لاہور (ٹی این ایس) لاہور ایک محفوظ شہر کا تصور مین ہول میں گر گیاہے۔ پنجاب حکومت پہلے ہی گڈ گورننس کے لیے تنقید کی زد میں ہے،خاتون اور بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کے واقعے نےرہی سہی کسرپوری کردی ہے
ذمہ داروں کی معطلی اس المناک واقعے کا حل نہیں , ریسکیو 1122 کے ذمہ دار کئی سالوں سے محکمہ سے چپکے ہوئے ہیں اور وہ اپنے خلاف کارروائی کیسے کر سکتے ہیں ا س لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائےتاکہ ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے,
کوئی معاشرہ جہاں جان ومال محفوظ نہ ہو وہاں انسانی نسل کی بقا اور ترقی خطرے میں پڑ جاتی ہے، اس لیے دنیا کی کوئی آبادی، گروہ، جماعت ایسی نہیں ہے جو جان ومال کے تحفظ کے لیے قانون وضع نہ کرے۔کسی انسان کی ناحق مو ت کاسبب بننا ,ناحق قتل کی طرح گناہ ہے ،ل
اہور کا واقعہ بے حس انتظامیہ ذمہ دار ,واقعہ قتل بالسبب محض حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہےمقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی سنگین دفعات کے تحت درج ہونا چاہے,
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کے دردناک واقعے پر ریسکیو آپریشن میں موجود تمام اداروں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس، ریسکیو 1122، واسا اور ضلعی انتظامیہ کو واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر مبنی غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھکر کی مصروفیات کے دوران مسلسل ماں اور بچی کے کے مین ہول میں گرنے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لی، آپریشن کی متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے تمام افسران اور اداروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔
دوسری جانب خاتون اور بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کے واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب نے انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے خلاف سخت ایکشن کا حکم بھکر سے واپسی پر ائیرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس میں دیا وزیراعلیٰ نے واقعے سے متعلق غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کردیا گیا۔ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹرشبیر احمد کو بھی معطل کردیا گیاہے ۔
وزیر اعلی ٰ پنجاب نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنادی۔ کمیٹی 24 گھنٹے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ ابتداء میں ادارے واقعے کو جھوٹ قرار دے رہے تھے، خاتون کے شوہر کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، خاتون کی لاش ملنے کے بعد اسے رہا کیا گیا، بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد نالے سے برآمد کی گئی۔
مہذب معاشروں میں انسانوں نے اپنی رسم ورواج، پارلیمنٹ کی قرار داد، وغیرہ کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے لیے مختلف قوانین وضع کیے، تاکہ ان کا خاطر خواہ فائدہ معاشرہ کو پہنچے پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں لیکن اسے کون نافذ کرے۔اسے کہتے ہیں گڈ گورننس, خالق کائنات جو انسانوں کا بھی خالق ہےان کی نفسیات سے بھی واقف ہے، تاریخ گواہ ہے جہاں جہاں قوانین کو عملی طور پر نافذ کیا گیا وہاں امن وسکون کی بہار آئی، عوام الناس کی جان ومال محفوظ ہوئی ، قتل بہ سبب وہ قتل ہے جس میں کوئی شخص کسی کے قتل وہلاکت کا بالواسطہ سبب بناہو۔
گڈ گورننس لیےمہذب معاشروں میں عوام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کو اٹھائے بغیر کوئی چارہ نہیں، اگر ایک دو مجرموں پر سزا کے نفاذ سے ہر انسان کی جان ومال محفوظ ہو جائے تو یہ خسارے کا سودا نہیں ، لاہورواقعہ میں اصل داری ریسکیو کے اہلکاروں کی ہےریسکیو نے واقعے کے فوراً بعد اسے جعلی قرار دیا ریسکیو اہلکاروں کے بیان نے سارا منظر نامہ ہی بدل دیا، اس بیان پر شوہر کو پولیس گرفتار کیا لیا، پوری انتظامیہ کی کارکردگی انتہائی شرمناک ہےذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
خاتون اور بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کا واقعہ سے مقامی انتظامیہ کی بے حسی ہے سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق ماں بیٹی کےسیوریج ہول میں گرنےکی اطلاع شوہر نے دی تھی،
یاد رہے کہ ریسکیو اہلکار عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن آج کل عوام کی حفاظت کے بجائے میڈیا پر مصروف نظرآتے ہیں لاہور کا واقعہ اس کا ثبوت ہے۔ ریسکیو ٹیمیں چند منٹ میں پہنچ گئیں تاہم تلاش ختم ہونے سے پہلے ہی موقع پر موجود انتظامیہ نے ڈوبنے کی اطلاع ’فیک‘ قرار دینے کی رپورٹ میڈیا کو جاری کردی تھی۔
ریسکیو ذرائع نےدعویٰ ماننے سےہی انکار کردیا تھا اور انہوں نے کہا تھا اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں۔ لاہور انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کرلیا، کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش میں شوہر کے بیوی کے ساتھ تنازع اور سنگین الزامات کی رپورٹ جاری کی، خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے ، اس بیان کے بعد شک کی بنیاد پرخاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔
واضح رہے کہ متاثرہ فیملی سیر کرنے آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون اور بچی سیورج لائن کی منڈیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں ۔
واقعے کی ابتدائی تحقیقات رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون، بچی اور شوہر کو6:47 پر داتا دربار کے قریب شاپنگ کرتے دیکھاگیا اور تینوں رات 7:22 پر داتا دربار کے سامنے پہنچےرپورٹ کے مطابق 7:30 بجے تینوں داتا دربار سے پرانی پرندہ مارکیٹ کی جانب جاتے دکھائی دیئے اور پھر 7:32 پر ریسکیو 1122 کو خاتون اور بچی کے گرنے کی کال آئی جس کےبعد ریسکیو اہلکار 4 منٹ میں پہنچ گئے۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب لاہور انتظامیہ کا بھی کہناتھا سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔
رپورٹ میں بتایاگیا کہ خاتون کی ساس کو وہاں شور مچا کر لوگوں کو بلاتے ہوئے دیکھا گیا۔دوسری جانب ریسکیو 1122 کے افسر فاروق امجد کے اپنے کسی افسر کو بھیجے گئے آڈیو میسج نے معاملے کو الجھایا۔
آڈیو میسج میں فاروق امجد نے کہا کہ میں نے اپنے طور پر تحقیقات کی ہیں، لڑکی کے والد سے بات ہوئی، وہ مشکوک ہے اس کا والد بھی مشکوک ہے، سارا معاملہ میرے سامنے آیا تو میں بھی آپ کی طرح مشکوک ہوں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کال فیک ہے لیکن آپ کی طرح میں مشکوک ہوں۔ آڈیو میسج کے مطابق ریسکیو 1122 پوری رات ریسکیو آپریشن کرتی رہی اور اس وقت تک آپریشن نہیں چھوڑتے جب تک تحقیقاتی ادارے بتا نہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے۔
ریسکیو افسر نے کہا کہ وہاں کے حالات بتا رہے ہیں کہ ایسے واقعہ کا چانس لگ نہیں رہا مگر ہم نہیں کہہ سکتے کہ فیک کال ہے جب تک درست تحقیقات نہ آجائیں کہ یہ فیک کال ہے۔
اس آڈیو میسج پر سیکرٹری ریسکیو رضوان نصیر نے کہا کہ یہ میسج کیوں اور کس کو بھیجا گیا اس کی تحقیقات کر رہے ہیں
لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریبا 3 کلو میٹر دور واقعہ کے 6 گھنٹے بعد آؤٹ فال روڈ سیوریج لائن سے ملی۔ سیوریج لائن میں گرنے والی بچی 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش 29 جنوری کوآؤٹ فال روڈ کی سیوریج لائن سے ملی ۔
خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں دو افراد گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں، جس مقام کی نشان دہی کی گئی وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے ریسکیو آپریشن تین مختلف مقامات آؤٹ فال روڈ، بھاٹی گیٹ اور موہنی روڈ پر کیا گیا،
دوسری طرف ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی طاہر فاروق نے بھاٹی چوک میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے معاملے پر سخت ایکشن لے لیا۔ انہوں نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ترجمان ایل ڈی اے کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے نے کنٹریکٹر پر فوری مقدمہ درج کروانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
مزید بتایا ہے کہ ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر نجی کمپنی اور ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کی معطلی اور محکمانہ کارروائی و انکوائری کی سفارش کی گئی ہے اور منصوبے میں نیسپاک ٹیم کے کردار کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 ( ایمرجنسی 1122) ایک ایمرجنسی سروس ہے جو پاکستان میں صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا، صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کام کرتی ہے۔ پاکستان میں کسی بھی فون سے 1122 پر کال کرکے اس سروس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ماں بیٹی کےسیوریج ہول میں گرنےکی اطلاع شوہر نے دی تھی، ریسکیو ٹیمیں چند منٹ میں پہنچ گئیں تاہم تلاش ختم ہونے سے پہلے ہی موقع پر موجود انتظامیہ نے ڈوبنے کی اطلاع ’فیک‘ قرار دینے کی رپورٹ میڈیا کو جاری کردی تھی۔
ریسکیو ذرائع نےدعویٰ ماننے سےہی انکار کردیا تھا اور انہوں نے کہا تھا اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں اس دوران لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے بھائی اور ننھی بچی کے ماموں نے واقعے کو ’فیک نیوز‘ قرار دینے اور حقائق چھپانے پر متعلقہ سرکاری اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کیا اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ اداروں نے اپنی غفلت چھپانے کے لیے نہ صرف واقعے سے انکار کیاتھا بلکہ متاثرہ خاندان کو ہراساں بھی کیا گیا تھا۔
یہ افسوسناک واقعہ بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے سامنے پیش آیاتھا، جہاں ترقیاتی کام جاری تھا اور سیوریج مین ہول کھلا ہوا تھا۔ متاثرہ خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ دربار پر حاضری کے بعد رکشے سے اتر رہی تھیں کہ اچانک پاؤں پھسلنے کے باعث دونوں کھلے مین ہول میں جا گریں۔9 ماہ کی بچی بھی شامل تھی
اہلِ خانہ کے مطابق مین ہول تقریباً 20 سے 25 فٹ گہرا تھا اور اس پر کوئی ڈھکن موجود نہیں تھا۔ خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں نے بتایا تھاکہ واقعے کے فوراً بعد 1122 کو اطلاع دی گئی، تاہم ریسکیو ٹیم مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچی۔ بعد ازاں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی کے اہلکار بھی موقع پر پہنچے۔ اہلِ خانہ کا الزام تھا کہ واسا اور دیگر متعلقہ اداروں نے واقعے کے فوراً بعد یہ مؤقف اختیار کر لیا تھاکہ یہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، اور یہ دعویٰ کیا گیاتھا کہ مین ہول اتنا تنگ ہے کہ کوئی اس میں گر ہی نہیں سکتا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق یہ بیانیہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور صرف ادارہ جاتی غفلت چھپانے کے لیے پھیلایا گیاتھا۔
متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا تھاکہ ’فیک نیوز‘ کے دعوے کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے شوہر اور رکشہ ڈرائیور، جو کہ خاندان کا ہی فرد تھا، کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑاتھا، حالانکہ وہ خود ایک بڑے سانحے سے گزر رہے تھے۔اہلِ خانہ نے بتایا تھاکہ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز کی سطح پر معاملے کا نوٹس لیاتھا، جس کے بعد متاثرہ خاندان سے رابطہ بحال ہوا تھااور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ خاتون کے بھائی نے کہاتھا کہ ان کی بہن کے 3 کمسن بچے ہیں، جن میں 1 جو حادثے کا شکار ہوئی۔ اہلِ خانہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ واسا، ٹیپا متعلقہ کنٹریکٹر، اسٹینڈ انتظامیہ اور ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو ایسے واقعات دوبارہ رونما ہوتے رہیں گے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے مرتکب تمام اداروں اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ اس دوران لاہور میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق واقعہ کا مقدمہ خاتون کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیاہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق بیٹے کو فون پر بتایا گیا کہ آپ کی بہن اور بھتیجی مین ہول میں گر گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کے خلاف درج کیا گیا ہے۔بھاٹی چوک پر ماں اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کے بعد انتظامیہ نے ابتداء میں واقعے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ماں، بچی کے گرنے کی اطلاع کو فیک قراردیاتھا۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، تکنیکی طور پر اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا ممکن ہی نہیں۔ پولیس نے بھی ابتدائی تفتیش میں واقعے کو میاں بیوی کے جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی، شوہر کا بیوی کے ساتھ تنازع اور سنگین الزامات کی رپورٹ بنا دی۔ شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو حراست میں بھی لیاتھابعد میں کہا کہ کسی کو حراست میں نہیں لیاتھا۔ یاد رہے کہ ریسکیو 1122 ابتدائی طور پر یہ 2006ء کے پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی تاکہ ہنگامی حالات جیسے کہ آگ، ریسکیو اور ہنگامی طبی خدمات فراہم کی جا سکے۔ ہنگامی صورت حال کے انتظام اور روک تھام کو یقینی بنانے اور عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات کی سفارش کرنے کے لیے پنجاب ایمرجنسی کونسل اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈز تشکیل دیے گئے ,۔ 2004ء سے پہلے، پاکستان کے پاس منظم ہنگامی طبی نظام نہیں تھا ریسکیو 1122 کو ایک پیشہ ور ایمرجنسی سروس کے طور پر شروع کیا گیا تھا اور یہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اوسطاً سات منٹ کا رسپانس ٹائم حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کی کامیابی کے کچھ اہم عوامل میں گاڑیوں کی مقامی تیاری، ہنگامی طبی تکنیکی ماہرین کی تصدیق کے لیے انسٹرکٹرز کی تربیت، مقامی سیاق و سباق کے مطابق تربیتی مواد کو اپنانا اور متحدہ کمانڈ ڈھانچے کے تحت فائر اینڈ ریسکیو سروس کے رد عمل کو شامل کرنے کے لیے شاخیں بنانا شامل ہیں۔ 2004ء میں شروع کیے گئے لاہور پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد پنجاب میں ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ریسکیو 1122 پنجاب کے تمام اضلاع میں کام کر رہا ہے اور پاکستان کے دیگر صوبوں کو تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے۔ ریسکیو 1122 میں ایمرجنسی ایمبولینس، ریسکیو اور فائر سروسز اور کمیونٹی سیفٹی پروگرام شامل ہیں۔ یاد رہے گزشتہ سال افسوسناک واقعہ میں راولپنڈی میں پرائیوٹ ہاوسنگ سوسائٹی سے پانی کے ریلے میں بہہ جانے والے کرنل ریٹائرڈ اسحاق اور ان کی 25 سالہ بیٹی کی تلاش کے لیے کئی روز آپریشن جاری رہا ، راولپنڈی اسلام آباد کے امدادی ادارے مختلف مقامات پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کرتے رہے راولپنڈی ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیمیں، سی ڈی اے کا عملہ اور دیگر ادارے بھی دریائے سواں کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کررہے پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے لیے سال 2025 مصروف ترین سال رہا سال 2025ء میں ریسکیو 1122 نے 24 لاکھ 99 ہزار سے زائد ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس کیا اور 28 لاکھ 82 ہزار سے زائد متاثرین کو ریسکیو سروسز فراہم کیں۔ ریسکیو 1122 پنجاب نے 4 لاکھ 92 ہزار سے زائد روڈ ٹریفک حادثات اور آتشزدگی کے 28 ہزار 773 واقعات پر ریسپانس کیا۔ سیلاب میں 1500 سے زائد کشتیوں کے ذریعے 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔ 26 لاکھ لوگوں اور 21 لاکھ سے زائد جانوروں کو پیشگی انخلا سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق سال 2025 میں ایئر ایمبولینس سروس نے 190 شدید علیل مریضوں کو دور دراز کے علاقوں سے بڑے شہروں میں بہتر نگہداشت کے لیے منتقل کیا۔ خاتون اور بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کا واقعہ سے لاہور ایک محفوظ شہر کا تصور مین ہول میں گر گیا ہے صرف دو دن پہلے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور جرائم دنیا بھر میں ہوتے ہیں تاہم لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے، لاہور محفوظ شہر کا تصور شہریوں کو احساسِ تحفظ فراہم کرنے اور شہر کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور پولیس فورس کا ایک مشترکہ عزم ہے لاہور میں “محفوظ شہر” کا تصور جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی، اور پولیس کے فوری ردعمل کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے سروے کے مطابق لاہور دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ لاہور میں امن و امان کے قیام کے لیے اہم ہے۔ محفوظ شہر کے تصور میں ہزاروں کیمروں کی مدد سے جرائم کی نگرانی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھی جاتی ہے جدید کنٹرول رومز کی مدد سے پولیس کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر منٹوں میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے لاہور دنیا کے 37 ویں کم جرائم والے شہروں میں سے ایک ہے یہ پروجیکٹ لاہور کو دیگر بین الاقوامی شہروں کی طرح محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا لاہور کو دنیا کے 37 ویں کم جرائم اور 63 ویں محفوظ ترین شہر کا درجہ مل گیا، 2025 کے کرائم انڈیکس میں عالمی سطح پر نئی تاریخ رقم کرلی ہے اور دنیا کے 249 شہروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی سیکیورٹی درجہ بندی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
نومبیو کی رپورٹ کے مطابق لاہور نے اس شاندار کامیابی کے ساتھ دنیا کے بڑے شہروں جیسے نیویارک، لندن، پیرس، واشنگٹن ڈی سی، میکسیکو سٹی، تہران، استنبول، روم، اور جکارتہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور کے ساتھ کئی دوسرے مشہور اور بڑے شہروں کا موازنہ کیا گیا ہے جیسے میکسیکو سٹی (67.5)، ڈھاکہ (62.3)، واشنگٹن ڈی سی (60.4)، نئی دہلی (59.1)، لندن (55.1)، پیرس (58.0) اور نیویارک (50.7) جن کی سیکیورٹی کی صورتحال لاہور سے کم درجے کی ہے۔ یہ اعداد و شمار شہر میں ہونے والی گہری تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہیں جس کا کریڈٹ لاہور کی پولیس فورس کی جدید حکمت عملیوں اور سیکیورٹی اقدامات کو دیا جا رہا ہے۔یہ یاد رکھیں کہ خاتون اور بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کا واقعہ بھاٹی دروازہ میں ہوا بھاٹی دروازہ قدیم لاہور کے گرد قائم فصیل میں متعدد مقامات پر شہر میں داخلے کے لیے رکھے گئے دروازوں میں سے ایک اہم بھاٹی دروازہ، جو سید علی ہجویری کے مزار کی سمت واقع ہے۔ یہ بھاٹ قوم کی طرف منسوب ہے جو بعد آبادی ایاز کے اس دروازہ کے اندر یکجا آباد ہوئے تھے اسی کے اندر بازار حکیماں ہے جہاں بڑے بڑے نامور طبیب رہتے تھے
یہ یاد رہےکہ اس دوران بسنت کے تہوار سے قبل والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تاریخی فصیل بند شہر میں خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا ہے۔ سروے کے مطابق لاہور کے مجموعی طور پر 346 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 183 عمارتیں ناقابلِ مرمت جبکہ 163 کو مرمت کے قابل قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں، تاہم 254 عمارتیں تاحال آباد ہیں جو مسلسل جانی خطرے کا سبب بنی ہوئی ہیں۔اتھارٹی کے مطابق آباد عمارتوں میں سے 103 ناقابلِ مرمت جبکہ 151 مرمت کے قابل ہیں، جبکہ خالی کرائی گئی عمارتوں میں سے 80 کو مسمار کرنے اور 12 کو مرمت کے قابل قرار دیا گیا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان غیر محفوظ عمارتوں کی چھتیں بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لیے ہرگز محفوظ نہیں ہیں۔ حکام نے چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں وارننگ نوٹسز آویزاں کرنا اور آگاہی بینرز لگانا شامل ہے۔ بسنت کے دوران حادثات سے بچاؤ کے لیے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ خطرناک حصوں کو سیل کیا جائے، پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے جائیں اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے اضافی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ضلعی انتظامیہ نے شہر کی خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کی فہرست جاری کی ہے، جس کے مطابق شہر کے 9 ٹاؤنز میں واقع 59 عمارتوں کو بوسیدہ اور ناقابلِ رہائش قرار دیا گیا ہے ان 59 میں سے سب سے زیادہ 33 عمارتیں داتا گنج بخش ٹاؤن میں واقع ہیں، جن میں سے 26 عمارتیں نجی ملکیت میں ہیں۔ فہرست میں شامل عمارتوں میں 46 رہائشی جبکہ 12 کمرشل نوعیت کی ہیں، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 22 عمارتیں ایسی ہیں جن کی مرمت ممکن نہیں رہی انتظامیہ کے مطابق ان میں سے 44 عمارتوں میں تاحال لوگ رہائش پذیر ہیں۔ خطرے کے پیشِ نظر متعلقہ عمارتوں کو خالی کرانے کے لیے نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشہ ہفتے کراچی میں واقع ایک 5 منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے باعث 27 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس جان لیوا حادثے کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں میں مخدوش اور خطرناک طبعی حالت میں استعمال کی جانے والی عمارتوں کے مکینوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی لاہور کا شمار دنیا کے مشہور، قدیم اور خوبصورت تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق تو یہ شہر قبل از مسیح دور کا ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ لاہور شہر رام کے بیٹے لوہ نے آباد کیا تھا لیکن تاریخ لاہور کا ذکر پہلی مرتبہ 982ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’حدودالعالم‘‘ میں ملتا ہے۔ شاہ حسین میراں زنجانی اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ اسی دور میں لاہور تشریف لائے۔ان کی آمد کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی نے ہندو راجہ جے پال کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا اور محمود غزنوی کے غلام ایاز نے پہلی مرتبہ لاہور میں پختہ قلعہ تعمیر کیا۔ اس کے بعد لاہور کی تاریخ کا اہم سنگ میل شیر شاہ سوری کا لاہور جی ٹی روڈ کو تعمیر کرنا تھا۔ اس سڑک کی تعمیر سے لاہور شہر نہ صرف برصغیر کے اہم شہروں سے منسلک ہو گیا بلکہ اس کی تکمیل کے بعد لاہور شہر کی اہمیت، شہرت اور وسعت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ کسی دور میں تو لاہور کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں ہوا اور کسی دور میں یہ شہر لوٹ مار کا شکار اور تباہی و بربادی کی تصویر نظر آیا۔ جب تاتاریوں نے لاہور شہر کو لوٹ کر تباہ و برباد کر دیا تو مغلوں نے یہ شہر دوبارہ تعمیر کر کے اسے دنیا کے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہروں میں شامل کر دیا۔ شہر کے گرد فصیل تعمیر کر دی گئی اور اس میں داخلے کے لیے 12 دروازے تعمیر کیے گئے۔ فصیل کے باہر دریا بہتا تھا اور دریا کے ساتھ خوبصورت باغ بنایا گیا۔ مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی بادشاہی مسجد، قلعہ لاہور، شالامار باغ، جہانگیر کا مقبرہ اور مسجد وزیر خان جیسی لازوال عمارتیں آج بھی لاہور شہر کے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔
سکھوں کے دور میں پھر اس شہر پر قیامت ٹوٹی۔ صدیوں سے مقیم خاص طور پر مسلمان امرا اور شرفا کی ایک بڑی تعداد شہر چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور ہوئی اور شہر کی بہت سی خوبصورت تاریخی عمارتیں، مزارات اور مساجد لوٹ مار سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ 1750 سے 1850 تک کی طویل سیاہ صدی کے خاتمہ پر جب انگریز نے پنجاب کی حکمرانی سنبھالی تو لاہور کی ترقی کا ایک نیا باب کھلا۔ انگریز نے لاہور میں بے شمار جدید عمارتوں کی تعمیر شروع کر دی۔ ریلوے سٹیشن، پنجاب یونیورسٹی، ٹاؤن ہال، ضلع کچہری، گورنمنٹ کالج، عجائب گھر، ہائیکورٹ، جی پی او، منٹگمری ہال، ایچیسن کالج، کنیرڈ کالج، میو ہسپتال، میو سکول آف آرٹس، (بعد ازاں نیشنل کالج آف آرٹس) ٹولنٹن مارکیٹ، اسمبلی ہال اور دوسری بے شمار عمارتیں تعمیر کیں۔ ان تمام عمارتوں میں برطانوی، مغلیہ اور اسلامی کلچر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
1860 سے 1915 تک 55 سال کا عرصہ اہل لاہور کے لیے امن، ترقی اور خوش حالی کا دور ثابت ہوا۔ انگریز کے اس دور میں فصیل کے باہر ایک جدید، حسین اور نیا لاہور ابھر کے سامنے آیا۔ بلاشبہ یہ دور لاہور کی ترقی و عروج کا تھا۔ لاہور میں ریلوے کا نظام 1861 میں شروع ہوا۔ 1912 میں لاہور شہر میں بجلی مہیا کی گئی۔ ٹیلی فون کا نظام شروع ہوا۔ 1912 میں لاہور شہر میں بجلی مہیا کی گئی۔ ٹیلی فون کا نظام شروع ہوا۔ کشادہ پختہ سڑکیں، سیوریج کا نظام، پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی، صفائی کے لیے میونسپل کمیٹی کا قیام، شہری حدود میں پلاننگ کے تحت آبادیوں کی تعمیر کے لیے لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کا قیام، انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام اور عام آدمی کو تعلیم مہیا کرنے کے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی کا وسیع سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس تعلیمی دور کا اعجاز ہے کہ سرسید احمد خاں، قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی اور مولانا مودودی وغیرہ جیسی قدآور شخصیات پیدا ہوئیں۔ اس دور میں پنجاب یونیورسٹی اور لاہور سے تعلق رکھنے والے افراد کو نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ لیکن آزادی کے بعد قحط الرجال ہے۔ پاکستان بننے کے بعد لاہور شہر ترقی کی دوڑ میں دنیا کے کئی قدیم اور جدید شہروں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ دبئی، بنکاک اور کوالالمپور جو 1947 میں لاہور کی نسبت بہت پسماندہ تھے آج انتہائی ترقی یافتہ شہر ہیں۔













