اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر اظہارتشویش

 
0
3

اسلام آباد (ٹی این ایس)  پاکستان  نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ یہ سول نیوکلیئر تعاون میں ایک اور استثنا ہے، بھارت کا 1974 ایٹمی تجربہ ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے قیام کا سبب بنا تھا، بھارت نے تمام سول نیوکلیئر تنصیبات IAEA کی نگرانی میں نہیں رکھیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کئی بھارتی نیوکلیئر تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنے سے باہر ہیں، بیرونی یورینیم سپلائی بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ جنوبی ایشیا کے سٹریٹیجک توازن کو متاثر کر سکتا ہے، پاکستان نے سول نیوکلیئر تعاون کے لیے غیر امتیازی اور اصولوں پر مبنی نظام پر زور دیا، منتخب استثنا عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ جوہری تعاون کیلئے امتیازی سلوک کے بجائے عالمی قوانین پر مبنی یکساں معیار اپنایا جائے کیونکہ کینیڈا کا یہ اقدام جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یاد رکھیں کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے افزودہ یورینیم کی کافی مقدار حاصل کرنے کے لیے ہزاروں سنٹری فیوجز کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا میں صرف چند ہی ممالک کے پاس ایسی تنصیبات موجود ہیں، جو بہت وسیع اور مہنگی ہوتی ہیں۔ تاہم، جوہری ہتھیار بنانا اور اسے ہدف تک پہنچانا کئی پیچیدہ مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ جوہری بم کا بنیادی جزو افزودہ یورینیم یا پلوٹونیم ہوتا ہے، جو یورینیم کو جلانے کے عمل سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یورینیم ایک نسبتاً عام معدنیات ہے، لیکن عالمی نیوکلیئر ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کی 85 فیصد سے زائد یورینیم پیداوار صرف 6 ممالک (قازقستان، کینیڈا، آسٹریلیا، نمیبیا، نائجر اور روس) سے حاصل ہوتی ہے۔ قدرتی یورینیم 2 بنیادی اقسام پر مشتمل ہوتا ہے۔ یورینیم 238 (یو-238)، جو 99.3 فیصد ہوتا ہے یورینیم 235 (یو-235)، جو باقی 0.7 فیصد ہوتا ہے۔ صرف (یو-235) جسے ’فِسائل یورینیم‘ کہا جاتا ہے، جوہری ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب (یو-235) کی مقدار کو بڑھا کر اتنا بنایا جاتا ہے کہ وہ جوہری بم کے لیے ایندھن فراہم کر سکے، اس عمل کو افزودگی کہا جاتا ہے۔ پہلے، یورینیم کی کان سے حاصل شدہ معدنیات کو پیس کر سلفیورک ایسڈ کے ساتھ دھویا جاتا ہے، پھر، زیرزمین پانی اور آکسیجن کو چٹان میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ یورینیم نکالا جا سکے۔ اسے خشک کرنے کے بعد ایک ٹھوس مادہ حاصل ہوتا ہے جسے ’یلو کیک‘ کہا جاتا ہے، اسے بعد میں یورینیم ہیکسا فلورائیڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور پھر گیس کی شکل میں گرم کیا جاتا ہے تاکہ افزودگی کے عمل کے لیے تیار کیا جا سکے۔
یو-238 (بھاری) کو یو-235 (ہلکے) سے الگ کرنے کا سب سے عام طریقہ سنٹری فیوجز کا استعمال ہے، جو یورینیم کو انتہائی تیز رفتاری سے گھماتے ہیں۔ افزودہ یورینیم کی مطلوبہ مقدار حاصل کرنے کے لیے ہزاروں سنٹری فیوجز درکار ہوتے ہیں, صرف چند ہی ممالک کے پاس ایسی تنصیبات موجود ہیں، جو نہایت وسیع اور مہنگی ہوتی ہیں۔ امریکا میں قائم جوہری پھیلاؤ پر کام کرنے والے ادارے انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 22 ہزار سنٹری فیوجز ہیں، جو 2015 کے جوہری معاہدے میں طے شدہ تقریباً 6 ہزار 100 کی حد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر یورینیم میں یو-235 کی مقدار 3.5 سے 5 فیصد ہو تو اسے جوہری بجلی گھر کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 20 فیصد تک افزودہ یورینیم طبی مقاصد جیسے کہ کینسر کی کچھ اقسام کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والے آئسوٹوپس کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔ جوہری بم بنانے کے لیے افزودگی کو 90 فیصد تک لے جانا ضروری ہوتا ہے، اس سطح کو ’ویپنز گریڈ‘ کہا جاتا ہے، جو اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جوہری دھماکہ شروع کرنے والی ’چین ری ایکشن‘ کے لیے درکار ’کریٹکل ماس‘ (وہ مقدار جو ایٹمی دھماکے کو ممکن بناتی ہے)، مہیا کر سکے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایک جوہری ہتھیار بنانے کے لیے 42 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم درکار ہوتا ہے۔ اگر ایران کے پاس موجود ’نیئر ویپنز گریڈ‘ مواد کو مزید صاف کیا جائے، تو نظری طور پر وہ 9 سے زائد جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جوہری بم نیوکلیئر فِشن کے اصول پر کام کرتے ہیں، جہاں ایٹمز کو توڑ کر توانائی خارج کی جاتی ہے، اور یہ ایک انتہائی تباہ ’چین ری ایکشن‘ پیدا کرتا ہے۔ کسی جوہری بم کو میزائل کے ذریعے ہدف تک پہنچانا ایک الگ اور پیچیدہ چیلنج ہوتا ہے، اس کے لیے 2 مہارتیں ضروری ہوتی ہیں۔ بیلسٹکس پر مکمل عبور حاصل کرنا (یعنی وہ تمام حسابات جو وارہیڈ کو اپنے ہدف تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں)
نیوکلیئر چارج کو اس حد تک چھوٹا بنانا کہ اسے میزائل کے وارہیڈ پر نصب کیا جا سکے۔ تاریخ میں اب تک صرف 2 مرتبہ ایٹمی بموں کا استعمال کیا گیا ہے، پہلا 6 اگست 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرایا گیا اور دوسرا 3 دن بعد ناگاساکی پر گرایا گیا، ان دونوں حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 14 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے
بھارت اور کینیڈا نے 10 سالہ یورینیم کی فراہمی کے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔ بھارت اور کینیڈا یورینیم کی فراہمی کے لیے ایک اہم 10 سالہ معاہدے پر دستخط کرنے کیے ہیں، دونوں ممالک نے اس موقع پر یورینیم کی فراہمی کے تاریخی اور طویل المدتی معاہدے پر دستخط کئے اور 2030ء تک باہمی تجارت کو دوگنا کرکے 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کے روڈ میپ کی نقاب کشائی کی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کا دورہ کرنے والے وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان پیر کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ہوئی ملاقات کے بعد یہ اعلانات سامنے آئے۔ دونوں نے اس پیش رفت کو ہند-کنیڈا کے باہمی تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار تھے۔ اس نئے فریم ورک کی توجہ کا مرکز شہری جوہری تعاون کا معاہدہ رہا جس کے تحت کنیڈا طویل مدت تک بھارت کے ایٹمی بجلی گھروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لئے یورینیم فراہم کرے گا۔ دونوں فریقین نے ’اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز` (ایس ایم آر) اور جدید جوہری ٹیکنالوجی پر تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس موقع پر، دونوں ممالک نے 2026ء کے آخر تک، جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے) کو حتمی شکل دینے کا عہد کیا۔ اس مجوزہ معاہدے کا مقصد تجارتی رکاوٹیں کم کرنا، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھانا اور دونوں معیشتوں میں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔ بحری سلامتی، فوجی تبادلوں اور دفاعی صنعتوں، خاص طور پر انڈو پیسیفک خطے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے نئے ’ہند-کینیڈا دفاعی مذاکرے‘ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مشترکہ سیکوریٹی خدشات پر باقاعدہ مشاورت کو ایک باضابطہ شکل ملے گی۔ دونوں لیڈران نے اہم معدنیات سے جڑے معاہدوں پر بھی دستخط کئے۔ ان معاہدوں کا مقصد نایاب معدنیات کی سپلائی چین کو مستحکم بنانا ہے۔ نایاب دھاتوں اور بیٹری کے خام مال کے لئے عالمی مقابلے کے درمیان اسٹریٹجک لحاظ سے یہ معاہدہ نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں یہ شراکت داری ہائیڈرو کاربن، قابلِ تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن جیسے شعبوں کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ تعلیم اور اختراع بھی ہند-کنیڈا معاہدوں کے کلیدی ستون رہے۔ دونوں فریقین نے کنیڈا کی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں کیمپس قائم کرنے کی ترغیب دینے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، حفظانِ صحت ، زراعت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس پیش رفت کو ایک ”اہم سنگِ میل“ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت-کنیڈا تعلقات نے نئی توانائی اور باہمی اعتماد حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بھارت کی ترجیحات میں شامل رہے گا۔ کنیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس ڈیل کو “نئے عزائم اور بصیرت” کے ساتھ ایک قابلِ قدر شراکت داری کی توسیع قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شراکت داری دو پراعتماد ممالک کے عزائم کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔‘

خیال رہے صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ اُن کا ملک جوہری تجربے کرے گا کیونکہ دوسرے ممالک بشمول پاکستان، روس، چین اور شمالی کوریا بھی جوہری تجربات کرتے ہیں۔ تاہم پ پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے اس حوالے سے ایک سوال کیا گیا تھا کہ: ’ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان نیوکلئیر ٹیسٹنگ کر رہا ہے اور ابھی ہائیپر سونک میزائل کے تجربے کی خبریں بھی آئیں۔۔۔ تو کیا پاکستان یہ ٹیسٹ کر رہا ہے؟‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کی تردید یا تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہاتھا ’پاکستان اپنے دفاع اور سکیورٹی کے لیے ویپن سسٹم کے ٹرائلز اور ٹیسٹس کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ سب پبلک ڈاکومنٹ نہیں ہوتا۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے جوہری تجربات کے حوالے سے دعوے پر بھارت نے ردِعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس نے ’ہمیشہ بین الاقوامی برادری کی توجہ پاکستان کے ریکارڈ کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی ہے۔
یادرہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 19 فروری 2026کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایک ’بامعنی معاہدہ‘ نہ ہوا تو ’بری چیزیں‘ ہوں گی۔ اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے انھوں نے کہا: ’سادہ سی بات ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔ اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں تو مشرق وسطیٰ میں امن نہیں آ سکتا۔ ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن جوہری نگرانی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سمیت کئی ملک ایران کا یہ موقف تسلیم نہیں کرتے۔ گزشتہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال پوری طرح واضح نہیں ,امریکہ کچھ وقت کے لیے جنگ میں شامل ہوا اور تین جوہری مقامات پر حملے کیے۔ اصفہان میں ایران کے سب سے بڑے جوہری تحقیقاتی مرکز سمیت نطنز اور فردو کی وہ تنصیبات نشانہ بنائی گئیں جہاں یورینیم افزودہ کی جاتی ہے، یعنی مخصوص آئسوٹوپس کا تناسب بڑھایا جاتا ہے تاکہ اسے جوہری ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ حملوں کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنصیبات ’تباہ‘ کر دی گئی ہیں۔ ایک ہفتے بعد آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا کہ حملوں سے شدید نقصان تو پہنچا ہے لیکن تنصیبات ’مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں‘ جس سے اشارہ ملتا ہے کہ چند ہی ماہ میں کسی حد تک افزودگی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔آئی اے ای اے کا تخمینہ ہے کہ جب اسرائیل نے 13 جون کو فضائی حملے شروع کیے تو ایران کے پاس 440 کلوگرام یورینیم کا ذخیرہ موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ تھا۔ یعنی ہتھیار کے لیے درکار 90 فیصد کے درجے تک پہنچنے سے بس چند تکنیکی قدم دور۔’یہ مقدار اگر مزید افزودہ کی جائے تو 10 جوہری بموں کے لیے کافی ہو سکتی ہے نومبر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ یورینیم کی افزودگی ’اب رک چکی ہے۔‘ گذشتہ ماہ انھوں نے کہا تھا: ’آپ نے تنصیبات اور مشینیں تو تباہ کر دیں لیکن ٹیکنالوجی اور عزم کو بمباری کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔‘ جنوری2026 میں گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے ایران کی ان 13 جوہری تنصیبات کا معائنہ کر پایا ہے جو بمباری کا نشانہ نہیں بنیں، لیکن ان تین اہم مقامات کا معائنہ نہیں کر سکا جو بمباری سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ آخری بار آئی اے ای اے نے ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی تصدیق سات ماہ قبل کی تھی۔ اب ذخیرہ کس جگہ موجود ہے، کس حالت میں ہے اور جن جگہوں پر یورینیم افزودہ کیا جا رہا تھا، ان کی حالت کیسی ہے؟ ان تمام اہم سوالات پر غیر یقینی اب بھی برقرار ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ برسوں میں انتہائی افزودہ یورینیم جسے ’بم گریڈ کے قریب‘ یعنی بم کے قریب معیار کا مواد کہا جاتا ہے، کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے اسرائیل نے 13 جون 2025کو ایران پر حملہ کیا، صہیونی ریاست کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا تھا، ایک ایسا مقصد جس سے تہران انکار کرتا ہے۔جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے منظور کیا تھا، جن میں 19 ارکان نے اس کی حمایت میں، تین نے مخالفت جبکہ 11 ممالک نے غیر جانبداری اختیار کی جبکہ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ ایران کے خلاف منظور کی جانے والی اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا کہ ’بورڈ آف گورنرز اعلان کرتا ہے کہ سنہ 2019 سے ایران میں متعدد خفیہ مقامات پر غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کے ساتھ مکمل اور بروقت تعاون فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ایران کی متعدد ناکامیاں، بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کی عدم تعمیل ہے۔‘ قراردار میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایران نے اس قرارداد کو ’سیاسی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ تھا وہ یورینیم افزودگی کے لیے ایک نیا مرکز کھولے گا۔ آئی اے ای اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک خالص یورینیم افزودہ ہے، جو کہ ممکنہ طور پر نو جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا تھا جس میں ایران کی جانب سے یورپی ممالک کے بیانات کو مسترد کیا گیا تھااسماعیل باغی نے اس قرارداد کو ’ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کو استعمال کرنے کا ایک ذریعہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس قرارداد کا مقصد ’ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت پر شکوک شبہات پیدا کرنا ہے۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے خلاف قرارداد کے بعد ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلمی نے کہا تھاکہ یہ قرارداد تہران پر ’دباؤ ڈالنے‘ کے لیے منظور کی گئی تاکہ ’سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ کی جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم جو مشاہدہ کر رہے ہیں وہ تین یورپی ممالک کی سیاسی کارروائیوں کا ایک سلسلہ ہے، جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہیں، اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل بااثر صیہونی حکومت کی خدمت کر رہے ہیں تاکہ ہم پر پابندیوں کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے ایران کا اصرار تھا کہ اس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہیں اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے ایک تاریخی معاہدے کے تحت، ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی طرف سے مسلسل اور مضبوط نگرانی کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور اس کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔ ایران کا کہنا تھا کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ’این پی ٹی‘ کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ دیگر حل طلب معاملات پر بھی مدد دینے کو تیار ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اپنی پہلی مدت کے دوران اس جوہری معاہدے کو ترک کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس معاہدے نے ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنے کے لیے بہت کم کام کیا اور اس کے بعد امریکہ نے ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا تھا۔‘ 2019 کے بعد سے ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر موجودہ جوہری معاہدے کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ، خاص طور پر ان شقوں کی جو افزودہ یورینیم کی پیداوار سے متعلق ہیں۔ ویانا میں آئی اے ای اے کے اجلاس میں پیش کی جانے والی قرار دار کی کارروائی کے متعلق سفارت کاروں نے بتایاتھا کہ تین ممالک روس، چین اور برکینا فاسو نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ 11 دیگر ممالک نے ووٹنگ کے عمل سے دوری اختیار کی جبکہ دو ممالک نے ووٹ نہیں دیاتھا۔ قرارداد کے متن میں کہا گیاتھا کہ بورڈ کو ’شدید افسوس ہے‘ کہ ایران ’ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے میں ناکام رہا ہے، جیسا کہ اس کے معاہدے کی ضرورت ہے۔ اس میں مزید کہا گیا تھا کہ ’ایران کی جانب سے 2019 سے ایجنسی کو غیر اعلانیہ جوہری مواد اور ایران میں متعدد غیر اعلان شدہ مقامات پر سرگرمیوں کے بارے میں مکمل اور بروقت تعاون فراہم کرنے میں اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں بہت سی ناکامیاں رہی ہیں۔۔۔اور اس نے عدم تعمیل کی ہے۔ قراردار میں کہا گیا تھا کہ ’اس کے نتیجے میں آئی اے ای اے اس بات کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں کہ حفاظت کے لیے ضروری جوہری مواد کو کسی اور مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ قرارد میں مزید کہا گیا تھا کہ ’ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہونے کی یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکامی، ایسے سوالات کو جنم دیتی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ اختیار میں ہیں۔اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران اور ایرانی وزارت خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں ان ممالک کی طرف سے ’سیاسی کارروائی‘ کی مذمت کی گئی جنھوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھااور اصرار کیا کہ یہ ’تکنیکی اور قانونی بنیادوں کے بغیر‘ ہے۔ اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران اور ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اس کے جواب میں ایک محفوظ مقام پر یورنیم افزودگی کی سہولت قائم کر کے اور فرسٹ جنریشن سینٹری فیوجز کو سکستھ جنریشن سینٹری فیوجز کے ساتھ زیر زمین سینٹر میں تبدیل کرے گا یہ قرارداد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک نئے جوہری معاہدے پر بات چیت کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے جس کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امید تھی کہ یہ معاہدہ ایران کو اپنی افزودگی کا پروگرام ختم کرے گا اور اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکے گا۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ ایک طویل فون کال پر رابطہ بھی کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایک عرصے سے ایران کے ساتھ معاملات کو طے کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی بجائے عسکری حل پر زور دیتے رہے ۔ اسرائیل ایران کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا رہاہے۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی تھی اور اس کے پیش نظر امریکہ نے خطے میں اپنے کچھ سفارت خانوں کے غیر ضروری عملے کو وہاں سے نکل جانے کا مشورہ دیا تھا اور یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کرنے کے لیے تیار تھا۔ جبکہ ایرانی وزیر دفاع نے متنبہ کیا تھاکہ ایران کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں ’اپنی پہنچ میں‘ موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزیر دفاع نے بھی خبردار کیا تھاکہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل داغ کر دیا جائے گا۔ انھوں نے کہاتھا کہ ’امریکہ کے پاس خطے سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔‘ ایران نے کئی عسکری پیشرفت بھی کی تھی جس میں دو ٹن وار ہیڈ والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل قاسم بصیر کی عوامی سطح پر لانچ بھی شامل تھی۔ اس میزائل کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ خلیج فارس اور اس سے آگے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں نطنز اور اصفہان، دونوں مقامات پر کام جاری ہے۔ امریکہ میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی (آئی ایس آئی ایس) نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا۔ تجزیے کے مطابق یوں لگتا ہے اصفہان کی تنصیب میں سرنگوں کے تمام داخلی راستے اب مٹی سے بند کر دیے گئے ہیں اور ایک نئی چھت بھی بنائی گئی ہے۔ تصاویر یہ بھی دکھاتی ہیں کہ نطنز کے مقام پر بھی ایک نئی چھت بنائی گئی ہے۔ آئی ایس آئی ایس نے حال ہی میں لی گئی تصاویر کا بھی تجزیہ کیا۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک زیر زمین کمپلیکس ماؤنٹ کولنگ گاز لا کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اسے پک ایکس ماؤنٹین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ نطنز کی جوہری تنصیب سے تقریباً دو کلومیٹر جنوب میں واقع اس مقام کو اسرائیل یا امریکہ نے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔ڈی آئی اے کے اس تجزیے میں یہ بھی کہا گیا: ’ایران تقریباً یقینی طور پر جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس نے ایسی سرگرمیاں ضرور کی ہیں جن سے وہ اگر چاہے تو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ گیا ہے۔