام کرے گا۔ چارٹر کے مطابق اس بورڈ کے چیئرمین کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنے اور ارکان کو ہٹانے کا اختیار بھی شامل ہے، تاہم ان پر کچھ حدود بھی لاگو ہوں گی۔ مجموعی طور پر بورڈ آف پیس کو ایک ایسا نیا عالمی تجربہ قرار دیا جا رہا ہے جس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار عملی نتائج اور عالمی تعاون پر ہوگا۔پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام اور تعمیر نو کی عالمی کوششوں میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہےغزہ پیس بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کی سٹریٹجک خودمختاری مزید مستحکم ہوئی ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کی جا سکے۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے ذریعے مستقل جنگ بندی پر عمل درآمد، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی تعمیر نو کو ممکن بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ پاکستان نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی جانب بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوں گی جو کہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی اور یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنے گی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ان اہداف کے حصول اور فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مصائب کے خاتمے کے لیے امن بورڈ کے رکن کی حیثیت سے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ ’پیس بورڈ‘ کے بنیادی مقاصد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا مستقل حل، مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو، فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، نیز خطے میں پائیدار امن کے حصول کو یقینی بنانا شامل ہےوزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس میں شرکت ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے قومی اسمبلی میں بیرسٹر گوہر کے نکتہ اعتراض اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ بعض قومی اور بین الاقوامی معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں اور ان پر فیصلے امتِ مسلمہ اور پاکستان کے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت صرف موجودہ حکومت کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل کے قریب معاملہ ہے۔جب بھی پاکستان کے مفاد، مستقبل اور سلامتی کی بات ہو گی تو پوری قوم ایک آواز ہو کر سامنے آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی منظرنامے پر دو اہم اور حساس مسائل زیرِ بحث ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سرفہرست ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ان دونوں مسائل پر اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں آواز بلند کی ہے۔مسئلہ کشمیر کو پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کے طور پر اجاگر کیا جبکہ غزہ میں فلسطینی عوام بالخصوص معصوم بچوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ دنیا بھر میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور ممالک نے کی اور لاکھوں افراد نے ان مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا حل مستقل جنگ بندی اور تعمیرِ نو ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتا ہے اور ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا آیا ہے۔بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد بھی مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیرِ نو کی حمایت ہے، جس میں پاکستان کا قومی مفاد مقدم رکھا گیا ہے یہ کوئی سیاسی بحث کا معاملہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا پیغام ہے جو فلسطینی عوام اور پاکستان کے عوام دونوں تک پہنچے گا۔ خیال رہے کہ جنگ عظیم اول کی تباہی و بربادی کو دیکھتے ہوئے دنیائے عالم کی اقوام کو اس بات کا احساس ہوا کہ کسی ایسے ادارے یا تنظیم کو بنایا جائے جو دنیا کو مزید ایسی تباہی سے بچا سکے، جو جنگ کے متاثرین کی دادرسی کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کو جنگوں سے محفوظ کر سکے۔ ان تمام ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجمن اقوام کا قیام عمل میں آیا۔ انجمن اقوام کا قیام معاہدہ ورسیلس کے ذریعہ کیا گیا تھا، جس پر 28 جون، 1919 کو پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد دستخط کیے گئے تھے۔لیگ آف نیشنز پہلی بین الاقوامی تنظیم تھی جس کا بنیادی مقصد عالمی امن کو برقرار رکھنے اور مستقبل کے تنازعات کو روکنے کا تھا۔لیگ آف نیشنز کا قیام معاہدہ ورسیلز کی ایک اہم دفعات میں شامل تھا، جس سے اتحادی طاقتو ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور اٹلی ,جرمنی کے مابین بات چیت کی گئی تھی۔ معاہدہ ورسیلز کو انجمن اقوام کے معاہدے میں شامل کیا گیا تھا، یہ معاہدہ اس تنظیم کا ایک حصہ تھا جس میں تنظیم کے ڈھانچے، مقاصد اور افعال کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔معاہدہ ورسیلز کے منشور نے وہ اصول وضع کیے جن پر لیگ کام کرے گی۔ اس کے بنیادی مقاصد اسلحے سے پاک ہونے کو فروغ دینا، سفارتکاری اور اجتماعی سلامتی کے ذریعے تنازعات کو روکنا اور معاشی اور معاشرتی امور کو حل کرنے میں اقوام عالم میں تعاون کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ لیگ کا مقصد ممالک کو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور معاہدوں پر بات چیت کے لئے ایک فورم فراہم کرنا ہے۔لیگ آف نیشنز ایک اسمبلی پر مشتمل تھی، جہاں ممبر ممالک کی نمائندگی کی گئی تھی، اور ایک کونسل، جس میں با اثر ممبر ممالک کا ایک چھوٹا گروپ شامل تھا، جس میں مستقل ممبران جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔عہد نامہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور بین الاقوامی انصاف کی مستقل عدالت جیسے مخصوص امور سے نمٹنے کے لئے مختلف خصوصی ایجنسیاں اور کمیشن بھی قائم کیا۔ اس کے عمدہ ارادوں کے باوجود، لیگ آف نیشن کو اپنے وجود میں کئی چیلنجوں اور حدود کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، سوویت یونین سمیت کچھ طاقتور ممالک بعد کے سالوں تک ممبر نہیں بن سکے۔ جب دوسری جنگ عظیم کے آغاز نے امن برقرار رکھنے کی کوششوں کو مغلوب کیا تو لیگ آف نیشن کا موثر انداز میں وجود ختم ہو گیا۔ تاہم، اس کے قیام اور اس کے اصولوں نے بین الاقوامی تنظیموں خصوصاً اقوام متحدہ کی ترقی پر نمایاں اثر ڈالا، جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون اور امن کے لئے بنیادی عالمی تنظیم کے طور پر لیگ کو کامیاب کیا۔ اقوام متحدہ کا قیام 24 اکتوبر 1945 کو ہوا، جب 51 ممالک نے اس کا چارٹر منظور کیا۔ اس کا مقصد دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون اور امن کو برقرار رکھنا تھااس سے قبل لیگ آف نیشنز پہلی بین الاقوامی تنظیم تھی جو 1920 میں قائم ہوئی، مگر دوسری جنگ عظیم کو روک نہ سکی اور 1946 میں تحلیل ہو گئی اس کے بعد ہی اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد دنیا کو امن و سلامتی فراہم کرنا قرار پایا۔ سیکورٹی کونسل سمیت مختلف ادارے معرض وجود میں آئے جن میں جنرل اسمبلی، اکنامک اینڈ سوشل کونسل، ٹرسٹی شپ کونسل، یو۔این۔ سیکرٹریٹ، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ 1945ء سے لیکر 2025ء تک اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کمزور اور بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک کی کوئی آواز نہیں سنی گئی اور یہ فورم عالمی طاقتوں کے ہی مرہون منت رہا جس کے باعث دنیا میں طاقت کا قانون ہی رائج رہا۔ ویت نام ، شمالی کوریا ، بوسنیا ہرزوگوینیا، کوسوو، فلسطین، کشمیر، عراق، لیبیا، افغانستان، شام، لبنان ، غزہ ہر جگہ انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری گئیں۔حملہ آور طاقتیں انسانی لاشوں کو گراتی اور خون بہاتی نظر آئیں تاہم کمزور سے کمزور ملک کیخلاف بھی کارروائی کیلئے کہیں نہ کہیں عالمی برادری کو مطمئن کرنے کیلئے بین الاقوامی قوانین کا سہارا ڈھونڈا جاتا رہا۔ اگرچہ عالمی قوانین کے تقاضوں کو پس پشت ڈالا جاتا رہا تاہم اتنی گنجائش ضرور موجود رہی کہ انسانی حقوق کے افراد اور تنظیمیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر آہ و بکا کر سکتی تھیں۔ عالمی تنازعات کے حل میں ناکامی کے باوجود اقوام متحدہ کی متاثرین کیلئے ریلیف کے کام جابجا ساری دنیا میں دیکھے جاسکتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال غزہ ہے جہاں یو این فوڈ پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ریلیف کام میں مصروف کار ملتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی موجودگی کے باوجود آخرکار بورڈ آف پیس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے قیام نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے کیا اقوام متحدہ اپنی اہمیت و افادیت کھو چکا ہے؟ کیا آنے والے تین سال میں دنیا یو۔این چارٹرز اور کنونشنز کے تحت طے شدہ عالمی قوانین سے مکمل اجتناب برتتے ہوئے آگے بڑھے گی؟ کیا تیسری دنیا کے ممالک میں جمہوریت کی بحالی کی بجائے جمہوری قدروں کا خاتمہ ہونے جارہا ہے؟
مذکورہ بالا تمام سوالات کے جوابات بورڈ آف پیس کے تنظیمی سیٹ اپ اور اس کے چارٹر میں باآسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔ بورڈ کے چیرمین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ہیں جن کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہیں بورڈ کے معاملات کو اپنی خواہش کے مطابق آگے بڑھا سکتے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ سمیت کسی بھی ادارے یا اتھارٹی کو جواب دہ نہیں ہیں۔ چارٹر کے آرٹیکل چار کی روشنی میں ان کے ساتھ ایگزیکٹو بورڈ میں سات افراد ہیں جن میں امریکن سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خاص رفیق کار سٹیو وٹکاف،ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنور، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر ،کھرب پتی تاجر مارک رووان، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا، اور ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی کونسل کے ایڈوائزر رابرٹ گیبرئیل شامل ہیں۔ مذکورہ ایگزیکٹو بورڈ کے نیچے غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ بورڈ آف پیس کے چارٹر میں تمہید کے علاوہ کل تیرہ چیپٹرز ہیں۔جن میں تیرہ آرٹیکلز مختلف کلازز کے ذریعے چارٹر کے مقاصد اور ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔ تمہید میں چارٹر کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ دائمی امن کیلئے بورڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اور ایسا کرنے کیلئے اداروں سے کنارہ کشی ضروری سمجھی گئی ہے۔پہلے آرٹیکل میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیا میں ایسے علاقوں میں امن کی ضرورت ہے جو خوف اور تضادات کا شکار ہیں۔ دوسرا آرٹیکل رکنیت سے متعلق ہے جس کے تحت مستقل ممبر کیلئے لازم ہے کہ وہ ایک ارب ڈالر چیئرمین کے پاس جمع کروائے۔ تیسرا آرٹیکل گورننس کے بارے ہے جسں کے تحت چیئرمین کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں چوتھا آرٹیکل ایگزیکٹو بورڈ کو بیان کرتا ہے جس کا تفصیلی ذکر اوپر کر دیا گیا ہے۔ پانچواں آرٹیکل فنانس اور اخراجات کی تفصیلات سے آگاہ کرتا ہے۔ چھٹا آرٹیکل بورڈ کے لیگل سٹیٹس کو بیان کرتا ہے۔ ساتواں آرٹیکل تشریحات اور تنازعات کے حل کے میکنزم بارے ہے۔آٹھواں آرٹیکل بورڈ کے چارٹر میں ترمیم کا طریق کار بیان کرتا ہے جس میں چیئرمین کے پاس صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ جب چاہے چارٹر میں تبدیلی کر سکتا ہے۔آرٹیکل نو بورڈ میں پیش کی جانے والی قراردادوں سے متعلق ہے جسکی منظوری چیئرمین کی رضامندی سے مشروط ہے۔دسواں آرٹیکل بورڈ کے قیام کے پیریڈ کا تعین کرتا ہے جس کو قائم رکھنے کا صوابدیدی اختیار بھی چیئرمین کے پاس ہے۔آرٹیکل گیارہ کے مطابق اصل چارٹر چیئرمین کے پاس محفوظ رہے گا جبکہ مصدقہ نقول تمام ممبران کو فراہم کی جائیں گی۔آرٹیکل 12 یہ واضح کرتا ہے کہ کسی بھی ممبر ملک کو چارٹر سے متعلق کوئی تحفظات حاصل نہیں ہوسکتے۔آرٹیکل تیرہ بورڈ کی آفیشل لینگویج ،مہر، اور ہیڈ کوارٹر سے متعلق تفصیلات فراہم کرتا ہے جس کے مطابق انگریزی بطورآفیشل لینگویج ہوگی۔بورڈ کا ہیڈکوارٹر امریکی ریاست میں قائم کیا جائے گا













