اسلام آباد (ٹی این ایس) میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس کے مسائل پر قومی سطح کا ماہرین کا پینل ڈسکشن منعقد
میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس کے درپیش مسائل پر قومی سطح کے ماہرین پر مشتمل پینل ڈسکشن کا انعقاد میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (MLTAP) کے زیرِ اہتمام پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد میں کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد فیاض چوہدری، چیئرمین ایڈوائزری کمیٹی ایم ایل ٹی، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل پاکستان تھے، جبکہ اجلاس کی صدارت مرکزی صدر MLTAP، جناب محمد علی ملک نے کی۔
اس قومی پینل ڈسکشن میں ملک بھر سے چیئرمین ڈیپارٹمنٹس، پرنسپلز، ڈینز، ڈائریکٹرز، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس، لیبارٹری مینیجرز اور سینئر میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس نے بھرپور شرکت کی۔
خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر MLTAP محمد علی ملک نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس کو نجی پریکٹس کی اجازت دی جائے، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل میں رجسٹریشن کا عمل آسان اور سہل بنایا جائے، اور ایم ایل ٹی گریجویٹس کے لیے لازمی با معاوضہ ہاؤس جاب کا فوری نفاذ کیا جائے۔
ایم ایل ٹی اے پی کے عہدیداران ڈاکٹر رضا محی الدین، ڈاکٹر مبارک زیب، ڈاکٹر عبیداللہ، ڈاکٹر نورالامین اور جناب ظہیر احمد کسوری نے زور دیا کہ پورے پاکستان میں یکساں سروس اسٹرکچر اور یکساں نصاب نافذ کیا جانا چاہیے۔
مزید برآں، پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف ندیم ثاقب (چیئرمین MLT، نیشنل اسکلز یونیورسٹی)، پروفیسر جمیل اختر (پرنسپل، کالج آف میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد)، ڈاکٹر ہمایوں ستی (ایسوسی ایٹ پروفیسر، NUMS)، ڈاکٹر عمار (HOD، اقراء یونیورسٹی) اور ڈاکٹر نذیر احمد (سینئر ٹیکنالوجسٹ، سی ڈی اے ہسپتال) نے ایم ایل ٹی طلبہ کے لیے ابتدائی رجسٹریشن کے عمل اور ہاؤس جاب کے واضح لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد فیاض چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس کے تمام مسائل حقیقی اور جائز ہیں، اور وہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل کے ساتھ مل کر ہم آہنگی کے ذریعے ان کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے قومی سطح پر اس اہم پینل ڈسکشن کے انعقاد پر MLTAP کی کوششوں کو سراہا۔
اس قومی تقریب میں ساٹھ سے زائد ماہرین نے شرکت کی اور پینل کے سامنے اپنے سوالات اور تجاویز پیش کیں۔ اختتام پر تمام اہم نکات، مسائل اور ان کے ممکنہ حل کو مرتب کیا گیا، اظہارِ تشکر کیا گیا اور پینلسٹس و شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔













