اسلام آباد (ٹی این ایس) سی پیک 2.0 کے تحت گورننس اور عملدرآمد کی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانے پر پالیسی مکالمہ، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب

 
0
7

اسلام آباد، 15 اپریل 2026 (ٹی این ایس)  سی پیک 2.0 کے تحت گورننس اور عملدرآمد کی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانے پر پالیسی مکالمہ، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب

وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ پالیسی مکالمہ بعنوان “سی پیک 2.0 کے تحت گورننس اور عملدرآمد کی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانا” سے خطاب کیا۔ اس اہم تقریب میں پالیسی سازوں، سفارتکاروں اور ماہرین نے شرکت کی، جہاں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے، مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

تقریب کا آغاز صدر ادارہ برائے علاقائی مطالعات جوہر سلیم کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جنہوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور سی پیک کے اگلے مرحلے کی تشکیل میں پالیسی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب میں چین کے سفارتخانے کے نائب سربراہ مشن شی یوان چِنگ اور ممتاز سفارتکار مسعود خالد نے بھی شرکت کی، جنہوں نے پاک چین تعلقات کی اہمیت اور سی پیک کے علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون میں کردار کو اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اہم موضوع پر اظہار خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔ انہوں نے چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا پہلا دورہ چین 1970 کی دہائی میں ہوا، جہاں انہوں نے انسانی ترقی اور فنی مہارتوں پر خصوصی توجہ کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے ذریعے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا اور پاکستان کو اس ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے اور سی پیک 2.0 اس حکمت عملی کا ایک مرکزی ستون ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی اور علاقائی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے اپنے کاروباری تجربے کی بنیاد پر کہا کہ چین کی کامیابی کا راز ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ہے جبکہ پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے اسی سمت میں پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی اور ویلیو ایڈیشن کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔

 

وفاقی وزیر نے سی پیک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت حکومت سے حکومت ماڈل سے کاروبار سے کاروبار تعاون کی جانب منتقلی ہو رہی ہے جس میں صنعتکاری، توانائی، استعداد کار میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ریگولیٹری اصلاحات، ضابطہ کاری میں نرمی اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے خصوصی اقتصادی زونز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ بن قاسم صنعتی پارک جیسے منصوبے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چین ہمیشہ پرامن ترقی اور باہمی تعاون پر یقین رکھتا ہے اور ان کے ذاتی تجربے کے مطابق چین نے ہمیشہ مذاکرات اور تعاون کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نہ صرف دو طرفہ منصوبہ ہے بلکہ یہ علاقائی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے جس سے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

تقریب کے دوران ادارہ برائے علاقائی مطالعات کی جانب سے سی پیک 2.0 پر دو اہم رپورٹس پیش کی گئیں جن میں گورننس، عملدرآمد، ادارہ جاتی استعداد کار اور کاروبار سے کاروبار ماڈل کی جانب منتقلی پر تفصیلی سفارشات شامل تھیں۔ چینی نمائندے نے بھی سی پیک 2.0 کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے توانائی اور صنعتکاری کے شعبوں میں تعاون کو اجاگر کیا۔

اختتام پر وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتکاری کے فروغ اور سی پیک 2.0 کے تحت پاک چین اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر گورننس، پالیسی کا تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سی پیک 2.0 کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔