احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر فردجرم عائد کرنے کی استدعا 9اکتوبر تک ملتوی کردی،حسن ، حسین نواز ، کیپٹن صفدر کے نا قابل ضمانت، مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، وزیر داخلہ احسن اقبال کا رینجرز سے شدید ناراضگی کا اظہار

 
0
9408

اسلام آباد  اکتوبر 2(ٹی این ایس)احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف پرنیب کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس‘ العزیزیہ سٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق ، فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے تین ریفرنسزپر فردجرم عائد کرنے کی استدعا 9اکتوبر تک ملتوی کردی ہے- سابق وزیر اعظم ایک قافلے کی صورت میں پنجاب ہاﺅس سے احتساب عدالت پہنچے ‘عدالت کے حکم پر رینجرزحکام نے نوازشریف اور ان کے وکلاءکے علاوہ کسی کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی-عدالت کی جانب سے نوازشریف کے بچوں حسن نواز‘حسین نواز‘مریم صفدر اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کے ناقابل وارنٹ جاری کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پیشی پرچاروں ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے ‘عدالت کے روبرووکلاءنے موقف اختیار کیا کہ ریفرنسزمیں شامل باقی ملزمان موجود نہیں لہذا فرد جرم عائد نہیں کی سکتی جس پر عدالت نے سماعت9اکتوبرتک ملتوی کردی-عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مریم صفدر اور کیپٹن صفدر عدالت کے روبروپیش ہونے کو تیار ہیں ‘عدالت نے نوازشریف کی عدالت میں حاضری سے استثنی کی درخواست کو بھی ملتوی کردیا ہے۔

نواز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے وزراءاور پارٹی راہنما بھی احتساب عدالت پہنچے تاہم کسی بھی راہنما کو عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔نواز شریف کے وکیل کی جانب سے انہیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ دینے کے لیے ایک درخواست بھی احتساب عدالت میں دائر کی گئی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کی علالت کے باعث لندن جانا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

عدالت ممکنہ طور پر آج نواز شریف پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔احتساب عدالت میں نواز شریف کی پیشی سے قبل پنجاب ہاﺅس میں مسلم لیگ (ن) کے راہنماﺅں کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جہاں عدالت میں کیس کی پیروی کے حوالے سے لائحہ عمل زیر بحث آیا۔عدالت نے دیگر ملزمان حسن نواز‘حسین نواز اور مریم صفدر اور ان کے شوہر کیپٹن (ر)صفدرکے عدالت میں حاضر نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ نیب کی جانب سے ملزمان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی ہے-نوازشریف احتساب عدالت میں موجود ہیں اور اس وقت سماعت میں وقفہ ہے-دوسری جانب احتساب عدالت کے باہر صحافیوںسے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ انہیں رینجرز کی جانب سے عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جس کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی موجودگی میں عدالتی کارروائی کے دوران تمام انتظامی معاملات طے پا گئے تھے تاہم چیف کمشنر نے انہیں بتایا کہ رینجرز اچانک احتساب عدالت پہنچ گئے۔ عدالت میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے رینجرز سے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے رینجرز کمانڈر کو طلب کیا۔انہوں نے کہا کہ رینجرز وزارت داخلہ کے ماتحت ہے لیکن انہیں احکامات کہیں اور سے آرہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہاکہ وفاقی وزراءکو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرسیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید،راجہ ظفرالحق اور دانیال عزیز کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

صحافیوں کو بھی احتساب عدالت کے دروازے پرروک لیاگیا، جبکہ نیب ٹیم کو بھی عدالت داخلے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس کاموقف ہے کہ رینجرزکی ہدایت پرمیڈیاکوعدالت میں جانےکی اجازت نہیں۔ احتساب کے جج محمد بشیر لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور آف شور کمپنیوں سے متعلق تین نیب ریفرنسز کی سماعت کررہے ہیں۔ نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ان کے بچوں حسن نواز،حسین نواز ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ کوملزم ٹھہرایاگیاہے جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق ، فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں نوازشریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

احتساب عدالت نے ہی گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی جبکہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے مقدمے میں فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستیں 15 ستمبر کو مسترد کر دی تھیں۔