اسلام آباد (ٹی این ایس) پاک فوج کی آپریشن غضب للحق میں معرکہ بنیان المرصوص کی طرح کامیابیاں

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاک فوج کے آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کےکاروندں پر کاری وار جاری ہیں, پاک افواج نےمعرکہ بنیان المرصوص میں بھارت کی طرح آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کےخلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں,اس دوران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ناقابل قبول ہے، فیلڈ مارشل نے سرحد پار سے درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کے عزم کا اعادہ , پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاری، باہمی ہم آہنگی اور استقامت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا, جنوبی وزیرستان میں مغربی سرحد پر فیلڈ مارشل نےسیکیورٹی صورت حال و آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،وانا آمد پر کور کمانڈر پشاور نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا، فیلڈ مارشل نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے شہداء کی قربانیوں کو پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد قرار دیا، فیلڈ مارشل کو سیکیورٹی ماحول، جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، آپریشن غضب لِلحق اور پاک افغان سرحدی پیش رفت اور بارڈر مینجمنٹ اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔ فیلڈ مارشل نے اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کی، فیلڈ مارشل نے پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل مستعدی اور بلند حوصلے کو سراہا اور سرحدی جھڑپوں کے دوران افواج کی ثابت قدمی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو قابل تحسین قرار دیا۔ سینئر دفاعی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق تازہ اعداد و شمار میں آپریشن غضب للحق میں 481 افغان طالبان رجیم کارندے ہلاک، 696 زخمی ہوچکے ہیں,افغانستان کی پاکستان میں در اندازی، حملوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کیخلاف افواجِ پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی کیلئے پرعزم ہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں پاک فوج نے افغان طالبان مرکز پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے، پاک فوج نے افغان طالبان کے کمپاؤنڈز کلیئر کر کے دشمن کے جھنڈے اتار دیےسرحد پر افغان طالبان کی جارحیت کا پاک فوج مؤثر جواب دے رہی ہے،آپریشن غضب للحق (جس کا مطلب “حق کے لیے غصہ یا غضب” ہے) پاکستان کی جانب سے آپریشن غضب للحق افغان طالبان کی مبینہ سرحد پار جارحیت کے جواب میں فروری 2026 میں شروع کیا گیا ایک بڑا دفاعی اور جوابی فوجی آپریشن ہے یہ آپریشن پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور پاکستانی چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع کیا گیا حکومتی ذرائع کے مطابق، افغان فورسز نے باجوڑ، مہمند، خیبر اور دیگر سرحدی علاقوں میں دراندازی کی کوشش کی تھی, پاکستان کی مسلح افواج نے کابل، قندھار، پکتیا اور ننگرہار میں طالبان کی فوجی تنصیبات، تربیتی مراکز اور اسلحہ خانوں کو فضائی اور زمینی حملوں میں نشانہ بنایا ہے اطلاعات کے مطابق بگرام ایئر بیس کے قریب بھی کارروائی کی گئی ہے
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان افغان رجیم پر کئی بار یہ واضح کرچکا ہے کہ دہشت گرد یا پاکستان، کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغان رجیم نے ہی دوحا میں مذاکرات کیے، کچھ وعدے کیے کہ یہاں نمائندگی پر مبنی حکومت بنے گی ، خواتین کا احترام کیا جائے گا اسی طرح انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ افغان زمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا مگر دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رہی۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کیں ہیں وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 481 کارندے ہلاک جبکہ 696 سے زائد زخمی ہوئےہیں۔
پاک افواج نے افغان طالبان رجیم کی 226 چیک پوسٹس تباہ کیں اور 35 کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے 198 ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کر دی گئی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسے “اوپن وار” یا کھلی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور یہ آپریشن اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
نام کا مطلب: لفظ “غضب للحق” کا مفہوم “حق کی خاطر غصہ” یا “انصاف کے لیے قہر” ہے، جو اس آپریشن کو ایک اخلاقی اور دفاعی جواز فراہم کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہےپاکستان کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی اپنی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خطرات (جیسے فتنہ الخوارج) کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنا دی ہیں,پاکستان کی مسلح افواج نے کابل، قندھار، پکتیا اور ننگرہار میں طالبان کی فوجی تنصیبات، تربیتی مراکز اور اسلحہ خانوں کو فضائی اور زمینی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بگرام ایئر بیس کے قریب بھی کارروائی کی گئی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں پاک فوج کی جانب سے کیے جانے والے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے لیے گئے جس کا مقصد اس آپریشن کو اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ایک آپریشن ایسا بھی کیا گیا جس کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔ افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کو ‘ضربِ عضب’ کا نام دیا گیا جو عربی زبان کا لفظ ہے۔ ضرب عضب دو الفاظ کا مرکب ہے، ضرب جس کا مطلب ہے وار اور دوسرا لفظ عضب ہے جس کا مطلب ہے نبی پاک ﷺ کی تلوار۔ اس طرح ضربِ عضب کا مطلب حق کی تلوار کا وار ہے۔ پاک فوج نے فروری 2017ء میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا اس آپریشن کو رد الفساد کا نام دیا گیا جس کا مطلب فساد کو رد کرنا یا فساد یعنی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے دوران 2019 میں بھارتی فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھی گرفتار کیا گیاتھا یہ نام انگزیری زبان سے لیا گیا، سوئفٹ کا مطلب تیز اور ریٹارٹ کا مطلب جواب یا ردعمل ہے یعنی سوئفٹ ریٹارٹ کا مطلب فوری جواب ہے گزشتہ سال مئی کے دوران بھی پاکستان نے بھارت کے خلات آپریشن بنیان مرصوص کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارت کے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا تھا اور متعدد بھارتی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، بنیان مرصوص کا لفظ بھی قرآن کی آیت سے لیا گیا جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی دیوار ہے, اسی طرح رواں ماہ میں پاک فوج نے افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں طالبان مارے، افغانستان کی متعدد پوسٹیں تباہ کیں اور کئی چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔ افغانستان کے خلاف اس آپریشن کو غضب للحق کا نام دیا گیا، غضب للحق تین الفاظ کا مرکب ہے یعنی غضب جس کا مطلب ہے غصہ یا ردعمل، دوسرا لفظ لل ہے جس کا مطلب ہے کے لیے یا کی خاطر جبکہ تیسرا لفظ حق ہے جس کا مطلب سچائی ہے۔ یعنی غضب للحق کا مطلب حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل ہے اور یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ حق کے دفاع کی خاطر کیا جانے والا ردعمل ہے۔
افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا، 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاک فوج نے حق کے دفاع کی خاطر آپریشن غضب للحق کا آغاز کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کاکہنا ہے ک 21 اور 22 فروری کی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی، یہ جارحیت افغان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیم نے مل کر کی، حملوں سے واضح ہے کہ افغان رجیم ماسٹر پروکسی ہے اس کے نیچے یہ دہشت گرد کام کررہے ہیں جس کا بھرپور جواب دیا گیا، کابل، پکتیا، قندھار میں اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ 53 مقامات پر حملوں کا 53 مقامات سے بھرپور جواب دیا گیا، پاک فضائیہ نے 22 مقامات پر فضائی حملے کیے، جوابی حملوں کے نتیجے میں طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج مارے گیے ، 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور اے پی سیز تباہ ہوچکی ہیں، 18 افغان چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں اور 73 پوسٹیں تباہ کرچکے ہیں، ان جگہوں پر دہشت گرد لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ افغان رجیم ماسٹر پروکسی ہے اس کے شیلٹر تلے دہشت گرد پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں، افغان رجیم تمام دہشت گردوں کی پشت پر ہے، دنیا نے دیکھا کہ کس طرح انہوں ںے دہشت گردوں کی پشت پناہی کی اور پاکستان پر حملہ کیا۔ آپریشن کے دوران ہمارے 12 جوان شہید اور 27 زخمی ہوئے ایک لاپتا ہے،قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے ، معرکہ بنیان المرصوص میں بھارت کی طرح آپریشن غضب للحق میں فوج نے کامیابی حاصل کی۔پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان نے افغانستان پر حملوں کی تفصیلات قوم اور دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں کہیں بھی دہشتگردی کی جاتی ہے تو دہشتگردی کرنے والے اور کروانے والے کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ افغانستان سے پاکستان کے آپریشن غضب للحق کے بعد دھمکیاں دی گئی ہیں کہ وہ اس کا جواب پاکستان کے اندر دہشتگردی سے دیں گے۔ پاکستان کے کسی بھی شہر میں دہشتگردی ہوئی تو دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو بتا رہے ہیں کہ جہاں وہ ہیں، ان کی کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔ مسلح افواج نے مکمل پیشہ ورانہ طریقہ سے صرف دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کے فوجی اڈوں کو ٹارگٹ کر کے کامیاب کارروائیاں کیں۔ کسی جگہ بھی بچوں یا عورتوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ افغان طالبان ریجیم کا بچوں اور عورتوں کے متعلق پروپیگنڈا مکمل بے بنیاد اور جھوٹ ہے۔ پاکستان کے ٹارگٹڈ آپریشن میں کوئی بھی سویلین نہیں مارا گیا۔حالیہ آپریشن غضب للحق کو پوری پاکستانی قوم کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ بالکل بنیانن مرصوص ،معرکہِ حق کی طرح رات کے آپریشن میں پاکستان کی قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کے عوام کے اکراس دی بورڈ اپنی مسلح افواج کا ساتھ دیا۔ پاکستان کی گلیوں میں عوام پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔خیبر پختونخوا کے بہت سے علاقوں میں عوام کے تاثرات پر مبنی وڈیو کلپس بھی دکھائیں۔ ہر جگہ عوام افغان طالبان ریجیم کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے پر سزا دینے کی بات کر رہے تھے۔مسلح افواج کے ترجمان نے کہا، ہم افغان طالبان کی ریجیم کو واضح الفاظ میں چوائس دے رہے ہیں۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی، داعش اور دوسری دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہماری چوائس کلئیر ہے، ہم دہشتگردی کے خالف جنگ کریں گے۔ یہ پاکستان کی مسلح افواج اور پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے کہ ہم دہشتگردی کے آگے کسی بھی صورت میں نہیں جھکیں گے۔ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔ دہشتگردوں کے سہولتکاروں کو ایسا جواب دیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا، تمام53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیاطالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں۔ طالبان رجیم کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں جبکہ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں, فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کیے گئے، دہشتگرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ہماری فضائیہ نے کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے فائرورکس پوری دنیا نے دیکھے، قندھار میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا۔
دوسری طرف وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے ہونے والی دراندازی کا پاکستانی مسلح افواج نے بہترین جواب دیا ہے، دہشتگردوں کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی روش درست کریں، بصورتِ دیگر انہیں ختم کر دیا جائے گا۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایوان میں منظور ہونے والی قرارداد اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، معرکۂ حق کے موقع پر بھی قوم نے افواجِ پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔دوحا میں کئی ہفتوں تک مذاکرات ہوئے اور ڈیورنڈ لائن کی نگرانی کے لیے دوست ممالک پر مشتمل کمیشن بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی، آج کا واضح پیغام یہ ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے۔پاکستان کی مسلح افواج نے پڑوسی ملک افغانستان سے خوارج، فتنہ الہندوستان کے افغان طالبان ریجیم اور بھارت کی سرپرستی سے پاکستان میں بار بار دہشتگردی کی مذموم سرگرمیاں روکنے کے لئے تمام سفارتی ذرائع اختیار کر کے ہمسایہ ملک کی حکومت پر قابض افغان طالبان کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے بعد آخر کار غضب للحق آپریشن لانچ کیا جس کے لئے پاکستان کے عوام مسلح افواج کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نےبھی مسلح افواج کی قیادت کو ہدایت کی کہ سرحد پار سے دہشتگردی اور جارحیت کے ضمن میں اب زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے، ہر مذموم دراندازی کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے سینئیر رفقا کے ساتھ مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو کا دورہ کیا وہاں عسکری حکام نے وزیراعظم کو افغانستان کے پاکستان کی سرحدوں پر حملوں کے منہ توڑ جواب اور سرحدوں کی موجودہ صورت حال پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے اس امر پر اطمنان کا اظہار کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج وطنِ عزنز کی حفاظت کیلئے ہرلمحے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اپنی کابینہ کے سینئیر ارکان کے ساتھ مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے جنرل ہیڈکوارٹرز پہنچے تو ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ عسکری قیادت نے وزیراعظم شہباز شریف کو پاک افغان جھڑپوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے اپنی کابینہ کو بھی جی ایچ کیو ساتھ لائے عسکری قیادت نے افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ دی تو وزرا بھی اس میں شریک تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے گٹھ جوڑ اور شر پسند کاروائیوں کیلئے اب ہماری زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ شہباز شریف نے کہا، افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کاروائیاں ناقابل قبول ہیں,دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جب سے افغان طالبان رجیم آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کے. نتیجے 8 ہزار سے زائد شہادتیں ہوئیں۔ اب ہم طالبان ریجیم کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں، جب تک ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیتے آپریشن جاری رہے گا افغان طالبان ریجیم کے متعلق ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے ہم نے تو انڈیا کے ساتھ بھی کبھی جارحیت کی بات نہیں کی۔ ہم نے خود پر حملے برداشت کیے لیکن پھر بھی امن کی بات کی۔ انڈیا کی طرف سے جو جارحیت مسلط ہوئی 6 اور 7 مئی کو اسکا جواب 10 مئی کو پاکستان نے دیا ہماری ہمدردیاں ہمیشہ افغانیوں کے ساتھ رہیں لیکن جب سے افغان طالبان رجیم آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کے. نتیجے 8 ہزار سے زائد شہادتیں ہوئی۔ یاد دلایا کہ افغانستان کے لئے پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں ہم نے مہاجرین کی یہاں مہمان نوازی کی دوحا قطر میں مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ ان کے ساتھ ترکیہ میں مذاکرات ہوئے، کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اب ہم طالبان ریجیم کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر آپریشن کے تحت کاروائیاں ہوئی ہیں ۔ جب تک ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیتے آپریشن جاری رہے گا۔