اسلام آباد (ٹی این ایس) سفارت کاری میں تیزی: شہباز شریف سعودی عرب، قطر , ترکی کے دورے

 
0
9

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں تہران پہنچ گیا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں پر بات ہوگی۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں اعلیٰ سطح ملاقاتیں متوقع ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد تہران پہنچ گیا ہے۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کا استقبال کیا، فیلڈ مارشل کا دورہ ثالثی کوششوں کا حصہ ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جاری بین الاقوامی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی اہم سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے۔ وفد ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کرے گا۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے اورمذاکرات کے تسلسل میں ایران آج پاکستانی وفد کی میزبانی کر رہا ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستانی ثالثی کے ذریعے سفارتی رابطے برقرار ہیں اور مکمل جنگ بندی کے حصول کے لیے مزید بات چیت متوقع ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ بھی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق تہران میں ایرانی حکام اور پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان اہم ملاقات جاری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر وفد کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

پاکستانی وفد جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ایران پہنچا ہے، ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے مذاکراتی مرحلے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ ملاقات میں خطے کی صورت حال اور آئندہ مذاکرات کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سہ ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب پہنچے، جہاں ان کی سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی,
ایران اور امریکہ کے درمیان سیز فائر کے بعد اسلام آباد میں اہم مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو ہوا تھا جو بنا کسی معاہدے کے ختم ہوا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی رواں ہفتے اسلام آباد میں ہی ہو گا۔
اس جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ کر چکے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم آفس سے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور قطر دو طرفہ تناظر میں ہوگا جہاں وہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ دوسری جانب وزیراعظم ترکی کا دورہ بھی کریں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ بیان کے مطابق فورم کے دوران وزیراعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ لیڈرز پینل میں شرکت کریں گے اور فورم میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کی رجب طیب اردوغان سے بھی ملاقات ہو گی۔ اس سے قبل دونوں اسلامی ممالک کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو ایک سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شریف نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے گذشتہ دنوں فوجی سازوسامان سعودی عرب بھیجا ہے۔ یہ دورہ مشرق وسطیٰ خطے کی صورت پر حال ہی ہونے والے متعدد مشاورتی اجلاسوں کے بعد ہو رہا ہے جن میں گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا چار فریقی اجلاس بھی شامل ہے۔ ان چاروں ممالک کے سینیئر حکام نے اس ہفتے بھی اسلام آباد میں ایک اور اجلاس منعقد کیا۔ پاکستان خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورت حال کے پیش نظر اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ حکام کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ دورہ اسلام آباد کے مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی استحکام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے سے قبل پاکستان کے وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کا وعدہ کیا ہے جس کی فراہمی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق مکہ مکرمہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے جدہ ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف 15 اپریل سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم سعودی عرب اور قطر کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جس میں جاری دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے لیے ترکی کا بھی دورہ کریں گے۔ فورم کے دوران، وزیر اعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ، فورم میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے ’لیڈرز پینل‘ میں شرکت کریں گے۔ فورم کے موقع پر وزیراعظم کی صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں یہ دورے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکی، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارتکاروں سے ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ تعاون فریم ورک بنانے سے متعلق بات چیت کی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے مابین ایک مشترکہ تعاون فریم ورک تشکیل دیا جانا چاہیے، جس کا مقصد امن، خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنا ہو۔ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکی، مصر اور سعودی عرب کے اعلی سفارتکاروں سے ملاقات میں چاروں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے فروغ پر بات کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک کے سینئر سفارتکار اس وقت پاکستان میں موجود ہیں جہاں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان سینئر حکام کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد آج اسلام آباد میں ہوا۔ اسحاق ڈار نے ترکی کے نائب وزیر خارجہ موسیٰ کلاکلی کایا، مصر کے اسسٹنٹ وزیر خارجہ نزيه النجاري اور سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود سے ملاقات کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے چاروں برادر ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور اہم علاقائی و عالمی امور پر ہم آہنگی کو سراہا۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے سینیئر حکام کا بھی اجلاس ہوا، جس میں چاروں ممالک کے درمیان تعاون سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق یہ اجلاس 29 مارچ کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس کے تسلسل میں منعقد کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے اس اجلاس میں قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اور ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے کی۔ جبکہ ترکی کے نائب وزیر خارجہ سمیت مصر کے اسسٹنٹ وزیر خارجہ اور سعودی عرب سے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں ہونے والی مشاورت کے نتائج 17 اپریل کو ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں گے، جو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔ دوسری جانب اس سے قبل پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین رواں ہفتے امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں جس کی تصدیق سرکاری سطح پر نہیں کی گئی ہے۔ مزید کہا کہ موجودہ 5 بلین امریکی ڈالر سعودی ڈپازٹ اب پہلے کے سالانہ رول اوور انتظامات سے مشروط نہیں رہے گا اور اس کی بجائے اسے طویل مدت تک بڑھایا جائے گا۔ سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ یہ مدد پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک نازک وقت پر آتی ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینے اور ملک کے بیرونی کھاتے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مارکیٹوں کے لیے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے تحت ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 3.3 ماہ کے درآمدی احاطہ کے برابر تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر حاصل کرنے کا مقصد بھی شامل ہے۔

گذشتہ ایک سال (مارچ 2025–اپریل 2026) کے دوران اہم سعودی دورے یہ ہیں:

19-22 مارچ 2025: جدہ کا چار روزہ سرکاری دورہ، جس میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں شامل تھیں۔

5-6 جون 2025: عمرہ ادا کرنے اور سعودی قیادت سے ملاقات کے لیے سرکاری دورہ۔

17-18 ستمبر، 2025: تعاون کو رسمی شکل دینے اور سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے لیے دورہ۔

26-29 اکتوبر 2025: ریاض کا دورہ تاکہ نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں شرکت کی جا سکے۔

10-11 نومبر 2025: دوسرے مشترکہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

3-4 دسمبر 2025: ریاض میں ‘ون واٹر سمٹ’ میں شرکت کی۔

12 مارچ 2026: جدہ میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات۔

15 اپریل 2026: تازہ سرکاری دورے کے لیے روانگی کا شیڈول ہے، جو قطر اور ترکی سمیت تین ممالک کے دورے کا حصہ ہے
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ تعلقات کے مزید فروغ اور خطے کی صورت حال پرتبادلہ خیال ہوگا۔ وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی شامل ہیں۔

جدہ پہنچنے پر شہزادہ سعود بن مشعال بن عبدالعزیز نائب گورنر مکہ ریجن، سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق نے وزیرِ اعظم و پاکستانی وفد کا ایئرپورٹ پر پُرتپاک استقبال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران سعودی عرب کے بعد ترکیہ اور قطر کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ اناطولیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت اور اعلیٰ سطح ملاقاتیں کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست بات چیت کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے اور پاکستان مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے لیے اب بھی پرامید ہے۔ پاکستان نے خطے میں کشیدہ صورتحال کے دوران کئی مواقع پر تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا پاکستان نے اس وقت امریکہ اور ایران میں ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی کی جب دنیا کی معیشت ہجکولے لے رہی تھی، اور یہ پاکستان کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ دونوں فریقین میں جنگ بندی اس وقت بھی جاری ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی پہلے والے مقام پر ہی ہو گا۔ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہونے کا گرین سگنل، پاکستان نے ایران- امریکہ مذاکرات کے انتظامات شروع کر دئیے۔ وزیر اعظم آفس نے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دئیے ہیں ، ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی پہلے والے مقام پر ہی ہو گا۔ پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کرے گا۔وفود کے لیے پہلے کی طرح ہی سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جائیں گے۔پاکستان ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی بھرپور کوشش کرے گا، مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں اسلام آباد معاہدہ پہ دستخط ہوں گے,
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 47 سالوں بعد اعلیٰ ترین سطح پر آمنے سامنے بات کرائی جو اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت اور دور اندیشی نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے اور جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔وزیراعظم کے مطابق فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم مسلسل راتوں کو جاگ کر صورتحال پر نظر رکھتی رہی اور کئی مواقع پر بروقت اقدامات کے ذریعے معاملات کو قابو میں رکھا گیا۔اجلاس میں وفاقی کابینہ نے بھی ایران-امریکہ مذاکرات کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا، جبکہ نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کی بھی تعریف کی گئی۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جاری رکھیں گے۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان روابط اور مذاکرات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی اپنا یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔‘ایران کا وفد پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں جمعے کی رات کو اسلام آباد پہنچا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کا حصہ تھے۔امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کی ہفتے کو اسلام آباد آمد ہوئی۔مذاکرات سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات کی۔بعد ازاں ہفتے کو امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا جو 21 گھنٹے جاری رہے لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔ دونوں ملکوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں پاکستان آیا۔ پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے مذاکرات میں شرکت کی۔دونوں فریقوں کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بطور نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی۔ اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں۔شدید جغرافیائی سیاسی بکھراؤ کے اس دور میں، اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ایک نایاب موقع ہے، جسے واضح اور حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔ ان ابتدائی مراحل میں کسی حتمی نتیجے کی توقع کم ہے، سفارتی زبان میں انہیں اکثر ’گلا صاف کرنا‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ ضروری تمہیدی اقدامات جو نتائج دینے کے بجائے لہجے اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں ایسے مراحل ناکامی نہیں بلکہ ترتیب وار اقدامات ہوتے ہیں، جو ان خدوخال کی وضاحت کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ فوری حل کے بجائے ایک کنٹرول شدہ توازن کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ جو کچھ سامنے آیا ہے وہ اختتام نہیں بلکہ تسلسل ہے، عدم اعتماد، مسابقتی سٹریٹیجک ترجیحات اور گہری سرخ لکیروں میں گھری کئی دہائیوں کے بعد باضابطہ روابط کا ایک آغاز ہے۔ ان ابتدائی تبادلوں کو اکثر محض سفارتی شور کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے، لیکن یہ ایک ایسے معتبر مذاکراتی چینل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں جو دباؤ کو جذب کرنے اور وقت کے ساتھ مکالمے کو وسعت دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ترقی کا اصل پیمانہ فوری معاہدہ نہیں، بلکہ مسلسل جغرافیائی سیاسی دباؤ کے باوجود اس عمل کو برقرار رکھنا ہے۔ اس ابھرتے ہوئے تناظر میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم بلکہ فیصلہ کن ہو گیا ہے۔ کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے اس لمحے میں اسلام آباد نے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ان سفارتی اشاروں میں اپنا حصہ ڈالا جنہوں نے مذاکرات کے لیے جگہ پیدا کی۔ اس کے بعد پاکستان نے ایک منظم میزبان کے طور پر دونوں اطراف کی اعلیٰ قیادت کو ایک کنٹرول شدہ اور غیر جانبدار ماحول میں اکٹھا کیا، جو پاکستان کی سول قیادت، عسکری انتظام اور وزارتِ خارجہ کی پیشہ ورانہ مہارت کے درمیان ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ مذاکرات کا جوہر متوقع اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ واشنگٹن جوہری افزودگی پر قابلِ تصدیق پابندیوں اور وسیع علاقائی کشیدگی میں کمی پر زور دے رہا ہے، جبکہ تہران کی ترجیحات میں پابندیوں کا خاتمہ اور اپنی سٹریٹیجک خودمختاری کا تحفظ شامل ہے۔ یہ پوزیشنیں فوری اتفاقِ رائے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم سرخ لکیروں کی وضاحت اور مذاکراتی گنجائش کی نشاندہی ایک مرحلہ وار سفارتی ڈھانچے کے اندر بامعنی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کے اثرات دوطرفہ روابط سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ، یعنی روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل، آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ وہ چیز جو کبھی ایک ثانوی اہمیت رکھتی تھی، اب عالمی استحکام کے لیے ایک مرکزی نقطہ بن چکی ہے، جہاں کسی معمولی رکاوٹ کا تصور بھی توانائی کے جھٹکوں، مہنگائی کے دباؤ اور مالیاتی اتار چڑھاؤ کا سبب بنتا ہے۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ کس طرح علاقائی غلط فہمیاں تیزی سے عالمی نظامی خطرات میں بدل سکتی ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مسلسل رابطہ اس لیے صرف سفارت کاری نہیں، بلکہ عالمی معاشی خطرات کا انتظام ہے۔ پاکستان یا تو بحران کے لمحات میں عارضی طور پر اہم رہ سکتا ہے یا علاقائی سفارت کاری میں ایک مستقل اور ناگزیر اداکار کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ تاہم مستقبل کا راستہ اب بھی نازک ہے۔ علاقائی حرکیات، خاص طور پر اسرائیل اور اس کے آپریشنل تھیٹرز، سفارتی رفتار کو بگاڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کشیدگی کے چکر سفارتی گنجائش کو کم کر دیتے ہیں اور مذاکراتی حل پر طاقت کے منطق کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، داخلی سیاسی دباؤ کے تحت کام کرنے والی قیادتیں اندرونی تناؤ کو باہر منتقل کر سکتی ہیں، جو ایک ایسا مکرر نمونہ ہے جو پہلے سے محدود سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ساختی سطح پر سب سے اہم سوال جوہری عدم پھیلاؤ کے ڈھانچے کا مستقبل ہے۔ ایک مکمل جوہری ایران مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز کر سکتا ہے، جو خطے کے سکیورٹی آرکیٹیکچر کو بنیادی طور پر بدل دے گا۔ اس کے برعکس، زبردستی تخفیفِ اسلحہ کی کوششیں غیر یقینی نتائج کے ساتھ طویل تصادم کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک تنگ لیکن تزویراتی طور پر اہم جگہ موجود ہے: یعنی معتبر تصدیقی نظام کے تحت جوہری صلاحیت کا انتظام۔ ’تھریش ہولڈ ایران‘ جو ہتھیار بنائے بغیر جدید جوہری صلاحیت رکھتا ہو، ایک عملی، اگرچہ نامکمل توازن کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہ جوہری پھیلاؤ کی حمایت نہیں، بلکہ جغرافیائی سیاسی مجبوریوں کا اعتراف ہے۔ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ جب تکنیکی صلاحیت قابلِ نفاذ تحفظات اور مسلسل سفارتی روابط سے جڑی ہو، تو وہ تحمل کے ساتھ بقائے باہمی برقرار رکھ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں، استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور تصدیق ناگزیر ہو گی۔ آنے والے ہفتوں میں پسِ پردہ سفارت کاری اور تکنیکی سطح کے روابط میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے تین راستے ممکن نظر آتے ہیں۔ پہلا راستہ بتدریج اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے کنٹرول شدہ تناؤ میں کمی ہے۔ دوسرا راستہ فوری بریک تھرو کے بغیر طویل مذاکرات، لیکن کشیدگی کے خطرات پر قابو پانے کے ساتھ ہے۔ تیسرا اور زیادہ نازک منظرنامہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والا بگاڑ ہے، جو سفارتی ٹریک پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد چینل کی پائیداری کا انحصار مذاکرات کو ایسے بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے پر ہو گا۔ اس ابھرتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان کی پوزیشن تیزی سے اہم ہو رہی ہے۔ یہ عارضی سہولت کاری سے نکل کر ایک کثیر قطبی بین الاقوامی نظام میں ایک باضابطہ پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امریکہ، ایران، انڈیا، چین اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھنے کی صلاحیت کسی ایک بلاک کے ساتھ وابستگی کے بجائے متوازن سفارت کاری کی عکاسی کرتی ہے۔ اس دور میں جہاں جغرافیائی سیاست اور معاشیات گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، مسلسل تزویراتی اہمیت براہِ راست سرمایہ کاری، خودمختار خطرے کے تاثر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہوتی ہے۔