اسلام آباد (ٹی این ایس) پاک چین , مشرق وسطیٰ, پانچ نکاتی امن منصوبہ,

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس) مشرق وسطیٰ اس وقت شدید عدم استحکام کا شکار ہے، دوسری جانب پاکستان اور چین نے بیجنگ میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے31 مارچ 2026 کو ایک مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے,
قبل ازیں وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھاکہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہیں، خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں, جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے، ایران سمیت برادر مسلم ممالک میں معیشت اور املاک کو بھاری نقصان پہنچا ہے، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی، ترکیہ اور مصر کے گراں قدر تعاون کو سراہتے ہیں۔ علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں پر اعتماد پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
پانچ نکاتی امن منصوبہ مشرق وسطیٰ بحران کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک فراہم کرتا ہے، اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، علاقائی خودمختاری کا احترام، شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کا تحفظ اور بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی جیسے اہم نکات شامل ہیں،
یہ نکات نہ صرف بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں,
یہ اقدام نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ای کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا,اس منصوبے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
فوری جنگ بندی: دشمنی کا فوری خاتمہ اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں۔
امن مذاکرات کا آغاز: تمام فریقین کے درمیان جلد از جلد مذاکرات شروع کرنا اور ایران سمیت تمام خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام۔
غیر فوجی اہداف کا تحفظ: شہریوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا فوری خاتمہ۔
بحری گزرگاہوں کی حفاظت: آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانا۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری: عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق کثیر الجہتی سفارت کاری کے ذریعے پائیدار امن کا قیام۔
پاک چین پانچ نکاتی امن منصوبے کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔ افریقی یونین سمیت کئی عالمی اداروں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، اسرائیل کے اقدامات اور خلیجی ممالک کی سکیورٹی خدشات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، اس کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے,
آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر خطرات نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے،یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے صرف بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی اقدامات بھی کئے ہیں، مثال کے طور پر آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس سے عالمی تجارت کے تسلسل میں بھی مدد ملی ہے، اس پیش رفت کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا گیا حتیٰ کہ امریکی قیادت نے بھی اس کی حمایت کا اظہار کیا، اگرچہ ابھی تک مکمل جنگ بندی نہیں ہو سکی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک سنجیدہ اور مربوط کوشش جاری ہے اور اب اس کے نتائج نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نازک وقت میں پاکستان کی سفارتکاری ایک توازن کا نمونہ بن کر سامنے آئی ہے، پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو سعودی عرب، ایران، قطر، ترکیہ، چین اور امریکہ جیسے اہم ممالک کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات رکھتے ہیں، یہی اس کی سب سے بڑی سفارتی طاقت ہے، یہ توازن پاکستان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نہ صرف مختلف فریقین کے درمیان بات چیت کو ممکن بنائے بلکہ اعتماد سازی کے عمل میں بھی کلیدی کردار ادا کرے۔ عالمی سیاست کے تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی صورتحال میں پاکستان نے ایک متوازن، فعال اور مؤثر ثالث کے طور پر خود کو منوایا ہے، یہ کردار محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات، سفارتی رابطوں اور کثیرالجہتی مشاورت پر مبنی ہے۔ چین کے وزیرخارجہ وانگ یی کا کہنا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مشترکہ کوششوں کے لیے روس کے ساتھ مل کر تعاون کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ وانگ یی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔وانگ یی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اہم مسائل پر بروقت رابطہ کاری برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال بہتر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں، علاقائی امن و استحکام کی حفاظت اور دنیا کے لیے سیکیورٹی بحال رکھنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ چین اور روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر اصولی معاملات پر شفافیت اور انصاف کا اصول برقرار رکھنا چاہیے، معروضی اور متوازن مؤقف اپنائیں اور عالمی برادری سے بہترین تجاویز اور تعاون حاصل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال مسلسل خراب، کشیدہ ہوتی جارہی ہے اور مزید بدتر صورت اختیار کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے نقل و حمل یقینی بنانے لیے بنیادی حل کا دار مدار فوری جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے پر ہے۔ چین ہمیشہ سے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل مذاکرات اور گفت وشنید سے حل کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش ہے,روس کا مؤقف ہے کہ فوجی آپریشن فوری بند ہونا چاہیے اور تنازع کی بنیادی وجہ حل کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل کی طرف آنا چاہیے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ روس اس حوالے سے چین کے ساتھ قریبی رابطے اور تبادلہ خیال جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے اور بات کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والا چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس واضح مثال ہے، اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا، یہ اجلاس محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں وسیع سفارتی رابطے جاری تھے جن میں دیگر اہم ممالک کے ساتھ ٹیلی فونک مشاورت بھی شامل تھی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ایک جامع حل کی تلاش میں ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سفارتی عمل کو ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے قبولیت حاصل رہی ، پاکستان کو ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کیلئے بھی دیکھا گیا ،امریکا اسرائیل جنگ بندی کے لیے پاکستان کے بطور ثالث سامنے آنے کو دنیا بھر میں بھرپور طور پر سراہا جا رہا ہے۔ بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ نے بھی ایران کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرلیا۔ فرسٹ پوسٹ کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ نے چیلنجز کے باوجود ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مصر، ترکیہ اور سعودی عرب نے بھی امریکہ ایران رابطے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا ہے۔ بھارتی جریدے کے مطابق چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پاکستان نے سفارتی کامیابی حاصل کی اور ایران بھی مطمئن رہا، ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان کا مخلصانہ کردار شرانگیز بھارتی کردار کے برعکس ہے، خاص کر جب مودی نے ایران پر حملے سے چند روز قبل اسرائیل کا دورہ کیا، یہ ایک مخلص بھائی اور خودغرض موقع پرست ہندوتوا زدہ بھارت کے درمیان فرق ہے،جسے ایران کو سمجھنا چاہئے۔حالیہ پیش رفت میں ایک اور اہم پہلو امریکہ کے رویے میں تبدیلی ہے، اگرچہ ابتدا میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا تاہم بعد ازاں ایران کے انرجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ڈیڈ لائن میں توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ بھی اس تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ بیان کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا درحقیقت اسی اعتماد کا اظہار ہے۔ سفارتی ، مذاکراتی اور ثالثی نشست سے چند گھنٹے قبل جب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ٹویٹ کیا کہ ایران نے پاکستان کے پرچم بردار 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے تو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل سے اسے شیئر کر کے پیغام دیا کہ وہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطوں کی پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہیں، یہ عمل بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پاکستان پر اعتماد کا مظہر تھا۔
مزید یہ کہ، امریکہ کے بعض اتحادیوں کی جانب سے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار نے بھی صورتحال کو تبدیل کیا ہے، اس تناظر میں پاکستان جیسے ملک کی ثالثی امریکہ کے لیے ایک قابلِ قبول راستہ فراہم کر سکتی ہے، پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کا ایک اہم پہلو اس کا محتاط اور ذمہ دارانہ بیانیہ بھی ہے، پاکستان نے نہ صرف کشیدگی میں کمی کی بات کی بلکہ تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔ اب تک جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ڈائریکٹ مذاکراتی عمل یا بات چیت نہیں ہو رہی تھی مگر اب دونوں ممالک ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں براہ راست پیغام رسانی شروع ہو چکی ہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر انہیں مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملہ نہیں ہو گا تو وہ امریکہ اور اسرئیل کے خلاف جاری لڑائی ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ ایران صرف جنگ بندی نہیں بلکہ اس جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں میں ایران جنگ سے نکل جائے گا، جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل ضروری نہیں ، امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی رجیم کے ایرانی صدر نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے ، جنگ بندی کی درخواست پر تب غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز کھلی اور مکمل طور پرمحفوظ ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سفارتکاری ایک امید کی کرن بن چکی ہے، اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار ہوگی بلکہ پاکستان کا عالمی وقار بھی مزید بلند ہوگا۔اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی شدید مذمت کی ہے, ایرانی مشن کے مطابق ٹرمپ اہم شہری بنیادی ڈھانچے تباہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، اگر اقوام متحدہ کا ضمیر زندہ ہوتا تو شوقین امریکی صدر کی دھمکیوں پر خاموش نہ رہتا۔ مشن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ خطے کو لامحدود جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹرمپ کا بیان براہِ راست عوامی ترغیب اور شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش ہے، اُن کا بیان جنگی جرم کرنے کی نیت کا واضح ثبوت ہے دوسری جانب ایرانی مشن کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری اور ریاستوں کی ذمہ داری ہے وہ ایے سنگین جنگی جرائم رکوائیں، اُنہوں نے واضح کیا کہ عالمی برادری کو فوری کارروائی کرنی ہوگی ورنہ کل بہت دیر ہوجائے گی ۔امریکا و ایران میں ثالثی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے سوشل میڈیا پر سرگرم جھوٹی خبروں کی تردید کر دی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مختلف ذرائع، خصوصاً سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے امن و مذاکرات کے فروغ کیلئے مبینہ اقدامات کو سرکاری ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے، تاہم یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ذرائع سے منسوب تمام ایسے بیانات غلط ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی خاموش مگر متحرک سفارتکاری، ترکی اور مصر کے ساتھ ہم آہنگی میں، وسیع تر علاقائی تنازعے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔پاکستانی قیادت پورے عمل کے دوران متحرک رہی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے جاری رکھے، جبکہ آرمی چیف عاصم منیر نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اسٹریٹجک ملاقاتیں کیں، توجہ صرف فوری کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں تھی بلکہ دیرپا علاقائی استحکام کی بنیاد رکھنے پر بھی مرکوز رہی۔ پاکستان نے متوازن حکمت عملی اپنائی، اور امریکہ و ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ اسی پوزیشن نے اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھرنے میں مدد دی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے محدود تھے۔ پاکستان نے پسِ پردہ رابطوں میں مرکزی کردار ادا کیاہے اور انقرہ اور قاہرہ کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے ممکن بنائے۔ ان کوششوں کا مقصد مزید فوجی کشیدگی کو روکنا اور ایک ایسے وقت میں مذاکرات کے لیے فضا ہموار کرنا تھا جب صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔مشرق وسطیٰ تنازع، 28 فروری کو شروع ہوا، اب تک 2,000 سے زائد ہلاکتوں کا سبب بن چکا ہے اور عالمی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا کر چکا ہے۔ تنازع کے بعد مشرق وسطیٰ میں فوری اثرات دیکھنے میں آئے، زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اسرائیلی افواج نے تہران میں انفراسٹرکچر پر تازہ حملے کیے، جبکہ ایرانی حکام نے خرم آباد اور بوشہر سمیت کئی شہروں میں جانی نقصان کی اطلاع دی۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے، جس میں اسرائیلی تنصیبات اور خلیج میں امریکی اڈوں سے متعلق اہداف شامل ہو سکتے ہیں۔اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران نے اس راستے پر آمد و رفت محدود کر دی ہے، جو عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ تہران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں خلیجی راستوں کو بارودی سرنگوں سے بند کیا جا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔توانائی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بجلی کے نظام کو نشانہ بنانا خلیجی ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جہاں پانی کی فراہمی کا بڑا انحصار ڈی سیلینیشن سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے نظام پر ہے۔ بحرین اور قطر مکمل طور پر اسی نظام پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی بڑی حد تک اسی پر منحصر ہیں۔ پاکستان، ترکی اور مصر کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی طاقتیں سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ مصر کا عرب دنیا میں اثر و رسوخ اور ترکی کی علاقائی سرگرمیوں نے پاکستان کی اس صلاحیت کو مزید مؤثر بنایا کہ وہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ سکے۔ مبصرین نے پاکستان کے کردار کو سراہنا شروع کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتکاری نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب جبکہ رابطے بحال ہو چکے ہیں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری ہیں، توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ کوششیں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔