اسلام آباد (ٹی این ایس) سرکاری ملازمتوں میں تبادلے معمول کی بات ہوتے ہیں۔ ایک افسر آتا ہے، چند مہینے یا چند سال گزارتا ہے اور پھر کسی دوسرے ضلع، کسی دوسرے دفتر یا کسی نئی ذمہ داری کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اکثر ایسے تبادلے خاموشی سے ہو جاتے ہیں۔ نہ عوام کو فرق پڑتا ہے، نہ ماتحت عملے کو، نہ ہی کسی کے دل میں کوئی خلا پیدا ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے جانے کے بعد صرف ایک کرسی خالی نہیں ہوتی بلکہ ایک احساس، ایک رویہ اور ایک طرزِ قیادت بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔
لودھراں سے ڈی پی او علی بن طارق کا تبادلہ بھی شاید انہی واقعات میں سے ایک ہے۔
کسی افسر کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے مقدمات درج کیے، کتنے اشتہاری گرفتار کیے یا کتنی پریس ریلیز جاری کیں۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کی موجودگی نے ادارے کو کیا دیا؟ کیا اس نے خوف پیدا کیا یا اعتماد؟ کیا اس نے دفتر چلایا یا نظام کو بہتر بنایا؟ کیا وہ صرف حکم دیتا رہا یا لوگوں کے دلوں میں جگہ بھی بنائی؟
علی بن طارق کے بارے میں لودھراں کے عام شہریوں، تاجروں، صحافیوں اور پولیس اہلکاروں سے بات کریں تو ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے کہ وہ محض ایک انتظامی افسر نہیں تھے بلکہ ایک ایسا چہرہ تھے جو دفتر کی چار دیواری سے باہر بھی نظر آتا تھا۔
ہمارے ہاں پولیس کا ذکر آتے ہی ذہن میں شکایت، خوف اور فاصلے کا تصور ابھرتا ہے۔ عوام اور پولیس کے درمیان ایک دیوار ہمیشہ موجود رہی ہے۔ لوگ تھانے جانے سے گھبراتے ہیں اور پولیس اہلکار عوام کے رویوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی افسر اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کرے تو یہ معمولی بات نہیں ہوتی۔
لودھراں میں علی بن طارق کی تعیناتی کے دوران یہی کوشش نمایاں دکھائی دی۔
انہوں نے پولیسنگ کو صرف جرائم کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی خدمت کے تصور کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ کھلی کچہریاں، عوامی ملاقاتیں، تھانوں کی نگرانی اور ماتحت افسران کی جوابدہی ان کی ترجیحات میں شامل رہیں۔ یہ اقدامات شاید کاغذ پر بہت عام لگتے ہوں لیکن پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
ایک اچھا افسر وہ نہیں ہوتا جو صرف اپنی موجودگی میں نظم و ضبط قائم رکھے بلکہ وہ ہوتا ہے جو ادارے میں ایسا ماحول پیدا کرے جو اس کے جانے کے بعد بھی باقی رہے۔
علی بن طارق کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی تھی کہ انہوں نے اپنے منصب کو اختیار کی نمائش کے بجائے ذمہ داری کے طور پر لیا۔ آج کل سرکاری عہدے بعض اوقات طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ گاڑیوں کے قافلے، پروٹوکول، غیر ضروری فاصلے اور مصنوعی رعب بعض افسران کی پہچان بن جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اپنی پہچان رویے سے بناتے ہیں، عہدے سے نہیں۔
لودھراں میں ان کے دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکثر لوگ کسی بڑی تقریر یا غیر معمولی دعوے کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں یاد کرتے ہیں۔ کسی سائل کی داد رسی، کسی غریب کی درخواست پر فوری کارروائی، کسی اہلکار کی حوصلہ افزائی یا کسی متاثرہ خاندان کی دلجوئی۔ دراصل عوامی یادداشت میں یہی چیزیں زندہ رہتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کوئی بھی افسر معجزے نہیں کر سکتا۔ جرائم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، تنازعات ختم نہیں ہوتے اور نظام کی تمام خامیاں بھی ایک شخص دور نہیں کر سکتا۔ لیکن اچھے افسر اور عام افسر میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ایک مسائل کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے جبکہ دوسرا ان سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
لودھراں کے لوگوں کی گفتگو سے یہی تاثر ملتا ہے کہ علی بن طارق نے کم از کم کوشش ضرور کی۔
پاکستان میں پولیس افسران کے لیے سب سے بڑا امتحان صرف جرائم پیشہ عناصر نہیں ہوتے بلکہ سیاسی دباؤ، انتظامی رکاوٹیں اور محدود وسائل بھی ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں متوازن فیصلہ سازی اور پیشہ ورانہ دیانت ہی کسی افسر کی اصل شناخت بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افسران کے نام فائلوں میں محفوظ رہ جاتے ہیں جبکہ بعض لوگوں کے دلوں میں۔
علی بن طارق کا نام شاید لودھراں میں دوسری فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔
ان کے تبادلے کے بعد سوشل میڈیا پر آنے والے پیغامات، عوامی حلقوں کی آراء اور مختلف طبقات کے تاثرات اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ لوگوں نے انہیں صرف ایک سرکاری افسر کے طور پر نہیں دیکھا۔ وہ انہیں ایک ایسے ذمہ دار شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے اپنے منصب کے تقاضوں کو نبھانے کی کوشش کی۔
سرکاری ملازمتوں کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ کوئی بھی ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہتا۔ آج لودھراں ہے، کل اٹک ہے اور پرسوں شاید کوئی اور ضلع۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ ایک افسر کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑ گیا۔
اگر کسی افسر کے جانے کے بعد لوگ یہ محسوس کریں کہ ایک اچھا انسان، ایک ذمہ دار منتظم اور ایک قابل رسائی افسر ان کے درمیان سے چلا گیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس نے اپنی ملازمت محض انجام نہیں دی بلکہ اس میں ایک مثبت مثال بھی قائم کی ہے۔
علی بن طارق کے تبادلے پر لودھراں کے بہت سے لوگوں کے جذبات کو شاید ایک ہی جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے: ھم آپکو کھبی نھی بھول سکتے
یہ جملہ کسی سرکاری اعزاز سے بڑا ہے، کسی تعریفی سند سے زیادہ قیمتی ہے اور کسی پروٹوکول سے کہیں زیادہ باوقار ہے۔ کیونکہ عہدے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، نام تختیوں سے اتر جاتے ہیں، دفاتر نئے لوگوں سے بھر جاتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں بنائی گئی جگہ آسانی سے خالی نہیں ہوتی۔
اسی لیے کچھ افسر اپنے تبادلوں کے بعد بھی یاد رہتے ہیں۔
اور لودھراں کے بہت سے لوگوں کے نزدیک علی بن طارق انہی افسروں میں سے ایک ہیں۔













