اسلام آباد (ٹی این ایس) کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا,لیکن حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی تیز رفتار کامیاب ڈپلومیسی کےاثرات کی وجہ سے ایران امریکہ خلیجی جنگ جلد ختم ہو جائے گی , پاکستانی سینئرسفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک جامع منصوبہ ” اسلام آباد معاہدہ ”’(اسلام آباد اکارڈ ) پیش کیا گیا ہے،
دوسری جانب پاکستان اور چین نے بیجنگ میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے31 مارچ 2026 کو ایک مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے,ترک میڈیا نے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کے حوالے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مستقبل میں دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے۔قبل ازیں سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے, مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایران فیصلے کیلئے کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے، تہران عارضی جنگ بندی کیلئے آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا۔ واضح رہے کہ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔ رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے۔
پاکستان کا پیش کردہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل معاہدہ ہو گا۔ایران اور امریکا کو جنگ ختم کرنے کا جامع منصوبہ ,اسلام آباد معاہدہ موصول ہو گیا ہے جس پر دونوں ممالک اب غور کر رہے ہیں , اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری نفاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان اس عمل میں واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے،
عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔ ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے،
معاہدے کے تحت 45 روزہ جنگ بندی بھی زیر غور ہے۔ قبل ازیں امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔اس حوالے سے وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے۔
قبل ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والی رپورٹس کی تصدیق یا تردید نہیں کررہے، ہمارا مؤقف ہے کہ امن کا عمل جاری ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی یا 15 نکاتی تبادلے کی پیشکش سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں، ہم انفرادی اور مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔
پاکستانی قیادت, ملٹری ڈپلومیسی کی طر ح جنگی سفارت کاری میں بھی ایران امریکہ خلیجی جنگ میں ماہر نظر آ ئی ہے,وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا اعتراف گزشتہ سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں ہوا، خلیجی جنگ سے پہلے، جب پاکستان نے بھارت پر اپنی فوجی برتری اور بالادستی ثابت کی تھی۔
پاکستان 2026 میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی سفارت کاری جنگ کو ختم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے،
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
میزبانی اور مذاکرات: پاکستان نے اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس کی سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے علاقائی ممالک نے بھی حمایت کی ہے۔
پیغام کی ترسیل: پاکستانی حکام واشنگٹن اور تہران کے درمیان “غیر سرکاری” پیغامات پہنچانے کا ایک چینل بن چکے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
عالمی حمایت: چین اور یورپی یونین نے کھل کر پاکستان کی مصالحتی مہم کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کا سفارتی وزن بڑھ گیا ہے۔
امریکی موقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدتی دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی امن کاوشوں کو سراہنا اور اسلام آباد کے دورے سے متعلق امریکی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی واضح تردید نہ صرف علاقائی سفارتکاری کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی توثیق ہوتی ہے۔ امریکی پریس اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایرانی قیادت اسلام آباد میں ملاقات سے گریزاں ہے‘ تاہم عباس عراقچی کی وضاحت نے ان مفروضوں کو رد کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا اور اس وضاحت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
میزبانی اور مذاکرات: پاکستان نے اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس کی سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے علاقائی ممالک نے بھی حمایت کی ہے۔
پیغام کی ترسیل: پاکستانی حکام واشنگٹن اور تہران کے درمیان “غیر سرکاری” پیغامات پہنچانے کا ایک چینل بن چکے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
عالمی حمایت: چین اور یورپی یونین نے کھل کر پاکستان کی مصالحتی مہم کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کا سفارتی وزن بڑھ گیا ہے۔
امریکی موقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدتی دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی امن کاوشوں کو سراہنا اور اسلام آباد کے دورے سے متعلق امریکی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی واضح تردید نہ صرف علاقائی سفارتکاری کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی توثیق ہوتی ہے۔
امریکی پریس اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایرانی قیادت اسلام آباد میں ملاقات سے گریزاں ہے‘ تاہم عباس عراقچی کی وضاحت نے ان مفروضوں کو رد کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا اور اس وضاحت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی ایرانی وزیر خارجہ کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور اسے بروقت وضاحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائیاں کسی کیلئے فائدہ مند نہیں ۔یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں مکمل اعتماد کی فضا موجود ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتکاری کے دروازے بند نہیں کر رہابلکہ ایسے مذاکرات کیلئے آمادہ ہے جو پائیدار‘ منصفانہ اور حتمی نتائج کی ضمانت دے سکیں۔یہ مؤقف نہ صرف ایران کی سنجیدہ سفارتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی جنگ بندی یا عارضی وقفے کے بجائے مستقل حل ہی خطے کے امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے پاکستان ایک ایسا پل بن سکتا ہے جو نہ صرف فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد کرے بلکہ ایک قابلِ قبول مذاکراتی فریم ورک بھی فراہم کرے۔ اسلام آباد کی سفارتی ساکھ‘ اسکی غیر جانبدارانہ پالیسی اور مختلف بلاکس کیساتھ متوازن تعلقات اسے اس کردار کیلئے موزوں بناتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی روایت نہ صرف ناکام ثابت ہو چکی ہے بلکہ اسکے نتائج مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں اور عالمی امن کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ ایسے میں حکمت عملی‘ صبر اور اصولی مذاکرات کا امتزاج ہی واحد راستہ ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ وہ صرف ایسے مذاکرات میں شریک ہوگا جو دیرپا امن کی ضمانت دیں‘ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سفارتکاری کو محض وقتی دباؤ کم کرنے کے آلہ کار کے بجائے مسئلے کے مستقل حل کا ذریعہ بننا چاہیے۔ یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور بلاشبہ ایک امتحان بھی ہے۔
صورتحال ایک موقع اس لئے کہ سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا تے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں بد امنی کے خاتمے کے پائیدار اقدامات کیے جائیں اور امتحان اسلئے کہ اس کردار کو نہایت دانشمندی‘غیر جانبداری اور تدبر کیساتھ ادا کرنا ہوگا۔ ان حالات میں ہمیں داخلی معاملات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔سیاسی استحکام اور معاشی استقامت وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ مستحکم اور مضبوط ملک ہی سفارتی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا وضاحتی بیان اور پاکستان کی امن کاوشوں کا اعتراف ایک مثبت پیشرفت ہے جو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ متحارب فریقین سنجیدگی‘ صبر اور اصولی مؤقف کیساتھ مذاکرات کی راہ اپناتے ہیں تو یہ نہ صرف موجودہ کشیدگی کو کم کر سکتا ہے بلکہ پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے‘ جو خطے کیلئے استحکام اور امن کا سبب بنے۔ مشرقِ وسطیٰ توانائی کا مرکز ہونے کے ناتے عالمی معیشت کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ دنوں آبنائے ہر مز کی بند ش نے توانائی کی قیمتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ایران امریکہ کشیدگی کی طوالت کا مطلب عالمی معیشت کی تباہی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اور دیگر اہم ممالک سفارتی کوششوں کو فعال اور مؤثر بنائیں تاکہ اس بدامنی کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے جس نے عالمی امن اور معیشت کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کر دیے ہیں.
آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران نے عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جلد از جلد کسی تصفیے تک پہنچیں۔
اگرچہ پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ جنگ بندی کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کے لیے اسلام آباد میں ملاقات کر چکے ہیں، لیکن پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی قیادت ملٹری ڈپلومیسی (Military Diplomacy) کے ساتھ ساتھ جنگی سفارت کاری (War Diplomacy) میں بھی توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس سلسلے میں چند اہم پہلو یہ ہیں:
تزویراتی توازن (Strategic Balance): پاکستان نے خود کو کسی ایک بلاک (امریکہ یا ایران) کا حصہ بننے کے بجائے ایک “پل” کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ مہارت فوجی سفارت کاری کا خاصہ ہے، جہاں دفاعی تعلقات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
خلیجی ممالک کا اعتماد: پاکستان کی قیادت (سویلین اور ملٹری) نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے تحفظات کو دور کیا ہے اور انہیں باور کرایا ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
بیک چینل مواصلات: پاکستانی قیادت نے بیک چینل کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم پیغامات پہنچا کر غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جو جدید ترین جنگی سفارت کاری کی بہترین مثال ہے۔
علاقائی اتحاد کی قیادت: اسلام آباد میں حالیہ سربراہی اجلاس (پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب) نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے علاقائی بحرانوں کو حل کرنے کی سفارتی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کامیاب سفارت کاری پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو تقویت دے سکتی ہے اور ثالثی کے عمل میں اس کی قیادت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دیرپا علاقائی امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
دریں اثناء ایرانی شہریوں نے تہران میں پاکستانی پرچم اٹھائے ریلی میں شرکت کی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔
پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ریلی کے شرکاء نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے “شکریہ پاکستان” کے نعرے بھی لگائے۔ ایرانی شہریوں نے کہا کہ ایران پاکستانی عوام کی محبت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کی دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ریلی میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام کے حوصلے بلند کرنے کے لیے ریلیوں میں آتا ہوں۔ عوام کا جوش و خروش عروج پر ہے۔ میری شرکت سمندر میں ایک قطرہ کی طرح ہے۔ ۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مشروط جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے, ایرانی صدر نے کہا ہےکہ ایران کے پاس جنگ ختم کرنے کا ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں، مطالبات پورے کرو، دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دو تو جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دشمنی کے اقدامات کا نتیجہ ہے , آبنائے ہرمز صرف امریکا اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند ہےجنگ میں کسی بھی بہانے سے بیرونی مداخلت کے سنگین نتائج ہوں گے مزید کہا کہ یورپی یونین کی امریکی اور صہیونی جرائم پر خاموشی افسوسناک ہے، کہا ہمارا خطے کے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، خطے میں امریکی فوجی اڈے ہونے کی وجہ سے حملے کئے گئے,اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے, دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔,عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں,واضح رہے کہ نومبر 2025ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہونے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے سے پاکستان مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہےدوسری طرف اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل عبداللّٰہ درداری نے کہا ہےکہ ایران جنگ کے ایک مہینے میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور مشرقی بُحیرۂ روم کے خطے میں یہ نقصان تقریباً 30 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے جنگ بندی میں ہر دن کی تاخیر عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، پاکستان پر جہاں سعودی عرب اعتماد کرتا ہے وہیں دیگر خلیجی ممالک سمیت ایران بھی پاکستان کو ایک دوست ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان اس وقت سعودی عرب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت مسلسل سعودی عرب سے رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے ایران کو ان ممالک پر حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔پاکستان نے دنیا میں امن و استحکام کیلئے کامیاب سیاسی اور ملٹری ڈپلومیسی کا لوہا منوالیاہے۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے امریکی کابینہ میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا اعتراف کرتے ہوئے اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امن معاہدے کے فریم ورک کیلئے 15 نکالتی ایکشن لسٹ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی ہے پاکستان ایران اور امریکا میں بطور ایک ثالث کے اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کے ذریعے ایران کیساتھ مضبوط اور مثبت پیغامات اور مذاکرات سامنے آئے ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی مدبرانہ پالیسیوں اور بہترین حکمت عملی کے باعث پوری دنیا کو متاثر کرنے والی جنگ کو رکوا رہا ہے، امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار پاکستان کی اہمیت اور عالمی سطح پر بھر پور اعتماد کا عکاس ہے۔ پاکستان متوازن تعلقات اور کامیاب سیاسی و ملٹری ڈپلومیسی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کر رہا ہے













