لاہور، 12 مارچ 2026 (ٹی این ایس) : لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس کے، توانائی انسٹیٹیوٹ کی تازہ تکنیکی رپورٹ جاری، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 2040 تک قدرتی اور ماحول دوست بجلی کا نظام قائم کر سکتا ہے، اور اس دوران بجلی کی فراہمی سستی، قابل اعتماد اور طویل مدتی توانائی کی حفاظت کے ساتھ ممکن ہو گی۔
ِ نیٹ زیرو ٹرانزیشن: 2040 تک صاف اور پائیدار بجلی کا راستہ کے عنوان سے شائع یہ رپورٹ تفصیلی پاور سسٹم ماڈلنگ، بجلی کی طلب کا تخمینہ،پیداوار ی اصلاح، اور ٹرانسمیشن کے جائزے پر مبنی ہے، اور یہ پاکستان کے بجلی کے شعبے پر کئے جانے والے سب سے جامع مطالعات میں سے ایک ہے۔
مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ وقت میں تقریباً نصف بجلی پیدا کرنے والے تیل، گیس اور کوئلے پر مبنی نظام کا حصہ 2040 تک ایک فیصد سے بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ منتقلی شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں، بیٹری اسٹوریج کی تنصیب اور گرڈ کی جدید کاری کے ذریعے ممکن ہو گی، اور اس سے تقریباً 78 ملین ٹن کاربن کے اخراجات میں کمی ممکن ہو گی، جس سے بجلی کا شعبہ پاکستان کے موسمیاتی اہداف کا اہم ستون بن جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ڈسٹری بیوٹر سولر جنریشن میں تیزی سے اضافہ بجلی کی روزانہ کی طلب کے پیٹرن کو بدل رہا ہے۔ دن کے وقت گرڈ پر انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، اور کم سے کم نظامی طلب بعض اوقات تقریباً 3,000 میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اہم تبدیلی کے پیش نظر گرڈ کی لچک، بیٹری اسٹوریج کی مناسب صلاحیت اور صارفین کی طلب کی مینجمنٹ لازمی ہو گی تاکہ نظام مستحکم رہے۔
مطالعے میں 15 سالہ منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 8,500 میگاواٹ شمسی توانائی، 14,000 میگاواٹ ہوائی توانائی اور 7,000 میگاواٹ / 42,000 میگاواٹ گھنٹے بیٹری اسٹوریج شامل ہیں۔ اس منصوبے کے لیے گرڈ کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کی کل لاگت 5.5 بلین امریکی ڈالر اور موجودہ قیمت کے مطابق 1.9 بلین امریکی ڈالر تخمینہ لگائی گئی ہے۔ تجذیاتی مطالعہ سے تصدیق ہوتی ہے کہ یہ منتقلی تکنیکی طور پر ممکن ہے اور زیادہ قابل تجدید توانائی کے باوجود نظام کی افادیت برقرار رکھتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ مقامی قابل تجدید توانائی کے وسائل کو شامل کرنے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، طویل مدتی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور عالمی توانائی مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ سے تحفظ ممکن ہو گا۔ رپورٹ میں مزیدقابل تجدید توانائی کی پیداوار، بیٹری اسٹوریج سسٹمز اور گرڈ کی جدید کاری میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی اجاگر کیے گئے ہیں۔ جس سے نظام زیادہ لچکدار ہوجائیگا، گرڈ استحکام کے لیے منظم مارکیٹ میکانزم کی اہمیت بڑھ سکتی ہے، جو روایتی توانائی کے وسائل کے علاوہ سرمایہ کاری کے نئے راستے بھی فراہم کرے گا۔
تقریب کے دوران شائستہ پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کی سربراہ، نے لمزانرجی انسٹی ٹیوٹ کے فنی اور تفصیلی مطالعے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیق پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔
انکا مزید کہنا تھا کہ”پاکستان کی صاف اور پائیدار توانائی کی طرف منتقلی ہمارے قومی اور عالمی وعدوں سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ ایسے تحقیقی مطالعے پالیسی سازوں کو گرڈ کی جدید کاری، قابلِ تجدید توانائی کی توسیع، اور طویل مدتی منصوبہ بندی میں مؤثر فیصلے کرنے کے قابل بناتے ہیں، تاکہ ہم اپنے توانائی کے تحفظ اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف حاصل کر سکیں۔”
شائستہ پرویزنے کہا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی ہی ملک کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کلید ہے اور یہ مطالعہ اسی سمت میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ملک میں آبی بجلی (ہائیڈرو پاور)، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی وسیع صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار مستقبل کے حصول کا اصل راستہ ان وسائل کو مؤثر پالیسی سازی اور انسانی مہارت کے ذریعے بروئے کار لانے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لمز انرجی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی اس نوعیت کی رپورٹس پاکستان کو ایک مستحکم، کم لاگت اور بالآخر نیٹ زیرو ٹرانسمیشن نظام کی جانب منتقل کرنے کے لیے شواہد پر مبنی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری، سینئر ایڈوائزر، لمز توانائی انسٹیٹیوٹ اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز، نیشنل گرڈ کمپنی کا کہنا تھا کہ“یہ رپورٹ محض تعلیمی مطالعہ نہیں، بلکہ پائیدار اور سستی توانائی کے لیے عملی خاکہ فراہم کرتی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ ڈ یکاربنائزیشن، توانائی کی سکیورٹی اور اقتصادی افادیت مربوط منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہیں۔”
تقریب میں سینئر پالیسی ساز، ریگولیٹری اداروں کے نمائندگان اور صنعتی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز بھی موجود تھے، جو پاکستان میں تحقیق پر مبنی توانائی کی منصوبہ بندی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
لمز، توانائی انسٹیٹیوٹ ایک آزاد تھنک ٹینک اور تکنیکی مہارت کا مرکز ہے جو توانائی کے نظام کی منصوبہ بندی، قابل تجدید توانائی کے انضمام، گرڈ کی جدید کاری اور پالیسی ریسرچ کے ذریعے پاکستان میں پائیدار توانائی کی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔













