اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان “امن کا مرکز” ایران, امریکہ تنازعہ ;سفارت کاری تیز,اہم ممالک سے رابطے

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے. پاکستان کی تیز ترین سفارت کاری جاری ہے، پاکستان کئی ممالک وزرائے خارجہ سے رابطہ کیاپاکستان, ایران امریکہ تنازعہ میں “امن کا مرکز” بننے کے لیے تیارہے
وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہےکہ پاکستان جاری بحران کے خاتمےکے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ امریکا اور ایران کی رضامندی کی صورت میں مذاکرات کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے اور دنیا بھرمیں امن واستحکام کےلیے مذاکرات ضروری ہیں۔ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکے لیے مذاکرات کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور تنازع کے جامع تصفیے اور بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات چیت کی تھی اور کشیدگی میں فوری کمی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنے‘ پر زور دیا تھا شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا
میڈیا میں رپورٹ ہواہے کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں ایران کے ہونے والے مذاکرات کی نمائندگی کریں گے۔ دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا اگر فریقین راضی ہیں تو پاکستان ثالثی کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اگر ایران اور امریکہ راضی ہوں تو پاکستان ان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے فی الحال پاکستان کو ایران اور امریکہ تنازعہ میں “امن کا مرکز” بننے کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کو مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے سلسلے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، یہ مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے تاہم اس کی حتمی تصدیق واشنگٹن یا تہران کی جانب سے ہونا باقی ہےیاد رہے کہ یہ نئی پیش رفت بین الاقوامی سفارتی چینل پر اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس تناظر میں ترکی، عراق، مصر، یو اے ای اور ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیاہے,ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج نائب وزیر اعظم/عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جاری علاقائی کشیدگی اور اس کے وسیع تر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا, نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کشیدگی کو کم کرنے اور مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا کہ خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے,
دریں اثنا، نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین پیشرفت کا جائزہ لیا، جس میں امریکی صدر کی طرف سے جنگ میں عارضی طور پر روکنے کا اعلان بھی شامل ہے۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

مزید برآں، نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ انہوں نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا,اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
اس کے علاوہ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ شیخ زاید سے بات کی۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا، فوری طور پر کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ انہوں نے تین پاکستانی شہریوں سمیت قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کی مستحکم یکجہتی کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
مزید یہ کہ پاکستان، اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق، مشرق وسطی/خلیج فارس میں جاری تنازعات کے سفارتی ذرائع اور مصروفیات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ ڈپلومیسی اور گفت و شنید کے لیے اکثر ضروری ہوتا ہے کہ بعض معاملات کو صوابدید کے ساتھ آگے بڑھایا جائے, اس لیے میڈیا کو قیاس آرائیوں سے باز رہنے اور فیصلوں اور نتائج کے بارے میں سرکاری اعلانات کا انتظار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
یاد رہے امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں ’نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی تردید کی تھی۔
اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایرانی سفارتکار نے بتایا ہے کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہوا تو اسلام آباد میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں , اس دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کروانے کی کوششوں کا حصہ نہیں ہے۔ ایک پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ’ہماری توجہ اپنے ملک پر حملوں کے خاتمے اور اپنی سرزمین کے دفاع پر ہے۔‘ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد ایران کے ساتھ نارمل تعلقات اب بھی ممکن ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا محل وقوع تبدیل نہیں کر سکتے۔‘ جب ان سے ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ: ’ان مذاکرات میں جو شامل ہیں یہ سوال آپ ان سے پوچھیں۔ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہم ان مذاکرات میں شامل نہیں ہیں۔‘ جمعرات کے بعد سے اب تک ایران نے قطر پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’پچھلی مرتبہ جب میں اس پوڈیم پر کھڑا تھا، اس کے فوراً بعد دو حملے ہو گئے تھے‘ اور اب بھی ایران ’ہمارے خلیجی پڑوسیوں‘ پر حملے کر رہا ہے۔ ’ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔ ہم پر اب تک 200 سے زیادہ ڈرون حملے ہو چکے ہیں اور ردِ عمل دینا ہمارا حق ہے۔ تاہم ابھی تک ہم نے اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘
مزید یہ کہ امریکہ کے مقاصد میں تمام تضادات کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران اور اس کی اتحادی تنظیم حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں نشانہ بناتا رہے گا۔ ایک مختصر ویڈیو پیغام میں انھوں نے خبردار کیا کہ ’ہم ہر صورت میں اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔‘ ایران ابھی بھی اسرائیل پر جوابی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے تازہ ترین میزائل حملے میں تل ابیب کے ایک رہائشی علاقے میں ایک گہرا گڑھا کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 100 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا تھا۔ میں اپنے قریب ہی ایک بِل بورڈ دیکھ سکتا ہوں جس پر امریکی جھنڈے کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر لگی ہے اور نیچے لکھا ہے: ’صدر صاحب، اس کام کو پورا کریں۔‘ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اس تنازع کو ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ہےامریکہ اور اسرائیل کئی ہفتوں سے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت بالکل کمزور ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا کہہ چکے ہیں کہ مسلسل حملوں نے ایران کے کمانڈ ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے اور اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔ان کے مطابق تو یہ تنازع اب اختتام کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کشیدگی تیزی سے، زیادہ شدت کے ساتھ اور کم واضح نکاتِ اختتام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے بحیرہ ہند میں امریکی۔برطانوی اڈے ڈیگو گارسیا کی جانب دو میزائل داغے، جو تقریباً 3,800 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اگرچہ یہ میزائل جزیرے تک نہیں پہنچ سکے تاہم اس واقعے نے ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تاحال ایران کی میزائل رینج تقریباً 2,000 کلومیٹر سمجھی جاتی تھی۔چاہے یہ ایک پہلے سے پوشیدہ صلاحیت ہو یا مسلسل حملوں کے دوران تیار کی گئی ہو، مفہوم ایک ہی ہے کہ عسکری دباؤ نے ایران کی پیشرفت کو نہیں روکا۔ اس کی اعلیٰ قیادت کا بڑا حصہ واقعی ختم کیا جا چکا ہے جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، علی لاریجانی جیسے سینئر رہنما، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف، اور اہم میزائل سازی کے مراکز شامل ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہم کی سربراہی کون کر رہا ہے اور ایران شدید دباؤ کے باوجود اپنی صلاحیتیں کیسے برقرار رکھے ہوئے ہے؟یہ غیر یقینی سب سے اوپر سے شروع ہوتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای مبینہ طور پر اس حملے میں بچ گئے تھے جس میں ان کے والد اور قریبی اہلِ خانہ مارے گئے تھے۔ انھیں نیا رہنما نامزد کیا گیا تھا۔ لیکن وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے۔ دو تحریری پیغامات کے علاوہ ان کی طرف سے کچھ سنا یا دیکھا نہیں گیا۔ ان کی موجودہ حالت واضح نہیں اور نہ ہی یہ کہ وہ قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ایک ایسا نظام جو مرکزی اختیار پر قائم ہو، اس میں یہ خاموشی اقتدار کے مرکز میں ہی غیر یقینی پیدا کر رہی ہے۔ایران کے اقدامات کسی بھی طرح سے زوال کی علامت نہیں۔ ایران نے اسرائیل کے نیگیو صحرا میں واقع شہر دیمونا پر بھی حملہ کیا جو اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری پروگرام سے منسلک علاقہ سمجھا جاتا ہے۔یہ حملہ ایران کے بوشہر کے قریب توانائی کے ڈھانچے پر اسرائیلی حملوں کے بعد ہوا جہاں ایران کا جوہری پاور پلانٹ بھی موجود ہے۔ پیغام واضح تھا کہ تناؤ میں اضافہ کیا جائے گا تو جواب بھی ملے گا اور اہم جگہیں اب محفوظ نہیں رہیں گی۔ یہ اقدامات انتشار کے بجائے ہم آہنگی کا اشارہ دیتے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ اعلیٰ قیادت کو ہٹا دینے سے نظام مفلوج ہو جائے گا لیکن اب یہ بات غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔ ’شاک اینڈ آ‘ نامی عسکری حکمت عملی کا تصور اسی بات پر منحصر ہے کہ فیصلہ سازی کے ڈھانچے فوراً ٹوٹ جائیں۔ لیکن اگر یہ ڈھانچے توقع سے زیادہ مضبوط نکلیں تو؟ اگر ایسا ہے تو ایک زیادہ فوری مسئلہ سامنے آتا ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے؟ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خود کو نمایاں نہیں رکھا۔ تنازعے کے ابتدائی مرحلے میں انھوں نے پڑوسی ممالک سے معذرت کی جن پر ایرانی حملوں کا اثر پڑا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ اس اقدام نے پاسدارانِ انقلاب کے بعض حلقوں کو ناراض کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انھوں نے مزید خاموشی اختیار کر لی ہے جس سے سفارتی راستے مزید محدود ہو گئے ہیں,تہران کے نقطۂ نظر سے حالیہ واقعات کسی بھی قسم کی بات چیت پر اعتماد کے لیے بہت کم جواز فراہم کرتے ہیں۔ گذشتہ 14 ماہ میں، جب سے ٹرمپ دوبارہ منصبِ صدارت پر آئے ہیں دو الگ الگ سفارتی سلسلوں میں جوہری معاہدے کی طرف پیش رفت کے آثار دکھائی دیے۔ لیکن ہر بار اس کے فوراً بعد عسکری کارروائی ہوئی ,
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 27 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں انھوں نے امریکہ کے زیادہ تر تحفظات دور کر دیے تھے۔ ویانا میں تکنیکی بات چیت کی تیاری جاری تھی۔ لیکن ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات کے طریقۂ کار سے ’خوش نہیں‘ ہیں اور اگلے ہی دن حملے شروع ہو گئے۔ ایرانی فیصلہ سازوں کے لیے پیغام واضح ہے کہ مذاکرات حملوں کو نہیں روکتے بلکہ شاید انھیں دعوت دیتے ہیں۔لیکن صرف ایران ہی نہیں جو تنازع میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے بھی ہفتہ کی رات صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ انھوں نے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے حکم نہ مانا تو امریکہ ایرانی پاور پلانٹس کو ’مٹا‘ دے گا۔ ایران نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور جواب میں اسی نوعیت کی دھمکی دی کہ توانائی کے ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا جواب خطے بھر میں حملوں سے دیا جائے گا۔ ایران کی سپریم کونسل آف ڈیفنس نے خلیج فارس کے کچھ حصوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ یہ تبادلہ آنے والے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ ٹرمپ تیزی سے ایسے راستے پر بڑھ رہے ہیں جس میں آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ زمینی فوج کے بغیر امریکہ اور اسرائیل صرف فضائی حملوں تک محدود ہیں جو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں لیکن لازمی نہیں کہ مکمل سرینڈر کا مقصد حاصل ہو۔ ساتھ ہی ایسے حملوں سے وسیع تر جوابی ردعمل بھی بھڑک سکتا ہے، جبکہ ہرمز بھی دوبارہ نہیں کھلتا۔ یہ لفظی جنگ دونوں فریقوں کو براہِ راست زیادہ خطرناک مرحلے کی طرف بڑھاتی دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن اپنی ہی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ بات چیت ہوئی ہے اور ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر کسی بھی حملے کو پانچ دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔ وقت اہم ہے۔ الٹی میٹم سے فوراً پہلے کیا گیا یہ اقدام کم از کم فی الحال ایک ممکنہ فرار فراہم کرتا ہے۔ مارکیٹ کا ردعمل محتاط تھا۔ تیل کی قیمتیں کچھ کم ہوئیں جو معمولی اطمینان کا اظہار تھا مگر اس میں حد سے زیادہ خوش فہمی شامل نہیں تھی۔ اعلان کو عملی طور پر پرکھا جانا باقی ہے اور یہ غیر واضح ہے کہ یہ وقفہ کب تک برقرار رہے گا یا کیا یہ واقعی مذاکرات کی طرف پیش رفت کی علامت ہے۔ بنیادی طور پر سوال اب بھی باقی ہے کہ ایران میں اصل میں بات کون کر رہا ہے اور آئی آر جی سی اور سکیورٹی فورسز پر اختیار کس کے ہاتھ میں ہے جو بظاہر ’مرضی سے فائر کرو‘ کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں؟ اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور ہرمز متنازع رہا تو دونوں فریق دوبارہ اپنی دھمکیوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں اور اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ پورے خطے کے تقریباً 17 کروڑ افراد، جن میں سے نو کروڑ سے زیادہ ایران میں ہیں، بجلی اور دیگر ضروری خدمات میں شدید تعطل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ بات چیت کے محدود راستوں کے ساتھ صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز بھی سکڑتی جا رہی ہیں۔ تناؤ میں مزید اضافہ تباہی کے ایک ایسے چکر میں بدل سکتا ہے جو حکمتِ عملی کے لحاظ سے بہت کم فائدہ دے اور یوں میز پر صرف انتہائی اقدامات ہی بچ جائیں۔ ایران کے لیے بھی صورتحال مشکل ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ اور وسیع سطح کی بےچینی کے سائے میں اس تنازعے میں داخل ہوا تھا۔ فی الحال جنگ نے اس دباؤ کو کچھ کم کیا ہے جس سے حکام کو اندرونی کنٹرول سخت کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ ایک نازک توازن پیدا کرتا ہے۔ ایران کے لیے کشیدگی میں اضافہ بیرونی خطرات کا جواب دینے اور اندرونی بےچینی پر قابو پانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس سے ایک مہنگی غلطی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اب دونوں فریق اپنے انتخاب میں محدود ہو چکے ہیں۔ ایران آسانی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے کمزوری کا تاثر ملے گا جبکہ امریکہ اور اسرائیل صرف فضائی طاقت کے ذریعے فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہیں کر سکتے۔ایران نے اسرائیلی جوہری تنصیبات کے قریب واقع قصبے دیمونا پر میزائل حملہ کیا ہے، تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق اسے جوہری تحقیق کے اس مرکز کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یاد رہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا دیمونا نامی قصبہ اسرائیلی جوہری تنصیب سے لگ بھگ 13 کلومیٹر دور واقع ہے۔ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ ایران کی نظنز جوہری تنصیب پر مبینہ اسرائیلی حملے کے بعد ردعمل میں کیا گیا ہے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں تابکاری کی سطح میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ فریقین کو جوہری تنصیبات کے قریب حملوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے مطابق دیمونا میں حملے کے بعد اُنھوں نے 40 زخمی افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی ہیں، جن میں 37 افراد کو معمولی زخم آئے ہیں جبکہ ایک 10 سالہ لڑکے کی حالت تشویشناک ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراد کے قریبی قصبے میں ایک اور ایرانی میزائل حملے کے بعد 68 افراد کا علاج کیا جا رہا ہے جن میں 47 معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 10 کی حالت تشویشناک ہے۔ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن یاکر طالکار کے مطابق ’یہ ایک بہت ہی پریشان کن منظر ہے۔ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن کے زخم مختلف نوعیت کے ہیں۔ اسرائیلی حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں یہ میزائل فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ اسرائیلی فائر فائترز کا کہنا ہے کہ ’دیمونا اور عراد میں ان میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹر سیپٹرز لانچ کیے گئے تھے تاہم وہ انھیں روکنے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں کلوگرام وزنی وار ہیڈز سے لیس بیلسٹک میزائل یہاں گرے۔‘اسرائیل کا شمعون پیریز نیگیو تحقیقی سینٹر اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع ہے اور اسے عام طور پر ’دیمونا ری ایکٹر‘ کہا جاتا ہے۔ طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل نے اپنے جوہری ہتھیار یہاں رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے باضابطہ طور پر کبھی جوہری تجربات کرنے کا اعلان نہیں کیا لیکن اسے (اسرائیل کو) ’غیر اعلانیہ‘ جوہری قوت سمجھا جاتا ہے (یعنی یہ جوہری ہتھیار رکھتی ہے مگر اس کا کبھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا)۔ اسرائیل کا سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ مرکز مکمل طور پر تحقیقی مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن چھ دہائیوں سے دنیا کے لیے یہ ایک کُھلا راز ہے کہ اسرائیل نے وہاں جوہری بم تیار کیے ہیں۔ اسرائیل کی تمام سابقہ حکومتوں نے اس عرصے کے دوران یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ یہ صرف ایک تحقیقی مرکز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد ایٹمی طاقت ہے اور اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو (اسرائیل میں) انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کی جوہری بم بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

 

ایران کی اپنی اٹامک انرجی آرگنائزیشن (اے ای او آئی) نے نطنز پر حملے کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ وہاں تابکار مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور ارد گرد کے رہائشیوں کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایران کی جوہری سائیٹ نطنز کو 28 فروری کو شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ گذشتہ برس جون میں بھی 12 روزہ ایران، اسرائیل جنگ کے اختتام پر امریکہ نے یہاں بمباری کی تھی۔ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اسرائیل کی سرکاری پالیسی کو ’امیمت‘ یا ’دانستہ ابہام‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی اسرائیل ایسے ہتھیار رکھنے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔ شمعون پیریز جنھوں نے اسرائیل کے وزیراعظم اور صدر کے طور پر خدمات انجام دیں نے اس بارے میں اپنی یادداشتوں میں لکھا: ’ہم نے سیکھا ہے کہ ابہام غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔۔۔ شک ان ​​لوگوں کے لیے ایک طاقتور رکاوٹ تھا جو دوسرے ہولوکاسٹ کا خواب دیکھتے تھے۔یہ امکان ہے کہ اسرائیل نے سنہ 1948 میں ریاست کے قیام کے فوری بعد ہی اپنے جوہری پروگرام پر کام شروع کر دیا تھا۔ اسرائیل کی اپنے دشمنوں کی بھاری عددی برتری کو دیکھتے ہوئے اس کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریون نے جوہری ہتھیاروں کی اہمیت کو تسلیم کیا لیکن وہ ایک کشیدہ خطے میں غیر روایتی ہتھیار متعارف کروا کر اپنے اتحادیوں کو پریشان کرنے سے ہچکچاتے رہے۔ چنانچہ اسرائیل نے دیمونا ری ایکٹر کی تعمیر کے لیے فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں سنہ 1960 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے لیے مواد تیار کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔ برسوں سے اسرائیل کا اصرار تھا کہ یہ صرف ایک فیکٹری ہے۔ امریکی انسپکٹروں نے 1960 کی دہائی کے دوران متعدد مواقع پر اس مقام کا دورہ کیا لیکن مبینہ طور پر اس مقام کی تہوں میں چھپے رازوں سے سے وہ لاعلم تھے، جسے چھپانے کے لیے اینٹوں اور پلاسٹر کی موٹی تہیں بچھائی گئی تھیں۔ ماضی میں دیمونا میں بطور نیوکلیئر ٹیکنیشن کام کرنے والے اسرائیلی شہری وانونو کو اس سہولت کی تفصیلات ظاہر کرنے کی پاداش میں قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ سینٹر فار آرمز کنٹرول کے مطابق اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کا تخمینہ اس وقت تقریبا 90 جوہری وار ہیڈز پر لگایا گیا۔ اس کے باوجود اسرائیل اپنی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں سرکاری پالیسی پر قائم ہے اور اس کے رہنماؤں نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ ’اسرائیل مشرق وسطی میں جوہری ہتھیار متعارف کروانے والا پہلا ملک نہیں ہو گا۔‘ سنہ 1970 سے اب تک 191 ممالک جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنا اور جوہری تخفیف اسلحہ کی عالمی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ صرف پانچ ممالک امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین جوہری ہتھیار رکھنے کے حقدار ہیں کیونکہ انھوں نے یکم جنوری 1967 کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے نفاذ سے پہلے جوہری بم بنائے اور ان کا تجربہ کیا۔ اسرائیل نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس دوران جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئیر نے کہا ہے کہ روایتی اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں گہری دراڑ آ چکی ہے اور ایران کے خلاف امریکا اسرائیل کی جنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ جس طرح 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں تھا، ویسے ہی ”20 جنوری 2025 سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپس نہیں جا سکتے“، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار وائٹ ہاؤس میں آمد ہوئی ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ”دراڑ بہت گہری ہے اور امریکی طاقت کی سیاست پر اعتماد دنیا بھر میں ختم ہو چکا ہے۔“ اگرچہ شٹائن مئیر کا کردار زیادہ تر رسمی ہے، لیکن ان کے الفاظ جرمنی میں اہمیت رکھتے ہیں، جو ایران پر جنگ کی سرکاری مذمت نہیں کر رہا۔ جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئیر، جو سابق وزیرِ خارجہ بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ”ہمارا خارجہ پالیسی اس لیے زیادہ مؤثر نہیں ہو جاتی کہ ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ کہیں۔“ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر جنگ میرے خیال میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور کسی بھی صورت میں یہ دلیل کہ امریکہ پر فوری حملے کا جواز موجود ہے، قابل قبول نہیں۔ اگرچہ جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز نے ایران کی قیادت پر سخت تنقید کی اور کئی امریکی-اسرائیلی جنگی اہداف کی حمایت کی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر برلن سے پہلے مشورہ لیا جاتا تو وہ اس جنگ کی مخالفت کرتا۔ مرز نے بار بار کہا کہ جرمنی کا مقصد یہ ہے کہ ”ایران مستقبل میں کوئی خطرہ نہ بنے“، مگر واضح کیا کہ جرمنی اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔ شٹائن مئیر نے اس فوجی مہم کو سیاستدانوں کے لیے تباہ کن غلطی اور واقعی غیر ضروری جنگ قرار دیا۔ ”حقیقت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں امریکی انتظامیہ کے ساتھ معاملات میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا اور اپنے بنیادی مفادات پر توجہ دینی چاہیے۔ مگر حقیقت پسندی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔