لاہور (ٹی این ایس) محمد سعید مہدی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’دی آئی وِٹنس‘ کی لاہور میں رونمائی

 
0
9

لاہور (ٹی این ایس) : محمد سعید مہدی کی طویل انتظار کے بعد شائع ہونے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب
The Eyewitness: Standing in the Shadows of Pakistan’s History
کی رونمائی لاہور میں ایک پروقار اور بھرپور تقریب کے دوران کی گئی۔ لائٹ اسٹون پبلشرز کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں 600 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں سفارتکار، سینئر صحافی، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور ادبی شخصیات شامل تھیں۔ یہ کتاب پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔

تقریب کا آغاز لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر آمنہ سید کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے کتاب کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن ادوار کا چشم دید بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد سعید مہدی کے مشاہدے میں آنے والے ادوار آئندہ نسلوں کے لیے قیمتی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آمنہ سید نے لائٹ اسٹون پبلشرز کی تعلیمی اور ثقافتی خدمات کا بھی ذکر کیا، خصوصاً ادب فیسٹیول کے ذریعے فکری اور تخلیقی ترقی کے فروغ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے شائع کردہ اسکول نصاب کے کتب ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہیں اور تنقیدی سوچ، جستجو اور تخیل کو فروغ دیتے ہیں۔
مصنف محمد سعید مہدی نے اپنے خطاب میں کتاب لکھنے کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا،
“میں نے یہ کتاب سچ کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی ہے۔ میں نے وہی لکھا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، نہ اس میں کچھ بڑھایا اور نہ گھٹایا۔”اس کے بعد گفتگو نے کتاب کے سیاسی، عدالتی اور صحافتی پہلوؤں کا احاطہ کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے چشم دید تاریخی بیانات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایسے بیانات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں شامل بھٹو مقدمے کے عدالتی پہلو ملکی قانونی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنا جہاد کی مانند ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بھی ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، مگر محمد سعید مہدی نے بے خوف ہو کر سچ لکھا۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جبر کے ماحول میں صحافیوں کو اٹھایا گیا اور سیاسی شناختیں عوامی رضا کے بجائے طاقت کے ذریعے مسلط کی گئیں۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے کتاب کو قومی شعور کے تحفظ کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومیں اپنی اجتماعی یادداشت سے بنتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو ایسی دیانت دار اور جرات مندانہ تحریروں سے سیکھنا چاہیے۔ سینئر بیوروکریٹ فرحان خواجہ نے کہا کہ نوجوان صحافیوں اور سرکاری افسران کے لیے یہ کتاب ایک رہنما ہے، جو مشکل حالات میں پیشہ ورانہ دیانت داری کی حقیقی مثال پیش کرتی ہے۔ اس نشست کی نظامت راحیلہ باقعی نے کی، جس میں کتاب کے اخلاقی اور تاریخی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

سینئر صحافی اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی نے محمد سعید مہدی کی سچائی سے وابستگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر پرنسپل سیکریٹری تک اعلیٰ ترین عہدوں پر خدمات انجام دینے کے باوجود، اور مارشل لا اور نیب کے تحت قید و بند جھیلنے کے باوجود، انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے کتاب کی تعلیمی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے صحافت، سیاست اور تاریخ کے طلبہ کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے، اور کہا کہ محمد سعید مہدی ریاستی گواہ نہیں بلکہ عوام کے گواہ بن کر سامنے آئے۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کتاب کے اسلوب کو سادہ مگر گہرے اثرات کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب محض رپورٹنگ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی داستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی لوگ سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شیما سید نے حب الوطنی پر مبنی نغمہ “یہ وطن تمہارا ہے” پیش کیا، جس نے محفل کو جذباتی رنگ دے دیا۔ بعد ازاں کتاب پر دستخط کی نشست منعقد ہوئی، جہاں شرکاء نے مصنف سے براہِ راست ملاقات کی اور کتاب میں پیش کیے گئے تاریخی انکشافات پر تبادلۂ خیال کیا