اسلام آباد (ٹی این ایس) مذاکرات شروع ہونے کے امکانات اور پاکستانی معیشت پر منفی اثرات ؟

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہونے کےامکانات موجود ہیں، تاہم صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان عالمی امن کے لیے ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے، وہیں طویل دورانیے کی کشیدگی اور سیکیورٹی اقدامات ملکی معیشت کے لیے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔خطے میں جاری کشیدگی اور اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات کے باعث پاکستانی معیشت پر درج ذیل منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں:
کاروباری سرگرمیوں میں تعطل: اسلام آباد میں مذاکرات کے پیش نظر سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے دکانیں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے، جس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور مقامی کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
توانائی کا بحران اور مہنگائی: مشرق وسطیٰ میں تنازع کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے پاکستان کا درآمدی بل بڑھ گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ معیشت پر مہنگائی کا مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
جی ڈی پی گروتھ میں کمی: آئی ایم ایف کے مطابق اس جنگ کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح (GDP Growth) میں 0.6 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ تقریباً 81 فیصد کاروباری اداروں نے علاقائی کشیدگی کے منفی اثرات رپورٹ کیے ہیں۔

صنعتی لاگت میں اضافہ: ایندھن اور توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام آدمی کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی کمی کے باوجود معاشی دباؤ برقرار ہے۔
پاکستان ان مذاکرات کو کامیاب بنا کر نہ صرف عالمی امن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔
دنیا کی نظریں امریکہ ایران پر جمی ہوئی ہیں اورسوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں، ؟
اس کے باوجود مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی میں کوششیں جاری ہیں۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں تیزی آئی ہے، کچھ صنعتوں کی پیداوار لوڈشیڈنگ اور خام مال کی کمی کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی غیر معمولی کوششیں جلد کامیاب ہوں گی اور ان منفی اثرات کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکے گا۔ یہ نتائج انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حالیہ تخمینوں سے مختلف ہیں، جس کے مطابق 2025-26 میں جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات محدود رہیں گے، مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو سات ہفتے ہو چکے ہیں، تاہم پاکستان میں مذاکرات کے آغاز کے بعد جنگ بندی برقرار ہے۔ اس تنازع کے معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں, یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک عالمی سطح پر خام تیل، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کا تقریباً 36 فیصد فراہم کرتے ہیں ، اگر ان ممالک میں کساد بازاری جنم لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف دیگر ممالک سے درآمدات کم ہو سکتی ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات پہلے ہی متعدد حوالوں سے متاثر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف پیداوار سے جڑے انفرااسٹرکچر اور ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر پابندی اور حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر عائد قدغنوں نے ترسیلی نظام کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دیگر اثرات میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کساد بازاری کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی شامل ہے، جبکہ ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات کا اندازہ لگانا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے مارچ 2026 کے لیے قیمتوں کے اشاریے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار ( ایل ایس ایم) اور اشیا کی درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار بروقت جاری کیے ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں، سرکاری مالیات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی محصولات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار بھی مارچ 2026 کے لیے دستیاب ہو چکے ہیں۔ قلیل مدتی تبدیلی کا پہلا نمایاں اشارہ حساس قیمتوں کے اشاریے میں دیکھا جا سکتا ہے، جسے پی بی ایس ہفتہ وار بنیاد پر مانیٹر کرتا ہے۔ اس اشاریے کے مطابق 16 اپریل تک سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر دو ہندسوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ جدول 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ گزشتہ سات ہفتوں کے دوران مہنگائی کی رفتار میں تیزی غیر معمولی رہی ہے، اور یہ وہی عرصہ ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد کا بنتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اس اچانک اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو جدول 2 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ تخمینہ ہے کہ مجموعی مہنگائی میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد حصہ ایندھن کی اشیا کے باعث ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے بھی مہنگائی میں ہمہ گیر اضافے کو ہوا دی ہے۔ حساس قیمتوں کا اشاریہ اپنے نام کے مطابق قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً معتدل رہی، جو فروری 2026 میں 7 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 7.3 فیصد تک پہنچی۔ اس کی ایک بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کم اضافہ رہا۔ مشرقِ وسطیٰ سےپیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں رکاوٹ کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں نمایاں لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار میں تھرمل پاور کا حصہ 61 فیصد سے زائد ہے۔ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ پاور جنریشن کے لیے گیس کی دستیابی میں شدید کمی ہے، جبکہ بظاہر ہائیڈل پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی واپسی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں۔ ملک میں تقریباً 35 فیصد بجلی صنعت اور تجارت کے شعبے استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور یہ اثرات آگے بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔ مارچ کے تجارتی اور بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار بھی اہم رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) اور مائع پٹرولیم گیس ( ایل پی جی ) کی درآمدات میں مارچ کے دوران 48.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کھاد کی درآمدات بھی 33 فیصد تک گر گئیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم امکان ہے کہ گیس کی قلت کے باعث خاص طور پر کھاد کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہو۔ مارچ 2026 کے بیلنس آف پیمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ ترسیلاتِ زر میں کمی آئی۔ یہ مارچ 2025 کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست دبئی سے ترسیلات میں 11 فیصد تک زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا تھا۔ واضح ہے کہ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی معاشی صورتحال اب ترسیلاتِ زر پر اثرانداز ہو رہی ہے، جو پاکستان کو آنے والی مجموعی ترسیلات کا 55 فیصد حصہ ہیں۔ پاکستان میں معاشی سست روی کا ایک اور اشارہ مارچ میں ایف بی آر محصولات کی شرح نمو میں نمایاں کمی ہے، جو گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گئی، جبکہ اس سے قبل دو ہندسوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔ دریں اثنا، گیلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان کے نجی شعبے میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور علاقائی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی بتائی جاتی ہیں۔ گیلپ پاکستان کے17ویں سہ ماہی بزنس کنفیڈنس سروے اپریل 2026 میں کیا گیا جو ملک بھر کے 510 کاروباری اداروں کی آراء پر مبنی ہے، موجودہ کاروباری صورتحال، مستقبل کے امکانات اور ملکی معاشی سمت سے متعلق تمام اہم اشاریے منفی ہیں۔ صرف 41 فیصد کاروباری اداروں نے اپنے موجودہ آپریشنز کو اچھا یا بہت اچھا قرار دیا، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 13فیصد کم ہے جبکہ مجموعی مثبت رحجان میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ سہ ماہی کے مثبت رجحان کے مقابلے میں مایوسی کی عکاسی ہے۔ کاروباری ادارے مستقبل کے بارے میں زیادہ مایوسی کا شکار ہیں اور 57 فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں منفی خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ صرف 43 فیصد نے مستقبل میں حالات کے بہتر ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ مستقبل کے خالص کاروباری اعتماد کا سکور گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہوگیا ہے جو بڑھتی ہوئی غیریقینی صورتحال اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی کی نشاندہی ہے۔ ملک کی مجموعی سمت کے بارے میں کاروباری اداروں کا اعتماد گزشتہ سہ ماہی کے منفی 8 فیصد کے مقابلہ میں بڑھ کر منفی 32 ہوگیا ہے۔ سروے کے مطابق کاروباری جذبات واضح طورپر منفی زون میں داخل ہوچکے ہیں جو معاشی رجحان کے حوالے سے کاروباری طبقے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی ہیں، سٹرکچرل چیلنجز نجی شعبے پربدستور دباؤ ڈال رہے ہیں، 37 فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قراردیا ہے جبکہ 25 فیصد نے ایندھن اور پٹرول کی قیمتوں کو اہم چیلنج بتایا جو بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کا اظہار ہے, توانائی کی عدم دستیابی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اور 57 فیصد کاروباری اداروں نے لوڈشیڈنگ کی شکایت کی، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے، بڑھتی ہوئی لاگت کاروباری اداروں کے لیے سب سے بڑا آپریشنل خطرہ ہے۔ 62 فیصد شرکاء نے مہنگائی اور پیداواری لاگت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے، معاشی نظم و نسق پر اعتماد میں بھی کمی آئی ہے اور 46 فیصد شرکاء نے حکومتی کارکردگی میں خرابی کی نشاندہی کی جبکہ صرف 33 فیصد نے بہتری کی رائے دی، سروے میں علاقائی صورتحال، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات کو بھی ملک کے کاروباری ماحول پر نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ تقریباً 81 فیصد کاروباری اداروں نے اس کے منفی اثرات رپورٹ کیے، جن کی بنیادی وجہ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے، تقریباً 58 فیصد اداروں نے توانائی کے اخراجات میں جبکہ 73 فیصد نے مجموعی لاگت میں اضافہ کی اطلاع دی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے 76 فیصد کاروباری اداروں کا خیال ہے کہ اگرخطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ تین ماہ میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں، رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کاروباری ماحول کو اس وقت داخلی معاشی دباؤ اور علاقائی و جغرافیائی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ اگرچہ بعض شعبے اب بھی ریزیلینس کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم مجموعی رجحان مستقبل قریب میں معیشت کے جمود کے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ گیلپ پاکستان کے مطابق تمام بڑے اشاریوں میں بیک وقت کمی اس بات کی واضح علامت ہے کہ بیرونی لاگت کے دباؤ کے باعث کاروباری طبقے میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار اس وقت انتہائی کلیدی ہو چکا ہے۔ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ عرب اور مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد کا آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے، تاہم نہ تو پاکستانی حکام اور نہ ہی ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اسلام آباد میں ممکنہ ملاقاتوں کی خبروں نے ان مذاکرات کی جلد شروعات کے امکانات روشن کر دیے ہیں, سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور اسلام آباد کو ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی قیادت مسلسل تہران اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ دونوں فریقین کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر لایا جا سکے۔پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ہوا ہے,پاکستان کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل جنگ بندی کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ بات چیت کے لیے سازگار ماحول فراہم ہو سکے۔اگرچہ پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ اور واشنگٹن کی جانب سے دباؤ کی پالیسی اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے “اگلے 36 سے 72 گھنٹوں” کا وقت دیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ پس پردہ سفارت کاری میں پاکستان کی کوششیں کسی منطقی نتیجے کے قریب پہنچ رہی ہیں۔
یہ یاد رکھیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 2026 کی جنگ کے بعد پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہوا۔ ایران نے “دھمکیوں کے سائے” اور امریکی بحری ناکہ بندی کو جواز بنا کر مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے ہچکچاہٹ دکھائی ہے, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کی ہے اور دعویٰ کیا کہ مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ امریکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے ایٹمی پروگرام پر سخت موقف رکھتا ہے پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ خطے میں جنگ بندی کو پائیدار بنایا جا سکے، لیکن ایرانی وفد کی باضابطہ شرکت ابھی تک یقینی نہیں ہے, یہ کہ مذاکرات جلد شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان گہرے اختلافات اور تناؤ کے باعث حتمی تاریخ اور کامیابی غیر یقینی ہے۔ اس دوران ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور ان کے بقول ’وعدوں کی خلاف ورزی‘ امریکہ کے ساتھ ’حقیقی اور جامع مذاکرات‘ کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ مزید کہا کہ ’ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ’دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی اور دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔‘ان کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔ دوسری طر ف امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اُن کی افواج اب تک 29 جہازوں کو روک چکی ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ متعدد تجارتی بحری جہازوں کے ناکہ بندی سے بچ نکلنے کی میڈیا رپورٹس ’درست نہیں‘ ہیں۔ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’دو ایرانی پرچم بردار ٹینکرز ’ہیرو ٹو‘ اور ’ہیڈی‘، جن کا میڈیا میں ذکر کیا گیا تھا کسی بحری قافلے کے حصے کے طور پر ناکہ بندی عبور نہیں کر سکے بلکہ انھیں روکنے کے بعد ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں لنگر انداز کر دیا گیا ہے۔‘ بیان کے مطابق ایک اور جہاز ’ڈورینا‘ نے ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کی کوشش کی جس کے بعد اسے بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی رسائی عالمی سطح تک ہے۔‘ مزید کہا گیا کہ ’امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر بھی کارروائی کرتے ہوئے ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔ دریں اثنا،امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرِ ہند میں ایرانی تیل سے منسلک ایک آئل ٹینکر کو روک کر قبضے میں لے لیا ہے، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ”میجسٹک ایکس“ نامی جہاز کو بھارتی سمندر میں روک کر اس کی تلاشی لی گئی، جس کے بعد امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لیا۔ بیان کے مطابق مذکورہ جہاز ایران سے تیل لے جا رہا تھا اور امریکی پابندیوں کی زد میں تھا, دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں 2 بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کردی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس لیے قبضے میں لیا گیا کیوں کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ دونوں جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ یاد رکھیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے اور اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر داخل یا واپس نہیں ہو سکتا۔ امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ کا بھی حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیانات میں کہا ہے کہ ایران اس وقت قیادت کے تعین اور اندرونی سیاسی صورتِ حال کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر سخت گیر عناصر اور اعتدال پسند گروہ کے درمیان اختلافات جاری ہیں, ان کے مطابق سخت گیر گروہ جنگی محاذ پر نقصان اٹھا رہا ہے جب کہ اعتدال پسند عناصر کو کچھ حد تک پذیرائی مل رہی ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر نہیں سکتا۔ ان کے مطابق یہ راستہ اس وقت تک مکمل طور پر بند رہے گا جب تک ایران کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا۔ پیغام کے آخر میں کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف لے کر آنا ہے۔ اس دوران‘وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ ایرانی قیادت کی جانب سے ایک متفقہ تجویز کا انتظار کر رہا ہے۔ کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر ’تقسیم‘ پائی جاتی ہے۔ اُن کے مطابق جنگ بندی کے دوران بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ جاری ہے جس میں امریکی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے جس نے ایرانی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔ لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔ پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔‘ کہا ’اس وقت تمام اختیارات صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں۔‘ کیرولین لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا وائٹ ہاؤس کو معلوم ہے کہ ایران میں کسی معاہدے کی حتمی منظوری کون دے گا؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس اور ہماری انٹیلی جنس کمیونٹی کو یقیناً اس بارے میں بہتر معلومات ہیں۔‘ تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنھیں انھوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیا۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی ان کی حالیہ پوسٹ کے علاوہ، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں آٹھ سزائے موت روک دی گئی ہیں، بہت کم ردعمل سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں واحد دیگر ’خبر‘ ایک نہایت مختصر اور تاحال غیر واضح سکیورٹی الرٹ تھا، جس کے باعث لان میں موجود صحافیوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔ یہاں موجود رپورٹرز انتظامیہ کے ایران سے متعلق آئندہ اقدامات پر سوالات کی بھرمار کے ساتھ وائٹ ہاؤس پریس آفس سے رابطے میں مصروف رہے یا مختلف حکام کو فون کر کے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں تفصیلات نہ ہونے کے برابر ہیں زیادہ تر نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع پر مبنی ہیں اور اکثر ایک دوسرے سے متضاد بھی ہیں۔