اسلام آباد (ٹی این ایس) حکومتِ سماجی اور معاشی بہبود کے فروغ کیلئے پُرعزم ہے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کی منظوری دے دی گئی ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ رمضان کے با برکت مہینے میں مسلمان دکھی انسانیت کے لئے اپنے وسائل تقسیم کرتے ہیں ، حکومت نے ماضی میں رمضان شریف میں عوام کو ریلیف کی فراہمی فرسودہ نظام کو ختم کر دیا ہے رمضان لمبارک میں پہلے یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جاتا تھا، یوٹیلیٹی سٹورز پراشیا خورد و نوش کا معیار انتہائی ناقص تھا، یوٹیلیٹی سٹورز سے اشیاء کی خریداری کا عمل بھی تکلیف دہ تھا، ہم نے گزشتہ سال اس فرسودہ نظام کو خیر آباد کہہ دیا گزشتہ سال رمضان میں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حقداروں کو نقد رقوم منتقل کی گئیں، نئے نظام کو متعارف کرانے میں بے شمار چیلنجز تھے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے، عوام کی شکایات سننے اور ان کے ازالے کے لیے سیل قائم کیا گیا۔ گزشتہ سال رمضان میں 20ارب کی رقم شفاف طریقے سے مستحقین میں بلا تاخیر تقسیم ہوئی، رواں سال رمضان ریلیف پیکج کے تحت 38ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ مستحق خاندانوں کو بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے زریعے ادائیگیاں کی جائیں گی، 38 ارب روپے ایک کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں میں تقسیم کے جائیں گے، ہرمستحق خاندان کو بلا امتیاز اور بلا تفریق 13000 روپے دیے جائیں گے، رمضان پیکج کے تحت سبسڈی کے ساتھ ساتھ مستحق خاندانوں کو براہ راست مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل ویری فکیشن اور ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام استعمال کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں حقیقی مستحقین کی نشاندہی ممکن ہوگی اور امداد کا اثر زیادہ مؤثر انداز میں پہنچے گا فنانس ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں مالی سال کے رمضان پیکج کے لیے 19 ارب روپے پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں اور بقیہ ضرورت کے مطابق اور ضرورت پڑنے پر جاری کر دیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ” ای سی سی نے 19 ارب روپے کے فوری اجراء کی منظوری دی تاکہ بروقت ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا جا سکے، اور اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی اضافی فنڈز کو رمضان کے دوران پیدا ہونے والی ضروریات اور حکومت کی دستیاب مالی گنجائش کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔ کمیٹی نے خلاصے میں پیش کیے گئے عملی اخراجات کے جزو پر بھی غور کیا اور یہ زور دیا کہ اخراجات کا تفصیلی خاکہ فراہم کیا جائے، جس میں شراکت دار مالیاتی اداروں کو ادائیگی اور آگاہی و رابطے کے اقدامات سے متعلق اخراجات شامل ہوں۔ ای سی سی نے عملی اخراجات کے لیے 1 ارب روپے کی اصولی منظوری دی، بشرطیکہ مکمل تفصیلات وزارتِ خزانہ کو جمع کروائی جائیں تاکہ فنڈز کی تقسیم حقیقی ضروریات اور مالی قواعد کے مطابق ہو۔” ای سی سی نے ادائیگیوں کے فوری آغاز کی ضرورت کو بھی نوٹ کیا اور پہلے سے کیے گئے اقدامات کو باقاعدہ تسلیم کیا تاکہ ری-اپروپریئیٹڈ فنڈز کے ذریعے بروقت رقم کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ یہ بھی طے پایا کہ اخراجات پاکستان کی مالی ذمہ داریوں کے مطابق نظم و نسق کے تحت کیے جائیں گے اور کوئی غیر استعمال شدہ فنڈز مقررہ طریقہ کار کے مطابق واپس کر دیے جائیں گے۔“ای سی سی نے رمضان کے دوران معاشرے کے مستحق طبقات کو بروقت اور باعزت مدد فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو دوبارہ دہرایا، ساتھ ہی ریلیف اقدامات کے نفاذ میں مالی احتساب اور مضبوط نگرانی پر زور دیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ریلیف کی جلد فراہمی کو مالی احتیاط اور عملی اخراجات میں شفافیت کے ساتھ متوازن کرنا ضروری ہے۔وزیراعظم کا رمضان ریلیف پیکیج 2026 ایسے مستحق خاندانوں کو ہدف بنا کر مالی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مقدس مہینے رمضان کے دوران معاونت کے مستحق ہیں۔ اس پیکیج کا مقصد نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری ( این ایس ای آر ) کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے مستفید ہونے والوں کے انتخاب میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا ہے۔اس کے تحت شناخت شدہ کم آمدنی والے گھروں کو ایک مرتبہ کی نقد امداد فراہم کی جائے گی، ساتھ ہی موجودہ سماجی تحفظ کی معاونت کو بھی بڑھایا جائے گا، اور فنڈز براہِ راست بینکنگ اور ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے مستحقین تک منتقل کیے جائیں گے تاکہ رقم کی محفوظ اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔وزارت تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ای سی سی میں سمری پیش کی جس میں پیکیج کےتحت مستحق خاندانوں میں فی کس 13 ہزار تقسیم ہوں گے۔ رمضان کےپہلے ہفتے کےدوران مستحقین کورقوم منتقل کی جائیں گی۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا سے ویڈیو لنک پر اجلاس کی صدارت کی جس میں ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق رمضان ریلیف پیکیج کی رقم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کاحجم 29ارب روپےاس سال بجٹ سےفراہم کیےجائیں گے، وزیراعظم کےرمضان ریلیف پیکیج کیلئے 10ارب روپے پہلے سے موجود ہیں۔ رمضان ریلیف پیکیج سے ایک کروڑ 20لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج سے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندان مستفید ہوں گے, پیکیج کے تحت مستحق خاندانوں میں فی کس 13 ہزار تقسیم کئے جائیں گے، رمضان کے پہلے ہفتے کے دوران مستحقین کو رقوم منتقل کی جائیں گی۔حکام کے مطابق رمضان ریلیف پیکیج کی رقم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کا حجم 38 ارب روپے ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا سے آن لائن اجلاس کی صدارت کی، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا,اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے رمضان ریلیف پیکیج 2026 کی منظوری دے دی گئی، وزارت تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ای سی سی میں سمری پیش کی۔یاد رکھیں کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے رمضان المبارک کے دوران ایک کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38ارب روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں مستحق سفید پوشوں کو شفاف طریقے سے ڈیجیٹل بینکنگ کے ذریعے ادائیگیاں کی جائیں گی، اس میں کوئی سیاسی تفریق نہیں ، میں نے اس نظام کو وضع کرنے کیلئے خود نگرانی کی، مسائل اور رکاوٹوں کو دور کیا گیا کیونکہ کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں میں کئی مشکلات تھیں، ماضی کے فرسودہ نظام کو ختم کردیا جب یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے ناقص اشیائے خورد و نوش کےلئے مستحقین کو عزت نفس کی قربانی دے کر قطاروں میں لگنا پڑتا تھا، اس میں کرپشن بھی ہوتی تھی۔ انہوں نے یہ اعلان ہفتہ کے روز وزیر اعظم رمضان پیکج 2026 کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ بعدازاں وزیر اعظم نے بٹن دبا کر رمضان پیکج کے تحت ادائیگیوں کے پروگرام کا اجرا کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ ،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ،معاون خصوصی ہارون اختر خان، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نہ صرف بدنی عبادات بلکہ رزق حلال سے وسائل کو تقسیم کرنے کا مہینہ بھی ہے۔اس دوران وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک کے لیے ریلیف کی فراہمی کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے 38 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا وزیراعظم کے مطابق، اس بار مستحقین کو آٹے یا چینی کی لائنوں میں لگنے کے بجائے براہِ راست ان کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کی جائے گی۔ملک بھر کے 1.21 کروڑ خاندان اس سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ہر خاندان کو 13,000 روپے کی یکمشت ادائیگی کی جائے گی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہوں گی، جس سے کرپشن اور ہیرا پھیری کا امکان ختم ہو جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے ریلیف دینے کا طریقہ غیر موثر اور تکلیف دہ تھا، جسے اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے ایک ایسے جدید نظام کی بنیاد رکھی ہے جس میں ریاست خود مستحق کے پاس جائے گی۔ گزشتہ برس 20 ارب روپے کی شفاف تقسیم نے ثابت کیا کہ ڈیجیٹل نظام ہی بہترین راستہ ہے۔ پیکج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا دائرہ کار صرف وفاق یا صوبوں تک محدود نہیں بلکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے مستحقین کو بھی برابر کا شریک بنایا گیا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی روحانی اہمیت کے ساتھ ساتھ سماجی ہمدردی، صبر، ایثار اور باہمی تعاون کی تعلیم بھی دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت پر عوام کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں کہ وہ اس موقع پر کمزور اور مستحق طبقات کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم کا 38 ارب روپے کا اعلان محض مالی امداد نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے اور سماجی فلاح کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق اس پیکج کا بنیادی مقصد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام لانا، مستحق خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کرنا، اور یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے سبسڈی شدہ اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ گزشتہ سالوں کے تجربات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر ایسے اقدامات پر مؤثر نگرانی نہ کی جائے تو وسائل مستحق تک نہیں پہنچ پاتے اور ریلیف کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اس بار حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پیکج کی شفافیت اور نگرانی کو جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یقینی بنایا جائے گااس پیکج کا ایک اہم پہلو مارکیٹ کے استحکام سے متعلق ہے۔ رمضان کے دوران طلب میں اضافہ کے باعث قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اور بعض اوقات ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ اگر حکومت صرف سبسڈی دے اور مارکیٹ کی نگرانی نہ کرے تو قیمتیں پھر بھی قابو سے باہر جا سکتی ہیں۔ اس لیے ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ ادارے فعال کردار ادا کریں گے تاکہ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی مہنگائی اور بدانتظامی کے امکانات کم ہوں اور عوام کو واقعی ریلیف مل سکے۔رمضان کے آغاز ہوتے ہی عوام کی سہولت کے لئے کیش لیس رمضان سہولت بازار قائم کردیا گیا۔ پاکستان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد کے جی سکس میں کیش لیس رمضان سہولت بازار قائم کردیا گیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےآبپارہ میں قائم رمضان سہولت بازارکا دورہ کیا۔سبزیوں، پھلوں اور اشیائے ضرویہ کے اسٹالز کا معائنہ کیا، اس موقع پر محسن نقوی نے کہا عوام کو سستی اور معیاری اشیاء فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، عوامی ریلیف میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے اشیائے خورونوش کی کوالٹی اور قیمتوں کا جائزہ لیا اور انتظامیہ کو ریٹ لسٹ نمایاں آویزاں کرنے کی ہدایت کی۔یاد رہے چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) محمد علی رندھاوا کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی کہ معیاری اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی تھی کہ تمام رمضان بازاروں کو کیش لیس بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان بنایا جا سکے اور ماہ مقدس کے آغاز سے قبل تمام تعمیراتی اور مرمتی کام مکمل کر لیے جائیں۔محکمہ سوشل سکیورٹی پنجاب نے ماہِ رمضان کے موقع پر محنت کشوں کیلئے ریلیف کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا ہے۔حکام کے مطابق صوبہ بھر میں 12 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ورکرز کو 10 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ یہ رقم محنت کشوں کو مریم نواز راشن کارڈ کے ذریعے فراہم کی جائے گی جبکہ کمشنر کے مطابق رمضان پیکیج کے تحت امدادی رقم 3 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔محنت کش اس سہولت کے تحت 10 ہزار روپے مالیت کا راشن یا نقد رقم حاصل کر سکیں گےیہ اقدام ماہِ رمضان میں محنت کش طبقے کو مالی سہارا فراہم کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے ریلیف پیکجز کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پیکجز کے تحت کروڑوں مستحق افراد کو نقد امداد، سبسڈی شدہ اشیائے خورونوش، راشن کارڈز اور مفت افطار کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کیے گئے رمضان ریلیف پیکج کے مطابق رواں برس رمضان پیکج کا حجم 38 ارب روپے رکھا گیا ہے۔وفاقی حکومت کے اس پیکج کے تحت چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں مستحق خاندانوں کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ امداد کی تقسیم شفاف ڈیجیٹل نظام اور بی آئی ایس پی کے ذریعے براہِ راست بینکوں میں کی جائے گی، گزشتہ برس یہ رقم 5 ہزار روپے تھی، جس میں اس سال نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔وفاقی اور صوبائی سطح پر کیے گئے ان اقدامات کا مقصد رمضان المبارک میں مہنگائی کے اثرات کم کرنا اور مستحق افراد کو باعزت طریقے سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ امید ہے کہ ان پیکجز سے لاکھوں خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور عوام کو رمضان المبارک میں سہولت میسر آئے گی۔ پنجاب حکومت نے بھی رمضان المبارک میں عوامی ریلیف کے لیے تاریخ کا بڑا پیکج متعارف کرا دیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں 49 ارب روپے مالیت کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دی گئی۔ پیکج کے تحت 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، نگہبان کارڈ کے ذریعے مستحق افراد نہ صرف کیش رقم حاصل کر سکیں گے بلکہ ضروری اشیائے خورونوش بھی خرید سکیں گے۔ اس کے علاوہ نگہبان دسترخوان ’مریم کے مہمان پروگرام‘ کے تحت صوبے بھر میں ہر تحصیل میں مفت افطار دسترخوان قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق اس پروگرام سے 10 لاکھ سے زائد روزہ دار مستفید ہوں گے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس میں خصوصی رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے، اس پیکج کے تحت صوبے بھر کے 10 لاکھ 63 ہزار مستحق خاندانوں کو فی خاندان اوسطاً 12 ہزار 500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔ گزشتہ برس پہلی مرتبہ فی خاندان 10 ہزار روپے کا رمضان پیکج دیا گیا تھا، تاہم رواں برس چینی اور آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پیکج میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔سندھ حکومت نے بھی رمضان ریلیف پیکج 2026 کے تحت بڑے پیمانے پر امدادی پروگرام شروع کردیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 25 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا، اس پروگرام کے تحت 50 لاکھ سے زائد خاندانوں کو 5 ہزار سے 13 ہزار روپے تک نقد امداد اور سبسڈی شدہ آٹا، چینی اور دالیں فراہم کی جائیں گی۔ امداد کی تقسیم 500 یوٹیلیٹی اسٹورز اور موبائل وینز کے ذریعے کی جائے گی جبکہ اہلیت کا تعین بی آئی ایس پی اور این ایس ای آر ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ بلوچستان حکومت نے ماہ رمضان میں ریلیف پیکجز کیش رقم کے بجائے مستحق افراد کو راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس مرتبہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز مستحق افراد کی نشاندہی کریں گے اور پھر ان افراد میں راشن تقسیم کیا جائے گا













