ریکوڈیک کا تنازعہ

 
0
149

یہ تنازع پاکستان اور ٹی-سی-سی یعنی تیتھیان کوپر کمپنی (جس میں 50فیصد شئیر کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ اور 50فیصدشیئر چلی کی کمپنی انیٹو فگاسٹا کے ہیں )کے مابین ریکوڈک سونے کی کان کنی کے معاملے پر تھا-
تاریخی پس منظر
ٹی-سی-سی نے 1993 سے 2011 تک ریکوڈیک منصوبے پر فیزیبیلیٹی اور انفراسٹرکچر کی مد میں تقریبا 500 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد نومبر 2011 میں کان کنی کے لائسنس کے لیے درخواست جمع کروائی تو حکومت بلوچستان نے اس منصوبے کو فطرتا استحصالی ہونے کی بنیاد پر لائسنس دینے سے انکا کر دیا۔
کان کنی کا لائسنس نہ ملنے کے بعد ٹی-سی- سی یہ معاملہ انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (ICC) میں لے گیا۔ جبکہ، 2013 میں سپریم کورٹ نے بھی اس سرمایہ کاری پہ اعتراضات کر دیے۔
نتیجتا 2019 میں ICSID نے فیصلہ بیرک گولڈ کے حق میں سنادیا اور حکومت پاکستان پر ٹوٹل 6.5 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جبکہ ICC کی جانب سے بھی حکومت پاکستان کے خلاف 4-3 ارب ڈالر کا جرمانہ آخری مراحل میں تھا۔
تنازعے کا مقدمہ اور افواجِ پاکستان کا کردار
حکومت پاکستان کی درخواست پر اور چیف آف آرمی سٹاف کی خاص انسٹرکشنز پر پاک فوج اور وفاقی حکومتی اہلکاروں پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر 2019 سے 2022 تک بیرک گولڈ اور اینٹو فگاسٹا کے ساتھ کے ساتھ آٹھ مذاکراتی دورے کیے۔
اس کے علاوہ پاک فوج کی ٹیم نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان معاملات کو حل کرنے کے لئے 45 ایپکس کمیٹی کے سیشن کیے۔
ان تمام کاوشوں کے نتیجے میں 2022 میں آخر کار حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان اور بیرک گولڈ کے مابین نیا معاہدہ طے پا گیا اور اس طرح 11 ارب ڈالر کے جرمانے سے پاکستان بچ گیا۔
اس نئے معاہدے پر عمل درآمد سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ درج ذیل ہیں :-
پرانی کمپنی بیرک گولڈ سے معاملات طے ہونے کی وجہ سے نہ صرف 11 ارب ڈالر کی بچت ہوئی بلکہ کسی نئی کمپنی سے فیزیبلٹی اور کانٹریکٹ کرنے میں تین سال اور قریبا 30 کروڑ ڈالر کے اضافی ضیاع سے بھی بچا گیا۔
پرانے معاہدے کی نسبت نئے معاہدے میں بیرونی کمپنی کا پرافٹ شئیر 75 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کردیا اور باقی پچاس فیصد پرافٹ حکومت بلوچستان اور پاکستان کی 3 حکومتی کمپنیوں(OGDCL, PPL, GHPL) کے مابین برابر تقسیم کیا گیا ۔
حکومت پاکستان اور بلوچستان کو 35 سال میں تقریبا 62 ارب ڈالر کا معاشی پرافٹ ملے گا۔
بلوچستان کے لیے خاص طور پر اس معاہدے پر عمل درآمد سے بالواسطہ آٹھ ہزار اور بلاواسطہ 12000 نوکریاں پیدا ہوں گی۔
بیرک گولڈ کی جانب سے سوشل ویلفیئر کے طور پر تقریبا 160 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ جس سے چاغی میں اسپتال، اسکول، سڑکیں اور صاف پانی کے منصوبے لگائے جائیں گے۔
پراجیکٹ میں پاکستانی کمپنیوں کے کام کرنے کی وجہ سے نہ صرف کمپنیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگابلکہ معدنیات کی انڈسٹری کو بھی فروغ ملے گا۔
بیرک گولڈ پاکستان میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی ۔
حکومت بلوچستان کو 2 فیصد کے بجائے 8 فیصد رائلٹی ملے گی جو تقریبا 8.8 ارب ڈالر بنتی ہے۔ نیز رائلٹی کو پراجیکٹ کے شروع ہونے پر بھی دیا جائے گا۔
ریکوڈک پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان کی معشیت میں سالانہ 4-3 ارب ڈالر آئیں گے جو کہ ملکی معشیت کو استحکام مہیا کرے گا۔
اس کامیاب سرمایہ کاری کے بعد بلوچستان میں موجود معدنیات کے خزانوں کی تلاش اور کان کنی کے لیے دیگر غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں جو بلوچستان میں استحصال کو ختم کرنے اور روزگار کی فراہمی اور ترقی کے نئے دروازے کھولنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔