اسلام آباد (ٹی این ایس) 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ، اتحاد، بیداری،قومی ذمہ داری

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان میں 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر اتحاد، بیداری اور قومی ذمہ داری کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ پاکستانیوں کو کشمیر کے جاری مسئلے اور انصاف اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور عوام ہر سال ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ مناتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی جاسکے۔ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ ہر سال، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے قانونی حق پر زور دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ کشمیری عوام گزشتہ 79سال گزرنے کے باوجود اس ناقابل تنسیخ حق کو استعمال نہیں کر سکے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط، مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے بڑے قابض فوجی علاقوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری خوف اور دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ 5 اگست, 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد، بھارت کی کوششوں کا مقصد بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور سیاسی ماحول کو تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیری اپنی ہی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل ہو جائیں- مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دیرینہ تنازعات کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہیے۔ مقامی لوگوں کی حقیقی امنگوں کو دبا کر دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے مفاد میں عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے پاکستان کشمیری عوام کے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، حق خودارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا بہادر کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد میں لاتعداد قربانیاں دے رہے ہیں۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلوانا ضروری ہے پاکستان کشمیری عوام کے حق میں ہمیشہ کھڑا رہا ہے اور کشمیریوں کی مکمل حمایت جاری رکھتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا، ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنا اور بھارتی مظالم کی مذمت کرنا ہے۔ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ کئی سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔

پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟ یہ قصہ کافی دلچسپ ہے۔ عمومی طور پر قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں کی کوئی تاریخی نسبت ہوتی ہے لیکن غالباً پانچ فروری ایک ایسا دن ہے جو قومی سطح پر منایا تو ضرور جاتا ہے لیکن اس دن کی کوئی خاص نسبت یا تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ فروری 1989 میں سویت یونین کا جب افغانستان سے انخلا شروع ہوا تو دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں میں سرگرم نوجوانوں کو ایک عجیب و غریب احساس نے جکڑ لیا۔ وہ سوچنے لگے کہ وہ بھی افغانوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی کی تحریک چلا سکتے ہیں اور فاتح بھی کہلا سکتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا خیال تھا کہ جس طرح اہل مغرب افغانوں کی پشت پر کھڑے ہوئے اسی طرح وہ ان کی بھی حمایت میں صف آرا ہوں گے کیونکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اس دن کو منانے کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 1990 میں شروع ہونے والی عسکری تاریخ سے ہے۔ ‘یہ وقت تھا جب کشمیریوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے عین مطابق فیصلہ کیا کہ قابض فوج کے خلاف بندوق اٹھانی ہے۔ پاکستان میں اس وقت کے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے سنہ 1990 میں پہلی دفعہ یہ مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ ‘قاضی حسین نے پہلی دفعہ یہ کال دی۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیرِ اعلی تھے جب کہ بے نظیر بھٹو کی مرکز میں حکومت تھی اور وہ وزیرِ اعظم تھیں۔ قاضی حسین احمد کے مطالبے کو نہ صرف پنجاب، وفاق، بلکہ باقی صوبوں نے بھی اہمیت دی اور پہلی مرتبہ یہ دن 5 فروری 1990 کو منایا گیا اور اس وقت سے اب تک یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان گاہے بگاہے کشمیر میں بسنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مخصوص نہ تھا۔’
سنہ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے طور پر بھٹو نے اعلان کیا کہ پاکستانی عوام بھرپور طریقے سے کشمیریوں کا ساتھ دے گی اور ایسا ہوا بھی۔ ‘یہ 28 فروری 1975 کا دن تھا۔ پاکستان میں اظہارِ یک جہتی ہوا اور کشمیر میں اتنا زبردست احتجاج اور ہڑتال ہوئی کہ لوگوں نے اپنے جانوروں تک کو پانی نہ پلایا۔ یہ مثالی ہڑتال تھی جو بھٹو صاحب کے کہنے پر ہوئی۔’ اس دن کو منانے کا مطالبہ کرنے والوں میں قاضی حسین احمد کے علاوہ سردار محمد ابراہیم بھی پیش پیش تھے۔ یہ مطالبہ پہلے سردار محمد ابراہیم نے بھی پیش کیا تھا جس کو قاضی صاحب نے آگے بڑھایا آئندہ آنے والے دنوں میں یہ مطالبہ کافی زور پکڑ گیا اور بعد ازاں وفاق اور صوبوں نے اس کو مان لیا۔ ویسے تو پاکستان اور کشمیر کا رشتہ پاکستان کے قیام میں آنے سے بھی پہلے کا ہے اور اب ہر سال یہ دن اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے منایا جاتا ہے۔جماعت اسلامی نے سنہ 1990 میں اپنے قائدین کی ایک میٹنگ بلائی۔ ‘اس نشست میں یہ مشورہ سامنے آیا کہ اس مقصد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ کیلنڈر کو دیکھا گیا اور میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ پانچ فروری کا دن مناسب رہے گا۔’ پانچ فروری کو کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا کہ اس مناسبت سے اس تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔شاید اس وقت انھیں اندازہ نہ تھا کہ آئندہ آنے والے برسوں میں یہ دن ایک تہوار کی شکل اختیار کر جائے گا۔ یہ بھی مسئلہ تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی تو کیا دونوں پارٹیاں اس پر متفق بھی ہوں گی۔ چونکہ مقصد نیک تھا تمام لوگ مان گئے اور پہلی بار 5 فروری 1990 کو یہ دن منایا گیا۔ اور بعد ازاں ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔ ‘تمام پارٹیاں شاید اس لیے بھی مان گئیں کہ کشمیر کے مسئلے کو پاکستان میں ہمیشہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہےبھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف برسر جدوجہد کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کے لئے 5 فروری کو پوری قوم ایک بار پھرکراچی سے خیبر تک یوم یکجہتی کشمیر منا رہی ہے۔ پاکستان کے عوام ہر سال یوم یکجہتی کشمیر روایتی جوش و جذبے سے مناتے ہیں اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی ہمیشہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر بھرپور حمایت کی ہے، پاکستان کا یہ اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہئے، پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام کی جائز جدوجہد کی طویل عرصہ سے حمایت کی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کا موقف ایک ہے۔بھارت نے 1947 میں جموں وکشمیر پر ناجائز فوجی تسلط قائم کرکے کشمیری عوام کو محکوم بنایا اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دینے سے گریزاں ہے، ‏اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ بھارت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ تنازع کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی قرارداودں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے نکالا جائے۔کشمیری عوام بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود حق خود ارادیت کے حصول تک جدوجہدجاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں، مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہی برصغیر میں امن قائم ہوسکتا ہے۔بھارت نےکشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دبانے کیلئے انہیں ہمیشہ ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ 75 برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور بے دریغ پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جہاں محض چند ہزار مربع میل علاقے میں کم و بیش 9 لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کےلئے اپنے تمام وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی کشمیر پالیسی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی اور جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ پالیسی بھارت کی بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کے دعوئوں کی یکسر نفی کرتی ہے۔ بھارت خطے میں بالادست قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،کشمیری عوام اور پاکستان نے کبھی بھی بھارتی بالادستی قبول نہیں کی ہے۔ 5 اگست 2019ءکو مقبوضہ کشمیرکوخصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تیزی سے تبدیل کررہا ہے، اس مقصد کے لئے بھارت کی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی قوانین کا اطلاق بھی عمل میں لایا ہے۔بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا، حریت کانفرنس کی پوری قیادت اور آزادی پسند کارکنوں کو فرضی مقدمات میں جیلوں، عقوبت خانوں اور گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ کشمیری عوام بھارتی حکومت کے5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنا اور بھارتی باشندوں کو آباد کرنے کی گھنائونی سازش کا حصہ ہے۔بھارت کے موجودہ حکمرانوں خاص طور پر مودی کی جارحانہ پالیسی اور اقدامات نے خطہ کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ بھارت کشمیر میں ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، بھارت مقبوضہ علاقہ میں نوجوانوں کا قتل عام کررہا ہے، کشمیری عوام بھارت کی فرقہ پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کسی کے زیر اثر یا تابع نہیں ہے بلکہ وہ بھارت کے غیر قانونی فوجی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد خود چلارہے ہیں، بھارت کے ان استبدادی ہتھکنڈوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیر کے عوام اپنی مبنی بر حق جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن اس عہد کے ساتھ منا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی ہر قیمت پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا تنازعہ ہے، کشمیر میں ہزاروں افراد کالے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، مقبوضہ علاقہ میں تحریک آزادی کے بعض کارکنوں کوموت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں، کشمیریوں کو انسانی حقوق کی پامالیوں اور ظلم وزیادتیوں کا نشانہ بنا کر خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیری عوام کا یہ عزم صمیم ہے کہ وہ بھارت کے گھنا ئونے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنی جدوجہد آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔جبکہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان اس بات کا تجدید عہد کرے گا کہ وہ کشمیریوں کی جائز اور مبنی بر صداقت جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتا رہے گا۔مودی حکومت کے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو مکارانہ اقدام کے تحت ختم کئے جانے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کے رابطوں میں پیش رفت ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے مقاصد میں بھی پیشرفت رکی نہیں ان پر ظلم وستم پہلے کی طرح جاری ہیں پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی حکومت نے ایک صدارتی حکمنامہ بھارتی ایوان بالا میں پیش کیا جس میں ہندوستانی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا چونکہ یہ پیشگی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اس لئے اس کی منظوری میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔ اس شق کے تحت کشمیر کو بھارتی وفاق میں ایک مخصوص حیثیت کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کا ردعمل تو انا ہی تھا اور بہت زیادہ آیا لیکن پاکستان کا بھی اس پر احتجاج عالمی سطح پر دیکھنے میں آیا ،جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی فضاء بدستور موجود ہے ایک طرف تو مودی حکومت جس نے خود آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا ہے ان کے نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کو خود ہی واپس لے لیں پھر وہاں ایک مضبوط، فعال اور بااثر اپوزیشن موجود ہے جس کی موجودگی میں اس نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ مودی کے اقتدار کا خاتمہ کر سکتا ہے تو دوسری طرف پاکستان نے جس قطعیت کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جب تک بھارتی حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی اس سے کسی قسم کا رابطہ، مذاکرات یا تعلقات رکھنا کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا تو یا دونوں طرف سے بطاہر فیصلوں میں کوئی لچک کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم حوالہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر ہے جس پر پاکستان کی ہر حکومت نے ایک ہی موقف اختیار کیا ہے گو کہ اس حوالے سے کئی بار اس مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز، سفارشات، بیک ڈور رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں کی گئیں اور امکانات پر بات ہوئی لیکن پاکستان کبھی اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے گزشتہ کچھ عرصے اور بالخصوص موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے غیر روایتی اور غیر معمولی انداز میں پیش رفت ہوئی۔ایک طرف جہاں بھارت کو اس حوالے روایتی ہٹ دھرمی پر اہم پلیٹ فارمز پر ہمزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں دنیا کی مختلف پارلیمانز، انسانی حقوق کے اداروں، عالمی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت اور پاکستان کے موقف میں اضافہ ہوا ہے تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اہم حکومتوں اور اس مقصد کیلئے قائم بعض اداروں کی جانب سے وہ حمایت اور بیانیہ سا منے نہیں آیا جن کی توقعات تھی بالخصوص ان اسلامی ممالک کی جابن سے جنہیں پاکستان برادر اسلامی ملک قرار دیتا ہے۔ 5 فروری دنیا بھر میں موجود پاکستانی ہر سال اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں اور ظلم و نا انصافی کا شکار کئی دہائیوں سے اپنے عزم اور منصف پر ڈٹے رہنے والے مقبوضہ کشمیر سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختلف ہے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے اور خود پر ہونے والے مظالم ناانصافیوں اور بھارتی جبر و استبداد کا مقابلہ بے سروسامانی کے عالم میں تو کشمیری کئی دہائیوں سے کرتے آرہے تھے لیکن مودی حکومت نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ظلم و ستم کے ہتھکنڈوں سے انہیں جھکانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور ایک انتہائی مکارانہ اقدام یہ کیا کہ بھارتی آئین میں موجود آرٹیکل370 ختم کر دیا جس کے ختم ہونے سے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی جو خصوصی اہمیت اور حیثیت تھی وہ ختم ہوگئی۔ اس آرٹیکل کے تحت اب غیر کشمیر ا فراد وہاں جائیدادیں بھی خرید سکیں گے اور سرکاری نوکریاں بھی حاصل کر سکیں گے اور بااثر اور معتمول ہندو تو کشمیری خواتین سے شادی کرنے کے عزائم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

 

جموں و کشمیر میں مودی حکومت نے آرٹیکل 370 نافذ کرنے کے وار سے صورتحال میں کیا تبدیلی آئی ہے اس سے مودی حکومت کے عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے۔ جموں وکشمیر کی کوئی خاتون اگر ہندوستان کی کسی ریاست کے شخص سے شادی کرے تو اس خاتون کو جموں وکشمیر کی شہریت ختم ہو جائے گی۔ اگر کوئی کشمیری خاتون پاکستان کے کسی شخص سے شادی کرے تو اس کے شوہر کو بھی جموں وکشمیر کی شہریت مل جاتی ہے۔ ۔5 اگست 2019 سے نافذ کئے اقدامات کے اثرات بھی جاری ہیں، پوری وادی محاصرے میں ہے، مواصلاتی نظام منجمد کر دیا گیا ہے،5 اگست کو کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے پوری ریاست پر سخت مواصلاتی پابندیاں نافذ کر دی تھیں جن کی زد میں سوشل میڈیا بھی بری طرح آیا لیکن خبر کے ذریعے خاموش کی جانیوالی آوازیں آج بھی چیخوں کی طرح شور مچارہی ہیں احتجاج کررہی ہیں۔ بھارت نے غیر ملکی صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے البتہ اپنے ہم خیال طبقات کو وہاں لے جانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ نئی دہلی میں متعین غیر ملکی سفیروں کو وادی کا دورہ کرانے کی دعوت دی گئی تو ان شخصیات کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جنہوں نے و ادی میں آزادانہ گھوم پھر کرعوام کے جذبات جاننے اور حالات کا اپنی مرضی کے مقامات پر جا کر جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی تھی کشمیری رہنمائوں آل پارٹی حریت کانفرنس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان سے رابطہ کرنے پر زور دیا تھا لیکن انہیں بتایا کہ ایسا ممکن نہیں ہے چنانچہ سفیروں اور دیگر سفارتکاروں کی بڑی تعداد نے وادی کا دورہ کرنے سے انکار کردیا۔ پانچ فروری مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔یہ بھارت کے ظلم و استبداد اور ہٹ دھرمی کے خلاف کشمیریوں کی لازوال جہدوجہد آزادی کی حمایت میں تجدید عہد کا دن ہے۔ یہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں جوش وجذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے اور آزادی کے متوالوں مظلوم کشمیریوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارت کے تسلط سے کشمیر کو آزادی دلانے میں وہ تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے تناظر میں یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
کشمیریوں نے اپنی قربانیوں سے مسئلہ کشمیرزندہ رکھا ہوا ہے ۔ بھارت کا کوئی ظلم و جبر ان کے جذبۂ مزاحمت کو ختم نہیں کر سکا ۔وہ جدوجہد آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستانی قوم نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی پشت بانی میںکبھی کمی نہیں آنے دی۔ اپنے دلی جذبات کے اظہار کیلئے ہر سال 5 فروری کو گلی کوچوں میں سڑکوں، چوراہوں پر کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا اُصولی اور تاریخی مؤقف ہے جس پر قائداعظم سے لیکرآج تک پاکستانی قوم اورمسلمانان جموں وکشمیر قائم ہیں۔ وہ اس پر کسی انحراف یا سمجھوتے کا تصور بھی نہیں کرسکتی ۔مسئلہ کشمیر ان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت سے کم کسی بات کو قبول نہیں کریں گے