اسلام آباد (ٹی این ایس) کبھی کبھی کسی ضلع کے ایک کمرے میں ہونے والا ایک فیصلہ پورے صوبے کی خواتین کی ترجمانی کرتا ھے ۔ اٹک میں ڈی پی او کیپٹن (ر) علی بن طارق کی جانب سے کھلی کچہری کے دوران میڈیا کوریج کو محدود رکھنے کا فیصلہ بھی میرے نزدیک ایسا ہی ایک اقدام ہے جس پر نہ صرف غور ہونا چاہیے بلکہ اس کے اثرات اور نتائج کا سنجیدہ جائزہ لے کر اسے پورے پنجاب میں نافذ کرنے پر بھی سوچنا چاہیے۔
میں یہ بات ایک صحافی کے طور پر نہیں لکھ رہا بلکہ ایک ایسے شخص کے طور پر لکھ رہا ہوں جس نے برسوں تک پنجاب کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں عوامی مسائل، خواتین کی مشکلات اور سرکاری اداروں تک ان کی رسائی کے مسائل کو قریب سے دیکھا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق پر بہت بات ہوتی ہے۔
خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین بنتے ہیں۔
منصوبے شروع ہوتے ہیں۔
سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔
تقاریر کی جاتی ہیں۔
لیکن ایک بنیادی سوال ہمیشہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
کیا ہم نے عورت کو ایسا ماحول دیا ہے جہاں وہ بلا خوف اپنی بات کہہ سکے؟
میرا تجربہ کہتا ہے کہ آج بھی اس سوال کا جواب مکمل طور پر “ہاں” میں نہیں۔
خاص طور پر دیہی پنجاب میں۔
اٹک جیسے اضلاع میں، جہاں روایات، خاندان اور سماجی وقار آج بھی زندگی کا اہم حصہ ہیں، خواتین کے مسائل محض قانونی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ سماجی اور نفسیاتی پہلو بھی جڑے ہوتے ہیں۔
ایک عورت جب اپنے حق کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو وہ صرف ایک درخواست نہیں اٹھاتی۔
وہ اپنے خاندان کی عزت بھی ساتھ لاتی ہے۔
اپنے بچوں کا مستقبل بھی ساتھ لاتی ہے۔
اپنی زندگی کے راز بھی ساتھ لاتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے وقار کو ساتھ لاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتی ہیں۔
کئی خواتین ہراسانی، گھریلو تشدد، وراثت، جائیداد یا خاندانی تنازعات کے معاملات میں مکمل سچ بیان کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں ان کی گفتگو ریکارڈ نہ ہو جائے، کہیں ان کا نام سوشل میڈیا پر نہ آ جائے یا کہیں ان کا ذاتی مسئلہ عوامی موضوع نہ بن جائے۔
یہ خوف حقیقی ہے۔
اور جو لوگ زمینی حقائق کو جانتے ہیں وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے۔
ایسے ماحول میں اٹک کے ڈی پی او کی جانب سے یہ فیصلہ کرنا کہ خواتین کو کھلی کچہری میں کیمروں کے دباؤ کے بغیر اپنی بات کہنے کا موقع دیا جائے، ایک حساس اور حقیقت پسندانہ اقدام محسوس ہوتا ہے۔
اس فیصلے کو میڈیا کی مخالفت کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔
یہ دراصل شکایت کنندہ کے اعتماد کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی متاثرہ افراد کی رازداری کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک میں خاندانی تنازعات، ہراسانی اور دیگر حساس نوعیت کے معاملات میں متاثرہ فرد کے وقار اور شناخت کے تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
اس کی وجہ سادہ ہے۔
کیونکہ انصاف کا پہلا تقاضا اعتماد ہے۔
اگر متاثرہ شخص خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو انصاف کا پورا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔
اٹک میں اختیار کیا گیا طریقۂ کار اسی اصول کی ایک عملی شکل معلوم ہوتا ہے۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ایک صحافی کے طور پر میں آزاد میڈیا کا حامی ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔ میڈیا جمہوریت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ لیکن میڈیا کی آزادی اور متاثرہ فرد کے وقار کے درمیان توازن قائم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ہر مسئلہ لائیو کوریج کا محتاج نہیں ہوتا۔
ہر فریاد کو کیمرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اور ہر مظلوم کی مدد اس کی ویڈیو بنانے سے نہیں ہوتی۔
بعض اوقات ایک خاموش کمرہ، ایک مطمئن ماحول اور ایک بااعتماد فضا کسی بھی متاثرہ شخص کو زیادہ سچ بولنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
ریاست کی اصل طاقت صرف قوانین، عمارتوں اور دفاتر میں نہیں ہوتی۔
ریاست کی اصل طاقت اس اعتماد میں ہوتی ہے جو عام شہری اس پر کرتا ہے۔
اور خواتین کا اعتماد کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔
اگر ایک خاتون یہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی بھی جائے گی اور اس کی عزت کا تحفظ بھی کیا جائے گا تو وہ یقیناً زیادہ اعتماد کے ساتھ ریاستی اداروں سے رجوع کرے گی۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے میں اس کالم کے ذریعے آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔
مریم نواز صاحبہ!
آپ خواتین کے حقوق، فلاح اور تحفظ کے حوالے سے متعدد اقدامات کر چکی ہیں۔ “ویمن پروٹیکشن”، “ویمن ہیلپ لائن”، “سیف سٹی” اور دیگر منصوبے اسی وژن کا حصہ ہیں۔ لیکن میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کے وقار اور رازداری کو عوامی شکایات کے نظام کا بھی مستقل حصہ بنایا جائے۔
اگر اٹک میں یہ ماڈل مؤثر ثابت ہوتا ہے تو اسے پورے پنجاب میں نافذ کرنے پر غور ہونا چاہیے۔
تمام اضلاع میں کھلی کچہریوں اور عوامی سماعتوں کے لیے ایک ایسا طریقۂ کار وضع کیا جا سکتا ہے جس میں خواتین سے متعلق حساس معاملات کو مکمل احترام، رازداری اور اعتماد کے ساتھ سنا جائے جبکہ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سرکاری معلومات بعد ازاں باقاعدہ طور پر جاری کی جائیں۔
اس سے نہ میڈیا کا کردار متاثر ہوگا اور نہ عوام کے حقِ معلومات پر کوئی قدغن لگے گی۔
البتہ اس سے خواتین کا اعتماد ضرور بڑھے گا۔
اور شاید یہی سب سے اہم بات ہے۔
کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کی سڑکوں، عمارتوں یا منصوبوں سے نہیں ہوتی۔
اس کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں سب سے کمزور فرد خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔
اگر ایک خاتون بغیر خوف کے اپنی بات کہہ سکے، اگر وہ بغیر جھجک انصاف مانگ سکے اور اگر اسے یہ یقین ہو کہ ریاست اس کی فریاد کے ساتھ ساتھ اس کے وقار کی بھی محافظ ہے تو پھر سمجھ لیجیے کہ حکمرانی درست سمت میں جا رہی ہے۔
اٹک میں ڈی پی او کیپٹن (ر) علی بن طارق کا یہ فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ ایک اہم سماجی پیغام ہے۔
یہ پیغام یہ ہے کہ خواتین کو صرف سننا کافی نہیں، انہیں اعتماد بھی دینا ہوگا۔
اور اگر یہ اعتماد اٹک میں پیدا کیا جا سکتا ہے تو پنجاب کی ہر بیٹی کو بھی اس کا حق حاصل ہے۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ڈی پی او اٹک کا یہ فیصلہ واقعی پنجاب کی لاکھوں خواتین کی آواز ہے، اور اس آواز کو پالیسی کی شکل دینا وقت کی ضرورت ہے۔













