ایس ایس پی آپریشن جاوید اقبال  کے زیرِنگرانی ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کا از سرِنو جائزہ لینے کے لیے اجلاس طلب

 
0
548

پشاور،4 مئی (ٹی این ایس): ایس ایس پی آپریشن جاوید اقبال  کے زیرِنگرانی ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کا از سرِنو جائزہ لینے کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ۔ایس ایس پی آپریشن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی انتظامات میں مزید بہتری لانے اور امن و امان بر قراررکھنے کے لیے پشاور پولیس کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزملک سعد شہیدپولیس لائن پشاور میں ایس ایس پی آپریشن جاوید اقبال کی سر براہی میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ایس ایس پی کوآرڈینیشن عبدالرؤف بابر، ایس پی سیکیورٹی صاحبزادہ سجاد،چیف سیکیورٹی آفیسر پشاوریونیورسٹی ، ڈائریکٹر ایڈمن شہید بے نظیر وومن یو نیورسٹی اورڈائریکٹر ایڈمن زرعی یونیورسٹی کے علاوہ ضلع بھر کے تمام سرکاری و نجی یونیورسٹی اور کالج سربراہان و ذمہ داران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ایس ایس پی آپریشن نے شرکاء پر واضح کیا کہ پشاور پولیس گزشتہ ایک دہائی سے دیگرسیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہے ،جس میں پشاور پولیس کو شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برادر ہمسایہ ملک افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر سے پشاور کی سیکیورٹی کو جامع بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کے جدید حکمت عملی کو اپناتے ہوئے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ایس ایس پی آپریشن نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے لئے آسان ٹارگٹ تعلیمی ادارے ہوتے ہیں، APS اور باچا خان یونیورسٹی حادثات اس کی واضح مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر پشاور اور مضافات میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کا انعقاد تسلسل سے کیا جا رہا ہے جس سے انشاء اللہ دہشت گردوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ پاک آرمی کے مختلف آپریشنز اور پولیس کی بروقت کارروائیوں سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے جس کا واضح ثبوت گزشتہ طویل عرصہ میں کسی بھی ناخوشگوار واقع کا وقوع پذیر نہ ہو نا ہے ، ان آپریشنز سے نہ صرف دہشت گردوں کا قلع قمع ہوا بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا گیا ہے مگر اب بھی معاشرے میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کو سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ایس ایس پی آپریشن نے تمام شرکاء کو یقین دلایا کہ تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لئے تمام تر وسائل بروئے کارلائے جائینگے جبکہ تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اندرونی سیکیورٹی کو مضبوط تر بنائیں۔