میڈیا پاور سیکٹر کے بارے میں درست اور متوازن معلومات عوام تک پہنچائے: وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری

لاہور (12 مئی 2026) لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (LEI) اور وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اشتراک سے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ”صحافیوں کی پاور سیکٹر کے بنیادی معاملات پر تربیت” کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو پاکستان کے پاور سیکٹر اور اس کے مستقبل کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرنا تھا۔
وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے ورکشاپ سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاور سیکٹر سے متعلق درست، متوازن اور حقائق پر مبنی معلومات عوام تک پہنچانا ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کے بارے میں پائی جانے والی کئی غلط فہمیاں نامکمل اورغلط معلومات کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھوری معلومات پر مبنی تجزیے اور خبریں اصل صورتِ حال کو واضح نہیں کرتیں۔ وزیر توانائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاور سیکٹر سے متعلق شفاف اور مستند معلومات مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیر توانائی نے اہم اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت رواں سال کے دوران ایک کروڑ بجلی صارفین کو ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل میں درآمدی ایندھن پر مبنی نئے آزاد بجلی گھروں (IPPs) کا قیام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات مکمل کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں آئندہ دس سے پندرہ سال کے دوران بجلی صارفین کے لیے تقریباً 3.5 کھرب روپے کی بچت ممکن ہو سکے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی سولر پالیسی سے ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری کے لیے حکومتی حمایت کا اعادہ کیا اور بتایا کہ صنعتی و تجارتی صارفین کو دن کے اوقات میں مزید سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ورکشاپ میں ملک کے نمایاں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا سائنسز کے طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء کو پاکستان کے بجلی کے شعبے کا جامع جائزہ پیش کیا گیا جس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم، ٹیرف کے نظام، سبسڈیز، گردشی قرضہ، شمسی توانائی اور آزاد مارکیٹ اصلاحات شامل تھیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری، وزارت توانائی (پاور ڈویژن) محفوظ بھٹی نے استقبالیہ خطاب میں توانائی کے شعبے کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں باخبر صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے تکنیکی سیشنز میں معروف توانائی ماہرین، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (NGC) اور سینئر ایڈوائزر لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری؛ چیف کارپوریٹ فنانس اینڈ ریگولیٹری افیئرز، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC)، نوید قیصر؛ سسٹم پلاننگ کنسلٹنٹ، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO)، عمر فاروق اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر (مارکیٹ آپریشنز) آئی ایس ایم او عمر ہارون ملک نے شرکت کی۔
ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے زور دیا کہ بجلی کی ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ، توانائی کے مؤثر استعمال سے متعلق اصلاحات پاکستان کے توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کی استعداد میں اضافہ انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ درست، باخبر اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ اور توانائی کے شعبے کے لیے عملی اور مؤثر حل پیش کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے پاکستان کے پاور سسٹم کی استعداد کار، ڈسپیچ نظام، ٹیرف ڈیزائن، سبسڈیز، گردشی قرضے، نیٹ میٹرنگ، ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ، الیکٹریفیکیشن اور مستقبل کی مارکیٹ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
آخر میں پاور ڈویژن کے ایڈوائزر برائے انرجی سید فیضان علی نے ”پاکستان کے پاور سیکٹر کا مستقبل: حکومتی وژن اور سٹریٹجک ترجیحات” کے عنوان سے پریزنٹیشن دی جس میں توانائی شعبے کی کارکردگی، استعداد اور پائیداری بہتر بنانے کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران ایک تفصیلی اور انٹرایکٹو سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکاء نے ماہرین سے براہِ راست سوالات کیے اور پاکستان کے پاور سیکٹر کو درپیش چیلنجز اور مواقع کے بارے میں آگہی حاصل کی۔













