اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیر اعظم شہباز شریف کے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب اور اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی ریاستی دارلحکومت مظفر آباد میں معززین اور سابق فوجیوں سے بات چیت میں کشمیر کے ساتھ وابستگی کے اظہار نے ایل او سی کے پار بھارتی ظلم وجبر اور فسطائیت کے شکار مظلوم کشمیری عوام کے حوصلوں اور عزم کو دوچند کردیا ہے امن محض جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ عدل مساوات، انسانی حقوق کے احترام اور معاشرتی ہم آہنگی پر مبنی ہوتا ہے تنازعات کا پر امن حل صرف ایک اصول نہیں بلکہ یہ عالمی استحکام کی لائف لائن ہے دنیا کے کئی خطوں میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں ان بحرانوں نے بے شمار انسانی مصائب کو جنم دیا لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں فلسطین میں جاری مظالم اور بھارت کے غیر قانونی طور پر قابض مقبوضہ جموں وکشمیر کی بدحالی واضح مثالیں ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور جنوبی ایشیا میں نیو کلیئر فلیش پوائنٹ مسئلہ کشمیر ہے جو پون صدری سے حل طلب ہے مگر دنیا اس کی اہمیت کا احساس کرنے سے قاصر نظر آئی نتیجتا جنوبی ایشیا کے امن کے لئے خطرات میں اضافہ ہوتا چلا گیا دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر معرض وجود میں آنے والی اقوام متحدہ کی تشکیل کا بنیادی مقصد آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے محفوظ اور دنیا میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا تھا مگر 24 اکتوبر 1945 کو اپنے قیام سے لے کر اب تک 80 برسوں میں ڈھائی سو سے زائد جنگیں ہو چکی ہیں عالمی برادری دنیا کو جوہری جنگ کے خطرات سے بچانا چاہتی ہے تو پھر اسے فوری طور پر ان تنازعات کی جانب بھرپور توجہ دینا ہوگی جو کسی بھی وقت چنگاری سے شعلوں میں تبدیل ہوکر پوری دنیا کے امن کو تہہ وبالا کر سکتے ہیںان میں تنازعہ کشمیر اور فلسطین آج بھی ایک سلگتی ہوئی آگ ہیں کشمیری اور فلسطینی 78 سال سے عالمی برادری اور انصاف اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ شاید ان کے مسائل کا کوئی حل نکل سکے ان پر ہونے والے مظالم بند ہو جائیں دنیا نے ان کے حوالے سے جو قراردادیں منظورکر رکھی ہیں شاید ان پر عملدرآمد کرایا جائے اور ان خطوں کو ان کا جائز اور بنیادی حق دیا جائے مگر سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور نہ ہی مستقبل قریب میں عالمی برادری سے کوئی ایسی امید کی جاسکتی ہے اقوام متحدہ کے فیصلے اس کی قراردادیں سفارشات سب کچھ اسرائیل اور بھارت ہوا میں اڑا رہے ہیں دونوں مقبوضہ خطوں میں ان کی ریاستی دہشت گردی بڑھتی جارہی ہے اور دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں بچے، بوڑھے، جوان، مرد و خواتین غرض کوئی بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اسکے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت شرمانے لگتی ہے مقبوضہ کشمیر میں جوانوں کو اغوا کر کے لاپتا کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں جو بھارت کی فرعونیت اور چنگیزیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہیں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر حوا کی بیٹی کی حرمت و تقدس کو پامال کیا جاتا ہے ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج اور بھارتی پولیس کا مشغلہ بن چکا ہے 5 اگست 2019 کو نریندری مودی کی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی جغرافیائی حیثیت میں تبدیلی کے اقدام کو کشمیر میں امن لانے کا اقدام قرار دیا تھا مگر حقیقت میںیہ اقدام کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم کے ایک نئے باب کا آغاز تھا جو ہنوز جاری ہے خطے میں امن آنا تو کجا یہ خطہ آج بھی ایک ایسے فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے جو کسی بھی وقت ایک نئی جنگ بھڑکا سکتا ہے اور پہلگام واقعے کے بعد پیش آنے والے حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل ہی اس خطے میں امن کی ضمانت ہے لیکن بھارت کی قیادت ہٹ دھرمی پر قائم پر قائم اور خطے میں امن کاوشوں کو زائل کرنے پر تلی ہوئی ہے بھارت کشمیر سمیت تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کرنے کے بجائے کشیدگی کو مسلسل بڑھاوا دے رہا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات اور کئی حل طلب مسائل کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں امن وخوشحالی کا خواب بھی ایک سراب بن کر رہ گیاہے حالانکہ دونوں ممالک مذاکرات سے تنازعات کا حل ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام سیاست ڈپلومیسی اور تجارت کو علیحدہ رکھ کر خطے کوسماجی ومعاشی ترقی کی راہ پر گامزن علاقائی امن واستحکام کو یقینی اور اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن بھارت اس کے لئے تیار نہیں بھارتی حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر کشمیر پر پسپائی اختیار کی تو پھر خالصتان سمیت آزادی کی درجن سے زائد تحریکیں زور پکڑیں گی اور بھارت کی وحدت شدید خطرات سے دو چار ہوجائے گی پاکستان کسی کے خلاف جنگی عزائم نہیں رکھتا اس کا پہلا ہدف اپنے عوام کی معاشی اور سماجی اصلاح قومی ترقی غربت کا خاتمہ اور معاشی امکانات سے استفادہ کرنا ہے جبکہ بھارت عجیب ادھیڑ پن کا شکار ہے 10 مئی کے واقعات اور پاکستانی فوج کے ہاتھوں بد ترین شکست کے بعد بھارتی حکمران ایک نفسیاتی کیفیت کا شکار بن چکے ہیں اور جنگ بندی کے بعد سے اشتعال انگیز بیانات کا محاذ کھول رکھا ہے بھارتی حکمرانوں کے جارحانہ عزائم اور پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات جنوبی ایشیا میں جنگ کے نئے خدشات کا سبب بن سکتے ہیں بھارتی قیادت کی زہر افشانی ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کر رہی ہے جو امن کے بجائے دشمنی کو ترجیح دیتی ہے بھارتی حکمرانوں کے جارحانہ عزائم اور پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات جنوبی ایشیا میں جنگ کے نئے خدشات کا سبب بن سکتے ہیںن کے چہرے پر اڑنے والی ہوائیاں ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ پھر سے بمباری اور مکاری پر مصر ہیں دشمن کو سبق سکھانا پاک فوج کو خوب جانتی ہے اور حالیہ فتح اس کی روشن مثال ہے اگر بھارت نے مستقبل قریب میں دوبارہ کسی ایڈ ونچر کی کوشش کی تو پھر جواب اس سے بھی زیادہ سخت اور خطرناک ہوگا اور اس بار اس کی ترلے منتیں بھی کام نہیں آئیں گے سچی بات یہ ہے کہ سیز فائر کے باوجود بھارت کا مکارانہ اور جارحانہ رویہ غیر متوقع نہیں اس سے کسی طرح کے مثبت ردعمل کی توقع رکھنا بھی دانش مندی کے خلاف ہے بھارت کا عالمی معاہدوں وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں عالمی معاہدوں کی دھجیاں اڑانا اور وعدوں سے مکر جانا بھارتی حکمرانوں کی پرانی روش ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک میں بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کی سنجیدہ کوشش کی جائے کشمیر کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے اس تنازعہ کے حل تک جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے استصواب رائے کے تحت کشمیر کے عوام اگر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو بھارت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے۔ایسے حالات میں جب آر ایس ایس کی حمایت یافتہ فسطائی مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کو بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ان کے بنیادی حقوق کومسلسل پامال کئے جارہے ہیں مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے علاوہ جموں وکشمیر کو ایک قبرستان میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے خطے کی موجودہ صورت حال اور عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے عالمی برادری بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کو بالائے طاق رکھ کر تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لئے اقدامات کرے**













