اسلام آباد (ٹی این ایس) شماریات میں پانچ کا ہندسہ سیارہ عطارد کی نمائندگی کرتا ہے اس ہندسہ کے حامل افراد عموماً بہت خوبصورت ہوتے ہیں او ر ان میں کرشماتی چمک ہوتی ہے وہ کافی خوش مزاج ،پرجوش اورخوش مزاح بھی ہو تے ہیں اس وجہ سے لوگ ان کے اردگرد رہنا پسند کرتے ہیں ان افراد میں مثبت فضیلت پائی جاتی ہے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسے افراد ذہین ترین ہوتے ہیں مذکور ہ تفصیلات جاننے کے بعدمیں نے کیپٹن اسفند یار بخاری شہید کی سیرت پر لکھی گئی معرکة الآراءتصنیف ’معرکہ بڈھ بیر کا ہیرو ‘کو رمضان المبارک میں نئے پیرائے سے پڑھنے کی سعاد ت حاصل کی تو حیران کن مماثلت سامنے آئیں شہید کیپٹن اسفند یار بخاری کے نام کے پانچ ہجے ہیں ،آپ کی تاریخ پیدائش 14(1+4=5)اگست ہے جبکہ پی اے نمبر 45140ہے آپ کے والد محترم فیاض کے نام کے پانچ حروف ہیں آرمی پبلک سکول اٹک میں ان کی نرسری کلاس کا رول نمبر1500تھا جبکہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کی ایک تقریب منعقدہ 2005ءمیں اس وقت کے گورنر خالد مقبول نے آپ کو ونگ کمانڈر کا سرٹیفکیٹ عطا ءکیا ،دسمبر2015ءکو کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ہی منعقدہ تقسیم انعامات کی تقریب میں شہید کو میجر جنرل اظہر حسین نے متعدد انعامات سے نوازاتے ہوئے کہا کہ سارے انعامات آپ ہی جیتیں گے ؟
کیپٹن اسفند یار بخاری شہید نے ماسٹر اِن انٹر نیشنل ریلیشن کے امتحان میں شرکت کی جو 12اگست 2015ءکو شروع ہوا اور شہادت سے دو دن قبل 15ستمبر 2015ءکو ختم ہوا۔ اتفاق دیکھئے ان کا رول نمبر13865جبکہ رجسٹریشن نمبرFE2015-30205رہا ،پانچ ستمبر2015ءکو شہید کی اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات ہوئی ،بڈھ بیر پر حملہ کی اطلاع پا کر شہید اپنے کمانڈر کے ساتھ 6بج کر 25منٹ پر موقع پر پہنچے ۔’معرکہ بڈھ بیر کا ہیرو‘ میں شائع ایک تصویر ان کے آخری ڈنر کی تصویر17ستمبر2015ءکی ہے ۔’معرکہ بڈھ بیر کا ہیرو‘ کی پہلی اشاعت 23(2+3=5)مارچ 2017ءکو ہوئی اس یادگار تصنیف کے مصنف اور شہید کے استاد محترم پروفیسر ظہیر قتیل کے درج فون نمبرمیں بھی پانچ کا ہندسہ نمایاں ہے ۔آ پ کی جائے پیدائش کے ضلع اور کیڈٹ کالج حسن ابدال کے کوڈ میں بھی 057ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ یکم جنوری 2015ءکو شہید اسفند یار بخاری 102بریگیڈ میں جی ایس او تھری تعینات ہوئے آپ نے جن پیش رو سے چارج لیا ان کے نام عرفان کے نام کے بھی پانچ ہجے ہیں ۔شہید کو پی ایم اے سے پاسنگ آﺅٹ پریڈ کے موقع پرSWORD(5)عطاءکی گئی شہید کے خاندان کی پانچویں پشت میں سید صاحب نے 1857ءکی جنگ آزادی میں اپنے دستے کی کمانڈ کرتے ہوئے شہادت پائی ،مزید براں بڈھا بیر پشاور کا نواحی قصبہ ہے جسے 1959ءمیں امریکہ کو لیز پر دیا گیا تھا












