اسلام آباد (ٹی این ایس) شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور کے گورنر ہاؤس میں ہوا ہے، جس میں خیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا.
اجلاس میں عسکری قیادت بشمول چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی.
اجلاس کے اہم نکات اور فیصلے درج ذیل ہیں:
* دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ: اجلاس میں وفاقی اور عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک بالخصوص خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں (IBOs) بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی. وزیراعظم نے واضح کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے.
* گورنر راج اور سیکیورٹی چیلنجز: وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران انسدادِ دہشت گردی پر توجہ نہ دینے اور فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے باعث مجبوری میں آئین کے مطابق صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنی پڑی. انہوں نے بتایا کہ سال 2026 میں صوبے کے اندر ہونے والے 73 فیصد حملوں میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا.
* وفاق کی جانب سے بھرپور معاونت: وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس، سی ٹی ڈی (CTD) اور سیف سٹی منصوبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکنہ وسائل اور مالی معاونت فراہم کرے گی.
* صوبائی فلاح و بہبود پر توجہ: اجلاس کے دوران صوبے کے 12 حساس اضلاع میں نافذ ایمرجنسی اور انتظامی امور پر بریفنگ دی گئی، اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ عوام کے بنیادی مسائل جیسے کہ صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے گی.
ملک میں معاشی بحالی اور سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کی وفاقی ایپکس کمیٹی کے حالیہ اجلاسوں میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہے.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے درج ذیل اہم فیصلے اور حکمتِ عملی طے کی گئی ہے:
دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے وفاقی اور عسکری قیادت بشمول چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس ادارے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے.خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے. اس کے تحت:
* سیکیورٹی فورسز کو جدید ترین ہتھیار، گاڑیاں، اور مواصلاتی آلات فراہم کیے جائیں گے.
* سیف سٹی منصوبوں کو مزید فعال بنا کر سیکیورٹی نیٹ ورک کو مضبوط کیا جائے گا.
دہشت گردی کی موجودہ لہر سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو تیز اور زیادہ مؤثر بنایا جا رہا ہے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو وقت سے پہلے ناکام بنایا جا سکے. ایپکس کمیٹی کا ماننا ہے کہ صرف عسکری اقدامات ہی کافی نہیں، بلکہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے متاثرہ اور پسماندہ اضلاع کے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا لازمی ہے. اس لیے تعلیم، صحت، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی اس قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا ہے.خیبر پختونخوا (KP) میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ وفاقی حکومت اور صوبے کے مابین شدید انتظامی اور سیکیورٹی اختلافات کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ ایپکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے اس غیر معمولی اقدام اور اس سے جڑے سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے: وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ “شدید ترین مجبوری” کے تحت لیا گیا۔ وفاق کا الزام ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جان بوجھ کر پیچھے ہٹ رہی تھی اور وفاق کے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں عدم تعاون کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ گورنر راج کے نفاذ سے قبل وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ احتجاجی مارچ منسوخ کرنے اور سیکیورٹی چیلنجز پر مل کر کام کرنے کے لیے 48 گھنٹے طویل مذاکرات کیے، لیکن مستقل دھمکیوں اور لانگ مارچز کی وجہ سے بات چیت ناکام ہو گئی۔ سال 2026 کے دوران صوبے میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا 73 فیصد حصہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنانے پر مشتمل رہا، جس نے صوبائی امن و امان کو شدید خطرے میں ڈالا۔ وفاقی حکام کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں صوبائی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے (جیسے CTD اور سیف سٹی) کو نظرانداز کیا گیا، جس سے عسکریت پسند گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کی جگہ ملی۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں اور افغان مٹی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ صوبے کے انتظامی اور سیکیورٹی امور کو چلانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ ایپکس کمیٹی نے صوبے کے 12 حساس اضلاع (بشمول ضم شدہ اضلاع) میں اضافی فوج تعینات کرنے اور سیکیورٹی کو سخت کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بن کر وفاق کے ساتھ تعمیری بات چیت کرنی چاہیے۔• خیبر پختونخوا پولیس میں گزشتہ دورِ حکومت کی نظراندازی کے باعث خالی رہ جانے والی 5,000 اسامیوں کو ہنگامی بنیادوں پر پُر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔• خیبر پختونخوا پولیس میں گزشتہ دورِ حکومت کی نظراندازی کے باعث خالی رہ جانے والی 5,000 اسامیوں کو ہنگامی بنیادوں پر پُر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ علاقائی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جا سکےضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ علاقائی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جا سکےوفاقی انٹیلی جنس اداروں IB اور ISI اور صوبائی سی ٹی ڈی کے درمیان معلومات کے تبادلے کو تیز ترین بنانے کے لیے ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت (Terror Financing) اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا کو روکنے کے لیے سی ٹی ڈی کے سائبر اور فرانزک ونگز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے وفاق کی مالی و تکنیکی معاونت سے پشاور سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں التوا کا شکار سیف سٹی منصوبوں پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی فیشل ریکگنیشن کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کے کمانڈوز کو پاک فوج کے خصوصی تربیتی مراکز (جیسے کور آف ملٹری پولیس اور اسپیشل سروسز گروپ کے اسکولز) میں جدید گوریلا وارفیئر اور انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے خود نمٹ سکیں۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا (KP) میں سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنے اور فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مجموعی بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا ہے۔ پشاور میں فیڈرل ایپکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی فورسز کی اپ گریڈیشن کے لیے وفاق کی جانب سے ہر ممکنہ بجٹ ترجیحی بنیادوں پر ریلیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سیکیورٹی اقدامات کے لیے مخصوص اور مختص کیے گئے بجٹ کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:وفاقی اور صوبائی تعاون کے تحت صوبے میں انسدادِ دہشت گردی اور امن و امان کے لیے پولیس فنڈز میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے:
* موجودہ بجٹ (2026-27): خیبر پختونخوا پولیس کے لیے ریکارڈ 173.8 ارب روپے (جبکہ بعض توسیعی فنڈز ملا کر یہ مجموعہ 191.4 ارب روپے تک پہنچتا ہے) مختص کیا گیا ہے۔
* بجٹ میں اضافہ: گزشتہ تین سالوں کے تقابل میں پولیس بجٹ میں مجموعی طور پر 41 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
* ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کا مجموعی کوٹہ: صوبائی سیٹلڈ اور ضم شدہ (مرجڈ) اضلاع کے سیکیورٹی بجٹ کو ملا کر ہوم ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ اب 172.7 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔سی ٹی ڈی کو ملک کے جدید ترین اور فعال ترین انٹیلی جنس و انسدادِ دہشت گردی ونگ میں تبدیل کرنے کے لیے خصوصی گرانٹس منظور کی گئی ہیں:سی ٹی ڈی کی گاڑیوں، جدید وائرلیس نظام، اور ہتھیاروں کی خریداری کے لیے 7.77 ارب روپے کی خصوصی منظوری دی گئی ہے۔صوبے کے 24 مختلف اضلاع بشمول پشاور ریجنل ہیڈ کوارٹرز میں سی ٹی ڈی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے 6.44 ارب روپے الگ سے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی ایپکس کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں پولیس نے صوبے کے حساس ترین (جنوبی اور مرجڈ) اضلاع میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 13.87 ارب روپے کے اضافی فنڈز کا فوری مطالبہ پیش کیا ہے۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ ان کاموں پر خرچ ہو رہا ہے: • نائٹ ویژن چشمے، ڈرون سرویلنس سسٹمز، اور تھرمل کیمروں کی تنصیب۔ • پولیس اہلکاروں کے لیے بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمٹس، اور بارود سے محفوظ جدید بی پی (APCs) گاڑیاں خریدنا۔ وفاق کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ سال 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق، خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہونے کی وجہ سے مجموعی صوبائی پول سے اضافی 1 فیصد حصہ مستقل دیا جا رہا ہے۔ اس خصوصی مد میں 2010 سے اب تک خیبر پختونخوا کو 700 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جا چکے ہیں، جن کا بنیادی مقصد صرف اور صرف صوبے کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ڈھانچے کو مضبوط کرنا تھا۔
اس کے علاوہ، ضم شدہ قبائلی اضلاع کی سماجی و معاشی بحالی (جو کہ دہشت گردی کی نرسریوں کو ختم کرنے کے لیے اہم ہے) کے لیے وزیراعظم نے 160 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی پیکیج کا بھی متوازی اعلان کیا ہے۔
پاک فوج کے زیرِ نگرانی خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کو دی جانے والی خصوصی تربیت کا بنیادی مقصد صوبے میں سیکیورٹی فورسز کی جنگی صلاحیتوں کو جدید چیلنجز اور دہشت گردی کے خطرات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ گورنر راج کے تحت وفاق اور پاک فوج کی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت اس تربیتی پروگرام کو ہنگامی بنیادوں پر وسعت دی گئی ہےفوج کے ماہر انسٹرکٹرز کے زیرِ نگرانی، پولیس جوانوں اور ایلیٹ کمانڈوز کو درج ذیل شعبوں میں عملی مشقیں کرائی جا رہی ہیں: لڑائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے پوزیشن تبدیل کرنے اور دشمن پر دباؤ برقرار رکھنے کی کڑی تربیت۔
وفاق کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ سال 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق، خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہونے کی وجہ سے مجموعی صوبائی پول سے اضافی 1 فیصد حصہ مستقل دیا جا رہا ہے۔ اس خصوصی مد میں 2010 سے اب تک خیبر پختونخوا کو 700 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جا چکے ہیں، جن کا بنیادی مقصد صرف اور صرف صوبے کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ڈھانچے کو مضبوط کرنا تھا۔پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا (KP) کے لیے 160 ارب روپے کے تاریخی وفاقی ترقیاتی پیکیج کا متوازی اعلان کیا ہے. اس بھاری فنڈنگ کا بنیادی مقصد صوبے کے پسماندہ علاقوں بالخصوص مرجڈ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں سیکیورٹی، انفراسٹرکچر اور تعلیم کو بہتر بنا کر عسکریت پسندی کی جڑوں کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے













