اسلام آباد (ٹی این ایس) بلوچستان توجہ کا متقاضی

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکہ ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کی عالمی پذیرائی مملکت خداداد پاکستان کے ازلی دشمن کو ہضم نہیں ہورہی ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اگر داخلی طور پر غیر مستحکم نہ کیا گیا تو اسے بھارت کے مقابلے میںجنوبی ایشیاء میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم اہم اور منفرد حیثیت پر پہنچنے سے نہیں روکا جاسکے گا لہذا وہ اپنی پراکیسیوں کو استعمال کر کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے روایتی سلسلے کو آگے بڑھانے کی مذموم پالیسی پر کاربند ہے بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے سیکورٹی تھنک ٹینک کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 267 واقعات میں سے 92 فیصد خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ہوئے ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کو افغانستان کی جانب سے 5300 سے زائد دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں 1200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے خیبر پختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی جاری کردہ کارگردگی رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے گزشتہ 6 ماہ کے دوران دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 4 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 182 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 504 کو گرفتار کیا گیا گرفتار ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے 14 اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں قابل غور بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بڑی تعداد میں کارروائیوں اور جوانوں کی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کے حالیہ واقعات لمحہ فکریہ ہیں-ملک میں گزشتہ تین سالوں کے دوران دہشت گردی میں جس قدر اضافہ ہوا وہ سب پر عیاں ہے دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان مزید پر تشدد حملوں کے سامنے کھڑا ہے پاکستان کو درپیش سیکورٹی خطرات کا سرحد پار کے حالات سے ہمیشہ بہت گہرا تعلق رہا ہے ماضی میں بھی یہ سرحد کے حالات ہی تھے جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خوفناک صورت حال سے دوچار کیا اور پھر اس سے نکلنے کے لئے ایک طویل جدوجہد کرنا پڑی 2021 کے وسط میں کابل میں آنے والی تبدیلی کے اثرات ایک بار پھر پاکستان کے سیکورٹی منظر نامے کو متاثر کر رہے ہیں چار برس کے دوران افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا ایک برآمد کنندہ بن کر سامنے آیا ہے امریکہ اور نیٹو فورسز کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردوں کے تصرف میں ہے اور علاقائی ممالک کے خلاف استعمال ہورہا ہے جس کی تصدیق عالمی ادارے تواتر کے ساتھ کر رہے ہیں افغان عبوری حکومت کی کمزور عمل داری ناقص گورننس داخلی سطح پر نظریات اور مفادات کی بنیاد پر دھڑے بندی اور دہشت گرد عناصر کو افغانستان میں پنپنے کی سہولتیں دنیا کو اس صورت حال میں درپیش خطرات سے متنبہ کرنے کے لئے کافی ہیں افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے انخلاء کے باوجود بدی کے ثلاثہ کی جاری سر گرمیاں پاکستان کے لئے جن خدشات وخطرات کو جنم دے رہی ہیں ہمیں ان سے ایک لمحہ کے لئے بھی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومیں ہمیشہ عزت و وقار کے ساتھ ہی اپنی آزادی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کر سکتی ہیں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھارت براہ راست ملوث ہے ہم دہشت گردی کی جس آگ میں جھلس رہے ہیں یہ بھارت کی ہی لگائی ہوئی ہے بھارت اس آگ پر مسلسل تیل ڈال رہاہے تاکہ آگ بجھنے نہ پائے دہشت گردی کے حوالے سے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے چیلنجز بڑے ہیں چنانچہ بچاؤ کے اقدامات کو بھی اسی حساب سے بڑا ہونا چاہیے بلوچستان کی موجودہ سنگین صورت حال کی بنیادی ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے جن کے پاس مرکز اور صوبے میں اقتدار آیا تو انہوں نے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے کے گو ناگوں مسائل کے دیرپا حل کے لئے یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کو در خود اعتنا نہیں سمجھا اور ایسے فیصلے اور اقدامات کئے جن سے دلوں میں شکایتیں اور ذہنوں میں بد گمانیاں بڑھتی گئیں نوبت بایں جاسید کہ وہاں کی نوجوان نسل میں مرکز گریز رحجانات پرورش پانے لگے جن کا آج مختلف واقعات کی صورت میں اظہار ہو رہا ہے بلوچستان کو اس وقت علیحدگی پسندی ہی نہیں شدت پسندی کے کئی دوسری عفریتوں کا بھی سامنا ہے عدالت عظمی نے انتہائی درد مندی اور سنجیدگی اور بلوچستان میں خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے معاملات کو سدھارنے کے لئے باقاعدہ پیرا میٹرز متعین کرکے سابق وفاقی اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کو متوجہ کیا اگر سابق حکمران بلوچستان میں امن وامان کے قیام میں مخلص ہوتے تو عدالت عظمی کی فراہم کردہ گائیڈ لائن کی روشنی میں عملی اقدامات بروئے کار لا کر صوبے میں امن وامان کی مثالی فضا استوار کرسکتے تھے مگر انہوں نے اپنی حکمرانی کے تحفظ اور بقاء کی خاطر مصلحتوں اور مفاہمتوں سے کام لے کر امن وامان میں سدھار کے بجائے مزید بگاڑ کی راہ کی جس کے نتیجے میں آج امن وامان کی صورت حال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے بلوچستان سلگ رہا اوراس کی تپش بڑھتی جارہی ہے عدم تحفظ خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث بلوچستان میں صوبائی حکومت کے محدود اختیارات غیر موثر نظر آنے لگے ہیں قومی سلامتی کو درپیش موجودہ بحران شدت کے اعتبار سے انتہائی نوعیت کا ہے اس کا ادراک اور اعتراف کئے بغیر اس سے نمٹنا ممکن نہیں ہو گا ہمیں اس حقیقت کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان کے معاملے میں روز اول ہی سے غیر مساوی رویہ برتا گیا اور اس ریاستی بے اعتنائی نے بلوچستان میں سیاسی بیگانگی اور پسماندگی کو جنم دیا دہشت گردی جس کی ذیلی شاخ ہے صوبے میں سیاسی جوڑ توڑ اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس حکومت سازی نے عوامی جذبات کا استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے باعث عوامی سطح پر سیاسی معاملات سے بیگانگی بڑھی اور اس کا نتیجہ بڑھتی شدت پسندی کی صورت میں نمایاں ہے بلوچستان پاکستان کا معاشی مستقبل ہے گوادر کی بندرگاہ سی پیک کے منصوبے اس کا بڑا ثبوت ہے بلوچستان کے معدنی وسائل پر دشمن کی نظر ہے دشمن بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے یہاں دہشت گردی کا مذموم عمل جاری رکھے ہوئے ہے بلاشبہ سکیورٹی ادارے یہاں امن کے قیام کے لئے دن رات سرگرم ہیں لیکن کیا صرف دہشت گردی کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے اس رجحان سے نمٹنے کے لئے سیاسی اقدامات کون کرے گا ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ناراض بلوچوں میں سب ہتھیار بند نہیں ہیں بہت سے دھڑے سیاسی بندوبست اور مروجہ سیاسی نظام سے نالاں ہیں ان عناصر کے ساتھ کھلے دل کے ساتھ بات چیت اور صوبے کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف امن وامان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ صوبے میں ترقی کے نئے امکانات بھی نمایاں ہوں گے بلوچستان کے حالات ہر محب وطن پاکستانی کے لئے دکھ اور اضطراب کا باعث معدنی وسائل سے مالا مال ملک کا سب سے بڑا صوبہ اگر اسی طرح امن وامان کی خراب صورت حال کا شکار رہا اور مسائل کی آگ میں سلگتا رہا تو اس کی شدت خدانخواستہ مستقبل میں ملک کے دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی بلوچستان میںامن وامان کی خراب صورت حال ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور بلوچ عوام کی مایوسیوں اور محرومیوں میں اضافہ پوری قوم کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے صوبے میں جب تک سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی عمل اور معاشی ترقی یکجا نہیں ہوتے دہشت گردی کے خطرے کو مستقبل بنیاد پر ختم کرنا ممکن نہیں اور مربوط حکمت عملی صرف حملوں کا جواب دینا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں دہشت گرد گروپوں کے لئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا زیادہ مشکل ہو جائے بلوچستان کے مسائل بہت پرانے ہیں اور ان کے حل کے لئے تحریکیں چلتی رہی ہیں لیکن حکومتوں نے ان کی بات سننے کی بجائے انہیں طاقت کے ذریعے ناکام بنانے پر زیادہ توجہ دی بہر حال وقت آگیا ہے کہ ان مسائل کے حوالے سے حقائق کا سامنا کرکے حالات کو درست کیا جائے**