اسلام آباد (ٹی این ایس) : ادارہ برائے علاقائی مطالعات ,انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز—آئی آر ایس, کے زیرِاہتمام منعقدہ پالیسی مکالمے میں مقررین نے خبردار کیا کہ سرحد پار سے جنم لینے االے سکیورٹی چیلنجز اور سرحدی راستوں کی بار بار بندشیں پاکستان کی تجارت، ٹرانزٹ امکانات اور علاقائی ربط (ریجنل کنیکٹیوِٹی) کے ایجنڈے کو شدید معاشی نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کی مالیت اربوں امریکی ڈالر تک پہنچتی ہے۔ “دہشت گردی کی معاشی قیمت: سرحد پار سے درپیش عدمِ تحفظ کے باعث پاکستان کے تجارتی نقصانات” کے عنوان سے یہ مکالمہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر صدرِ آئی آر ایس، سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا سے جوڑنے والی پاکستان کی جغرافیائی برتری اسی وقت پائیدار معاشی نمو میں ڈھل سکتی ہے جب سرحدی نظم و نسق قابلِ پیش گوئی اور قابلِ اعتماد رہے۔ انہوں نے خصوصاً طورخم اور چمن سمیت کلیدی گزرگاہوں پر تعطل کو سپلائی چین میں خلل، سرمایہ کارانہ اعتماد میں کمی، اور تاجروں کے لیے پاکستان سے ہٹ کر طویل المدت متبادل راستوں کی جانب مستقل رخ کرنے کے خدشات سے جوڑاہے۔ ان کے مطابق تجارتی راہداریاں “یقین اور تسلسل” کی بنیاد پر فعال رہتی ہیں؛ لہٰذا سلامتی اور اقتصادی پالیسی کو باہم مربوط انداز میں آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ تقریب میں گورنر خیبر پختونخوا، جناب فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شواہد پر مبنی ایسی بحث کے انعقاد پر آئی آر ایس کو سراہا جس میں حکومت، کاروباری طبقے اور ذرائع ابلاغ کے نقطہ ہائے نظر یکجا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو محض ایک “فرنٹ لائن” صوبہ نہیں بلکہ منڈیوں کے مابین ایک پل اور لاجسٹکس، قانونی تجارت اور روزگار کے لیے ایک ممکنہ مرکزی مرکز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ “محفوظ سرحد کے ساتھ فعال سرحد بھی لازم ہے”، اور وفاق و صوبے کے مابین مضبوط رابطہ کاری، انفراسٹرکچر کی تیاری، اور ایسی پالیسیوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو سرحدی دباؤ کو معاشی مواقع میں تبدیل کر سکیں۔
مکالمے کی کلیدی پیشکش ماریہ قاضی، جوائنٹ سیکریٹری وزارتِ تجارت نے کی، جنہوں نے اقتصادی اثرات و اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ2022 میں پاکستان–افغانستان سرحدی راہداری سے گزرنے والی اشیا—جن میں افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت، وسطی ایشیائی ریاستوں سے متعلق تجارت اور ٹرانزٹ تجارت شامل تھی—سالانہ 7.5ارب امریکی ڈالر (یعنی تقریباً 2 کروڑ5 لاکھ امریکی ڈالر یومیہ کے برابر تھی تاہم سرحدی بندشوں اور تعطل کے باعث 2025 میں یہ حجم کم ہو کر تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر رہ گیا۔ اکتوبر 2025 کی کشیدگی کے بعد طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور چمن سمیت متعدد گزرگاہیں طویل بندشوں اور غیر معمولی تعطل سے دوچار رہیں۔ اگرچہ قطر اور ترکی کی معاونت سے جنگ بندی کی صورتِ حال پیدا ہوئی، تاہم جاری حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث راستوں کی روانی بدستور متاثر رہی۔ بندشوں کے نتیجے میں ٹرانزٹ کنٹینرز پھنس گئے، انسانی ہمدردی کی ترسیلات میں تاخیر ہوئی، اور چمن و طورخم میں ٹرمینلز پر پاکستان کی سرمایہ کاری بھی پوری طرح مؤثر انداز میں بروئے کار نہ آ سکی۔ انہوں نے رپورٹ کیا کہ اکتوبر 2025پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مابین تجارت میں 90فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نقل و حمل کی لاگت اور وقت میں 2.5 گنا اضافہ ہوا، جس سے متعدد راستے تجارتی طور پر غیر موزوں بنتے چلے گئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے سالانہ نقصان کا تخمینہ تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر جبکہ خطے کے مجموعی نقصانات 6 ارب امریکی ڈالر سے زائد بتائے گئے، جن کے اثرات زراعت سے لے کر ادویات سازی، سیمنٹ، پراسیسڈ غذاؤں اور گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پینل مباحثے میں سید جواد کاظمی، احمد کنڈی اور حسن خان نے سرحدی نظم و نسق میں تسلسل و پیش بینی کی بحالی، معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے تحفظ، اور تجارت میں سہولت کاری کے تقاضوں کے مطابق بارڈر مینجمنٹ کی ہم آہنگی پر زور دیا، تاکہ پاکستان کے علاقائی اقتصادی کردار کو مؤثر طور پر محفوظ اور مستحکم کیا جا سکے۔













