یونانی حکومت نے لیسبوس اور دیگر جزائر کے حراستی مراکز میں موجود تارکین وطن کو ملک کے دیگر حصوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ

 
0
485

ایتھنز،6مئی(ٹی این ایس): یونانی حکومت نے لیسبوس اور دیگر جزائر کے حراستی مراکز میں موجود تارکین وطن کو ملک کے دیگر حصوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  مہاجرین اور تارکین وطن کو یونانی جزائر سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقلی کا اعلان مہاجرت سے متعلق ملکی وزیر دیمیتریس ویتساس نے لیسبوس جزیرے کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ تارکین وطن کی جزائر سے منتقلی کے فیصلے کا مقصد لیسبوس سمیت دیگر یونانی جزیروں کے حراستی مراکز میں گنجایش سے زیادہ مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد کے باعث کیا گیا ہے۔ ایتھنز حکومت کے مطابق ان جزائر پر قائم ابتدائی رجسٹریشن کے مراکز میں مقیم تارکین وطن اور مہاجرین کی بڑی تعداد کو رواں برس ستمبر کے مہینے تک ایتھنز اور دیگر یونانی شہروں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ آیندہ ان جزیروں پر قائم مراکز میں گنجایش کے مطابق ہی تارکین وطن کو رکھا جائے گا۔ موسم بہتر ہونے کے ساتھ ہی یونانی جزیروں کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث لیسبوس، چیوس اور ساموس جیسے یونانی جزائر پر مہاجرین کی تعداد گنجایش سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ لیسبوس جزیرے پر اس وقت 9ہزار کے قریب تارکین وطن موجود ہیں، جب کہ وہاں قائم موریا کیمپ میں زیادہ سے زیادہ 3ہزار افراد کو رہایش فراہم کرنے کی گنجایش ہے۔ اس بحرانی صورت حال کے سبب جزائر کے مکینوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا۔ دوسری جانب یونانی جزیرے لیسبوس پر ہزاروں مہاجرین نے یورپی یونین کی مہاجرین کی بابت سخت پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا، جو پرتشدد رنگ بھی اختیار کر گیا۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ یورپی یونین کی وہ پالیسی ختم کی جائے، جس کے تحت ان افراد کو یونانی جزیرے پر ہی محدود کر دیا گیا ہے۔

مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس جزیرے پر کسی بھی وقت پُرتشدد مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ روز یونان کے مظاہرین سے نمٹنے والی پولیس نے لیسبوس میں مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔ کچھ مقام پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یہ مظاہرین مہاجرین کے بحران کے تناظر میں مرتب کی جانے والی یورپی پالیسی کے خلاف باہر نکلے تھے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں ان کے آبائی ممالک کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے پولیس کی ایک بس الٹنے کی کوشش کی، جب کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کا استعمال کیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں کوئی ایک گھنٹے تک جاری رہیں، تاہم ان واقعات میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کس شخص کو حراست میں لیا گیا۔ جمعرات کے روز لیسبوس جزیرے پر عام پڑتال تھی۔ ادھر یونان کے مغربی شہر پاتراس میں تارکین وطن کے 2 گروپوں کے درمیان جھگڑے میں ایک 17 سالہ تارک وطن ہلاک جب کہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق یونانی ساحلی شہر پاتراس میں جمعہ کی شب تارکین وطن کے دو گروہوں کے مابین شروع ہونے والا جھگڑا ہفتے کی صبح تک جاری رہا۔ یونانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق تارکین وطن کے گروپوں کے مابین ہفتے کی صبح تک جاری رہنے والے اس شدید تصادم میں درجنوں افراد شامل تھے۔ لڑائی کرنے والے افراد لوہے کی سلاخوں اور خنجروں سے مسلح تھے اور اس دوران انہوں نے ایک دوسرے پر شدید پتھراؤ بھی کیا۔ جھگڑے کا آغاز جمعہ کی شب ہوا اور کئی گھنٹے تک دونوں گروہوں کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار دکھائی دیے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور ایمبولینس گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ گئی تھیں۔ تاہم تب تک درجنوں افراد شدید زخمی ہو چکے تھے۔ یونانی میڈیا نے ہلاک ہونے والے نابالغ تارک وطن کی قومیت اور شناخت کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جھگڑا کن ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے مابین ہوا تھا۔ تاہم میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس علاقے میں مقیم زیادہ تر پناہ کے متلاشی افراد کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے ہے۔ پولیس کے مطابق تارکین وطن کے گروپوں کے مابین جھگڑے کی وجہ بظاہر متروک عمارتوں پر قبضے کے بارے میں پیدا ہونے والا تنازع بنا تھا۔ جھگڑے کے دوران کئی دیگر تارکین وطن بھی شدید زخمی ہوئے، تاہم 17سالہ نوجوان کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔

اس نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ساحلی شہر پاتراس یونان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور حالیہ برسوں کے دوران یہی شہر یونان سے اٹلی جانے کی کوششیں کرنے والے تارکین وطن کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ پاتراس کے ساحلوں سے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں میں چھپ کر اٹلی جانے کی روزانہ اور مسلسل کوششیں کی جاتی ہیں، اور ایسے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے ہوتا ہے۔