اسلام آباد (ٹی این ایس) حکومت پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کو شاں ہے, مذاہب اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی، دورِ جدید کی وہ ضرورت ہے جس کا احساس ہر دور میں زندہ رہا ہے، آئین پاکستان تمام شہریوں کو، مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے یہ اصول بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے رواداری، اتحاد اور ہم آہنگی کو پاکستانی قوم کی بنیاد قرار دیا۔ عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی، ہمیں ان اعلیٰ اقدار سے اپنی اجتماعی وابستگی کی تجدید کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔بین المذاہب تفہیم کا براہِ راست تعلق عام شہریوں کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جہاں ہم آہنگی ہوتی ہے وہاں بچے بلا خوف اسکول جاتے ہیں، عبادت گاہیں محفوظ اور کھلی رہتی ہیں، محلّے اعتماد کے ساتھ ہنستے بستے ہیں اور روزگار باوقار انداز میں ملتا اور برقرار رکھا جاتا ہے۔ صدرپاکستان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے، پاکستان مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال معاشرہ ہے، ہمارا آئین تمام شہریوں کو ’مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی، جو یکم تا 7 فروری 2026 منایا جا رہا ہے، اس موقع پر پاکستان کے عوام اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ موقع ہمیں اُن مشترکہ اقدار کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں امن، ہمدردی، باہمی احترام اور بقائے باہمی شامل ہیں اور جو تمام مذاہب اور نظامِ عقائد کی اساس ہیں۔صدر زرداری نے کہاپاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جو مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال ہے۔اس کے برعکس، عدم برداشت اور تقسیم سماجی زندگی کو متاثر کرتی ہے، مقامی معیشتوں پر منفی دباؤ ڈالتی ہے اور اُس احساسِ تحفظ کو کمزور کرتی ہے جس پر خاندان انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا مذاہب کے درمیان احترام اور مکالمے کا فروغ کوئی مجرد اصول نہیں بلکہ سماجی استحکام اور فلاح و بہبود کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔تنازعات،تقسیم اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے اس دور میں بین المذاہب رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین بامعنی روابط، تعلیم اور مکالمہ تعصبات اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ناگزیر ہیں۔صدر زرداری نے کہا اخلاقی اہمیت کے ساتھ ساتھ، بین المذاہب ہم آہنگی سماجی یکجہتی، پائیدار امن اور مشترکہ ترقی کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اسلام، دیگر عظیم مذاہب کی طرح، عدل، پُرامن تعاون اور انسانی وقار کے احترام کا درس دیتا ہے۔ شفقت، مہربانی اور رواداری جیسی اقدار تمام مذہبی روایات میں مشترک ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری مشترکہ انسانیت ہمارے اختلافات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرتے ہوئے اور باہمی تفہیم کو فروغ دے کر ہم اپنے معاشروں میں اعتماد اور یکجہتی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔صدر نے کہا میں اُن مذہبی رہنماؤں، علما، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتا ہوں جو برادریوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات، احترام کے فروغ، نفرت کے سدباب اور آئندہ نسلوں کی رہنمائی میں نہایت اہم ہیں تاکہ وہ تنوع کو طاقت کے سرچشمے کے طور پر دیکھ سکیں۔ہم بین المذاہب ہم آہنگی کی اقدار کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری اور ایک پُرامن دنیا کے لیے مل جل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کریں۔ دعا ہے کہ یہ ہفتہ ہمیں بامعنی عمل، باخبر مکالمے اور باہمی احترام کی طرف مائل کرے۔پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔’’ہم آہنگی‘‘ لفظ فارسی ترکیب کے مطابق ایک دوسرے کے لیے دل و دماغ میں جگہ پیدا کرنے کا نام ہے،بالفاظِ دیگر ایک دوسرے کے لیے اپنے رویے اور عمل میں عدم برداشت کی بجائے برداشت، تصادم کی بجائے تعاون، تشدد کی بجائے تحمل سے کام لینے کا عنوان ہے۔ ہم آہنگی کو عربی زبان میں ’’مدارات‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ہم آہنگی کا دائرہ یوں تو انسانی زندگی کے کسی بھی شعبے میں تناؤ آمیزی کو معمول پر لانے اورباہمی رویوں کے عدمِ توازن کو متوازن بنانے کے لیے مطلوب سمجھا جاتا ہے، مگر مذہبی شناختوں کے حوالے سےاس کی اہمیت اور ضرورت کا احساس و اِدراک سنجیدہ طبقات کو ہمیشہ رہا ہے اور موجودہ زمانے میں اولاًمختلف مذاہب کے درمیان اورپھر اسلامی مسالک کے درمیان ہم آہنگی کی جتنی ضرورت ہے، اِسے اس دور کے اہم تقاضوں میں سمجھنا چاہیے، اس لیے کہ اس وقت انسانی دنیا‘ مذہبی حوالے سے دو طرح کے تصادم یا تناؤ کی زد میں ہے:
پہلا تناؤ مذہبیت اور لا مذہبیت کے درمیان ہے اس وقت لامذہبیت اور دہریت، انسانیت کوہر قسم کے دین و دھرم سے دور کرنے یا ہر قسم کی آسمانی، اخلاقی اور اقداری تعلیمات سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے اور لامذہبیت کایہ فتنہ مذہبیت کو بری طرح اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے، چنانچہ من حیث المذہب تمام مذاہب کے علمبرداروں سے دورِ جدید کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی اقوام کو کم از کم دہریت و لا مذہبیت کے شکنجے میں کسنے سے بچائیں؛ کیوں کہ ہم تمام مذاہب والے اپنی اپنی متعین اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر انسانیت کی اچھی طرح خدمت کرنا چاہیں تو یہ نسبۃً آسان ہے، جب کہ لا مذہبیت جو غیر اقداری رویہ یا روش ہے، اس کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کوئی تھیوری یا ایسافارمولہ سامنے رکھنا مشکل ہے، جس کی بنیاد پر ہم انسانیت کو حیوانی اقدار کے حوالے ہونے سے بچاسکیں، اس لیے لامذہبیت کے مقابلے میں تمام مذاہب والوں کا اپنی اپنی اقدار کی پاسداری کے ساتھ مشترکات و مسلمات کے لیے مل بیٹھنا، اس وقت تمام مذاہب کی ضرورت ہے اور تمام مذاہب کے زعما ءکی ایک طرح سے ذمہ داری بھی ہے۔ اسی طرح اگر ہم اسلام سے نسبت رکھنےوالے مسالک کی طرف آ جائیں تو بین المسالک ہم آہنگی توبین المذاہب ہم آہنگی کےمقابلے میں زیادہ ضروری معلوم ہوتی ہے؛ کیوں کہ لامذہبیت اور مذہبیت کے شدید عالمی تناؤ سے بڑھ کر اس وقت انسانیت، دنیائے کفر اور دنیائے اسلام کے دو مذہبی تصادم، عد م برداشت اور غیر متوازن رویوں کی زد میں ہے۔ دنیائے کفر، اسلامی دنیا کے معاملے میں تاریخ کے بدترین اسلام فوبیا کا شکار ہے، وہ تمام اسلامی مسالک کو محض مسلمان کہلانے کی وجہ سے ہر قسم کی معاشی، معاشرتی، میڈیائی اور مسلح جنگ کی زد میں رکھے ہوئے ہے۔ دنیائے کفر اپنے اس ظالمانہ رویے میں ہماری داخلی تفریقی شناختوں کی کوئی تفریق نہیں کرتی۔ مغربی دنیا‘ اہلِ اسلام کو نشانہ بناتے ہوئے شیعہ سنی کی تفریق کرتی ہے، نہ مقلدوغیر مقلد کی تقسیم سے اُسےکوئی غرض ہے اور نہ ہی دیوبندی یا بریلوی کی تمییز اس کے لیے امتیاز کا ذریعہ ہے، وہ ہمیں بلا امتیاز اپنالقمۂ تر بنانے کے لیے مصروفِ عمل ہے، اس لیے دورِ جدید کا ہنگامی اور لازمی تقاضا ہے کہ اسلام سے نسبت رکھنے والے تمام مسالک اپنی اپنی مسلکی شناختوں کو تھامتے ہوئے اسلام دشمن قوتوں کے سامنے وحدت اور ہم آہنگی کا بہترین مظہر بن جائیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ جو مذہب اسلام‘ غیر اسلامی مذاہب کے ساتھ مشترکات ومسلمات پر مل بیٹھنے کی تلقین کرتا ہے، اس مذہب کے اپنے پیروکار کفر کے مقابلے میں دفاعِ اسلام اور اپنے تحفظ کے لیے اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟ بلکہ تمام مسالک کے ماضی کے اکابر نے ہمیشہ مشترکات و مسلمات پر اکٹھے ہونے کی بہترین مثالیں چھوڑی ہیں، جن میں تحریکِ پاکستان، تحریکِ آئین سازی، تحریکِ ختم نبوت کے مختلف ادوار، متحدہ مجلس عمل، اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ اور پیغامِ پاکستان جیسے مسلکی وقومی اتحاد ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارے اکابر کے درمیان اس قسم کے اتحاد ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ ہمارا مسلکی تنوع ہرگزتصادم کا باعث نہیں ہے، بلکہ عدم برداشت پر مبنی تحزّب (گروہ بندی) ہمارا المیہ ہے، اس لیے دورِ جدید کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے عدم برداشت کے رویوں سے بالاتر ہوں اور مشترکات و مسلمات کے لیے ہم آہنگی کے فروغ کی بہترین مثال بنیں۔ فی زمانہ اسے اسلام کا بنیادی تقاضا بھی کہہ سکتے ہیں۔بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے مذہبی اختلافات کے باوجود، مسلمات و مشترکات پر اتفاقِ رائے و عمل قرآنی حکم ہے:‘بیان القرآن ہے’’آپ فرمادیجیےکہ اےاہل کتاب! آؤایک ایسی بات کی طرف جوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان (مسلم ہونے میں) برابر ہے ’’غیرمسلموں کے ساتھ مدارات سے رہیں۔‘‘
تمام مذاہب کے مقدسات کا احترام کیا جائے:ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں تمام مذاہب کے تقدس کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انسانی تعظیم و تکریم کو بھی ملحوظ رکھا جائے، کسی بھی موقع پرمذہب کے اختلاف اور تفاوت کی وجہ سے نفسِ انسانیت کا اشتراک واحترام متاثراور فراموش نہیں ہوناچاہیے :بیان القرآن ہے ’’اورہم نے آدم کی اولادکوعزت دی۔‘‘ ’’ساری انسانیت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا شدہ ہیں۔‘‘ مذہب و مسلک کی بنیاد پر اشتعال انگیزی سے اجتناب کو یقینی بنایا جائے، معارضے ومقابلےکے موقع پرمذہبیات اور مذہبی شخصیات کے درمیان توہین آمیز تقابل نہ کیا جائے -ایک دوسرے کی توہین و تحقیر کا عمل صراحۃً تو درکنار، اشارات، کنایات اور موہوم کلمات کے ذریعے بھی نہ کیا جائے، بلکہ ایک دوسرے کا تذکرہ ایسےغیر مبہم الفاظ میں کیا جائےجس سے غلط فہمی جنم نہ لے سکے: ہمارے باہمی اختلافات، بلا شبہ ایک حقیقت ہے، مگر ان اختلافات کو عام مجامع، شاہراہوں، چوراہوں اور بازاروں میں عام کرنے، بیان کرنے اور پھیلانے سے اجتناب کیا جائے اور پوری امانت و دیانت کے ساتھ اپنےاپنے مخصوص حلقوں میں تعلیم گاہوں تک محدود رکھا جائے، تاکہ گروہی تصادم کا فتنہ جنم نہ لے سکے، ایسےفتن کی روک تھام اور سدِباب مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داری ہے:بیان القرآن ہے ’’اورفتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔‘‘ ’’لوگوں کے سامنے صرف وہی چیزیں بیان کریں جو وہ اِدراک کرسکیں۔‘‘ؓ اسی طرح ان کی عبادت گاہوں کومکمل تحفظ بخشا گیا تھا۔ نیز ان عبادت گاہوں میں اپنے عقیدہ وعمل کے مطابق مصروفِ عبادت لوگوں سے بھی عدمِ تعرض کی تلقین کی گئی تھی، اسی طرح ان کے اپنے دینی مناصب کے حامل افراد اور انتظامی عہدیداروں کوبرقرار رکھنے کے احکامات شامل تھے۔ مزید یہ کہ اپنے مذہبی مناصب کے ذمہ داروں کے تعین وتقررمیں انہیں مکمل آزاد چھوڑا گیا تھا۔ اسی طرح ان کی عزت وآبرواور جان ومال کی حفاظت مدنی ریاست کے فرائض میں شمار کی گئی تھی۔ مزید برآں خیبر کے موقع پریہود کی شرارتوں کےباوجودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےیہودکومالی تحفظ فراہم کیا تھا: خبردار! عہد وپیمان والے لوگوں کا مال ناحق ہتھیانے کو میں حلال قرار نہیں دیتا۔‘‘ الحمدللہ! ہماری اسلامی تعلیمات غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی ، معاشرتی اور مالی و انتظامی حقوق کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔ غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ اہلِ اسلام کا رویہ ہمیشہ ان تعلیمات سے ہم آہنگ رہا ہے اور رہنا چاہیے اوریہ کہ مذہب کے نام پر کبھی کسی غیرمذہب والے کے ساتھ امتیازی سلوک کی اسلام میں کہیں بھی گنجائش نہیں ہے۔ اب ہمارے اہلِ علم اور اربابِ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی رعایا کے غیر مسلموں کے ہر نوع مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا تحفظ کریں اورہم وطن غیرمسلموں کی صلاحیتوں کوملکی تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کریں۔یقین ہےکہ ملکی سطح پر مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان قربتوں کے لیے حکومت پاکستان کا پرعزم کردار، انتہائی مثبت نتائج کا حامل ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔ توقع ہے کہ ہم آہنگی کے اس قومی سفر سے بین الاقوامی سفر تک بھی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور محترم سردار محمد یوسف، ترجمانی کا فريضہ نبھائیں گے، عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی کی مناسبت سے ضروری ہےکہ مذاہب و مسالک کے درمیان ہم آہنگی کا یہ سفر باہمی عزت و احترام، خیال داری، رواداری اور قومی ایشوز پر باہمی تعاون واتفاق پر مبنی ہونا چاہیے، یہ شرعی اصطلاح میں ’’مدارات‘‘ ہے،اس وقت مذہبی ہم آہنگی کامثبت تصور ہمارے سامنے پیش ہوا ہے مزید برآں خیبر کے موقع پریہود کی شرارتوں کےباوجودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےیہودکومالی تحفظ فراہم کیا تھا: ’’خبردار! عہد وپیمان والے لوگوں کا مال ناحق ہتھیانے کو میں حلال قرار نہیں دیتا۔‘‘
ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے خلفائے راشدینؓ نے بھی اس سنتِ حسنہ کو زندہ رکھااور اپنے ادوار کی فتوحات میں غیر مسلم مخالفین کے معاملے میں نرم خوئی، عدل وانصاف ، رعایت وحفاظت کے خصوصی احکامات دیےجاتےتھے، یہاں تک کہ نئےمفتوحہ لوگوں کے حیوانات، ان کی فصلوں اور باغات کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی تاکیدات کی جاتی تھیں، جب کہ بچے، بوڑھے، عورتیں اور خالص مذہبی سرگرمی تک محدود افراد کو ہر قسم کا تحفظ دینے کا حکم ہر دور میں زندہ تابندہ چلاآرہاہے ’’بلاشبہ دین( حق اورمقبول)اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔ ‘‘ ’اسلام برتر ہےب,رتررہے گا اس پر برتری نہیں ہوگی۔‘‘اللہ تعالیٰ نے انسان اور انسانی تہذیب کی بنیاد عالمگیریت پر رکھی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر انسانیت کے رہبر اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے دور میں اپنی امتوں کو اتحاد و اتفاق اور باہمی اخوت و محبت کا درس دیتے رہے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طرزِ عمل صحابہ کرامؓ کے لیے اسوہ اور عملی نمونہ تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ مبارک کے بعد جب خلافتِ راشدہ کا دور آیا تو درسگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ خلفاء راشدینؓ نے بھی اپنے اپنے دور خلافت میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھا اورغیر مسلم شہریوں کو وہ تمام حقوق دیئے جو کسی بھی اسلامی ریاست میں مسلمانوں کو حاصل تھے۔ ان کی عزت و آبرو، مال مویشی، عبادت گاہیں، تجارت اور کاروبار اسی طرح محفوظ تھے جس طرح مسلمانوں کے حقوق محفوظ تھے۔ اس حوالے سے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے معاشرے میں اصلاحِ احوال کا علَم بلند کیا کہ جس میں اگرچہ بہت سی خوبیاں بھی تھیں مگر معاشرتی اعتبار سے اس میں کچھ خرابیاں بھی متحرک تھیں جن میں مذہبی انتہا پسندی، ظلم و تشدد، مذہبی منافرت اور تنگ نظری بھی عروج پر تھی۔ جو لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوتِ توحید کو قبول کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے تو داعیانِ کفر و شرک کی طرف سے ان موحدین کے لیے زندگی اجیرن بنادی جاتی۔ انہیں نہ صرف اپنے وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا بلکہ ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے اور انہیں حقِ زندگی ہی سے محروم کردیتے تھے، یا پھر مذہبی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی اذیت ناک سزائیں دیتے کہ ہاتھ پائوں میں میخیں تک ٹھونک دیتے تھے،اس ضمن میں قرآن مجید میں ہمیں نمرود، فرعون اور دیگر منکرین و معاندینِ انبیاء کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سیرتِ مبارکہ اور اپنے طرزِ عمل سے مذہبی ہم آہنگی کے ماحول کو فروغ دیا اور اس کی معاشرتی ضرورت و اہمیت پر بھی زور دیا جس کے نتیجے میں مذہبی منافرت اور تنگ نظری کا وجود پاش پاش ہوگیا۔آج کی عالمی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت تشدد اور انتہا پسندی میں پھنسی ہوئی ہے۔ مذہبی، سیاسی اور فکری انتہا پسندی نے انسان کو اعتدال کی راہ سے ہٹادیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ایک عالمگیر تہذیب کے قیام و تشکیل کے لیے نہایت موثر اور مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔چند سفارشات پیش ہیں جن پر عمل کرکے امتِ مسلمہ پھر دنیائے انسانی کی امامت و قیادت کا فریضہ سرانجام دینے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرسکتی ہے:موجودہ دور میں امت مسلمہ بالخصوص اہل پاکستان کو درپیش مشکلات، مصائب اور مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیمات قرآن کی روشنی میں پوری قوم کو اجتماعی طور پر اپنے ہر قسم کے گناہوں، کوتاہیوں اور بداعمالیوں سے توبہ کرنی چاہئے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے اور اُن سے محبت رکھتا ہے۔نصابِ تعلیم میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلامیات لازمی یا اختیاری کے ضمن میں پڑھانے کی بجائے کم از کم بی۔ اے، بی۔ ایس۔سی، بی۔ایس کی سطح پر ایک لازمی مضمون کے طور پر شاملِ نصاب کرکے پڑھایا جائے تاکہ اسلامی فکر اور روحانی الطبع افراد معاشرہ تیار ہوسکیں اور وہ عملی زندگی میں اسوہ حسنہ پر گامزن ہوکر ایک صالح اور دینی و روحانی اقدار کے حامل معاشرہ کی تشکیل کرسکیں۔معاشرے کے اندر سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے طریقہ پر چلتے ہوئے اجتماعی عدل کے ماحول کو فروغ دیاجائے۔سیرتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے معاشرتی زندگی کو ایسے خطوط پر استوار کیا جائے جن سے افرادِ معاشرہ میں اخوت، محبت، باہمی ہمدردی، بھائی چارہ، ایثار، خدمت خلق، ہم آہنگی، رواداری، تحمل و برداشت اور مروت کے جذبات فروغ پاسکیں اور آپس میں وحدت و یگانگت کی فضا پیدا ہو۔ت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر سیمینارز اور کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے تاکہ عامۃ الناس اور بالخصوص نوجوان نسل میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کا شعور پیدا ہو اور وہ سیرت پر عمل کرنا اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں۔حکومتی اور نجی سطح پر میڈیا پر سیرت طیبہ سے متعلق زیادہ سے زیادہ پروگرام نشر کیے جائیں تاکہ لوگوں کی صحیح پیمانے پر ذہن سازی کی جاسکے۔اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی، اخوت و محبت، ہم آہنگی و رواداری کو غیر مسلموں تک پہنچانے کے لیے مشنری جذبے سے ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو ایسے تربیت یافتہ افراد تیار کریں جو علمی و عملی ہر دو اعتبار سے سیرت اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلتے پھرتے نمونے ہوں تاکہ اپنے اور پرائے اُن کے حسنِ عمل سے متاثر ہوکر اسلام کی سنہری تعلیمات کی طرف کھچے چلے آئیں۔پاکستانی معاشرہ میں موجود دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے انسانی بنیادوں پر بہتر اور اچھے تعلقات ہر سطح پر قائم کیے جائیں تاکہ معاشرے میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو اور معاشرتی امن و استحکام کو عملی طور پر مستحکم بنایا جاسکے۔ جدید دنیا، جو سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں پر فخر کرتی ہے، اخلاقی اور انسانی قدروں کے زوال کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اختلاف کے ساتھ جینا سیکھنے کے بجائے اختلاف کو دشمنی میں بدل لیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ عالمی امن، معاشرتی استحکام اور انسانی بقا کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک دوسرے کے عقائد، عبادات اور تہذیبی اقدار کا احترام کریں اور اختلاف کو تصادم کا ذریعہ نہ بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے رواداری، مکالمے اور برداشت کو اپنایا، وہ ترقی، علم اور تہذیب کے مراکز بنے، جبکہ نفرت اور تعصب نے بڑی بڑی تہذیبوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مذاہب کا مقصد انسان کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔ جب مذہب نفرت اور انتقام کا ہتھیار بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس کی اصل روح، یعنی اخلاق، محبت اور انسانیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔
اسلام رواداری، برداشت اور انسانی احترام کا سب سے جامع اور متوازن ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی تصویر ہے۔ مکہ مکرمہ میں کفار کی جانب سے شدید مخالفت، ظلم، سماجی بائیکاٹ اور اذیت کے باوجود آپؐ نے صبر، حکمت اور اعلیٰ اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا۔ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان انسانی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ اسلام طاقت حاصل ہونے کے بعد بھی انتقام کے بجائے درگزر، عفو اور رحم کو ترجیح دیتا ہے۔ریاستِ مدینہ میں طے پانے والا میثاقِ مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی پہلی باقاعدہ تحریری دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور مساوی شہری حقوق کی ضمانت دی گئی۔ یہ معاہدہ اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ اسلامی ریاست میں مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا جاتا۔ یہ تاریخی حقیقت آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، خاص طور پر ان معاشروں کے لیے جہاں مذہبی تنوع پایا جاتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، مسالک اور ثقافتوں کے لوگ بستے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی پر جو واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا، وہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ہم اس وژن سے دور ہوتے چلے گئے اور سماجی سطح پر عدم برداشت نے جڑ پکڑ لی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بانی کے افکار کو محض تقاریر اور نصابی حوالوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انھیں عملی زندگی میں نافذ کریں، کیونکہ ایک مضبوط اور پُرامن پاکستان کی بنیاد رواداری اور انصاف ہی پر رکھی جا سکتی ہے۔
آج کی نئی نسل اس ملک اور دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے کیونکہ کل کی قیادت، فیصلہ سازی اور فکری سمت کا تعین انھی کے ہاتھ میں ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے کمزوری نہیں بلکہ فکری پختگی کی علامت ہے، اور برداشت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں نفرت اور غلط معلومات لمحوں میں پھیل جاتی ہیں، نوجوانوں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ تعصب، اشتعال اور افواہوں کا حصہ بننے کے بجائے شعور، تحقیق اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ اگر نئی نسل مذہب کو نفرت کے بجائے اخلاق، رواداری اور خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بنا لے تو نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ آنے والی نسلیں بھی امن، احترام اور باہمی اعتماد کی فضا میں سانس لے سکیں گی۔الحمدللہ! وطنِ عزیز میں تو مذہبی رواداری کے التزام کے ساتھ قرآن و سنت کو آئینی بالادستی حاصل ہے اور پارلیمنٹ میں موجود ہمارے علمائے کرام اوروفاقی وزیر برائے مذہبی امورسردار محمد یوسف جیسے وزراء، مسلم قوم کے جذبات کے نہ صرف یہ کہ ترجمان ہیں، بلکہ محافظ بھی ہیں۔













