اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات مکمل

 
0
6

اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔ ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایران کی پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان ’موڈ سوئنگز‘ دیکھے گئے اور ماحول کبھی سخت اور کبھی نسبتاً نرم ہوتا رہا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ تاہم پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصیق کی ہے۔
اسلام آباد مذاکرات کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں اعلیٰ ترین سطح کی بیٹھک قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کے درمیان دو ادوار پر مشتمل باضابطہ مذاکرات اب تک مکمل ہو چکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوئے۔ جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وفد سے ملاقات کی، امریکی وفد نے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی سے براہِ راست بات چیت کی، ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں ہوئی۔ اس وقت دونوں وفود کے درمیان ورکنگ ڈنر جاری ہے، ورکنگ ڈنر کے بعد تیسرے مرحلےکے تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے، تکنیکی مذاکرات میں دونوں جانب کے سینیئر حکام شریک ہوں گے، مذاکرات میں تفصیلات اور باقی معاملات پر بات کی جائےگی۔ اب تک مذاکرات کا مجموعی ماحول مثبت رہا ہے، نتائج بھی مجموعی طور پر حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ان دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تاہم اس معاہدے کو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات محدود ہوگئے تھے۔امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں۔ اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے تھےفریقین کے درمیان فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے جس میں شرکاء نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا تھا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا تھا۔ ایران نے حملوں کے بعد فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بند کیا اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں 40 روز تک یہ جنگ جاری رہی۔ اس دوران پاکستان نے سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ کیا اور دونوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک سجائی۔مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ جنگ عین اس مرحلے پر رکی جب چند گھنٹوں میں صورتِ حال مزید بگڑ سکتی تھی۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے فوری تباہی کا خطرہ تو ٹال دیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقی امن کی شروعات ہے یا صرف ایک وقتی وقفہ؟ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران، امریکا مذاکرات اسی نازک پس منظر میں ایک بڑے سفارتی امتحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔حالیہ جنگ نے نہ صرف ایران، امریکا اور اسرائیل کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایسے میں پاکستان، مصر، ترکی، چین اور روس کی مشترکہ سفارت کاری کے نتیجے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی۔ یہ پیش رفت بظاہر فوری تباہی کو روکنے میں کامیاب رہی، مگر اس کے اندر کئی پیچیدہ سوالات بھی پوشیدہ ہیں۔ پاکستان نے اس سارے عمل میں ایک متحرک کردار ادا کیا۔ ایک طرف اس نے امریکا کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تو دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو کم کرنے کی بھی سعی کی۔ اسلام آباد کے لیے یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی تھی، کیوں کہ جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے تھے۔ تاہم، اس جنگ بندی کی حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ ایران اب بھی امریکا پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملے اس پورے عمل پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ امریکا کا یہ مؤقف کہ لبنان حملے سیز فائر میں شامل نہیں، دراصل جنگ بندی کی ایک محدود اور مفاداتی تشریح ہے، جو امن کے تصور کو کمزور کرتی ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو مذاکراتی عمل کو نازک بنا رہا ہے۔ ایک طرف میز پر بات چیت جاری ہے، دوسری طرف میدان میں کارروائیاں رک نہیں رہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ حکمتِ عملی نئی نہیں، مگر اس کا سب سے بڑا نقصان اعتماد کے فقدان کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ ایران کی حکمت عملی بھی محتاط ہے۔ وہ ایک طرف مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، مگر دوسری طرف واضح طور پر یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ بغیر ضمانت کے کسی بھی معاہدے پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہیں کرے گا۔ یہ عدم اعتماد دراصل ماضی کے تجربات اور موجودہ زمینی حقائق کا نتیجہ ہے۔ ادھر اسرائیل کو بھی اس جنگ میں داخلی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اس کی قیادت امریکا سے مکمل حمایت نہ ملنے پر نالاں دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال امریکی قیادت پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے، جہاں داخلی تنقید اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ان تمام عوامل کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان بات چیت نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر منوائے، مگر اس کے لیے اسے نہایت باریک توازن قائم رکھنا ہوگا۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے؟ اس کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آیا فریقین دو بنیادی نکات پر اتفاق کر سکتے ہیں یا نہیں، اول، مسائل کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات سے نکالا جائے۔ دوم، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھا جائے اور الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ علاقائی تنازعات فوری حل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، مستقل مزاجی اور باہمی اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ دو ہفتوں میں کوئی بڑا حل نکل آئے گا، شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔ اگر مذاکراتی عمل کے ذریعے کشیدگی کم ہوتی ہے اور بات چیت کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ خود ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک طویل سفارتی عمل کا آغاز ہیں، اختتام نہیں۔ اگر فریقین نے اس موقع کو سنجیدگی سے استعمال کیا تو یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ محض ایک وقفہ ثابت ہوگا، جس کے بعد کشیدگی پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ سکتی ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری اعلیٰ سطح کے سفارتی مشن کے دوران ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ بات چیت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی ہے۔ ایران کے اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ اگرچہ اس ملاقات کی تفصیلی تفصیلات کا انتظار ہے، تاہم اسے امریکا کے ساتھ ہونے والے بڑے مذاکرات سے قبل ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جہاں پاکستان ایک مخلص میزبان اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ ان مذاکرات میں مکمل عدم اعتماد کے ساتھ شامل ہو رہا ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بار بار وعدہ خلافیوں اور سفارتی دھوکہ دہی کی وجہ سے ہمیں ان پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پوری قوت کے ساتھ لڑے گا اور کسی صورت اپنے جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ پاکستان کے سابق ایئر مارشل مسعود اختر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکا کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلوانا ہے تاکہ عالمی تجارتی راستہ بحال ہو سکے۔ انہوں نے قطری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ ان کے انسپکٹرز ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کر سکیں، لیکن ایران ایٹمی پروگرام اور اپنے میزائلوں کے ذخیرے جیسے اہم موضوعات پر اپنا موقف تبدیل نہیں کرے گا۔ سابق پاکستانی فوجی افسر کے مطابق ایران کو اس وقت مذاکرات میں برتری حاصل ہے کیونکہ امریکا کے پاس وقت کم ہے، جبکہ ایران لبنان اور یمن میں اپنے حامی گروہوں کے حوالے سے کچھ نرمی دکھا سکتا ہے۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں امریکا کو خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر امریکا کی ترجیحات پر ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کا آج سے باضابطہ آغاز ہو رہا ہے۔ ان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی وفد سے ملاقات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔ امریکی وفد کا استقبال نور خان ایئر بیس پر انتہائی پروٹوکول کے ساتھ کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی ایئر پورٹ پر موجود تھیں۔ امریکی قیادت کی آمد سے قبل سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے اور ایئر پورٹ سے اسلام آباد کے ریڈ زون تک کا راستہ مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل رات گئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچا تھا۔ ایرانی وفد کا بھی اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود ایئر پورٹ پر انہیں خوش آمدید کہا۔ وفد کے استقبال کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی موجود تھے۔ یہ وفد مجموعی طور پر 70 افراد پر مشتمل ہے، جس میں 26 تکنیکی ماہرین اور خصوصی کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتی ہیں اور مذاکرات کے دوران اپنی ماہرانہ رائے پیش کریں گی۔ اس کے علاوہ وفد میں 23 میڈیا نمائندے بھی شامل ہیں جو ان مذاکرات کی کوریج کریں گے۔ وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری علی اکبر، سینٹرل بینک کے سربراہ عبدالناصر اور متعدد ایرانی اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے والے اس وفد کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کو کامیاب بنانا ہے۔ اس پرواز کے دوران ایک انتہائی جذباتی منظر بھی دیکھا گیا جب ایرانی وفد کے جہاز کی سامنے والی قطاروں کو مکمل طور پر خالی چھوڑا گیا۔ یہ اقدام میناب میں ہونے والی کارروائی میں جان کی بازی ہارنے والے 168 بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
باقر قالیباف نے ان خالی نشستوں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ایک خاموش یادگار کے طور پر لکھا کہ یہ معصوم بچے اس پرواز میں میرے ساتھی ہیں۔ پاکستان پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ یہاں آیا ہے۔ انہوں نے اپنے موقف میں سختی برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا پر کوئی اعتماد نہیں ہے، لیکن اگر امریکا ہمارے حقوق تسلیم کرے اور ایک حقیقی معاہدہ پیش کرے تو ہم معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی وفد سے باضابطہ بات چیت شروع کرنے سے قبل ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جہاں مذاکرات کے طریقہ کار اور ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی ممکنہ شرائط پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں ایران اور امریکا کے وفود پاکستان کی میزبانی میں بیٹھ کر ایک ایسے حل کی تلاش کریں گے جو نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و امان کے لیے سودمند ثابت ہو۔سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے پاکستان کو عالمی امن کا سفیر قرار دیا اورکہا کہ پاکستان نے امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے بروقت اور موثر اقدامات کئے ۔ مبصرین کے مطابق اسلام آباد ٹاکس کا عالمی سطح پر ٹاپ ٹرینڈ بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو دنیا بھر میں نہ صرف تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ اسے بھرپور پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے ۔ماہرین نے کہا کہ جنگ بندی میں پاکستان کاکلیدی کردارنہ صرف ملک کاوقاربلندکرتاہے بلکہ خطے کے معاشی اوردفاعی مفادمیں ہے ، یہ بات انتہائی قابل ستائش ہے کہ دنیامیں امن کے فیصلے اب پاکستان میں ہوں گے ۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق پاکستان نے حالیہ جنگ کے خاتمہ کیلئے بہترین کردار ادا کیا اورڈونلڈ ٹرمپ نے حملے روک دئیے ہیں۔عالمی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک طاقتور ثالث کے طورپر ابھر کر سامنے آیا ہے ۔فاکس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد لڑائی کو روک رہے ہیں ۔بی بی سی نے کہا ہے کہ پاکستان کئی ہفتوں سے خطے میں امن و استحکام کیلئے دن رات کاوشوں میں مصروف رہنے کے بعد کامیاب ہو گیا ۔ گلف نیوز کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے باعث خود کو امن کے ایک بااعتماد ضامن کے طور پر منوا یا ہے ۔ٹی آر ٹی ورلڈ نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے کو تباہ کن خطرات سے بچانے کیلئے ایک تاریخی مصالحتی اور نتیجہ خیز کردار ادا کیا ہے ۔بھارتی جریدہ دی ہندو نے بھی جنگ کے خاتمے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک اور مخلصانہ کوششوں کو اجاگر کیا۔
اس بات کو یاد رکھیں کہ امریکا ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے وہ عام خطرات اور خدشات تو ختم ہوئے ہیں جو دنیا کو درپیش تھے اور اس کا بڑا کریڈٹ پاکستان کے حصہ میں آیاہے لیکن یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ، فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے ۔ اسلام آباد مذاکرات میں امر یکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیووٹکوف، ایران کی جانب سے سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گے ، فریقین اپنے اپنے نکات کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے ، مذاکراتی عمل کے پیچھے چین، سعودی عرب سمیت اور کئی قوتیں ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اصل کام اب شروع ہو گا اور مذاکرات کی کامیابی اصل چیلنج ہے تو یہ بے جا نہیں ہوگا۔ بلاشبہ امریکا ایران کے درمیان جنگی صورتحال نہایت پیچیدہ اور حساس مسئلہ تھا ، بظاہر نظر نہیں آ رہا تھا کہ جنگ بندی ممکن ہو سکے گی لیکن یہ کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو جاتاہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا ، نوبت یہاں تک آ چکی تھی کہ فریقین یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہوسکیں،پاکستان نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے امر یکا اور ایران کی مجبوریوں کا خیال کیا اور یہ گنجائش دی کہ دونوں ہی جیتے نظر آ سکیں ،بلاشبہ اس عمل کے پیچھے چین کی مددومعاونت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان کی یہ بڑی کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ جب نیت نیک، مشن جنگ بندی کا خاتمہ اور امن کا قیام ہو اور ٹیم ورک پر یقین ہو تو کامیابی ملتی ہے ، یہ سلسلہ 10مئی 2025 سے شروع ہوا، جس وقت پاکستان کا مقابلہ بھارت سے تھا ،دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان ناقابل تسخیر بن کر ابھرا اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان کی عالمی حیثیت قائم کی۔ غزہ کے ایشو پر امر یکا میں پاکستان قیادت کی موجودگی پر صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں اہم فیصلے اب پاکستان کی مرضی سے ہوں گے اور اب یہ منظر اس کی تائید کرتا نظر آ رہا ہے ۔ وزیراعظم نے جنگ بندی کیلئے ٹویٹ کا سہارا لیا تو اس کا اثر گلوبل مارکنگ میں گرین کی صورت میں سامنے آیا۔ صرف معیشت پر ہی اچھے اثرات ظاہر ہوتے نظر نہیں آئے بلکہ تیل کی عالمی قیمتیں نوے ڈالرز فی بیرل تک آ پہنچیں ، عالمی میڈیا پاکستان کی لیڈرشپ کی ستائش کر تا نظر آ رہا ہے ،صرف ایک بھارت ہے جو پاکستان کا تاریخی کردار ہضم نہیں کر پا رہاہے، جنگ بندی کا عظیم عمل اور اسلام آباد میں فریقین کے درمیان مذاکرات کا اعلان نئی دہلی پر بم بن کر گراہے، آج دنیا کو پاکستان کی شکل میں ایک قابل اعتبار اور معاملہ فہم ثالث ملا ہے جس پر دنیا کی طاقتیں اعتماد کرسکتی ہیں ,
دوسری طرف اب مذاکرات کا چیلنج درپیش ہے ، اسرائیل نہیں چاہے گا کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنا ر ہوں ، پاکستانی معاملات جنگ بندی تک ہیں، اب امن کیلئے سب کا اپنا اپنا کردار ہے ،
مزید یہ کہ جہاں تک امن کے نوبیل انعام بارے ہونے والی چہ میگوئیوں کا سوال ہے تو اگر میرٹ پر فیصلہ ہوا تو آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر , وزیراعظم شہباز شریف سے زیادہ کوئی حقدار نہیں ہوسکتا جنہوں نے جنگ روک کر دکھائی جس نے سب کچھ روک دیا تھا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل کی جانب سے لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ’تمام فریقین سے فوری طور پر کارروائیاں بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں شہری بشمول بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فوجی سرگرمیاں جنگ بندی اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی لبنان پر تاریخ کے شدید ترین حملے کیے گئے جس میں 254 افراد شہید اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران سے ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اعلان میں واضح طور پر لبنان کا ذکر بھی کیا تھا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی لبنان میں جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے اعلان کو سراہا ہے جب کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ خوش آئند ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کا شروع ہونا انتہائی ضروری اور اہم اقدام ہے۔ اس بات کو یاد رکھیں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے‘ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو صدر ٹرمپ کا دو ہفتے کی جنگ بندی پر راضی ہو جانا غیر متوقع ہے کیونکہ دو تین روز پہلے ہی وہ منگل کے روز ایران پر بڑے حملے کی دھمکیاں دے رہے تھے‘ لیکن منگل کے روز معمول کے حملوں اور جوابی حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ اللہ کرے کہ ایران اور امریکہ کے مابین اسی طرح حتمی معاہدہ بھی طے پا جائے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ حتمی معاہدے کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ کچھ لو کچھ دو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا پڑے گا‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایران امریکہ کی تمام تر شرائط تسلیم کرے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایران کے سبھی نکات مان لیے جائیں۔ بہرحال اس دو ہفتے کی جنگ بندی کو خوش آئند مانتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی اور مستقل جنگ بندی ایران امریکہ حتمی معاہدے پر منتج ہو گی۔