اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکا , ایران تاریخی امن معاہدہ کے پاکستان پراثرات

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکا اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا یا ہے، وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والی باضابطہ دستخطی تقریب کی مشترکہ میزبانی اور نگرانی کریں گے
تاریخی امن معاہدہ کا باضابطہ اعلان پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کیااس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک ریزورٹ (Bürgenstock Resort) میں ہوگی۔ پاکستان نے نہ صرف اس معاہدے میں اہم ثالثی کی بلکہ اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس امن معاہدے سے یمن کے دیرینہ سیاسی بحران کے حل کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ سعودی عرب نے بھی اس کامیابی پر پاکستان اور قطر کی کوششوں کو سراہا ہے
طویل اور انتہائی نازک سفارتی کوششوں کے بعد ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ نے اس جنگ بندی اور امن معاہدے تک پہنچنے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فریقین آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے کے لیے الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے اسے وقت سے پہلے ہی فعال کردیا ہے معاہدے کے بنیادی نکات میں لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوجی آپریشنز اور جنگ بندی کا فوری اور مستقل خاتمہ ہے۔
فروری 2026 سے بندآبنائے ہرمز اہم ترین عالمی بحری گزرگاہ کو اگلے 30 دنوں کے اندر ‘ایرانی انتظام’ کے تحت بغیر کسی ٹول ٹیکس یا فیس کے تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے اور بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری فنڈ فراہم کیا جائے گا, اس کے علاوہ ایران کے منجمد فنڈز کا نصف حصہ فوری طور پر بحال کیا جائے گا, ایرانی تیل اور توانائی کی مصنوعات پر عائد امریکی پابندیاں معطل کی جا رہی ہیں,
امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوج نہیں بڑھائے گا اور نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گ
فرانس میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت تمام رکن ممالک نے اس معاہدے کا متفقہ طور پر خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا خاتمہ ہوگا , امن معاہدے کی خبر عام ہوتے ہی عالمی منڈیوں میں برینٹ کروڈ کی قیمت 3.8 فیصد کمی کے ساتھ 84.02 ڈالر جبکہ امریکی کروڈ 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے,توانائی کے بحران کے خاتمے کی امید پر امریکی اسٹاک مارکیٹ اور نیسڈیک سمیت عالمی منڈیوں میں زبردست اچھال دیکھا گیا اگرچہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے 60 دنوں کے اندر ہونے والے تفصیلی مذاکرات کا اگلا مرحلہ ناکام ہوا، تو امریکہ بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس معاہدے کے باوجود لبنان اور شام میں اپنے فوجی مقاصد جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے اس مستقل جنگ بندی کو سخت چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس امن معاہدے کے باوجود لبنان، شام اور غزہ میں اپنے فوجی مقاصد جاری رکھنے کا واضح اعلان کیا ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی نفوذ کو اپنے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، اس لیے کسی بھی وقت اسرائیلی فضائی حملے اس پورے امن عمل کو سیکنڈوں میں تباہ کر سکتے ہیں۔
معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی کے عمل کے تحت آئندہ چند روز میں متعدد مشاورتی ملاقاتیں ہوں گی، جو تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی سرکاری تقریب کے لیے بنیاد فراہم کریں گی۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
صدر زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمت مستقبل میں ایک جامع اور حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرے گی اور پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔
سیاسی اور سفارتی حلقے اس پیش رفت کو مشرق وسطی کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین سفارتی اقدامات میں شمار کر رہے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ن خبردار کیا ہے کہ اگر تفصیلی اور حتمی مذاکرات ناکام ہوئے، تو امریکہ فوجی بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ امریکی کانگریس میں موجود سخت گیر عناصر اور اسرائیل نواز لابی صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ ایران کو زیادہ معاشی ریلیف نہ دیں، جس سے معاہدے کی پائیداری خطرے میں ہے۔اگرچہ ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، لیکن لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی باغیوں جیسے گروپس کو مکمل طور پر جنگ بندی کا پابند بنانا ایک بڑا چیلنج ہے کسی بھی ایک ذیلی گروپ کی طرف سے کیا گیا راکٹ حملہ یا کارروائی، امریکی یا اسرائیلی ردِعمل کو دعوت دے کر پورے معاہدے کو منسوخ کروا سکتی ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی معاہدے کے باوجود، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا قیام اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس جنگ بندی کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں خلیج کے پانیوں میں امریکی اور ایرانی بحریہ کے جہازوں کا آمنا سامنا رہے گا، جہاں کسی بھی غلط فہمی یا حادثاتی فائرنگ سے دوبارہ بڑی جنگ چھڑنے کا اندیشہ برقرار رہے گا۔اقوامِ متحدہ (UN) کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کی طرف ایک “انتہائی اہم اور تاریخی قدم” قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، عالمی ادارے نے اس پیش رفت کو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا ہےامریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی امن معاہدے کے پاکستانی معیشت پر انتہائی مثبت، گہرے اور فوری اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان چونکہ اس سفارتی معرکے میں “مرکزی ثالث” رہا ہے، اس لیے خطے میں کشیدگی کے خاتمے سے ملکی معیشت کو ایک بڑی جیو پولیٹیکل ریلیف ملی ہے فروری اور اپریل 2026 کے دوران پاک-ایران سرحد اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا تھا، جس سے پاکستان کا ماہانہ تیل کا امپورٹ بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر ہو گیا تھا۔معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی برینٹ کروڈ کی قیمتیں گر کر 84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہیں، جس سے پاکستان کو اپنے سالانہ انرجی امپورٹ بل میں 3.0 سے 3.5 ارب ڈالر کی فوری بچت ہوگی۔ یہ ملکی معاشی استحکام کے لیے ایک “آکسیجن” کی حیثیت رکھتا ہےخطے میں جنگ کا بادل چھٹنے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس (KSE-100) میں زبردست اچھال دیکھا گیا ہے۔ جیو پولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے جو مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح سے 14 فیصد نیچے گر چکی تھی، اب سرمایہ کاروں کے دوبارہ فعال ہونے سے انڈیکس تیزی سے بحال ہو رہا ہے۔تیل کی درآمدی لاگت کم ہونے کی امید سے انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے پر دباؤ فوری طور پر کم ہوا ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہو رہا ہے، جس سے درآمدی خام مال سستا ہوگا اور مقامی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی وزارتِ خزانہ نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کردہ “فیسکل رسک اسٹیٹمنٹ” میں انتباہ کیا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.8 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد تیل کی قیمتیں گرنے سے حکومت پر پیٹرولیم سبسڈی کا دباؤ کم ہوگا اور بجٹ اہداف حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ امریکی پابندیوں میں نرمی کے امکانات کے بعد، “پاک-ایران گیس پائپ لائن” منصوبے پر لٹکتی ہوئی جرمانے کی تلوار اور سفارتی رکاوٹیں دور ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہےحکومت نے گزشتہ ہفتے (13 جون 2026) کو پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے اور ڈیژل میں 2 روپے کی کمی کی تھی۔ تاہم، موجودہ عالمی کریش کے بعد اگلی قیمتوں کا ممکنہ منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے پیٹرولیم مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 10 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈیژل کی قیمت میں 18 ڈالر فی بیرل کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان میں پیٹرول کی مقامی ایکس ریفائنری لاگت 245 روپے سے کم ہو کر 224.99 روپے، اور ڈیژل کی لاگت 304 روپے سے گر کر 268.96 روپے فی لیٹر پر آ گئی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ عالمی مارکیٹ کے کریش کا پورا فائدہ فوری طور پر عوام کو منتقل کیا جائے