اسلام آباد (ٹی این ایس) وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس، پولیس ٹیموں نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے ملزمان کو 24گھنٹوں کے اندر خیبرپختونخواہ سے گرفتار کیا،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے ،مزید تفتیش جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے ہمراہ معروف تاجرعامر اعوان کے قتل کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، اس موقع پر ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق،ایس ایس پی انوسٹی گیشنز ،ایس ایس پی آپریشنزاور ڈی ایس پی سی آئی اے اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ گزشتہ روز وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قتل کا ایک اندہوناک واقعہ پیش آیا ،جس میں ایک معروف تاجر عامر اعوان کو ان کے فارم ہاﺅس میں قتل کر دیا گیا، وقوعہ کا نوٹس لینے کے بعد ڈی آئی جی اسلام آباد کی زیر نگرانی 17مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دیں گئیں ،جنہوں نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش عمل میں لاتے ہوئے اسلام آباد ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں 31ریڈز کئے، پولیس ٹیموں نے 257کیمرہ جات ، 180فون کالز کا ڈیٹا حاصل کیا اور06مختلف مقامات کی جیو فینسنگ اور تمام ڈیٹا کے تجزیہ سمیت 93مشتبہ افراد سے تفتیش عمل میں لائی، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ٹیموں کے بروقت اور پیشہ وارانہ انداز تفتیش کی بدولت اس سنگین مقدمے میں ملوث خطرناک بین الصوبائی منصور خان گینگ کے تمام پانچ ارکان کو خیبر پختونخواہ سے گرفتار کیا ،یہ گینگ بلٹ پروف کے نام سے مشہور تھا کیونکہ یہ بلٹ پروف جیکٹس کے ساتھ وارداتیں کرتاتھا اور وفاقی دارالحکومت میں مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث تھا ، جبکہ اس گینگ کے دو ارکان غیرقانونی افغان شہری ہیں،ملزمان کے قبضے سے بھاری اسلحہ، موبائل فونز اور دیگر سامان برآمد کیا گیا جبکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے ،مزید تفتیش جاری ہے ، وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے آئی جی اسلام آباد اور ان کی ٹیم کو انتھک محنت اور پیشہ وارانہ فرائض منصبی کی انجام دہی پر شاباش دی ہے،اسلام آباد پولیس کی پیشہ وارانہ پولیسنگ کی بدولت وفاقی دارالحکومت میں 63فیصد سنگین وارداتوں اور 78فیصد جنرل کرائم ریٹ میں کمی واقع ہوئی ہے ،اسلام آباد میں رونما ہونے والے کوئی سنگین واردات کا واقع ایسا نہیں جو کہ بروقت ٹریس نہ ہوا اور اس میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا ہو،جبکہ ملزمان کو کراچی سے لیکر خیبر تک کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے،اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصررضوی نے کہا کہ یہ کیس ایک بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ یہ پورے پاکستان کے لیول کا کیس تھا،اسلام آباد پولیس نے الحمد اللہ ماضی کی طرح اس کیس کو بھی بروقت حل کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو 24گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا،انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں اسلام آباد پولیس نے پہلی دفعہ ڈیجیٹل سرویلنس کے ہمراہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے موثر استعمال کو یقینی بنایا اور باقاعدہ کنٹرول روم کا قیام عمل میں لاتے ہوئے تمام ٹیموں کی کوآرڈینیشن کو برقراررکھا ، کنٹرول روم میں ہر ایک انفورمیشن کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جاتا اور تمام قابل مدد معلومات کو فیلڈ میں موجود ٹیموں کے ساتھ شئیر کیا جاتا تھا،یہ گینگ بین الصوبائی وارداتوں میں ملوث تھا اور یہ مکمل تیاری کے ساتھ واردات کرتے تھے تاکہ کسی بھی مزاحمت کے دوران بھرپور مقابلہ کیا جاسکے،انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس کیس کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں بھی بھیجیں گے کیونکہ یہ روایتی پولیسنگ اور جدید پولیسنگ کا ایک خوبصورت امتزاج ہے، یہ کیس ایک چیلنج کے طور پر اسلام آباد پولیس کے پاس آیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اسلام آباد پولیس نے اس پر بھر پور محنت کرکے 24گھنٹوں کے قلیل مدت میں اس کیس کو ٹریس کیا ، ملزمان کے خلاف مضبوط مقدمہ قائم کرکے ،بہترین تفتیش اور شواہد کے حصول کو یقینی بناتے ہوئے مجاز عدالت سے قرار واقعی سز ا دلوائی جائے گی۔


















