اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان میں جرائم کی دنیا خاموشی سے بدل رہی ہے۔ کبھی تھانے کی ڈائری میں چوری، ڈکیتی اور لڑائی جھگڑے کے چند مقدمات درج ہوا کرتے تھے، مگر آج صورتحال مختلف ہے

 
0
3

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان میں جرائم کی دنیا خاموشی سے بدل رہی ہے۔ کبھی تھانے کی ڈائری میں چوری، ڈکیتی اور لڑائی جھگڑے کے چند مقدمات درج ہوا کرتے تھے، مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب مجرم صرف گلیوں اور بازاروں میں نہیں بلکہ موبائل فون کی سکرین کے پیچھے بھی موجود ہے۔ ایک کلک پر بینک اکاؤنٹ خالی ہو جاتا ہے، ایک جعلی لنک شہری کی عمر بھر کی جمع پونجی ہڑپ کر لیتا ہے، سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ کے نئے طریقے جنم لے رہے ہیں اور منشیات فروش نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے جدید ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

یہ وہ دور ہے جہاں پولیس افسر کو صرف قانون کی کتاب ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی زبان بھی سمجھنا پڑتی ہے۔ امن قائم رکھنا پہلے بھی آسان کام نہیں تھا، مگر جدید جرائم کے اس دور میں یہ ذمہ داری مزید مشکل ہو چکی ہے۔

واہ کینٹ پاکستان کے اہم ترین شہری اور صنعتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں خاندان آباد ہیں، کاروباری سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور شہری زندگی کی رفتار ہر گزرتے دن کے ساتھ تیز ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں امن و امان کا قیام محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ معاشی اور سماجی استحکام کی بنیادی شرط بن جاتا ہے۔

اسی تناظر میں ایس ایچ او واہ آصف خان کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ پولیسنگ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ افسر واردات کے بعد حرکت میں آتا ہے، لیکن کامیاب پولیسنگ دراصل واردات کے بعد نہیں بلکہ واردات سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ مجرم کو موقع نہ دینا، مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنا، کمیونٹی سے رابطہ برقرار رکھنا اور بروقت ردعمل دینا ہی وہ عوامل ہیں جو جرائم کی شرح کم کرتے ہیں۔

آصف خان نے واہ میں اپنی ذمہ داریوں کے دوران یہی کوشش کی کہ پولیس صرف ایک سرکاری ادارہ نہ رہے بلکہ عوام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سہارا بنے۔ کسی بھی علاقے میں شہریوں کا اعتماد پولیس کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ جب لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا محافظ سمجھیں تو جرائم پیشہ عناصر کے لیے جگہ تنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

تاہم کسی بھی کامیابی کو صرف ایک فرد کے نام سے منسوب کرنا حقیقت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ پولیس ایک ادارہ ہے اور ادارے ہمیشہ ٹیم ورک سے مضبوط ہوتے ہیں۔ راولپنڈی ریجن میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیچھے ایک مربوط کمانڈ اسٹرکچر کام کر رہا ہے جس کی قیادت ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی، کر رہے ہیں جبکہ ضلعی سطح پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

بابر سرفراز الپا ان افسران میں شمار ہوتے ہیں جو جدید پولیسنگ کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔ بدلتے ہوئے جرائم کا مقابلہ پرانے طریقوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، جرائم کے اعداد و شمار کا تجزیہ، اشتہاری مجرمان کے خلاف منظم کارروائیاں اور مختلف اضلاع کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے جیسے اقدامات راولپنڈی ریجن کی حکمت عملی کا حصہ بنے۔

دوسری جانب خالد ہمدانی نے شہری پولیسنگ کے تصور کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ عوامی شکایات کے فوری ازالے، کھلی کچہریوں، کمیونٹی پولیسنگ اور جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو کسی بھی شہر میں امن و امان کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔

واہ میں آصف خان کی کارکردگی کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک تھانے کا افسر اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اسے اوپر سے واضح سمت، مکمل اعتماد اور ادارہ جاتی معاونت حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ریجن، ضلع اور تھانے کی سطح پر مربوط حکمت عملی کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔

جدید جرائم کی ایک بڑی شکل منشیات کا پھیلاؤ ہے۔ چند سال پہلے تک منشیات فروشی مخصوص علاقوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، مگر اب یہ مسئلہ تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل تک پہنچ چکا ہے۔ آئس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء کا کاروبار صرف ایک قانونی جرم نہیں بلکہ معاشرتی تباہی کا سبب بھی ہے۔ پولیس کی ذمہ داری صرف منشیات فروش کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ اس پورے نیٹ ورک کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں کے مستقبل کو تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

اسی طرح سائبر کرائم ایک ایسا میدان ہے جہاں مجرم اور متاثرہ شخص اکثر ایک دوسرے سے سینکڑوں میل دور ہوتے ہیں۔ فراڈ کالز، جعلی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ اور آن لائن بلیک میلنگ جیسے جرائم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے ہیں۔ ان جرائم کا مقابلہ صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معلومات، تربیت اور ٹیکنالوجی سے کیا جا سکتا ہے۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امن صرف پولیس کے ذریعے قائم نہیں ہو سکتا۔ معاشرے کا ہر طبقہ اس عمل میں شریک ہوتا ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، تاجر برادری اور سول سوسائٹی سب کا کردار اہم ہے۔ جب معاشرہ خود قانون کی بالادستی کا حامی بن جائے تو جرائم پیشہ عناصر تنہا پڑ جاتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جن علاقوں میں امن قائم ہوا وہاں سرمایہ کاری آئی، کاروبار پھلا پھولا، تعلیمی ادارے مضبوط ہوئے اور لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوا۔ اس کے برعکس جہاں بدامنی نے جڑیں پکڑیں وہاں ترقی کے منصوبے بھی متاثر ہوئے اور عوامی اعتماد بھی کمزور پڑ گیا۔

واہ کینٹ کی ترقی اور استحکام بھی امن کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہاں کے شہری ایک ایسے ماحول کے خواہاں ہیں جہاں ان کے بچے محفوظ ہوں، کاروبار بلا خوف جاری رہ سکے اور قانون کی عملداری ہر فرد کے لیے یکساں ہو۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے پولیس فورس دن رات اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔

آصف خان کی خدمات کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے مقدمات درج ہوئے یا کتنی گرفتاریاں عمل میں آئیں، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری اپنے آپ کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو جائے کہ قانون جاگ رہا ہے تو جرائم کا گراف خود بخود نیچے آنا شروع ہو جاتا ہے۔

راولپنڈی ریجن میں بابر سرفراز الپا کی نگرانی، خالد ہمدانی کی قیادت اور واہ میں آصف خان جیسے افسران کی عملی کاوشیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ امن اتفاق سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل محنت، پیشہ ورانہ دیانت، جدید حکمت عملی اور مضبوط ٹیم ورک درکار ہوتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی دولت اس کے محفوظ شہری ہوتے ہیں۔ جب قانون مضبوط ہو، ادارے متحرک ہوں اور عوام کا اعتماد برقرار رہے تو جرائم کی تاریکی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ واہ میں امن و امان کے لیے جاری کوششیں اسی امید کی علامت ہیں کہ ایک محفوظ، مستحکم اور پُرامن معاشرہ صرف خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت ہے۔