بی جے پی ون مین شو اور ٹو مین آرمی ہے، پتہ نہیں ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ،  یشونت سنہا اور ارون  شوری جیسے سینیئر لیڈروں کوسائیڈ لائن کیوں کردیاگیا، شتروگن سنہا

0
232

نئی دہلی، نومبر 08 (ٹی این ایس): بھارت کی حکمران ہندو فسطائی جماعت بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ  و  فلمی اداکار  شتروگھن سنہا  ایک بار پھر  وزیراعظم  نریندر مودی  اور  پارٹی کے قومی صدر  امیت شاہ  کے خلاف منہ کھول بیٹھے۔  انہوں نے کہا کہ بی جے پی  تب ہی لوگوں کی امیدوں پرپوری اتر سکتی ہے جب  وہ  “ون مین شو” اور “ٹو مین آرمی” کے جال سے باہر نکل جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اس کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ایک نیوز ایجنسی سے  بات چیت کرتے ہوئے شتروگن نے  مزید کہا کہ    مجھے لگتا ہے کہ ہم گجرات  اور ہماچل پردیش   دونوں اسمبلی انتخابات میں  اس وقت انتہائی سخت چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ  نوجواں، کسان  اور تاجر مرکزی حکومت کی پالیسیوں پرشدید ناراضی  کا پہلے ہی اظہار کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات  کے  اعلان سے قبل ہی  بی جے پی حکومت   اس تمام صورتحال سے بخوبی واقف تھی  لیکن  کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

جی جے پی کے سینئر رہنامء اور سابق بھارتی وزیرخزانہ   یشونت سنہا  نے بھی مودی حکومت کی  اقتصادی پالیسیوں کو  ہدف  تنقید بنایا تھا  تو اس وقت بھی  شتروگھن سنہا نے  یشونت سنہا  کی  تنقید کی تائید کی تھی۔  جب ان سے پوچھا گیا کہ  وہ  بی جے پی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں  تو انہوں نے کہا کہ  میں  اسے چھوڑنے کیلئے  پارٹی میں  شامل نہیں ہوا تھا۔

شتروگھن کہتے ہیں کہ  انہیں آج تک  یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ،  یشونت سنہا اور ارون  شوری جیسے سینیئر لیڈروں کی کیا غلطی تھی کہ انہیں  سائیڈ لائن کردیاگیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here