خانیوال (ٹی این ایس) خانیوال کی سڑکوں پر شام کے اندھیرے میں جب شہر کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے، تب بھی ایک نظم و ضبط اور احساس تحفظ کی فضا قائم رہتی ہے۔ یہ فضا محض اتفاق یا وقتی کارروائی کا نتیجہ نہیں، بلکہ مسلسل اور منصوبہ بندی کے تحت قائم کی گئی ہے۔ اس کا سہرا جاتا ہے ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ کے سر، جو خانیوال پولیس کے صدر سرکل کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ان کی قیادت نے شہر کے نظم و قانون کے ڈھانچے میں ایک نئی جان ڈالی ہے اور شہریوں کے لیے ایک قابل اعتماد اور مثبت تاثر قائم کیا ہے۔
ان کی قیادت میں خانیوال میں جرائم کی مجموعی شرح میں تاریخی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ڈکیتی کے کیسز میں تقریباً 72% کمی اور چوری کے کیسز میں تقریباً 55% کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی سماجی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ شہریوں کی رائے کے مطابق، گذشتہ سال کے مقابلے میں اب وہ شام کے وقت بھی محفوظ محسوس کرتے ہیں، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا ہوئی ہے، اور سڑکوں پر نقل و حرکت پر خوف کم ہو گیا ہے۔
ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ کی حکمت عملی صرف واقعے کے بعد کارروائی تک محدود نہیں۔ وہ مسائل کی جڑ تک پہنچتے ہیں اور طویل المدت اثر کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ منشیات فروشوں اور منظم جرائم کے خلاف ان کی کارروائیاں اس کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے مقامی سپلائی چینز کی نشاندہی کی، سہولت کاروں پر دباؤ ڈالا اور بار بار ہدفی آپریشنز کے ذریعے متعدد گروہوں کے لیے سرگرمی کی حدود مقرر کیں۔ اس کے نتیجے میں شہر میں مثبت فضا قائم ہوئی اور شہریوں میں سکون پیدا ہوا۔
ایک قابل ذکر مثال وہ دن ہے جب ایک موبائل اور پرس چھیننے والا ملزم صرف 12 گھنٹوں میں گرفتار کیا گیا۔ مسروقہ اشیاء بھی برآمد کی گئیں اور شہر کے شہریوں کو فوری انصاف کی فضا محسوس ہوئی۔ اس واقعے نے ظاہر کیا کہ بروقت اور مؤثر کارروائی شہریوں کے اعتماد میں کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ ڈی پی او خانیوال نے ٹیم کو اس کامیابی پر خصوصی طور پر سراہا، اور اس کا اثر مجموعی محکمہ جاتی کارکردگی پر بھی مرتب ہوا۔
عوامی سطح پر بھی ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ کا تاثر غیر معمولی ہے۔ شہری انہیں وقار اور شائستگی کے حامل افسر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دفتر آنے والے ہر شہری کی شکایت فوری سنی جاتی ہے اور حل کے لیے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہ چھوٹے مگر معنی خیز اقدامات شہریوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ مقامی بازاروں اور محلے کی خواتین، نوجوان اور بزرگ سب ان کی اس عوامی فراخدلی اور شائستگی کی تعریف کرتے ہیں۔
اندرونی قیادت کے لحاظ سے بھی ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ مثال قائم کرتے ہیں۔ جونیئر افسران کی تربیت اور حوصلہ افزائی میں وہ خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔ پروموشن یا تعریفی مواقع پر ذاتی شرکت سے نہ صرف مورال بلند ہوتا ہے بلکہ کام کے معیار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ایک پروموشن تقریب میں انہوں نے ذاتی طور پر نئے انسپکٹر کو مبارکباد دی اور اپنے تجربات شیئر کیے، جس سے نہ صرف ٹیم کا مورال بلند ہوا بلکہ نئے افسران نے بھی خود کو زیادہ مؤثر اور ذمہ دار محسوس کیا۔
ان کی سروس پروفائل مکمل طور پر کلین اور مستند ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان کے خلاف کوئی منفی رپورٹ یا کرپشن الزامات موجود نہیں۔ شفافیت اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پابندی ان کی قیادت کی اصل بنیاد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شہری اور افسران دونوں ان پر اعتماد کرتے ہیں۔
ان کی قیادت صرف ادارہ جاتی یا عہدے کی حد تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور عوامی اثر میں بھی نمایاں ہے۔ ان کی حکمت عملی اور عملی اقدامات نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی قیادت وہ ہے جو دوسروں کے لیے مثبت تبدیلی، سکون اور استحکام پیدا کرے۔ نظم و ضبط، بروقت فیصلہ سازی، عوامی خدمت اور مؤثر قیادت کے امتزاج نے انہیں خانیوال کے شہریوں کے لیے ایک زندہ مثال بنا دیا ہے۔
خانیوال کے ایک مقامی شہری نے بتایا: “اب ہم شام کو بھی گھر سے نکل سکتے ہیں، کاروبار آسانی سے کر سکتے ہیں اور اپنے بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ سب ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ کی کاوشوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔” یہ ایک عام شہری کی بات ہے لیکن اس میں وہ اعتماد اور سکون جھلکتا ہے جو ان کی قیادت کی بدولت پیدا ہوا ہے۔
کامیابی کے دیگر پہلو بھی کم اہم نہیں۔ 2025 کی سالانہ رپورٹ میں خانیوال پولیس کی مجموعی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھی گئی، اور یہ سیدھی طور پر ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ کی قیادت کا نتیجہ ہے۔ ان کی اسٹیٹجک نگرانی، جدید پولیسنگ ٹیکنیکس اور مقامی سطح پر مؤثر فیصلہ سازی نے یہ ممکن بنایا۔
ان کی کہانی ہر افسر، نوجوان اور شہری کے لیے سبق آموز ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ قیادت صرف طاقت یا اختیار میں نہیں بلکہ مثبت اثر اور عوامی اعتماد پیدا کرنے میں ناپی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حقیقی کامیابی صرف ذاتی یا ادارہ جاتی نہیں بلکہ سماجی بھلائی اور لوگوں کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے میں بھی ناپی جاتی ہے۔
ان کی موجودگی نے خانیوال میں امن و امان کے شعبے میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ یہ معیار صرف جرائم کی کمی یا کارروائیوں کی تعداد پر نہیں بلکہ شہریوں میں پیدا ہونے والے اعتماد، عوامی رضامندی اور سماجی سکون میں بھی واضح ہے۔ وہ ثابت کر چکے ہیں کہ ایک افسر کی بصیرت، حکمت عملی اور عملی لگن سماج کے معیار کو بدل سکتی ہے۔
ان کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ قیادت کی اصل طاقت حکمت عملی، اخلاق، خدمت خلق اور عوام کے اعتماد میں چھپی ہوتی ہے۔ انہوں نے خانیوال میں یہ دکھایا کہ اگر منصوبہ بندی، لگن اور عملی اقدام ساتھ ہوں تو ایک شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے، عوام کے لیے اعتماد پیدا ہو سکتا ہے، اور معاشرتی سکون قائم کیا جا سکتا ہے۔
ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ کی مثال ہر افسر کے لیے مشعل راہ ہے، ہر نوجوان کے لیے سبق آموز ہے، اور ہر شہری کے لیے یقین کی علامت ہے۔ ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ حقیقی کامیابی وہ ہے جو سماجی اثر، انسانی بھلائی اور مثبت تبدیلی کے ذریعے ناپی جاتی ہے۔ نظم و ضبط، عملی بصیرت، عوامی خدمت اور قیادت کا امتزاج انہیں خانیوال کے لیے ایک حقیقی امید اور معیار بناتا ہے۔
اگر آپ چاہیں













