راولپنڈی(ٹی این ایس)مخلوط حکومت کے لیے چیلنجز تیار

 
0
36

(اصغر علی مبارک) پاکستان کی دو بڑی جماعتیں سمجھوتے کےتحت اگلے پانچ سال کے لیے مخلوط حکومت کے لیے تیار ہوگئی ہیں,وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سمجھوتے کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی (ن) لیگ کا ہوگا۔سندھ اور بلوچستان کی گورنر شپ بھی (ن) لیگ کو ملے گی جب کہ پنجاب کا گورنر پیپلز پارٹی سے ہوگا۔ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی جبکہ چیئرمین سینیٹ کے لئے سیاسی جماعتوں میں مزید مشاورت کی جائے گی۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں مل کر حکومت سازی کا اعلان کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف علی زرداری کو صدر مملکت کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔پنجاب میں نئے گورنر کے لیے پیپلزپارٹی کی جانب سے 3 نام سامنے آئے ہیں، پارٹی کی جانب سے مخدوم احمدمحمود، قمرالزمان کائرہ اور ندیم افضل چن کے ناموں پر مشاورت جاری ہے، مخدوم احمد محمودپیپلزپارٹی کی پہلی ترجیح ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کا نیا عہد، نیا دور شروع ہوا ہے ہم خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں واضح اکثریت آئی ہے، بہت بڑی تعداد نوجوان ایم پی اے کی آئی ہے، آپ سب مسلم لیگ کی فیملی کا حصہ ہیں، یہ ایک مشکل الیکشن تھا جس میں نوجوان ایم پی اے منتخب ہونے پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ عوام نے (ن) لیگ کو سب سے بڑی جماعت کے طور پر الیکشن میں کامیاب کیا، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کا اعزاز بہت بڑا ہے، یہ اعزاز ہر بیٹی، ماں، بچی اور مخصوص نشستوں کی خواتین کے نام کرتی ہوں، ہم خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے، واضح اکثریت پر پنجاب کے عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا آج سے نیا عہد، نیا دور شروع ہوگا، ہم سب کو ایک ٹیم بن کر خدمت کے ریکارڈ قائم کرنا ہیں، انتخابی نتائج کے بعد ایک دن آرام نہیں کیا، پنجاب کی ترقی کی بنیاد نواز شریف نے 80 کے عشرے میں رکھی، دوسرے صوبوں سے آنے والے پنجاب میں واضح فرق دیکھتے ہیں اور جہاں کام ہوا ہے وہ نظر آتا ہے۔اسلام آباد میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بلاول نے کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے قائم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کمیٹیوں نے بڑی محنت کے بعد اپنا کام مکمل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اب آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے نمبرز پورے ہو چکے ہیں اور ہم حکومت سازی پر عملدرآمد کریں گے، ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔نئی حکومت میں وزیر اعظم شہباز اور صدر آصف زرداری ہوں گے نئی حکومت کے لیے بہت چیلنجزہوں گے نئی حکومت نے بروقت اصلاحات نہ کیں تو چیلنجزکم نہ ہوں گےنئی حکومت نے مضبوط اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات نہ کیےتو حالات ماضی کی حکومتوں جیسے ہی ہوں گے۔نئی حکومت ایک ایسے وقت میں چارج سنبھالے گی جب ہمارا ملک مختلف بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ اگر پاکستان کو دیگر ممالک سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں اپنے لوگوں کو غربت سے نکالنا ہوگا، اس لیے اصلاحات ضروری ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق معاشی اعتبار سے ہمارے ملک میں افراطِ زر کی شرح 25 فیصد سے زائد ہے، بجٹ خسارہ قومی آمدنی کا 7 فیصد ہے، توانائی کی قیمتیں اور اس کی عدم دستیابی صنعتوں اور صارفین کے لیے اہم مسئلہ ہے، مقامی اور غیرملکی قرضوں کی واپسی کی مہلت بھی ہمارے سر پر تلوار کی مانند لٹک رہی ہے جبکہ ملکی برآمدات کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔عوامی ترقی کے اعتبار سے دیکھیں تو دیگر ترقی پذیر ممالک کی نسبت ہمارے ملک میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح اور خواتین کا فرٹیلیٹی ریٹ انتہائی بلند ہے، 5 سال سے کم عمر 58 فیصد بچے نشونما کی کمی کا شکار ہیں، 26 لاکھ (40 فیصد) بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، ہر سال 80 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے لیے ہمارے پاس نہ اسکول ہیں اور نہ ہی اساتذہ جبکہ سب سے بدتر تو یہ ہے کہ 39 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ گورننس کے اعتبار سے بات کریں تو ہمارا بلدیاتی نظام، جو عوام کی بڑی تعداد کو حکومتی معاملات سے منسلک کرتا ہے اور انہیں سہولیات فراہم کرتا ہے لیکن غیرمؤثر بلدیاتی نظام ہونے کی وجہ سے ہمارے شہری صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔درحقیقت گورننس کے تمام شعبہ جات میں ہی عوام کو سہولیات کی فراہمی کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال ہمارے سرکاری اداروں کو 700 ارب روپے کا خسارہ ہوا، ہمارے پاس ایک ایسی بیوروکریسی ہے جہاں میرٹ موجود نہیں، عدالتوں میں موجود مقدمات دہائیوں سے حل طلب ہیں اور ہماری پولیس خدمات فراہم نہیں کرتی بلکہ انہیں شہریوں پر ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام مسائل کو دیکھتے ہوئے، مندرجہ ذیل وہ اصلاحات ہیں جو نئی حکومت کو کرنی چاہئیں۔ جب تک ہم آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کو قابو میں نہیں کرتے تب تک دیگر اصلاحات کامیاب نہیں ہوں گی۔ ہم منصوبے اور وسائل بنائیں گے لیکن ہر سال 80 لاکھ بچے پیدا ہوں گے تو ہمارے منصوبے کارآمد نہیں رہیں گے۔ اس کے علاوہ اگر آبادی کا 40 فیصد لوگ غریب اور ناخواندہ ہوں تو ایسے ملک کی معیشت کبھی بھی ترقی نہیں کرپائے گی جبکہ ناخواندہ افراد تعلیم اور ہنر سے محروم رہیں گے۔ اس کے بعد ہمیں حکومت کی مالی اعانت سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد تمام وفاقی ٹیکسس کا تقریباً 63 فیصد صوبوں (آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور سابقہ فاٹا بھی شامل ہیں) کو ملتا، اس سے صوبوں کو بہت سی رقم ملی لیکن وفاق کے پاس اتنی دولت نہیں تھی کہ وہ سود کی ادائیگیاں کرسکتا۔ اگلے این ایف سی ایوارڈ یعنی پانچ برس میں وفاق کا حصہ 55 فیصد تک بڑھانا چاہیے اور صوبوں، اضلاع اور ڈویژن سے بھی کہا جائے کہ وہ اپنی ٹیکس وصولی خود کریں۔ یہ خیال کہ ایک حکومت ٹیکس جمع کرتی ہے اور دوسری حکومت اسے خرچ کرتی ہے، اس سے مالی بے ضابطگی ہوتی ہے۔ ذمہ دار وفاق کو صرف خرچ کرنے کا اختیار ہی نہیں بلکہ ٹیکس کی ذمہ داری بھی صوبوں تک منتقل کرنی چاہیے۔ مزید اصلاحات میں آئینی اعتبار سے مقامی حکومت کو بااختیار بنانا بھی شامل ہے اور اس حد تک بااختیار کہ صوبائی انتظامیہ اسے کمزور نہ کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم اور صحت کو ضلع یا شہر کی سطح پر جبکہ پولیس اور انفرااسٹرکچر کو ڈویژن اور شہری سطح پر منتقل کیا جانا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ منتخب کردہ تحصیل، ضلع، شہر اور ڈویژن کے ناظم کو اس وقت تک اپنے عہدے سے نہیں ہٹانا چاہیے جب تک ان کی جگہ کوئی اور منتخب نہ ہوجائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان اداروں کو پہلے سے طے شدہ فارمولے پر براہِ راست وفاقی تقسیم شدہ پول سے فنڈز دیے جائیں تاکہ انہیں صرف صوبائی انتظامیہ پر انحصار کرنے کی ضرورت نہ ہو۔
حکومت کا نجی شعبے کو اختیارات کی منتقلی بھی ایجنڈا میں شامل ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب تمام سرکاری اداروں کی نجکاری اور مضبوط ضابطے بنانا ہے۔ یہ عمل سب سے پہلے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز سے شروع کرنا ہوگا جوکہ پہلے ہی ایجنڈے میں شامل ہیں لیکن اس فہرست میں تمام توانائی، گیس کے پیداواری و تقسیم کار اور تیل کی پیداواری اور تقسیم کے اداروں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ فوری نجکاری کی اجازت دینے کے لیے قانون میں ضروری تبدیلیاں کی جانی چاہئیں فی الحال اسے مکمل کرنے کے لیے کم از کم 460 دن درکار ہیں ۔ بجلی اور گیس کے تقسیم کار کمپنیز کو اپنے کُل اثاثوں پر منافع کی اجازت ہے جبکہ نجکاری کے بعد اس فارمولے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نجکاری کے بعد ان کمپنیز کی قیمتوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انہیں کتنا منافع لینے کی اجازت ہے۔ حکومت کو احتیاط سے نیا فارمولا سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ اضافی منافع کو تقسیم کیا جاسکے، بلوں کی وصولی میں بہتری کے بعد اور ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصان کا تخمینہ بھی نجکاری کے بعد، صارفین اور کمپنیز کے درمیان طے ہونا چاہیے۔ اس نجکاری کا حتمی مقصد بجلی اور گیس کے لیے ہول سیل مارکیٹ کا قیام اور صارفین کے لیے قیمتوں میں خاطر خواہ کمی اور خدمات میں بہتری ہونا چاہیے۔ سرکاری اداروں کی نجکاری کے علاوہ بھی دیگر راستوں سے ہمیں حکومتی دائرہ اختیار کو محدود کرنا ہوگا۔ وزارتوں اور ڈویژن میں کمی بالخصوص 18ویں ترمیم کے بعد جن علاقوں میں اقتدار منتقل ہوا وہاں کچھ اختیارات نجی شعبے کے سپرد کرنا ہوں گے۔ وزارتِ تعلیم کو مقامی اختیارات میں دے کر پورے ملک میں قومی نصاب کے معیارات نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پسندیدہ اصلاح غریب بچوں کو نجی اسکولز میں تعلیم دلوانے کے لیے واؤچر فراہم کرنا ہے۔ سندھ اور پنجاب نے اس حوالے سے کامیاب پائلٹ پروگرامز بھی شروع کیے ہیں اور اب ان پروگرامز کو ملک بھر کے غریب بچوں تک رسائی دینی چاہیے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ختم کردینا چاہیے اور نجی سیکٹر کو اجناس کی برآمدات کرنے کی ذمہ داری دے دینی چاہیے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے لوگوں کی فوڈ سیکیورٹی کا کام ذمہ دارانہ طریقے سے کرتے ہیں لیکن اس کام میں کوئی بھی سرکاری کمپنی براہ راست تجارت اور درآمدات میں ان کا ساتھ نہیں دیتی۔ حکومت کی جانب سے گندم اور کھاد کا اسٹریٹجک ذخیرہ بنایا جاتا ہے۔ اگر حکومت نجی شعبے پر انحصار کرتی ہے تو اقتصادی طور پر وہ گندم اور کھاد کی زیادہ خریداری اور ذخیرہ کر سکے گی۔

پاکستان کی سخت معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ترقیاتی پروگرامز ختم کرنا ہوں گے۔ بچنے والی رقم شاید بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام یا صوبے کے ماتحت چلنے والے پروگرامز کے ذریعے تقسیم کردینی چاہیے اور ان پروگرامز کو جی ڈی پی کے ایک فیصد تک بڑھانا چاہیے۔طویل المدتی اقتصادی ترقی کے لیے شاید قانونی اصلاحات سے زیادہ اہم کچھ نہیں ہے کیونکہ ان کے نتیجے میں عدالتوں کی طرف سے بروقت اور متوقع فیصلے ہوں گے۔ اس سے حکومت کی زیادتیوں کو روکا جائے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت ملے گی اور اشرافیہ کے مفادات کو عدالتی مقدمات کو اپنے فائدے کے لیے طول دینے سے منع کیا جائے گا۔گورننس کا نظام بہتر بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ بیوروکریٹس کی اہلیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس حوالے سے عوامی خدمت کے شعبے میں اصلاحات لانی چاہئیں جن میں اسپیشلائزیشن، میرٹ پر ترقی اور ایسے عہدیداران کی ریٹائرمنٹ شامل ہونی چاہیے جو معیارات پر پورا نہ اترتے ہوں۔