وادی (ٹی این ایس) تیراہ وادی تیراہ میں پاک فوج کا کوئی آپریشن نہیں , سوشل میڈیا پر دشمنوں کا پاکستان اورمسلح افواج کےخلاف پروپیگنڈہ اورمنفی بیانیہ سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے حکومت گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے,یاد رکھیں کہ وادی تیراہ قبائلی علاقہ جات میں خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں پھیلی ہوئی ہےجبکہ اس کا چھوٹا حصہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی شمالی سرحد کو بھی چھوتا ہے۔ یہاں پشتونوں کے آفریدی، اورکزئی اور شنواری قبائل آباد ہیں
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی ضروری ہے جس میں ریاست اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وادی تیراہ میں شدید برف باری کے نتیجے میں پاک فوج کی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، مسلسل برف باری کے باعث علاقے میں حالات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق، مقامی آبادی کی مدد اور روزمرہ زندگی کی بحالی کے لیے پاک فوج کا ریلیف آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔ برف میں پھنسنے والی متعدد گاڑیوں کو نکال کر محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے۔ پاک فوج اور ایف سی کے افسران و جوان امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، اور متاثرہ خاندانوں کو کھانا، کمبل، اور ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی شہریوں نے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا اور ان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ اس کے علاوہ، متاثرہ خاندانوں کو ضروری اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ حکمت عملی کے تحت علاقے میں زمینی رابطے بحال کیے جا چکے ہیں۔کے پی کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشے کی وجہ سے سے مقامی افراد گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوجی آپریشن کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ میں مجوزہ فوجی آپریشن کے تناظر میں مقامی لوگوں کی شدید سردی میں نقل مکانی کے معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومت ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت پر شدت سے سامنے آیا ہے جب جمعے کو تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان میں پھنس گئے تھے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ان میں سے 1,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہےوزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وادی تیراہ کے معاملے پر پی ٹی آئی پر ’سیاست‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں کسی قسم کو کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ ایک ویڈیو پیغام میں خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی نالائقی چھپانے کے لیے، وادی تیراہ میں خصوصی طور پر رکھے گئے چار ارب روپے میں ہونے والی کرپشن کو چھپانے کے لیے فوج کا نام لیا جا رہا ہے وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے وادی تیراہ سے متعلق سامنے آنے والے نوٹیفکیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’پورے عمل میں کسی کاغذ، کسی نوٹیفکیشن پر نہ وفاقی حکومت، نہ فوج کا ذکر ہے۔ جیسے ہی وادی تیراہ سے لوگ دوسری جگہ منتقل ہوئے اور انہیں چار ارب روپے کی پیمنٹ کی گئی، جس کی وجہ سے وہاں شور ہوا اور یہ پتہ چلا کہ آدھے سے زائد پیسے ان ہی کے لوگوں نے کسی اور مقصد کے لیے رکھ لیے ہیں۔ صوبائی حکومت نے حقائق چھپانے کے لیے ’ایک بے بنیاد اور حقائق سے ہٹ کر بیانیہ‘ بنانا شروع کر دیا۔’جب بھی آپریشن کوئی کرنا ہو گا، اعلانیہ کریں گے، سب کو بتا کر کریں گے، سب کو آن بورڈ لے کر کریں گے، کسی قسم کا نیا آپریشن یا وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔وزیر مملکت نے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ملک میں کہیں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں ہو رہی ہیں تو وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں اور یہ نیشنل ایکشن پلان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں، ان کے بانی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں بنا اور اس میں خیبرپختونخوا کی حکومت پوری حصے دار ہے۔بقول طلال چوہدری: ’کوئی آئی بی آپریشن ہو یا خیبرپختونخوا میں ہونے والی کوئی کارروائی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والا کوئی بھی عمل، اس میں خیبرپختونخوا حکومت مکمل طور پر حصہ دار اور آن بورڈ ہوتی ہے۔وادی تیراہ سے یہ نقل مکانی اس اعلان کے تقریباً ایک ماہ بعد شروع ہوئی جب مقامی عمائدین نے ایک معاہدے کے بعد رہائشیوں کو 23 جنوری تک علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا تھا
پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے شمال مغربی علاقے تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے خدشات کے باعث لگ بھگ 70 ہزارنقل مکانی کر چکے ہیں طلال چوہدری کے اس تازہ بیان پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ’حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔‘ بیان کے مطابق ’یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ ’وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔‘
مزید کہا گیا ’قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور اس دوران پرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ ’ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے بیان میں وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی آبادی ’تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے مزید کہا گیا کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئیں اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور عمل کیمپوں کے بغیر مکمل کیا جائے گا
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی ضروری ہے جس میں ریاست اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے سکیورٹی پالیسیوں کو سیاسی مفادات کے لیے سیاست زدہ کرنا مجموعی امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو انہیں اپنے محدود سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس کی ایک نمایاں مثال نومبر میں خیبر کی وادی تیراہ میں بار قمبر خیل اور ملک دین خیل قبائل کی جانب سے منعقد کیے گئے دو جرگے ہیں جو علاقے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں منعقد ہوئے۔یہ جرگے علاقے میں ٹی ٹی پی کی بڑی تعداد میں دراندازی کے بعد بلائے گئے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کو بدقسمتی سےجس انداز میں سیاست زدہ کیا گیا اور معمولی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا اس نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پاکستانی معاشرے کے اندرونی شگافوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔افغانستان میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگرچہ پاکستان کی طالبان پر مرکوز افغان پالیسی جسے اب تبدیل کر دیا گیا ہے اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہونے کا متنازع فیصلہ ملک میں بگڑتی ہوئی دہشت گردی کی صورت حال کے بڑے عوامل کے طور پر زیرِ بحث آتے ہیں تاہم موجودہ سماجی اور سیاسی پولرائزیشن بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے۔
ریاست اور معاشرے کے درمیان وہ نمایاں خلیج جسے دہشت گرد نیٹ ورکس اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں نظر آتی ہے، وہ صوبہ جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ہر بار جب خیبر پختونخوا کی مقامی برادریاں فوجی آپریشنز کے خلاف احتجاج کے لیے سامنے آتی ہیں تو ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ ان اقدامات کی تعریف کرتے ہیں اور افغانستان۔پاکستان خطے میں بڑے فوجی آپریشنز کے آغاز کی کوششوں کی مزاحمت پر مقامی آبادی کی بھرپور ستائش کرتے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ مرکزی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور افغان پالیسی کے معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔بارہا خیبر پختونخوا کی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی، سرحدوں کی بندش یا افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں پر اعتراض کیا ہے۔
فوجی کارروائیوں کے خلاف مقامی مزاحمت کے بعد سکیورٹی فورسز نے بار قمبر خیل اور ملک دین خیل قبائل سے کہا کہ وہ غیر عسکری ذرائع سے امن بحال کریں یا علاقہ خالی کر دیں۔جب یہ جرگے منعقد ہو رہے تھے تو وادی تیراہ میں ٹی ٹی پی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں، یہ کوئی باضابطہ آپریشن نہیں تھا۔شہری جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔ اس کے باوجود مقامی لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو گئے اور خود کو ٹی ٹی پی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بیچ پھنسا ہوا پایا۔دہشت گردی سے نمٹنے کے ترجیحی طریقہ کار پر مقامی آبادی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی خیبر پختونخوا میں ایک پیچیدہ چیلنج کے طور پر ابھری ہے۔ایک طرف یہ اختلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ اور خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت کے درمیان اختلافات سے جنم لینے والے بڑھتے ہوئے ریاست اور معاشرے کے فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری طرف یہ مقامی برادریوں کی مسلسل تشدد اور روزمرہ زندگی پر اس کے تباہ کن اثرات سے پیدا ہونے والی تھکن کو ظاہر کرتا ہے۔وہ بڑے فوجی آپریشنز کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ماضی میں اسی نوعیت کے آپریشنز عسکریت پسندی کے خاتمے میں کیوں ناکام رہے۔مقامی آبادی کی فوجی آپریشنز کی مخالفت اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کے ساتھ مذاکرات کی ترجیح نے ان گروہوں کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے اور کسی حد تک انہیں ایک اہم فریق کے طور پر قائم کر دیا ہے۔ مزید برآں ریاست اور معاشرے کے درمیان موجود خلیج کو عسکریت پسند نیٹ ورکس نے کامیابی سے استعمال کر کے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا اور مقامی امن کو کمزور کیا ہے۔اسی طرح صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا کی حکومت نے نومبر میں پشاور میں ایک امن جرگہ بھی منعقد کیا۔ جرگے کے اختتام پر اکیس نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر اکیس اراکین اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے دستخط کیے۔ اس اعلامیے میں صوبائی اسمبلی پر زور دیا گیا کہ وہ امن کے لیے ایک صوبائی ایکشن پلان تشکیل دے۔دیگر نکات کے علاوہ جرگے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دے اور افغان پالیسی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت سے مشاورت کرے۔اس میں افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے دوبارہ کھولنے اور خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ جرگے نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر ایک مقررہ مدت کے اندر قانون سازوں کو اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے۔ایک بار پھر یہ جرگہ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان سیاست اور اختلافِ رائے کو بے نقاب کرتا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کو سکیورٹی پالیسیوں کو سیاست کا شکار بنانے سے گریز کرنا چاہیے پاکستانی حکام کو سیاسی اور سکیورٹی تقسیم سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا اور داخلی سلامتی کے معاملے کو سیاست زدہ کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ ’صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدے دار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے ’ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’اس علاقے کے مکین برف باری شروع ہوتے ہی وہاں سے نکل جاتے ہیں اور تین چار ماہ بعد واپس آ جاتے ہیں وادی میں تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان کے باعث پھنس گئے تھے۔ جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 نے بتایا کہ شدید برف باری سے متاثرہ وادی تیراہ میں پھنسے 1,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے. نقل مکانی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ ’مجوزہ فوجی آپریشن‘ کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔ تاہم خواجہ آصف نے کہا کہ ’11 دسمبر کو ایک جرگہ ہواتھا جس میں 24 یا 26 کے قریب مشران شامل تھے وہ ٹی ٹی پی کے پاس گئے کہ ہماری نقل مکانی شروع ہونی ہے تو اس سلسلے میں کوئی اتفاق رائے کیا جائے، اور بعد میں وہ مشران صوبائی حکومت سے بھی ملے۔‘ ان کے مطابق ’جرگہ مشران اور صوبائی حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے اور چار ارب روپے کا پیکج تیار کیا گیاتھا۔ اس سارے معاملے سے اس علاقے میں تعینات فوجی اہلکاروں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس علاقے میں فوجی آپریشن کئی سال پہلے ہوا تھا اور وقت کے ساتھ سٹریٹیجک فیصلہ لیا گیا کہ آپریشن سے زیادہ آئی بی اوز زیادہ موثر ہوتے ہیں کیونکہ اس میں عام شہریوں کا نقصان کم ہوتا ہے خواجہ آصف نے کہا کہ ’فوج نے آئی بی اوز کے مقابلے میں آپریشن کو ترک کر دیا اس لیے آپریشن کا وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ نقل مکانی ایک روٹین ہے۔‘انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سارے عرصے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھی جائے تو نہ وہاں سکول ہیں نہ ہسپتال ہیں اور نہ ہی کوئی تھانہ ہے اور صوبائی حکومت کا کچھ عرصہ قبل جرگے کے ساتھ طے پایا تھا کہ وہاں پولیس سٹیشن بچیوں کے سکول بنائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر دفاع نے سوال کیا کہ ’صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن اور جرگے کی موجودگی میں راڈار پر آپ کو فوج کہاں نظر آ رہی ہے؟ ’خیبر پختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا سارے کا سارا ملبہ فوج یا کسی ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔‘ دوسری جانب تیراہ سے نقل مکانی پر وفاقی حکومت کے ایک نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے 25 جنوری کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے ایک نوٹفکیشن جاری ہوا کہ تیراہ کے متاثرین خود اپنا علاقہ چھوڑ کر آ رہے ہیں ے؟ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ یہ نوٹفکیشن صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے۔ اس سے تھوڑا بہت جو اعتماد ہمارے درمیان تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔ آج کے بعد میں حکم دیتا ہوں ہماری وفاقی حکومت کے ساتھ جو بھی معاملات ہوں گے وہ ثبوت کے ساتھ ہوں گے تاکہ بعد میں جو یہ گند پھیلاتے ہیں، جو بند کمروں کے فیصلے پہلے مسلط کرتے ہیں نقصان ہونے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں تاکہ پھر کوئی اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اعلان کرتا ہوں کہ آنے والے اتوار کو میں آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا اس جرگے میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ آپ کو نکالا گیا یا آپ خود آئے؟ اگر آپ کی بات جھوٹی ہوئی تو اتوار کے بعد اپنے لوگوں کو میں خود تیراہ چھوڑنے جاوں گا۔‘ وزیر اعلیٰ نے سوات میں ایک ریلی سے خطاب میں الزام عائد کیا تھا کہ فوج اور آئی جی ایف سی نے 24 رکنی کمیٹی کو مجبور کیا تھا کہ لوگ تیراہ سے نقل مکانی کریں۔ تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف مجوزہ فوجی آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ ریلیف، بحالی اور آبادکاری کی جانب سے 26 دسمبر، 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے ممکنہ عارضی اور رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی نقل و حمل، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، عارضی قیام اور رجسٹریشن مراکز کے قیام و انتظام سمیت دیگر تیاری اور امدادی اقدامات کے لیے تقریباً چار ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ انخلا عارضی اور رضاکارانہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ انخلا مبینہ طور پر فوج کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے اتوار کو مبینہ طور پر فوج کے احکامات پر تیراہ وادی کو ’خالی‘ کرنے کے دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دے دیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب واقع وادی تیراہ میں اب تک ہزار وں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور حکام نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ تاہم پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں نہ تو کوئی فوجی آپریشن جاری ہے اور نہ ہی اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ فوجی کارروائی کی وجہ سے نہیں بلکہ موسمی شدت سے بچنے کے لیے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ان کے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب کئی ہفتوں سے لوگ تیراہ چھوڑ رہے ہیں۔اس علاقے سے اجتماعی انخلا اس اعلان کے ایک ماہ بعد شروع ہوا، جب مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے لوگوں کو 23 جنوری تک تیراہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ گزشتہ سال اگست میں پاکستان نےضلع باجوڑ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا تھا، خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے ایکس پر لکھا کہ وہ بے گھر افراد کی مشکلات کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے فوجی آپریشن سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بے گھر افراد کی دیکھ بحال کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت تیراہ میں مکمل فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔دوسری جانب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے گی۔ یہ گروہ، اگرچہ افغان طالبان سے الگ ہے، لیکن 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد مضبوط ہوا ہے۔ حکام کے مطابق ٹی ٹی پی کے کئی رہنما اور جنگجو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سینکڑوں تیراہ میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں وہ کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اس صورتحال میں تیراہ کے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جو غیر یقینی حالات کے باعث باڑہ اور قریبی علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اب تک تقریباً 10 ہزار خاندانوں، یعنی لگ بھگ 70 ہزار افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے، جبکہ تیراہ کی مجموعی آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے نگران افسر طلحہ رفیق عالم نے بتایا کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 23 جنوری سے بڑھا کر 5 فروری کر دی گئی ہے نقل مکانی کی بنیادی وجہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہے اور حالات بہتر ہونے پر بے گھر افراد کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ باڑہ اور آس پاس کے علاقوں میں خاندانوں کو گاڑیوں کے ذریعے تیراہ سے آتے دیکھا گیانقل مکانی کرنے والے ایک اور شہری نریندر سنگھ نے بتایا کہ شدید برفباری کے بعد خوراک کی قلت مزید بڑھ گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ”تیراہ میں خوراک کی شدید کمی تھی، اسی وجہ سے ہمیں علاقہ چھوڑنا پڑا۔ تیراہ ستمبر میں اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب وہاں ایک احاطے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد ٹی ٹی پی سے وابستہ جنگجو تھے، تاہم مقامی رہنماؤں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے سمیت عام شہری بھی شامل تھے۔خیبر پختونخوا میں صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ایک ہدایت نامے میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کو کہا کہ وہ اس ہفتے صوبے میں متوقع شدید بارشوں اور برف باری کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ محکمہ موسمیات نے اس خبردار کیا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ 25 جنوری سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہو گا اور 26 جنوری کو شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس نظام کے باعث ان علاقوں میں شدید بارش اور برف باری کا امکان ہے۔ خیبر اور سوات کے شمال مغربی اضلاع کی انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن کیے اور مختلف مقامات پر گاڑیاں پھنس گئیں۔ سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج میں ریسکیو اہلکاروں کو دکھایا گیا جو تیرہ روڈ، ملم جبہ روڈ اور نتھیا گلی میں بھاری برف باری کے باعث پھنسے لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔ پی ڈی ایم اے نے اپنے ہدایت نامے میں کہا ضلعی انتظامیہ کو سڑکوں، شاہراہوں اور سیاحتی مقامات کی مسلسل نگرانی یقینی بنانی چاہیے، ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو چوکنا رکھنا چاہیے، اور کنٹرول رومز اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاحوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں اور برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق بروقت انتباہ جاری کریں۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ بارش اور برف باری سے مختلف علاقوں میں سڑکیں بند ہونے، پھسلن، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ ہے، جس سے عام عوام اور سیاح متاثر ہوسکتے ہیں۔اتھارٹی نے لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے سیاحوں کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ برف باری اور شدید بارشوں کے دوران بالائی اور دور دراز علاقوں کا رخ نہ کریں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو یقین دلایا کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ پاکستان بھر سے ہزاروں سیاح موسمِ سرما میں کشمیر، گلگت بلتستان، کے پی اور پنجاب کے خوبصورت مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم شہری اکثر خراب موسم اور سڑکوں کی بندش سے متعلق حکام کی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہیں، جس سے ہنگامی حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ جنوری 2022 میں، مری میں شدید برفانی طوفان کے دوران کم از کم 21 افراد اپنی گاڑیوں میں پھنس کر جان سے چلے گئے تھے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری بارش اور برف باری کے باعث جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہیں سڑکوں کی بندش اور چند مقامات پر حادثات پیش آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔جمعے کو لوئر چترال کے علاقے ڈومیل میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے نو افراد جان سے چلے گئے تھے جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا تھا۔ریاست اور خیبر پختونخوا کے درمیان موجود اختلافات کا ایک پیمانہ صوبے میں منعقد ہونے والے مختلف امن جرگے ہیں، چاہے وہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہوں یا مقامی برادریوں کی جانب سے منعقد کیے گئے ہوں۔یہ جرگے اس ناخوشگوار حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ مقامی حمایت حاصل کیے بغیر سکیورٹی اقدامات کا یکطرفہ نفاذ الٹا اثر ڈالے گا اور اس کا فائدہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو پہنچے گا۔













