دودھ، انڈوں اور مرغی کے گوشت میں مضر صحت ادویات کے ذرات موجود ہونے کا انکشاف

0
251
About 8,800 laying hens and 1,100 roosters mill around two large checken houses on the Wright poultry farm. The wrights were 2012 recipients of the Poultry Farm Family of the year through the Alabama Poultry Federation.

اسلام آباد ،جنوری31(ٹی این ایس):پاکستان بھر میں فروخت ہونے والے دودھ، انڈوں اور مرغی کے گوشت میں مضر صحت ادویات کے ذرات موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔قومی اسمبلی کی بین الصوبائی رابطے کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے رجسٹرار ڈاکٹر علمدار حسین ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ کسانوں کی جانب سے جانوروں اور مرغیوں کی جلد نشو نما کے لیے ادویات کا استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزن بڑھانے اور جلد بڑا کرنے کے لیے مرغیوں کو اینٹی بائیوٹک و دیگر ادویات کی بھاری مقدار دی جاتی ہے یہ مرغیاں مارکیٹ تک پہنچ رہی ہیں، جس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر علمدار نے بتایا کہ منہ اور پاوئوں کی بیماری اور ادویات کے ذرات باقی رہنے سے پاکستان کے جانوروں کی برآمدات محدود یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل 5 روزہ ادویات کے استعمال کا مشاہدہ نہیں کرتے جس کے باعث ان کے گوشت میں ان ادویات کی باقیات رہ جاتی ہیں۔اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی عبدالقادر خان وادان کی زیر صدارت اجلاس میں رکن سراج محمد خان نے کہا کہ جانوروں کے وزن میں اضافے کے علاوہ قصاب بھی جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد پانی کے انجیکشن لگاتے ہیں۔

اس حوالے سے پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ راولپنڈی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالرحمان نے کہا کہ پنجاب پولٹری فیڈ ایکٹ کے تحت اس معاملے کی سخت نگرانی کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پولٹری فارمز مرغی صارفین کو بیچنے سے 5 روز قبل ادویات دینے کا عمل بند کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اینیمل فیڈ اسٹف اور کمپاو ¿نڈ فیڈ ایکٹ 2016 کے تحت ان افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جو مرغیوں کو زائد مقدار میں ادویات دے رہے تھے اور قانون کے خلاف ان کی جلد نشو نما کررہے تھے۔

اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر عمل کرتے ہوئے 2013 سے زندہ جانوروں کی تجارت اور برآمدات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس کی نسبت مسلم ممالک کو حلال گوشت کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور پاکستان نے 13-2012 کے درمیان 2 کروڑ ڈالر کے زندہ جانوروں کی برآمدات کے مقابلے میں گوشت کی برآمدات سے 21 کروڑ 45 لاکھ ڈالر حاصل کیے۔

ادھر آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ بین القوامی ریسرچ میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جانوروں اور مرغیوں کو کھلائی جانے والی خوراک اور پینے کے پانی میں اینٹی بائیوٹک و دیگر ادویات کی بھاری مقدارموجود ہوتی ہے جو کہ جانوروں اور مرغیوں کے خون اور ڈی این اے میں شامل ہوجاتی ہے -دنیا کے مختلف ممالک میں پولٹری مافیا کے خلاف ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے مگر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں بااثرخاندان اس کاروبار سے منسلک ہیں وہاں کسی قسم کی احتیاط نہیں برتی جاتی-ایک رپورٹ کے مطابق پولٹری انڈسٹری میں مرغیوں کو دی جانے والی خوراک میں مختلف جانوروں کا خون‘آلائیشیں اور ہذیاں شامل ہوتی ہیں جن کا ڈی این اے مرغیوں کے گوشت ‘انڈوں میں رچ بس جاتا ہے ان میں مختلف بیماریوں کے شکار جانوروں کی باقیات بھی شامل ہوتی ہیں جو گوشت کے ذریعے انسانی جسم میں پہنچ کر ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں-دودھ کے حوالے سے بھی اب تک کئی رپورٹس سامنے آچکی ہیں کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دودھ میں مختلف کیمیکل شامل کرتی ہیں اس کے علاوہ مصنوعی طریقے سے وٹامنزاور اضافی کیلشیم بھی شامل کیے جاتے ہیں جوکہ انسانی صحت کے مضر ہیں-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here