اسلام آباد (ٹی این ایس) قائداعظم یونیورسٹی کے فنڈز کی خلافِ ضابطہ سرمایہ کاری پر پی اے سی برہم

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) قائداعظم یونیورسٹی کے فنڈز کی خلافِ ضابطہ سرمایہ کاری پر پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سوالات اٹھ گئے۔پبلک اکا ئو نٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت ہوا، جس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سال 2010-11 اور 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں یونیورسٹیز آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے خریدی گئی زمین کے آڈٹ اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ زمین استعمال نہیں ہوئی اور اس پر سی ڈی اے کی جانب سے رہائشی پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔سی ڈی اے حکام اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے، جس پر کمیٹی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ پچھلی میٹنگ میں بھی کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر سینیٹر بلال مندوخیل نے کہا کہ نوٹس جاری کیے جائیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف تحریک استحقاق بھی جمع کرائی جائے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں قائداعظم یونیورسٹی کے فنڈز کی خلاف ضابطہ انویسٹمنٹ اور ٹرانسفر کے آڈٹ اعتراضات پر بھی تفصیل سے بحث ہوئی۔آڈٹ حکام کے مطابق 2002 سے 2008 تک یونیورسٹی کو مختلف پراجیکٹس کے لیے دی گئی رقوم کو مکمل پراجیکٹس کے بجائے انویسٹمنٹس میں استعمال کیا گیا۔یونیورسٹی حکام نے بتایا کہ یہ ابھی بھی اسائنمنٹ اکانٹ میں موجود ہیں،

سینیٹر بلال مندوخیل نے واضح کیا کہ غیر قانونی کام میں حاصل شدہ منافع بھی غیر قانونی ہوگا۔کمیٹی نے ہدایت دی کہ آڈٹ اعتراضات کی تصدیق کرائی جائے اور پھر معاملے کو نمٹایا جائے، تاکہ یونیورسٹی اور متعلقہ حکام کی جانب سے کسی قسم کی غیر قانونی سرمایہ کاری یا فنڈز کے غلط استعمال کے معاملات کو شفاف طریقے سے حل کیا جا سکے۔