اسلام آباد (ٹی این ایس) اسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ، پاکستان کی مذمت

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس)  اسرائیل نے فلسطینیوں پر ایک اور ظلم کرتےہوے ، زمینیں چھیننے کیلیے قانون سازی کی ہےپاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی اس کوشش کی شدید مذمت کرتا ہےپاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے تازہ اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی متنازع تجویز منظور کی ہےاس متنازع تجویز کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی وسیع اراضی کو ریاستی ملکیت میں رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو 1967کی جنگ کے بعد پہلی بار اسرائیل کا بڑے پیمانے پر زمینوں کی رجسٹریشن شروع کرنے کا اعلان ہے۔اقدام کا مقصد فلسطینیوں کی زمینیں چھین کر غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کیلئے قانونی راستہ ہموار کرنا ہےاسرائیلی کابینہ نے انتہائی دائیں بازو کے وزرا بیزلیل اسموٹریچ اور یاریو لیون کی پیش کردہ تجویز منظور کی ہےخیال رہے کہ :اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو سخت کرنے اور آباد کاروں کے لیے زمین کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی منظوری دے دی۔العربیہ کے مطابق اس اقدام کو فلسطینیوں نے عملی طور پر پر الحاق قرار دیا ہے۔ مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فلسطینی مستقبل میں ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا زیادہ تر حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام کچھ علاقوں میں محدود فلسطینی خود مختاری ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے لیے سکیورٹی خطرہ ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ 1990 کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق، ایریا سی مغربی کنارے کے اس 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو ’ایک سنگین پیش رفت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جو ’عملی طور پر الحاق‘ کے مترادف ہے۔ صدارتی دفتر نے نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔یہ فیصلہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کا تازہ ترین قدم ہے۔ حالیہ مہینوں میں، اسرائیل نے یہودی بستیوں میں تعمیرات کو بہت بڑھا دیا ہے، چوکیوں کو قانونی حیثیت دی ہے اور علاقے میں اپنی پالیسیوں میں اہم افسر شاہانہ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اپنی گرفت کو مضبوط اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کر سکے۔اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سول پلاننگ کے نقشے ظاہر کرتے ہیں کہ اتھارٹی برسوں سے ایریا سی میں اراضی کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آگے بڑھا رہی ہے جو ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جو اسرائیل کو اس علاقے پر سول اور فوجی کنٹرول دیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اتوار کا فیصلہ زیادہ شفافیت کے لیے کیا گیا تھا۔اس فیصلے کا اعلان سب سے پہلے گذشتہ مئی میں کیا گیا تھا لیکن اس ہفتے کابینہ کے اجلاس میں منظوری سے قبل اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت تھی۔ اس فیصلے کے تحت، اسرائیلی حکام رجسٹریشن کے لیے مخصوص علاقوں کا اعلان کریں گے، جس سے زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنی ملکیت ثابت کرنا ہوگی۔اوفران نے کہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا عمل ’سخت گیر‘ ہو سکتا ہے اور شاذ و نادر ہی شفاف ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فی الحال فلسطینیوں کی ملکیت والے علاقوں میں رجسٹریشن کے عمل سے گزرنے والی کوئی بھی زمین ممکنہ طور پر اسرائیلی ریاستی کنٹرول میں واپس چلی جائے گی۔فلسطینیوں کو اس طریقے سے ملکیت ثابت کرنے کے لیے بھیجا جائے گا جو وہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔ اور اس طرح اسرائیل ایریا سی کے 83 فیصد حصے پر قبضہ کر سکتا ہے جو مغربی کنارے کا تقریباً نصف ہے رجسٹریشن کا عمل رواں سال ہی شروع ہو سکتا ہے۔اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائے، اور قابض طاقت اسرائیل کو اس کی خطرناک پیش رفت کو روکنے پر مجبور کرے۔قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے فیصلے کو ’فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے اس کے غیر قانونی منصوبوں کی توسیع‘ سمجھتی ہے۔سابقہ امریکی انتظامیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی سرگرمیوں اور کنٹرول میں توسیع کی شدید مذمت کی ہے، لیکن وزیراعظم بنامین نتن یاہو کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خاصے قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں نے گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کی جو گذشتہ ایک سال میں ان کی ساتویں ملاقات تھی۔فلسطینی شہریوں کو نجی طور پر اسرائیلی شہریوں کو زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے، حالاں کہ گذشتہ ہفتے اعلان کردہ اقدامات کا مقصد اسے کالعدم کرنا ہے۔ فی الحال، آباد کار اسرائیل کی حکومت کے کنٹرول والی زمین پر گھر خرید سکتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے فیصلے کا مقصد مغربی کنارے میں ماحولیاتی اور آثار قدیمہ کے امور سمیت فلسطینیوں کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نفاذ کے کئی پہلوؤں کو بڑھانا بھی تھا۔سات لاکھ سے زیادہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 میں اردن سے قبضہ کیا تھا اور فلسطینی اسے مستقبل کی ریاست کے لیے چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھاری اکثریت سے ان علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ فلسطینی مغربی کنارے کے ایریا سی میں رہتے ہیں، جب کہ آس پاس کی برادریوں میں اس سے کہیں زیادہ لوگ اس کی زرعی اور چرنے والی زمینوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں وہ پلاٹس بھی شامل ہیں جن کے لیے خاندانوں کے پاس دہائیوں زمین کی دہائیوں پرانی دستاویزا یا ٹیکس کا ریکارڈ موجود ہے۔ نیتن یاہو کو رواں سال کے آخر میں انتخابات کا بھی سامنا ہے۔ ان کے حکومتی اتحاد میں آباد کاری کے حامی متعدد ارکان شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسرائیل مغربی کنارے کو ضم کر لے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کر لیا تھا۔ وزراء نے آج 1967 کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا کہ ہم آباد کاری کا انقلاب جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی سرزمین کے تمام حصوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر رہے ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع نے مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کو ایک ضروری سکیورٹی اقدام قرار دیا جس کا مقصد خطے میں اسرائیلی کنٹرول کو یقینی بنانا، اسے مکمل کارروائی کی آزادی دینا اور شہریوں کے تحفظ اور قومی مفادات کے تحفظ کے مقصد سے وہاں قانون نافذ کرنا ہے۔ سکیورٹی کابینہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے زمینوں کی غیر قانونی رجسٹریشن کی کارروائیوں کا مناسب جواب ہے اور اس سے تنازعات ختم ہو جائیں گے۔فلسطینی ایوان صدر نے اسرائیلی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مقبوضہ فلسطینی اراضی کے عملی الحاق کے مترادف اور غیر قانونی آباد کاری کے ذریعے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے فلسطینی اراضی کو ضم کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے آغاز کا اعلان قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے لیکن ان کی انتظامیہ نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آباد کاری کو روکنے کی کوشش نہیں کی ہے جس کے بارے میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زمینوں کو ہڑپ کر کے ممکنہ ریاست کے قیام سے محروم کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت، عالمی عدالت انصاف نے 2024 میں ایک غیر پابند مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ اور وہاں بستیوں کا قیام غیر قانونی ہے اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔اسرائیل اس رائے پر اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس زمین سے اس کے تاریخی اور توراتی تعلقات ہیں۔ زمینوں کی رجسٹریشن ان اقدامات کے سلسلے کا حصہ ہے جو اسرائیل نے رواں ماہ اپنے کنٹرول کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے کیے ہیں۔
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے کہاہےکہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے بعض حصوں پر کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ امن اور استحکام کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیلی قابض حکام کے اس فیصلے کی مذمت کرتی ہے جس کے تحت مغربی کنارے کو ریاستی اراضی کا نام دے کر اسے قابض حکام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت مسلط کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔وزارت نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں ہے اور یہ اقدام دو ریاستی حل کو کمزور کر رہا ہے۔ بیان میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مملکت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ”ریاستی ملکیت‘‘ کے طور پر رجسٹر کرنے کی منظوری دیے جانے پر عرب ممالک اور ناقدین نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے اس فلسطینی علاقے کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق اتوار کی رات منظور کیے گئے اس فیصلے کا مقصد ”حقوق کی شفاف اور مکمل وضاحت کے ذریعے قانونی تنازعات کا حل‘‘ نکالنا ہے اور یہ اقدام خود مختار فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں مبینہ غیرقانونی زمینوں کی رجسٹریشن کے بعد ضروری ہو گیا تھا۔تاہم مصر، قطر اور اردن نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مصری حکومت نے اپنے بیان میں اسے ”مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے خطرناک پیش رفت‘‘ قرار دیا۔قطر کی وزارت خارجہ نے ”مغربی کنارے کی زمین کو نام نہاد ‘ریاستی ملکیت‘ میں تبدیل کرنے کے فیصلے‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ”فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا جائے گا۔‘‘رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ”عملی طور پر الحاق کے عمل کے آغاز اور فلسطینی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے‘‘ کے مترادف ہے۔اسرائیلی آبادکاری کی مخالف تنظیم ”پیس ناؤ‘‘ نے اس اقدام کو ”وسیع پیمانے پر زمین پر قبضہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس تنظیم کے شریک ڈائریکٹر جوناتھن مزراحی نے بتایا کہ اس فیصلے کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔یہ عمل صرف ”ایریا سی‘‘ میں ہوگا، جو مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اسرائیلی سکیورٹی و انتظامی کنٹرول میں ہے۔مزراحی نے کہا، ”زمین کے حوالے سے کافی ابہام موجود تھا اور اسرائیل نے اب اسے نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایریا سی میں ملکیت کے اس ابہام کو ممکنہ طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ”بہت سی زمین جسے فلسطینی اپنی سمجھتے ہیں، وہ اس نئی رجسٹریشن کے عمل کے تحت ان کی ملکیت نہیں رہے گی۔‘‘ ان کے بقول یہ اقدام اسرائیلی دائیں بازو کی جانب سے فلسطینی علاقوں کے الحاق کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا۔فلسطینی مغربی کنارے کو مستقبل کی خود مختار فلسطینی ریاست کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے مذہبی دائیں بازو کے کئی حلقے اس علاقے پر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے انتہا پسند وزراء کی حمایت سے مغربی کنارے کے ان علاقوں میں، جو اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں، کنٹرول سخت کرنے کے اقدامات کی منظوری دی تھی۔ یہ معاہدے 1990 کی دہائی سے نافذ ہیں۔ان اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اسرائیلی یہودی براہ راست مغربی کنارے میں زمینیں خرید سکیں گے اور بعض مذہبی مقامات کا انتظام اسرائیلی حکام کے حوالے کیا جائے گا چاہے وہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہی کیوں نہ ہوں۔اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے۔ان تازہ اقدامات کا پس منظر ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے ایک حالیہ بیان میں کہا، ”ہم مقبوضہ فلسطینی علاقے کی آبادی کا تناسب مستقل طور پر بدلنے کی تیز رفتار کوششوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس دوران لوگوں کو ان کی زمینوں سے محروم کر کے انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ الحاق کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ علاقے میں استحکام اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم شدید بین الاقوامی ردعمل کے باوجود ذاتی طور پر صدر ٹرمپ نے حالیہ اسرائیلی اقدامات پر براہ راست تنقید سے گریز کیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے الحاق شدہ مشرقی یروشلم کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار بستے ہیں، جن کی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی سمجھی جاتی ہیں۔اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی بھی آباد ہیں، جو 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہے۔۔ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارہ کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع کی حالیہ کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی استثنیٰ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنائے۔

 

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات نہ صرف عالمی قوانین بلکہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے بھی منافی ہیں، اور عالمی برادری کو انہیں واضح طور پر مسترد کرنا چاہیے۔ترجمان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کو مسلسل نظرانداز کرنا اور اشتعال انگیز اقدامات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر منسلک فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی اصولی حمایت جاری رکھے گا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی کوششوں کا حصہ بنتا رہے گا۔امریکی، چین، روس، برطانیہ اور اقوام متحدہ اس اقدام کی مخالفت کر چکے ہیں اقدام سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک لبنان میں اسرائیلی فائرنگ سے 370 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کا حوالہ وزارتِ صحت کی رپورٹوں سے لیا گیا ہے۔لبنان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ملک کے مشرق میں شامی سرحد کے قریب ایک اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔رپورٹ کے مطابق نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے خاتمے کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل لبنان میں باقاعدگی سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون نے لبنان-شام سرحد پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں چار افراد سوار تھے اور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔لبنان کی وزارتِ صحت نے بھی ایک بیان میں چار ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے مجدل عنجر کے علاقے میں فلسطینی اسلامی جہاد کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی سیکورٹی میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں کم از کم 54 فلسطینی زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی آباد کاروں اور فوجیوں نے صبح مغربی کنارے کے قصبوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں گرفتاریاں، درجنوں زخمی اور زرعی اراضی اور املاک کی تباہی ہوئی ہے۔آباد کاروں نے نابلس کے جنوب میں تلفت اور قصرہ کے قریب فلسطینیوں پر براہ راست گولہ بارود اور آنسو گیس فائر کی، آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع قصبے میخماس کے قریب خلیت الصدرہ کے اجتماع پر دھاوا بول دیا۔ترمس آیا میں رام اللہ کے قریب آباد کاروں نے تقریباً 300 زیتون کے درخت کاٹ دیے اور زرعی زمین کو بلڈوز کر دیا، جب کہ فوجی دستوں نے گاؤں میں گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔اسی علاقے میں، فوج نے دیر غسانہ اور بیت ریما پر دھاوا بول دیا، جب کہ جبہ، سیرس اور میتھالون سمیت جنین کے قریب کئی قصبوں پر بھی فوج موجود رہی۔حماس نے طولکرم اور مقبوضہ مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں “آباد کار گروہوں اور فاشسٹ قابض فوج” کے ذریعہ کئے گئے “وحشیانہ حملے” کی مذمت کی ہے۔حماس نے بیان میں کہا کہ جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت منظم طریقے سے ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف نسلی تطہیر کی پالیسی پر عمل درآمد کر رہی ہے، قابض فوج کی طرف سے محفوظ بھاری ہتھیاروں سے لیس آباد کاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں میں تباہی مچانے کے لیے بےلگام کر رکھا ہے۔حماس نے بین الاقوامی اداروں پر عمل کرنے پر زور دیا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ “ان خطرناک پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں، اور ہر قسم کی جدوجہد اور مزاحمت کو فعال کریں”۔شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہاہے کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر گفتگو ان علاقوں پر مرکوز تھی جن پر اسرائیل نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے اور گولان کی پہاڑیوں کا وسیع تر مسئلہ شامل نہیں تھااسرائیل اور شام کے نئے حکام نے حالیہ مہینوں میں براہِ راست مذکرات کے کئی ادوار کیے ہیں اور جنوری میں مذاکرات کے بعد جیسا کہ وہ ایک سکیورٹی معاہدے کی طرف بڑھ رہے تو امریکی دباؤ کے تحت انہوں نے انٹیلی جنس کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا۔میونخ سکیورٹی کانفرنس میں جب الشیبانی سے اسرائیل سے مذاکرات کے دائرہ کار سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بات چیت ان شامی علاقوں سے “اسرائیل کے انخلاء” پر تھی جو الاسد کی بے دخلی کے بعد قبضے میں لیے گئے”، نہ کہ گولان کی پہاڑیوں سے متعلق۔ یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے۔” سکیورٹی معاہدہ طے کرنے کے لیے اسرائیل کو “شام کی سلامتی کا احترام کرنا چاہیے اور حال ہی میں قبضے میں لیے گئے ان علاقوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے”۔ “یہ مذاکرات یقیناً جنوبی شام میں اسرائیل کی مسلط کردہ شرط قبول کرنے پر ہمیں مجبور نہیں کریں گے۔”الشیبانی نے مزید کہا، “ان مذاکرات کا اختتام اُن علاقوں سے اسرائیل کا انخلاء” ہو گا جہاں اس نے دسمبر 2024 کے بعد سے “پیش قدمی کی” اور اسرائیل ہماری خودمختاری اور “اندرونی معاملات میں مداخلت” سے باز رہے گا۔الشیبانی نے میونخ میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی اور دمشق اور کردوں کے درمیان حالیہ معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا۔کردوں کے زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سربراہ مظلوم عبدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔الشیبانی نے بتایا کہ عبدی کے ہمراہ روبیو سے ہونے والا اجلاس “اس نئی ذہنیت کی تصدیق کرتا ہے جو شام آج اختیار کر رہا ہے۔”انہوں نے کہا، “ہم اپنے قومی شراکت داروں کو دشمن نہیں سمجھتے” اور یہ کہ ملک کی قومی شناخت “شام کے تنوع سے مکمل ہوتی ہے۔”امریکی فوج نے کہا کہ اس نے داعش کے ہزاروں مشتبہ افراد بشمول کئی شامیوں کی عراق منتقلی مکمل کر لی جو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کردوں کے زیرِ انتظام جیلوں میں برسوں تک قید رہے۔الشیبانی نے کہا کہ عراق پر بوجھ کم کرنے کے لیے دمشق “مستقبل میں” شامی قیدیوں کو واپس لینے کے لیے تیار ہے۔اسرائیل نے غزہ میں بمباری کرکے 12فلسطینیوں کو شہید کردیا اور حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت نے بتایا کہ اسرائیل نے بے گھر فلسطینیوں کے ایک کیمپ پر بمباری کی گئی، دوسرا حملہ خان یونس میں کیاگیا اسی طرح ایک فلسطینی کو غزہ کے شمالی علاقے میں شہید کیا گیا حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ اسرائیل بے گھر فلسطینیوں کے قتل کا عام کا نیا سلسلہ شروع کردیا اور یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے قبل جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ہدف پر تھی جو عالمی قانون کے مطابق تھی۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے پاس اسلحہ ڈالنے کے لیے 60 دن ہیں بصورت دیگر اسرائیلی فوج کارروائی مکمل کرے گی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون اور کابینہ سیکریٹری یوسی فوکس نے حالیہ انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ 60 روز کی یہ مہلت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی درخواست پر دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے امریکی درخواست کا احترام کیا ہے۔یوسی فوکس نے کہا کہ اس عرصے میں حماس کو تمام اسلحہ، حتیٰ کہ رائفلیں اور اے کے-47 بھی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی۔اسرائیلی وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اسرائیل اس عمل کا جائزہ لے گا اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوا تو بہتر ورنہ فوج کو اپنا مشن مکمل کرنا پڑے گا۔کابینہ سیکریٹری کے بقول ایک معقول اندازہ ہے کہ ممکنہ طور پر جون میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے پہلے یا تو حماس ہتھیار ڈال دے گی یا پھر غزہ میں شدید قسم کی فوجی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں حماس کی تیار کردہ تمام سرنگوں کو بھی تباہ کرنا بھی شامل ہے حتیٰ کہ سرحد کے اسرائیلی حصے میں موجود سرنگیں بھی ختم کی جائیں گی۔غزہ سرحد کے قریب واقع کیبوتس بیئری کا حوالہ دیتے ہوئے یو سی فوکس نے کہا کہ آج وہاں کھیتوں میں ہل چلانے والا شخص سمندر دیکھ سکتا ہے۔اُن کے بقول یہ اس بات کی علامت ہے کہ غزہ میں بلند عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں تاہم ان کے بقول کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔خیال رہے کہ ابھی واضح نہیں کہ اس 60 روزہ مدت کا آغاز کب سے ہوا اور نہ ہی اس بارے میں اسرائیلی وزیراعظم، امریکی صدر اور حماس کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ میں یورپی ممالک کے ہزاروں شہری اسرائیلی فوج میں شامل رہے جس کے بعد غیر ملکی شہریوں کے ممکنہ جنگی جرائم پر بین الاقوامی قانونی کارروائی کے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی این جی او ’ہتزلخا‘ کی جانب سے اسرائیل کے فریڈم آف انفارمیشن قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد ایسے اہلکار ہیں جن کے پاس اسرائیلی شہریت کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت بھی ہے، ان میں اکثریت امریکی اور یورپی پاسپورٹ رکھنے والوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 12 ہزار سے زائد امریکی، 6 ہزار سے زائد فرانسیسی، 5 ہزار روسی، تقریباً 4 ہزار یوکرینی اور 1,600 سے زائد جرمن شہری اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ برطانوی، کینیڈین، برازیلی، جنوبی افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کے شہری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ معلومات مارچ 2025ء تک کی ہیں جب غزہ کی جنگ کو 17 ماہ ہو چکے تھے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر 2023ء کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوج میں شامل غیر ملکی شہریوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، کچھ ممالک میں ابتدائی تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں تاہم تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ انتظام ’بورڈ آف پیس‘ نے غزہ کے مستقبل کا نقشہ فائنل کر لیا ہے، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی شمولیت نے اس منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والا اجلاس غزہ میں ایک نئی عالمی انتظامیہ اور بین الاقوامی فوج کے قیام کا باضابطہ سنگِ بنیاد رکھے گا۔ اجلاس میں غزہ کو کھنڈرات سے نکالنے کے لیے ایک کثیر ارب ڈالر فنڈ کا اعلان کیا جائے گا جس کی فنڈنگ 20 سے زائد ممالک کریں گے۔ منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کی چھتری تلے ایک ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس غزہ میں سیکیورٹی کا چارج سنبھالے گی۔ متعدد عالمی طاقتوں نے اس امن مشن کے لیے ہزاروں فوجی فراہم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا یہ پلان حماس کے لیے ’گاجر اور چھڑی کی پالیسی پر مبنی ہے۔ ہتھیار پھینکنے اور پرامن بقائے باہمی کا عہد کرنے والے جنگجوؤں کو عام معافی دی جائے گی۔ غزہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو محفوظ راستہ دے کر دیگر ممالک منتقل ہونے کی سہولت دی جائے گی۔ تاہم، حماس نے ان تمام پیشکشوں کو اسرائیلی قبضے کے مکمل خاتمے تک ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی بریفنگ دی جائے گی کہ کس طرح ایک غیر سیاسی ’قومی کمیٹی‘ غزہ کی سول انتظامیہ، پولیس اور انسانی امداد کی ترسیل کا انتظام سنبھالے گی۔ اس کا مقصد اسرائیلی فوج کے انتظامی بوجھ کو ختم کر کے مقامی اور عالمی نظم و نسق قائم کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی، لیکن حماس کی مزاحمت اور زمینی حقائق اب بھی بڑے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔