اسلام آباد۔29جنوری (ٹی این ایس) :انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم’’پیاس‘‘ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نےگھریلو تشدد کی روک تھام و تحفظ ایکٹ 2026 کے حالیہ نفاذ پر حکومت پاکستان کو مبارکباد دی ہے۔ جمعرات کو’’پیاس‘‘ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس صدر آصف علی زرداری کا اس بل پر دستخط کرنا پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے، ہم اس پیشرفت پر دلی مبارکباد اور اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔جاری بیان میں کہا کہ اہم قانون پر دستخط سے بہت پرجوش ہیں جو پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے سفر میں ایک سنگ میل ہے، یہ تاریخی قانون بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی یا طلاق کی دھمکیوں کو بطور آلہ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، جذباتی یا مالی استحصال کی کچھ شکلوں کو مجرم قرار دیتا ہے۔
یہ خواتین کے حقوق کے لئے ایک یادگار فتح کی نمائندگی کرتا ہے اور خاندانوں کے اندر گھریلو تشدد اور زبردستی کے طریقوں سے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط عزم کی نشاندہی کرتا ہے، ہم پاکستانی حکومت، پارلیمنٹ اور صدر آصف علی زرداری کو اس ضروری قانون کے ذریعے انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے یہ اہم قدم اٹھانے پر سراہتے ہیں تاہم ہمارا کام یہیں ختم نہیں ہوتا، اب جبکہ یہ قانون نافذ ہے، ہم اس کے موثر نفاذ کی بنیادی اہمیت پر زور دیتے ہیں، اکیلا قانون کافی نہیں ہے، اسے عمل میں لایا جانا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ اس قانون میں بیان کردہ تحفظات کو مکمل طور پر پورا کرنے کو یقینی بنانے کے لئے سخت نفاذ کا طریقہ کار قائم کیا جائے، ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ عوامی بیداری بڑھانے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں و عدلیہ کو تربیت دینے سے لے کر خواتین کے پاس خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کے لئے قابل رسائی و موثر چینلز کو یقینی بنا کر اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے،اس کوشش میں سرکاری حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے حامیوں کی اجتماعی شمولیت کی ضرورت ہے۔
پیاس ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اس تاریخی قانون کے نفاذ کی کڑی نگرانی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے، ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لئے انتھک وکالت کرتے رہیں گے کہ اس پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد ہو اور بالآخر وہ تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے جس کی پاکستان کی خواتین مستحق ہیں، ہم مل کر اپنی کمیونٹیز کو تمام شہریوں کے لئے محفوظ اور زیادہ مساوی بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔











