اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیر اعظم پاکستان,معاشی استحکام پرمطمئن,دنیا صلاحیتوں کی معترف

 
0
35

اسلام آباد (ٹی این ایس)  مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے. معاشی میدان میں سال 2025ء پاکستان کے لیے ایک معجزاتی بحالی کا سال رہا، جب دنیا بھر کی معیشتیں دباؤ کا شکار تھیں اور پاکستان نے اپنے معاشی اشاریوں میں وہ بہتری دکھائی جس کا اعتراف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں نے بھی کیا۔وزیراعظم شہباز شریف
کا کہنا ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں، قومی ایئرلائن کی نجکاری انتہائی اہم سنگِ میل ہے، عزم کیا تھا خسارے کے شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نج کاری کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے وژن کا اہم حصہ ہے، ہم ملک کو ڈیفالٹ سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں۔ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر سےحالیہ ملاقاتوں کو مفید قرار دیا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا۔سعودی ولی عہد سے گفتگو میں معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

یاد رکھیں کہ ملک کی معیشت کو2025 میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا, آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، اور داخلی معاشی پالیسیاں اس کے کچھ اہم پہلو ہیں, 2025ء میں پاکستان نے افراطِ زر کی شرح کو ریکارڈ حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی جب کہ 2023ء میں یہ شرح 38 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس کمی نے عام شہریوں کے لیے اشیائے ضرورت تک رسائی آسان بنائی۔ اسی طرح پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ 2010ء کے بعد ملک کی بلند ترین شرح نمو ہے۔ دریں اثنا اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دسمبر 2025ء میں اپنی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کو کم کر کے 10.5 فیصد کر دیا تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان کے معاشی استحکام کے پیچھے سب سے بڑا محرک ایس آئی ایف سی کا فعال ہونا تھا، جس نے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کر کے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کے تحت 2025ء میں درج ذیل اہم منصوبے مکمل یا شروع کیے گئے: گرین پاکستان انیشیٹو میں زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا تعارف اور بڑے پیمانے پر زمینوں کی الاٹمنٹ، جس سے گوشت اور پھلوں کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ بلوچستان اور خوشاب میں نمک اور سوڈا ایش کی پیداوار کے لیے بین الاقوامی معاہدے، بشمول امریکی کمپنی کے ساتھ گلابی نمک کا جوائنٹ وینچر. اسلام آباد میں پہلے آئی ٹی پارک کا قیام اور گوگل کروم بک اسمبلی لائن کا پاکستان میں آغاز۔ سرمایہ کاروں کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر ویزا جاری کرنے کی پالیسی سے کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ۔ عالمی بینک نے دسمبر 2025ء میں پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر کے فنڈز کی منظوری دی، جو ملک کے مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ یادرہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیاہے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 10روپے 28 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 253 روپے17 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ ڈیزل کی نئی قمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔سال 2026کے کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور 100 انڈیکس ایک لاکھ 79 ہزار عبور کر گیاایک موقع پر 100 انڈیکس کو 2661 پوائنٹس اضافے سے 179016 پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا اور پہلے سیشن کے اختتام پر انڈیکس ایک لاکھ 78 ہزار 504 پوائنٹس پر معطل ہوا اور بازار میں 57 کروڑ شیئرز کے سودے 32 ارب روپے میں طے ہوئے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پی ایس ایکس 100 انڈیکس 2300 پوائنتص کے اضافے کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 355 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔اس کے علاوہ معاشی بحران کا دورختم ہوگیا ہے، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.71 فیصد رہی ہے، حکومت گروتھ کے لیے برآمدات بڑھانے پرکام کر رہی ہے، سماجی شعبے کے اعشاریوں میں بہتری آئی ہے۔پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں بہتری اور پالیسی استحکام کی امریکی جریدے بلوم برگ نے تصدیق کر دی ہے جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیمتوں کا استحکام اور معاشی نظم ونسق بہتر ہو رہا ہے۔ دسمبر میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا جو توقعات اور نومبر کے 6.1 فیصد سے کم ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں دباؤ کم ہوا ہےاور غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا۔ خوراک کی بہتر دستیابی سے مارکیٹ میں استحکام آیا ہےاور عوامی ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر کیا۔ شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی سے قیمتوں کے دباؤ کے قابلِ کنٹرول ہونےکا واضح اشارہ ملا ہے۔ بلوم برگ کے مطابق کم شرحِ سود سے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونےکی امید بڑھی ہے۔ قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل دیا اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی ہے۔ کم مہنگائی سے قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کےلیے ریلیف کے امکانات بڑھے ہیں۔ دسمبر کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوا کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئےہیں۔ پاکستان نے گزشتہ 5 سال میں بڑے معاشی بحرانوں کا سامنا کیا، سب سے پہلا بحران 2018 کی تبدیلی کا تھا، تبدیلی سے درآمدات کا بحران آیا، ملک نے میکرو اکنامک بنیاد کھو دی، ان بحرانوں سے ملک کا غریب اور متوسط طبقہ بہت متاثر ہوا۔ پاکستان کو ڈیٹا کی بنیاد پر چلایا جائےگا، ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی گئی، زراعت شماری بھی ڈیجیٹل طریقہ کار پر ہوئی، مستند ڈیٹا کی بنیاد پربہترمنصوبہ بندی کی جاسکتی ہے پاکستان کو ڈیٹا کی بنیاد پر چلایا جائےگا، ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی گئی، زراعت شماری بھی ڈیجیٹل طریقہ کار پر ہوئی، مستند ڈیٹا کی بنیاد پربہترمنصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔یاد رکھیں کہ وزارت اقتصادی امور کے اعلامیے کے مطابق 330 ملین ڈالر مالیت کے سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن منصوبے پر دستخط ہوئے۔ ترجمان اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی ٹرانسفارمیشن پروگرام پر دستخط ہوئے جس کی مالیت400 ملین ڈالرہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہناہے کہ بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ بلیو اکانومی پر منعقدہ اجلاس سے خطاب میں وفاقی وزیرنے کہا کہ ہزار کلو میٹر ساحل اور وسیع سمندری حدود کے باوجود مکمل صلاحیت استعمال نہیں ہوسکی , گوادر اور کراچی پورٹس کو سینٹرل ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کےلیے ترقی دی جارہی ہے، صرف ماہی گیری نہیں بلکہ پروسیسنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر بھی توجہ ضروری ہے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دیگر ممالک نے اپنے سمندری وسائل کے استعمال سے بلیو اکانومی کو معاشی ترقی کا اہم ستون بنایا ہے، بلوچستان کے سمندری علاقے ملک کی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزارت منصوبہ بندی نے میری ٹائم شعبے کے منصوبوں کےلیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا، گوادر کو طویل المدتی معاشی پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ فشریز اور ایکوا کلچرمیں ویلیو ایڈیشن ملکی معیشت کو فروغ دے گا، سیاحت کے شعبے میں بلیو اکانومی کے امکانات پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی میں بلیو اکانومی کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، تمام میری ٹائم پروجیکٹس کے لیے مربوط اور مرکوز حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ اڑان پاکستان کے تحت بلیو اکانومی کو قومی ترقی کا اسٹریٹجک ستون بنایا گیا ہے۔یاد رکھیں کہ عالمی بینک نے اکتوبر 2025 کے لیے پاکستان کی معاشی صورتِ حال پر گذشتہ روز ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں مالی سال 2025 کے دوران حاصل کردہ معاشی استحکام کو تسلیم کیا گیا , کہا گیا ہے کہ اس دوران ملک کو ریکارڈ مقدار میں ترسیلات زر حاصل ہوئیں، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، افراطِ زر میں تیزی سے کمی آئی، تاہم طویل مدتی خوشحالی کے لیے ملک کو اپنی برآمدی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے سخت ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنی ہوں گی۔ سیلاب کے بعد معاشی دباؤ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کے 60 ارب روپے کے دعوؤں کے برعکس پاکستانی برآمدات میں 13 ارب 79 کروڑ ڈالر کمی کا تخمینہ لگایا ہے۔سپلائی چین میں سیلاب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور خوراک کی فراہمی کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ اضافہ استحکام کی سابقہ ​​کامیابیوں کو الٹ سکتا ہے، جب مہنگائی مالی سال 2025 میں تیزی سے کم ہو کر 4.5 فیصد ہو گئی ہے جو پچھلے سال 23.4 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔اس دوران ترقی کی رفتار بھی سست رہے گی۔ مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.0 فیصد پر رہنے کا تخمینہ ہے، جس کی بڑی وجہ زرعی پیداوار میں خلل ہے۔ کپاس، چاول، گنا اور مکئی جیسی اہم فصلوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے دیہی آمدنی اور صنعتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ غربت کی شرح مالی سال 2026 میں معمولی کمی کے بعد 21.5 فیصد رہے گی۔ سیلاب سے متعلق امدادی اور تعمیر نو کی ضروریات کے سبب مالیاتی خسارہ بھی مالیاتی سال 2026 میں 5.4 فیصد کی بلند سطح پر رہ سکتا ہے۔ عالمی بینک نے مالی سال 2025 میں پاکستان کی جانب سے حاصل کیے گئے ’قابل ذکر معاشی استحکام‘ کو سراہا ہے: مضبوط ریونیو کی وصولی کے باعث پرائمری مالیاتی سرپلس 2.4 فیصد کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا۔ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافے اور مستحکم شرح مبادلہ کے نتیجے میں ملک نے 0.5 فیصد جی ڈی پی کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا، جو دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
غربت میں تیزی سے کمی: بڑھتی ہوئی تعمیرات اور لاجسٹکس سیکٹر اور خوراک کی مہنگائی میں تیزی سے کمی کی وجہ سے غربت کی شرح مالی سال 2025 میں25.3 فیصد سے کم ہو کر 22.2 فیصد پر آ گئی۔ پاکستان کو بار بار آنے والے ’بوم بسٹ سائیکل‘ سے نکلنے کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانا ضروری ہے۔ اندازے کے مطابق پاکستان میں برآمدات کی 60 ارب ڈالر کے قریب غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے ملک کو اپنی برآمدی جی ڈی پی کی حصہ داری کو دوگنا کرنا ہو گا۔ حکومت نے مالی سال 2026 کے بجٹ میں پانچ سالہ نیشنل ٹیرف منصوبہ منظور کیا ہے تاکہ سادہ اوسط ٹیرف کو 2030 تک 20.2 فیصد سے کم کر کے 9.7 فیصد تک لایا جا سکے۔ ان اصلاحات کا مقصد برآمد کنندگان کے لیے ان پٹ لاگت کو کم کرنا ہے۔ تاہم برآمد کنندگان کے لیے بجلی کی زیادہ قیمتیں اور حکومت کی جانب سے قرض لینے کی وجہ سے نجی شعبے کے لیے محدود مالیاتی رسائی اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ عالمی بینک نے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کو مکمل طور پر فعال کرنے پر زور دیا ہے۔ حکومت پاکستان نے 2030 تک ملکی برآمدات 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے تاہم آئی ایم ایف نے برآمدات 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے برعکس پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ 2030 تک پاکستانی برآمدات 46 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال پاکستان کی مجموعی برآمدات 36 ارب 46 کروڑ ڈالر تک جائیں گی، مالی سال 2028 میں برآمدات 40 ارب ڈالر اور 2029 میں تقریبا 43 ارب ڈالر رہیں گی۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مجموعی درآمدات میں 2030 تک 18 ارب 70 کروڑ ڈالر اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی درآمدات 64 ارب ڈالر سے زائد رہیں گی جبکہ 2027 میں درآمدات 66 ارب 86 کروڑ اور 2028 میں 72 ارب 90 کروڑ ڈالر رہیں گی۔ 2029 میں 77 ارب ڈالر، 2030 میں درآمدات بڑھ کر 82 ارب 81 کروڑ ڈالر ہو جائیں گی۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے 3 سال میں برآمدات 60 ارب ڈالر تک لیجانے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم بعد میں حکومت نے 3 سال کے ہدف سے پیچھے ہٹتے ہوئے مدت 5 سال مقرر کر دی تھی۔پاکستان کی سب سے زیادہ تجارت افغانستان کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن بارڈر بند ہونے سے پنجاب کو ماہانہ 80 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ صوبے کی سیمنٹ اور زرعی ادویات بنانے والی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی گئیں، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط منقطع ہیں۔ اس صورت حال سے سرحدوں کی دونوں طرف ہزاروں تاجر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں جانب تقریباً 3000 تاجر پھنسے ہوئے ہیں جن میں تقریباً 1200 پاکستانی اور 1800 افغان ہیں۔ ورلڈ بینک کی جانب سے افغانستان کی برآمدات و درآمدات کے حوالے سے ستمبر میں جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی برآمدات میں گذشتہ سال کے چھ مہینوں کے مقابلے میں رواں سال کے ششماہی میں 54 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور پاکستان سامان درآمد کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں مجموعی درآمدات پچھلے سال کے چھ مہینوں کے مقابلے میں 501 ملین ڈالر سے بڑھ کر 548 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ مجموعی برآمدات کی 41 فیصد سے زائد پاکستان کو کی گئیں، جن میں سب سے زیادہ 73 فیصد سے زائد اشیائے خوراک ہیں، جو پاکستان اور انڈیا کو سپلائی کی گئی ہیں۔اسی طرح پاکستان کی جانب سے کوئلے کی درآمد میں بھی 40 فیصد کمی آئی ہے اور یہ گذشتہ ششماہی کے 6.8 ملین ڈالر (تقریباً دو ارب روپے) سے کم ہو کر رواں سال کے چھ مہینوں میں تقریباً ایک ارب تک رہ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کوئلے کی درآمد میں کمی پاکستان کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سستا متبادل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان کی افغانستان سے درآمدات 44 فیصد سے کم ہو کر 41 فیصد تک آگئی ہیں جبکہ انڈیا کی افغانستان سے درآمدات کے حجم میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان کی برآمدات میں اضافے کی تیسری وجہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد پر نرمی ہے، جبکہ گذشتہ مہینوں میں سرحدوں پر پابندیاں عائد تھیں۔ افغانستان کی سب سے زیادہ درآمدات والا ملک ایران ہے جہاں سے 29 فیصد درآمدات ہوئی ہیں، دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات اور تیسرے نمبر پر پاکستان ہے جہاں سے زیادہ درآمدات ہوئی ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ، جو 26 فیصد ہے، روزمرہ استعمال کی اشیا میں ہوا ہے اور رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ ایران اور پاکستان سے لاکھوں پناہ گزینوں کی وطن واپسی ہے۔اس کے علاوہ کئی دہائیوں سے پاکستانی حکام ریکوڈک منصوبے کو ملک کی معاشی بحالی کی حکمتِ عملی کا سنگِ میل قرار دیتے رہے ہیں, ایشیائی ترقیاتی بینک ( اے ڈی بی) نے پاکستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے 41 کروڑ ڈالر پیکیج کی منظوری دے دی ہے,بلوچستان میں مجوزہ اوپن پٹ منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ تانبے اور سونے کے ذخائر کو قابل استعمال بنانے کی کوشش ہے، جس کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے ایشیائی ترقیاتی بینک کے پیکیج میں کینیڈین کمپنی بیریک کو 30 کروڑ ڈالر کا قرض اور مقامی حکومت کے لیے 11 کروڑ ڈالر تک کی رقم کی ضمانت شامل ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے پر ریکوڈک دنیا کی پانچویں سب سے بڑی تانبے کی کان بننے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تانبہ ایک ایسی دھات ہے جو وائرنگ، موٹرز اور قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اے ڈی بی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریکوڈک اہم معدنیات کی سپلائی چین میں مدد دے گا، صاف توانائی کے حصول کی منتقلی کو آگے بڑھائے گا اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دے گا۔ اس پیکج کو پاکستان کے لیے ایک ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’ملک کو زیادہ مضبوط اور متنوع معیشت کی طرف لے جانے میں مدد دے گا ۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومتی اقدامات سے معیشت درست سمت میں جارہی ہے ‘ مہنگائی اور شرح سود میں کمی آئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ بقول اُن کے‘ آئی ایم ایف حیران ہے کہ معیشت کیسے سنبھل گئی۔

 

وزیر خزانہ محمد اورنگریب کا کہنا ہے کہ مہنگائی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔معاشی بہتری کے باعث متعدد قرضوں کی ادائیگی وقت سے پہلے کی۔مالیاتی شفافیت اور درآمدات کا توازن بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے، قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری اہم کامیابی ہے۔ مالی سال کے دوران شرح نمو 4 فیصد سے کہیں زیادہ رہے گی، 2025 میں ہمیں بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود عالمی اداروں سے مدد نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ معاشی اصلاحات کی بدولت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، 2025 میں اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی بھی بہترین رہی۔ وزیر خزانہ کے مطابق ایف بی آر نے دسمبر میں ایک ہزار 427 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جو ماہانہ ہدف کا 99 فیصد بنتا ہے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایف بی آر ٹیم اور فیلڈ فارنیشنز سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے دسمبر 2025 میں حاصل کی گئی ریکارڈ ٹیکس وصولی پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ حکومتی اقدامات ملکی ترقی، روزگار کے مواقع اور معیشت کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم ہیں، مضبوط پالیسی فریم ورک، مالیاتی شفافیت اورمعاشی اصلاحات کی بدولت سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔وزیر خزانہ کے مطابق ایف بی آر نے دسمبر میں 1427 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جو ماہانہ ہدف کا 99 فیصد بنتا ہے۔ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں ٹیکس وصولی میں 59 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ انکم ٹیکس وصولی میں 107 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر میں انکم ٹیکس 402 ارب روپے رہی، جو دسمبر میں بڑھ کر 831 ارب 50 کروڑ روپے ہوگئی۔ سیلز ٹیکس میں 25 فیصد اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان لینڈ ریونیو نے بھی اپنا ہدف 99.8 فیصد حاصل کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور کیش لیس معیشت اور سخت نفاذ سے بہتری آئی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ مزید بڑھانے کی ہدایت کی اور ایف بی آر پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سوشل فنانسنگ فریم ورک پر کام ہو رہا ہے قوموں کی ترقی میں چیلنجز آتے رہتے ہیں، متحد ہو کر ہی چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے، ملکی ترقی کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان کی معیشت ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں میکرو اکنامک استحکام، مسلسل اصلاحات اور پالیسی کے تسلسل سے اعتماد بحال ہوا ہے اور معیشت برآمدات پر مبنی طویل المدتی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہاکہ اس پیش رفت سے ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور پاکستان پائیدار، طویل المدتی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے یہ تبدیلی میکرو اکنامک استحکام، مہنگائی میں کمی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری کے باعث ممکن ہوئی ہے، جبکہ حکومت ساختی اصلاحات کے ذریعے برآمدات پر مبنی اور پیداواری ترقی کو فروغ دے رہی ہے اور زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی مزاحمت جیسے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ کئی برسوں بعد پہلی بار پاکستان نے بیک وقت پرائمری مالیاتی سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے، جو مسلسل خساروں کے چکر سے واضح تبدیلی کی علامت ہے۔ ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر ایک عددی سطح پر آ گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جو قریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ شرحِ مبادلہ میں استحکام نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد دی ہے۔
گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد معاشی ترقی مثبت ضرور تھی، مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ پاکستان شعوری طور پر کھپت اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل سے نکل کر برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق بجٹ اسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ٹیکس نظام، توانائی کی قیمتوں اور سرکاری اداروں میں ساختی اصلاحات شامل ہیں، جبکہ دہائیوں پر محیط تحفظ پسندانہ پالیسیوں کے خاتمے اور عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے جامع ٹیرف اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ہ آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کو اہم شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ طویل المدتی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ ہو۔ وزیرِ خزانہ نے کہاکہ سرکاری اداروں کی نجکاری، ٹیرف لبرلائزیشن اور توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو کا مقصد ان بنیادی خامیوں کا ازالہ ہے جو ماضی میں سرکاری مالیات پر بوجھ بنتی رہی ہیں۔ یہ اصلاحات ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں، جو عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کے ممکنہ ’ایسٹ ایشیا مومنٹ‘ کے تصور سے ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے عالمی بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا، جس میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ماحولیاتی مزاحمت اور آبادی کے نظم و نسق پر زور دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی، بچوں میں نشوونما کی کمی، تعلیمی پسماندگی اور بچیوں کی تعلیم سے محرومی جیسے مسائل کو حل کرنا ناگزیر ہے۔ جبکہ خواتین کی تعلیم اور افرادی قوت میں شمولیت نہ صرف سماجی ضرورت بلکہ معاشی مجبوری بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔