لاہور (ٹی این ایس) پاکستان کو معاشی بحرانوں سے بچنے کے لیے برآمدات اور نجی سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، اورنگزیب

 
0
3

*لاہور (ٹی این ایس): وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو بار بار کے معاشی بحرانوں سے بچنے کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھپت پر مبنی ترقی کی طرف واپسی ملک کی معاشی بحالی کو چار سے پانچ سال پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں لمز اور امریکن بزنس فورم (اے بی ایف) کے اشتراک سے منعقدہ پالیسی مکالمے ’’استحکام سے ترقی تک: پاکستان کا طویل مدتی اصلاحاتی ایجنڈا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد پائیدار ترقی کے لیے ٹیکس نظام، نجکاری، قرضوں کے انتظام اور ٹیرف پالیسی میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اصلاحاتی عمل کے آغاز پر مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں مالیاتی اور جاری کھاتے کے مجموعی خساروں کی شرح 12.5 فیصد تھی، جو گزشتہ مالی سال کے اختتام تک کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گئی۔ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 0.1 فیصد کے برابر رہا۔

انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بحران کے عروج پر بمشکل دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے، تاہم اب یہ تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات پوری کرنے کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت معیشت میں نجی شعبے کا کردار بڑھانے اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی سلسلے میں تقریباً 40 ارب روپے کے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی ترجیحات طے کرنے میں نجی شعبے کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے تاکہ برآمد کنندگان اپنی ضروریات کے مطابق فیصلے کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مقامی صنعتوں کو طویل عرصے تک تحفظ دینے کے بجائے عالمی منڈیوں میں مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال اور صنعتی پیداوار میں استعمال ہونے والی درمیانی درجے کی اشیا کی درآمدی لاگت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے مقامی کاروباروں کی مسابقت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئی ٹی خدمات کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے کم کی سطح سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر ہو چکی ہیں اور رواں مالی سال میں ان کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ برآمد کنندگان کے لیے 4.5 فیصد شرح سود پر مالی معاونت اور اضافی بجلی 23 روپے فی یونٹ فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

انہوں نے لائیو اسٹاک اور ڈیری کے شعبوں کو زرعی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ زرعی مجموعی پیداوار میں تقریباً 63 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بھی کام کر رہی ہے، جبکہ بجلی کی تقسیم کار تین کمپنیوں کے لیے بولیاں وصول کی جا رہی ہیں۔

سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ صرف شرح تبادلہ میں ردوبدل سے برآمدات میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں، اس کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اشیا کی برآمدات گزشتہ 12 ماہ کے دوران تقریباً 33 سے 34 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ خدمات کی برآمدات گزشتہ پانچ برس میں دگنی ہو چکی ہیں۔

انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ حکومت ایسے طریقے تلاش کرے جن کے ذریعے عوامی وسائل سے معاونت حاصل کرنے والے کاروباروں کی کامیابی سے ریاست کو بھی فائدہ پہنچ سکے، تاہم کاروباری سرگرمیوں میں غیر ضروری مداخلت یا مسابقت سے تحفظ فراہم کرنے سے گریز کیا جائے۔

حبیب گروپ کے وائس چیئر اور جی ایس کے پاکستان کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سلمان برنی نے کہا کہ معاشی دباؤ نے کاروباری اداروں کو توانائی کے مؤثر استعمال اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کی طرف راغب کیا ہے۔ پاکستان کو ان شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جن میں اسے حقیقی مسابقتی برتری حاصل ہے اور عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔

اوران کی بانی اور چیف ایگزیکٹو حلیمہ اقبال نے معیشت میں خواتین کی شمولیت پر گفتگو کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور افرادی قوت میں ان کی شرکت بڑھانا طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پالیسی مکالمے کا آغاز امریکن بزنس فورم کے صدر عثمان خالد وحید نے کیا، جبکہ نظامت لمز کے شعبہ معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر علی حسنائن نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی مسائل کے مستقل حل کے لیے گہری ساختی اصلاحات کرنا ہوں گی اور سالانہ کم از کم سات فیصد معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مکالمے میں پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے پاکستان کو قلیل مدتی معاشی استحکام سے آگے لے جانے، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات جاری رکھنے پر تبادلہ خیال کیا۔