اسلام آباد (ٹی این ایس) ممتاز علمی ، ادبی و سیاسی شخصیت جناب ڈاکٹر مقصود جعفری کو بطور صدر آزاد جموں و کشمیر مقرر کرنے کی عوامی تجویز ایک حوصلہ افزا، خوش آئند اور مثبت قدم ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کا تعلق ایک معزز اور باوقار گھرانے سے ہے جن کے والد بزرگوار جناب تحسین جعفری مرحوم بذاتِ خود بطور شاعر ایک علمی و ادبی شخصیت کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں اور کشمیر پر متعدد کتب کے مصنفّ ہیں۔ آزاد کشمیر کے سابق صدور اور وزراۓ اعظم سردار محمد ابراہیم خان ، سردار عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات خان پونچھ شہر میں آپ کے شاگرد تھے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری بھی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جو ایک سے زائد زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ آپ ایک منفرد اور معتدل سوچ کے مالک تخلیق کار ہیں جنہیں یہ تخلیقی صلاحیتیں اپنے والد مرحوم جناب تحسین جعفری سے ورثے میں ملی ہے۔
کسی بھی مملکت یا ریاست کے انتظامی امور کو مؤثر بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکومتی ڈھانچے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں۔ ڈاکٹر مقصود جعفری جیسی علمی و ادبی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ایسی قد آور شخصیت کو ریاست کا صدر بنانا مناسب ترین فیصلہ ہوگا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ڈاکٹر مقصود جعفری صدارت کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔ موجودہ دور میں اس قدر اعلیٰ فکر اور صلاحیتوں کے حامل افراد بہت کم ملتے ہیں۔مسلۂ کشمیر ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور ڈاکٹر مقصود جعفری جیسی عالمی شخصیّت ہی اس مسئلہ کی عالمی سطح پر تشہیر کے لیے موزوں ترین شخصیّت ہیں۔
آپ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ایک بین الاقوامی استاد، تجزیہ نگار، اسکالر، فلسفی، دانشور، کالم نگار اور ہفت زبان شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر کشمیریات بھی ہیں۔ اُردو، انگریزی، فارسی ادب، حالاتِ حاضرہ اور شاعری کے حوالے سے اب تک ان کی پینتیس کتابیں مَنَصَّۂ شُہُود پر آ چکی ہیں جو طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ عام شہری کے لیے بھی علم و آگاہی کا ایک بھرپور ذریعہ ہیں۔ آپ کی کشمیری ادبیات، ثقافت، تاریخ اور سیاست پر گہری نظر ہے۔
ڈاکٹر مقصود جعفری فقط ایک لکھاری ہی نہیں بلکہ ایک گہرے مفکر بھی ہیں۔ انہوں نے علم اور تحقیق کے ذریعے انسانیت کے اتحاد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انگریزی اور اردو نثر میں ان کی گراں قدر تصانیف نے بہت سے قومی اور بین الاقوامی ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی کی ہے۔ تاحال آپ پر سات ایم فِل اور دو پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جا چکے ہیں جن میں ایک مقالہ کا عنوان “ ڈاکٹر مقصود جعفری اور کشمیریات “ ہے جو آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد سے ایک خاتون محقق نے لکھا ہے۔ ان کی شاعری میں گہری فکری بصیرت کے ساتھ ساتھ ادبی لطافت، خوبصورت وضاحت اور جامع پیغامات موجود ہیں۔ ان کی خدمات انسانی حقوق، اعلیٰ اقدار اور ادب کی ترویج کے لیے ایک انمول خزانہ ہیں۔
ڈاکٹر مقصود جعفری نے آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں وہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار محمد عبدالقیوم خان اور پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے مشیر براۓ پولیٹیکل ریسرچ سیل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے سیاسی حلقوں میں انہیں ایک کہنہ مشق رہنما اور متحرک سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر تحریکِ کشمیر کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے، اسی بنا پر انہیں آزادی، امن اور انصاف کا علم بردار تسلیم کیا جاتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب نے انگریزی میں دو کتابیں 1-The Plight of Kashmir
2- Kashmir: Under Siege
لکھی ہیں اور یہ دونوں کتابیں نیشنل بُک فاونڈیشن اسلام آباد نے شائع کی ہیں۔ ادب اور فلسفہ کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں آزاد کشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔
آپ نے امریکا سے انگلش لٹریچر میں پی ایچ ڈی اور فلسفہ میں ڈی فِل کی ڈگری حاصل کی اور امریکا میں کئی یونیورسٹیوں میں تقابلی عالمی ادبیات پر لیکچر بھی دے رکھے ہیں جن کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔
انہوں نے دنیا بھر میں علم، ادب، تاریخ، فلسفہ اور کازِ کشمیر کے فروغ کے لیے آواز بلند کی ہے اور متعدد بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ آپ کو تحریکِ آزادی اور انسانیت و انصاف کا علمبردار تصور کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ظلم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کو ایمان کا حقیقی جوہر سمجھتے ہیں۔
لہٰذا، ملک کی ترقی و خوشحالی اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے یہ ضروری ہے کہ جناب ڈاکٹر مقصود جعفری جیسی ہردلعزیز شخصیت کو ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کر کے ان کی علمی، ادبی اور فکری خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس سے نہ صرف کشمیر بلکہ ملکی سیاسی معاملات کو مزید آگے بڑھانے میں بھی مدد لی جا سکتی ہے۔آپ نے امریکہ ، انگلستان ، کینیڈا، سعودی عرب اور ایران میں مسئلہ کشمیر کو عوامی اور حکومتی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی ذاتی سطح پر قابلِ تحسین خدمات انجام دی ہیں جو آپ کی نظریۂ پاکستان اور مسئلہ کشمیر سے گہری وابستگی کی زندہ مثال ہے۔
۴ اپریل ۲۰۲۶
(جہانِ اُردو 🖊️)
#islamabad #Pakistan #kashmir












