اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی تصدیق کردی اور کہا ترکیے اور مصر بھی اس عمل میں شامل ہیں۔ پاکستان امن کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے،پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران رضامند ہوں تو وہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی۔ ٹرمپ کے مطابق ایران نے یہ اقدام ایک ’تحفے‘ کے طور پر کیا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔بتایا کہ ایران نے پہلے آٹھ بڑے تیل بردار جہازوں کو گزرنے دیا اور بعد میں مزید دو ٹینکرز کو بھی آبنائے ہرمز سے عبور کرنے کی اجازت دی۔پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اہم پیشکش سامنے رکھی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسے مکمل حمایت فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ وہ کسی بھی گروہی یا عالمی لڑائی کا حصہ بننے کے بجائے “امن کا شراکت دار” بننا چاہتا ہے تاکہ اپنی توجہ معاشی ترقی اور عوامی فلاح پر مرکوز کر سکے۔
پاکستان خطے سمیت دنیا بھر میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
پاکستان کی موجودہ خارجہ اور داخلی پالیسی کا مرکز “امن اور معاشی استحکام” ہے۔ 2026 کے تناظر میں پاکستان کے امن پسندانہ کردار کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1. علاقائی ثالثی (ایران-امریکہ کشیدگی)
پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک کلیدی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق:
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کو بھیجا گیا 15 نکاتی امن منصوبہ پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا، جو خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی کوشش ہے۔
2. افغانستان اور سرحدوں پر امن
پاکستان مستقل طور پر عالمی برادری پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے تعاون کیا جائے تاکہ خطے میں انتہا پسندی کا راستہ روکا جا سکے۔
داخلی محاذ پر، دہشت گردی کے خلاف عزمِ استحکام جیسے اقدامات کا مقصد پاکستان کی سرزمین کو امن کا گہوارہ بنانا ہے۔
3. بھارت کے ساتھ تعلقات اور کشمیر
پاکستان کا موقف برقرار ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل میں پنہاں ہے۔
پاکستان نے بارہا بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، بشرطیکہ وہ سازگار ماحول فراہم کرے۔
4. معاشی سفارت کاری;حکومت کی پالیسی اب “جنگوں” کے بجائے “تجارت اور رابطوں” پر مرکوز ہے۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا مقصد معاشی شراکت داری کے ذریعے امن قائم کرنا ہے۔
5. عالمی امن مشنز
پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوج بھیجنے والے ممالک میں شامل ہے، جو عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی عملی وابستگی کا ثبوت ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امریکا،ایران مذاکرات میں پاکستان کی رابطہ کاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کردار ادا کر رہا ہے اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کے حوالے سے میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے 15 نکات پیش کیے گئے ، جن پر ایران غور کر رہا ہے، ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک بھی سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کو امریکا اور اسرائیل کے حملے بند کرنے سے مشروط کر دیاہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی پہلی شرط حملے بند اور عہدیداروں کے قتل کو روکنا ہو گا یہ شرائط پوری ہونے تک دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران نے زور دیا ہے کہ جنگ بندی سے پہلے حملے روکنا ضروری ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجویز کا جائزہ لیا گیا ہے اور امریکی جنگ بندی کی تجاویز کو ضرورت سے بڑھ کر قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی مؤقف;
جنگ سے ہونے والے نقصانات پر ہرجانے کا مطالبہ,
میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا,
جنگ کب ختم ہو گی یہ فیصلہ ہم کریں گے,
جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ٹرمپ نہیں کر سکتا,
جنگ بندی کےلئے امریکا ڈکٹیشن نہیں دے سکتا,
آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری شرائط میں شامل ہے,
دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت دی جائے,
ایران کی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی اور کہا کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہورہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی اور کہا اہم نے واضح ہی کر دیا تھا ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہورہے۔ایران کو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کا ہمیشہ “تباہ کن تجربہ” رہا ہے۔ جب بھی مذاکراتی عمل جاری ہوا، امریکہ نے پیٹھ میں چھرا گھونپا۔
اسمعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران جب مذاکراتی عمل کی کوششیں ہو رہی تھیں، ایران پر دو بار حملے کیے گئے، یہ سفارتکاری کیساتھ غداری تھی۔ترجمان نے بتایا کہ کئی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور گزشتہ چند روز سے مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔تاہم ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم اپنا دفاع کرتے رہیں گے ایران پر امریکااور اسرائیل کی مسلسل بمباری ہورہی ہے، لہٰذا ان کا سفارت کاری اور ثالثی کا دعویٰ قابل اعتبار نہیں
ایران نے صدر ٹرمپ کے “نئے گروپ” اور “مذاکرات” کے دعوؤں کو سفارتی دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال میں کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کو امن منصوبے کی پیش کش کرتے 15 نکاتی مذاکراتی ایجنڈا بھیج دیاہے ۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعہ ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے، جس کا مقصد جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا اور خطے میں امن واپس لانے کی خواہش ہے امریکا نے اس امن منصوبے میں جو شرائط پیش کی ہیں، وہ یہ ہیں۔

1۔ ایران کو موجودہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہوگا۔

2۔ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

3۔ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں ہو گی۔

4۔ ایران کو اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا ہوگا۔

5۔ نطنز، اصفہان اور فردو ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنا ہوگا۔

6۔ آئی اے ای اے کو ایران کی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔

7۔ ایران کو اپنا “علاقائی پراکسی نمونہ” ترک کرنا ہوگا۔

8۔ ایران کی خطے میں پراکسیز کو فنڈنگ بند کرنا ہوں گی۔

9۔ ایران کو اپنا میزائل پروگرام، رینج اور مقدار دونوں میں محدود کرنا ہوگا۔

10۔ ایران کو اپنے میزائلوں کے استعمال کو اپنے دفاع تک محدود رکھنا ہوگا۔

ان شرائط کو ماننے کی صورت میں ایران کو جو عالمی فوائد ملیں گے، ان میں

11۔ عالمی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کا خاتمہ۔

12۔ اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی مدد۔

13۔ ایک “اسنیپ بیک” میکانزم جو خود بخود پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی اجازت دیتا ہے اگر ایران تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ٹرمپ کے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہیں گی۔پاکستان کی سفارش پر امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو عارضی طور پر ہٹ لسٹ سے نکال دیا ہے، تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ تاہم ایران نے ابھی کوئی باقاعدہ بات چیت شروع نہیں کی اور ثالثی کے لیے پاکستان، مصر اور ترکی کردار ادا کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان کی سفارش پر امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ہٹ لسٹ سے عارضی طور پر نکال دیا ہے۔ اسرائیل کے پاس دونوں رہنماؤں کے کوآرڈینیٹس موجود تھے اور وہ ان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن سے کہا ہے کہ اگر یہ دونوں ہٹائے گئے تو ایران سے مذاکرات کے لیے کوئی رہنما باقی نہیں رہے گا۔ اس صورت حال میں ایرانی عوام کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا اور ایرانی عوام یا تو مارے گی یا مرے گی۔یہ اقدام واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کو ایک موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کو چار سے پانچ دن کے لیے ہٹ لسٹ سے نکالا گیا تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ سفارتی پیشکش کو پرکھا جا سکے۔
امریکی اخبار کے مطابق اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق کی وجہ سے مذاکرات کے کامیاب ہونے کے امکانات محدود ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ اسی امید پر امریکا نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کو فی الحال روک دیا ہے تاکہ اگلے چند دنوں میں پیش رفت دیکھ سکے۔تاہم انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر خبردار بھی کیا ہے کہ ایران کو جلد سنجیدہ ہونا ہوگا، ورنہ صورت حال ایسی نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی اور نتائج خوش گوار نہیں ہوں گے۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے اور کہا کہ انہیں صرف واشنگٹن کی جانب سے بات چیت کی خواہش کا پیغام ملا ہے، لیکن ابھی کوئی باقاعدہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔اس سلسلے میں پاکستان، مصر اور ترکی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے راستہ بنایا جا سکے۔یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تہران سمیت ایران کے کئی علاقوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوئی تھیں۔ان شہداء میں وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل تھے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔اب حالیہ سفارتی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق شاید جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کم از کم ایک وقتی تعطل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔پاکستان کی وساطت سے ایرانی رہنماؤں کے نام ہٹ لسٹ سے نکالنے پر ممکنہ امن مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہوا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ صرف ثالثی کافی نہیں اور مذاکرات کی کامیابی دونوں فریقین کی سنجیدگی اور لچک پر منحصر ہوگیٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے منصوبے پر تیزی سے عمل کرے۔قریباً چار ہفتوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے سے متعلق امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر صدر ٹرمپ ایران کے باضابطہ ردعمل کے منتظر ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کو متنبہ کیا کہ وہ معاہدے کے بارے میں “سنجیدہ” ہو جائے، جب اس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران امریکی تجویز پر نظرثانی کر رہا ہے لیکن جنگ ختم کرنے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ٹرمپ کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب تنازعہ کے معاشی اور انسانی نقصانات میں اضافہ ہوا، دنیا بھر میں ایندھن کی قلت پھیل گئی ہے اور کمپنیوں اور ممالک کو اس ایمرجنسی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کو “ملٹری طور پر ختم کر دیا گیا ہے اب واپسی کا کوئی امکان نہیں” اور وہ معاہدے کے لیے “بھیک مانگ رہا ہے”۔ایرانی مذاکرات کاروں کو “بہت مختلف اور ‘عجیب’” قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ “بہتر ہے کہ وہ جلد ہی سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، کیونکہ ایک بار ایسا ہونے کے بعد، پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے اور یہ بہتر نہیں ہوگا۔”اس سے قبل واشنگٹن میںصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن وہ اپنے عوام اور امریکا کے خوف سے اس کا اعتراف نہیں کر رہے۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ (ایرانی) مذاکرات کر رہے ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہ کہنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے اپنے لوگ یا پھر ہم انہیں مار دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی لوگ مجھے سپریم لیڈر بنانے پر بضد ہیں، لیکن میں نے انہیں جواب دیا نہیں شکریہ! مجھے یہ عہدہ نہیں چاہیے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتائج اتنے ہی سنگین ہو سکتے ہیں جتنے کورونا کے تھے کیونکہ کورونا وائرس نے دنیا کے ہر خطے اور ترقی کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
قریباً ایک ماہ سے ایران پر مسلط کردہ اسرائیل اور امریکا کی جنگ سے متعلق روسی صدر نے کہا کہ ایران تنازع کے اثرات کی درست پیشگوئی کرنا فی الحال مشکل ہے جنگ میں شامل فریقین خود بھی نہیں جانتے کہ آگے کیا ہو گاپیوٹن نے کہا کہ خطے میں کشیدگی سے بین الاقوامی لاجسٹکس، پیداوار اور سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے تیل گیس، دھاتوں اور کھادوں کی تیاری سے وابستہ صنعتیں حملوں کی زد میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا نے عالمی معیشت کو متاثر کیا تھا اور جنگ بھی سرمایہ کاری بگاڑنے کا باعث بن رہی ہے ہمیں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے روس کو مضبوط اور متحد ہونا ہو گا۔روسی صدر نے مزید کہا کہ تجارت اور معیشت میں ایسی تبدیلیاں اب نئی حقیقت بنتی جارہی ہیں، قومی مفادات کے تحفظ اور اسٹریٹجک ترقی کے اہداف کیلئے حالات میں جینا سیکھنا ہو گا۔غیر ملکی ذرائغ ابلاغ کے مطابق روسی حکومت کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں بے شمار جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ان پر توجہ نہ دی جائے۔رپورٹ کے مطابق روس ایران کا قریبی اتحادی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد اپنے اتحادی کو کسی قسم کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔ واضح رہے کہ فنانشل ٹائمز نے رپورٹ میں مغربی انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ روس تہران کو ڈرونز فراہم کررہا ہے اور مارچ کے اختتام تک یہ ترسیل مکمل ہو جائے گی۔
ایران کے پیچھے روسی صدر پیوٹن کا ہاتھ ہے، برطانوی وزیر دفاع
اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ ماسکو نے تہران کو حساس انٹیلیجنس فراہم کی ہیں۔برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کا کہنا ہے کہ ایران کے پیچھے روسی صدر پیوٹن کا ہاتھ ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا ہے کہ روس ایران کو انٹیلی جنس معلومات بلکہ تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ یکم مارچ کو قبرص میں برطانیہ کے ایئر بیس پر گرنے والے ایرانی ساختہ ڈرون کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس میں روس یا کسی اور ملک کے پرزے یا ٹیکنالوجی شامل ہیں یا نہیں کہا کہ ہم اس تحقیقات کے نتائج مناسب وقت پر جاری کریں گے جب ہمیں مکمل شواہد حاصل ہو جائیں گے کسی کے لیے یہ حیران کن نہیں ہونا چاہیے کہ روسی صدر پیوٹن خفیہ طریقے سے ایران کی بعض حکمتِ عملیوں اور ممکنہ طور پر اس کی صلاحیتوں کے پیچھے ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ موجودہ بلند تیل کی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے والے عالمی رہنماؤں میں روسی صدر بھی شامل ہیں۔ امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران میں موجودہ حکومت کب تک قائم رہے گی۔انہوں نے تسلیم کیا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بغاوت نہیں ہوئی بلکہ عوام نے موجودہ حکومت کا ساتھ دیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کی نیوی اور ایئر فورس تباہ کر دی ہے، ہم نے ان کی قیادت ختم کر دی ہے، یہ رجیم چینج ہے۔ انہوں نے ایران سے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ترجمان وائٹ ہاؤس نےکہا ہےکہ ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو ٹرمپ انہیں مزید نقصان پہنچانےکے لیے تیار ہیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری میں 9000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے 90 فیصد میزائل اور ڈرونز کو مار گرایا گیا، ایران کے 140 سے زائد بحری جہاز تباہ کیےگئے، دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کسی نیوی کو اس حد تک تباہ کیا گیا۔ایران نے شکست نہیں مانی تو مزید سخت حملے کریں گے، صدر ٹرمپ دھمکیاں نہیں لگاتے، ایران کو غلط اندازے نہیں لگانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مرتبہ غلط اندازے لگانے پر ایران کی لیڈرشپ، نیوی، ایئر فورس سب ختم کردیا تھا، اب جنگ اس لیے ہوگی کہ ایران سمجھنے سے انکاری ہے، ایران جنگ ختم ہونے پر فیول کی قیمتیں کم ہوجائیں گی ۔ترجمان وائٹ ہاؤس سے جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان اور ایرانی حکام سے ملاقات کی خبروں پر سوال کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ابھی غیر مستحکم ہے ، جب تک وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے کسی ملاقات کو حتمی نہ سمجھا جائے، ایران سے کون مذاکرات کر رہا ہے اس بارے میں نہیں بتاسکتی، ایران سے متعلق بات چیت میں جے ڈی وینس شامل رہے ہیں۔کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری ہے، صدر ٹرمپ فوجی کارروائی سے قبل سفارت کاری کو پہلا آپشن سمجھتے ہیں، صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال سے نہیں ڈرتے مگر سفارت کاری کو پہلا آپشن سمجھتے ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ایران کو “20 گنا زیادہ” شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایران سے متعلق تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔امریکا نے تہران اور دوسرے شہروں پر حملوں کے بعد اچانک ایران کے ’خارگ‘ نامی جزیرے کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ امریکی فضائی افواج نے اس جزیرے پر بم برسائے اور اب اس پر قبضے کی پلاننگ کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ایران کے اس جزیرے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے، یہ ایرانی ’آئل اکانومی‘ کا مرکز اور اہم فوجی مقامات میں سے ایک ہے، سخت نگرانی کے باعث ایران میں اسے ’ممنوعہ جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ’خارگ‘ خلیج فارس کے شمالی حصے میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل جزیرہ ہے، جو ایران کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے اب تک ایران کے شہروں تک حملے محدود رکھے ہوئے تھے پھر اس جزیرے کو بھی نشانے پر رکھ لیا اور اب اس جزیرے پر قبضے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔جزیرے کو ایران میں ’ممنوعہ جزیرہ‘ کہا جاتا ہے اور جغرافیائی طور پر یہ ایران کے صوبے بوشہر کے زیرِ انتظام ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی سخت سیکیورٹی کے باعث یہاں صرف خصوصی سرکاری اجازت کے حامل افراد کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔یہ جزیرہ بظاہر سمندر میں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے مگر ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔جزیرہ ’خارگ‘ ایران جنگ کے پندرہویں روز یعنی 14 مارچ کی صبح اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے اس جزیرے پر واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے طاقتور بمباری قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فی الحال جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو تباہ نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔دھمکی کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی فوج خبردار کرچکی ہے کہ اگر خارگ پر حملہ یا قبضے کی کوشش کی گئی تو امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ملکیت تیل اور توانائی کمپنیوں کو تباہ اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ میڈیا پہلے بھی رپورٹ کرچکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا فوجیں اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور آیا تھا۔ جنگ کے چوتھے ہفتے ایک بار پھر اس جزیرے پر قبضے کی امریکی کوششوں کی بازگشت شروع ہوچکی ہےجزیرہ خارگ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، یہاں ہزاروں سال قدیم تہذیبوں کی باقیات اور نشانات بھی موجود ہیں۔ خارگ تیل کی دریافت سے بہت پہلے بھی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا اور ایک اہم بحری چوکی کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ یہ جزیرہ جغرافیائی اور تاریخی طور پر ہمیشہ سے ایران (سلطنتِ فارس) کا حصہ رہا ہے اور 18ویں صدی کے وسط سے یہ مسلسل اور بلا شرکتِ غیرے ایران کے زیرِ انتظام ہے۔ یورپی نوآبادیاتی دور میں اس جزیرے پر سب سے پہلے پرتگالیوں نے قبضہ کیا، پھر 18ویں صدی میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔ تاہم 1766 میں بندر ریگ کے گورنر میر مہنا نے ڈچ افواج کو جزیرے سے نکال دیا۔ انیسویں صدر میں برطانیہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے دو بار اس جزیرے پر مختصر قبضہ کیا، تاہم معاہدہ پیرس کے بعد اسے مستقل طور پر ایران کے حوالے کر دیا گیا۔ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے اس جزیرے کو سیاسی قیدیوں کی جلاوطنی کے مقام کے طور پر بھی استعمال کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں جزیرے کے اردگرد سمندری علاقوں میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے جس کے بعد شاہِ ایران کے دور میں اسے باقاعدہ طور پر ایران کا مرکزی آئل ٹرمینل بنا دیا گیا۔ جس کے بعد سے یہ ایران کی معیشت کا ’اٹوٹ انگ‘ سمجھا جاتا ہے۔ جزیرہ خارگ کو اس کی ساخت اور بنیاد کی وجہ سے ’مرجانی جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جزیرے پر ہرن کی مخصوص نسل ’ایرانی جبیر‘ پائی جاتی ہے۔معروف ایرانی ادیب جلال آل احمد نے اس جزیرے پر باقاعدہ ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے اس جزیرے کے لیے ’خلیج فارس کا یتیم موتی‘ (جزیرہ خارک، دُرِ یتیمِ خلیج) کی اصطلاح استعمال کی اور یہی کتاب کا عنوان بھی ہے۔جلال آل احمد نے اپنی کتاب میں اس جزیرے کی منفرد ساخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہ جزیرہ مٹی سے نہیں بلکہ مرجان کی تہوں سے بنا ہے، اسی لیے اس کی زمین سخت اور چٹانی ہے ماہرین کے مطابق یہ جزیرہ ایک ’سالٹ ڈوم‘ (نمک کی چٹان) کے اوپر بنا ہوا ہے جس کی اوپری سطح لاکھوں سالوں کے دوران ’مرجانی چٹانوں‘ کے جمع ہونے سے بنی ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی زمین دیگر ریگستانی جزیروں کے مقابلے میں بہت سخت اور سمندر کے اندر بہت گہری ہے۔